پیپلزپارٹی کا قابل تحسین اقدام
  6  مارچ‬‮  2018     |     کالمز   |  مزید کالمز

٭پیپلزپارٹی کی سابق اور موجودہ سیاست پر کیسی ہی حرف زنی کی جائے مگر آج کالم کا آغاز اس پارٹی کے ایک اہم اقدام سے کر رہا ہوں۔ پیپلزپارٹی نے سینیٹ کے انتخابات میں وسیع پیمانہ پر ہارس ٹریڈنگ کی۔ اب بھی کر رہی ہے۔ اس کا ذکر بعد میں مگر اس کے ایک اقدام کی ستائش بھی ضروری ہے۔ میں کھلے دل کے ساتھ اس بات کی تحسین کر رہا ہوں کہ اس پارٹی کی قیادت نے سندھ کے پسماندہ علاقے 'نگر پارکر' کے ایک ہندو دَلت (اچھوت) خاندان کی ایک تعلیم یافتہ لڑکی کرشنا کماری کو سینٹ کی رکن بنا دیا ہے۔ اقلیتوں کے لئے آئینی طور پر مخصوص نشست کے لئے کسی بڑے مالدار ہندو یا پارسی نمائندہ کا بھی انتخاب کیا جا سکتا تھا جو پارٹی کو لاکھوں کروڑوں کا چندہ بھی دے سکتا تھا۔ مگر ایک پسماندہ علاقے کے ایسے غریب خاندان کی ایک لڑکی کو سینٹ میں لے جانا واقعی قابل ستائش بات ہے۔ جس خاندان کو اب تک پتہ نہیں چل سکا کہ سینٹ کیا چیز ہے؟ بس اتنا جانتا ہے کہ بیٹی کو اسلام آباد میں کوئی بہت بڑی نوکری مل گئی ہے۔ ویسے یہ لڑکی اعلیٰ تعلیم یافتہ ہے۔ اس نے اپنے علاقہ اور خاندان کی پسماندگی کے باوجود کوشش کر کے یونیورسٹی کا ایم اے شماریات کا امتحان پاس کیا ہے۔ وہ اب کوئی چھوٹی موٹی ملازمت تلاش کر رہی تھی تا کہ اپنے خاندان کی حالت سدھار سکے۔ پیپلزپارٹی نے بڑی فراخ دلی کے ساتھ کرشنا کماری کا انتخاب کیا اور اسے سینٹ تک پہنچا دیا ہے۔ حالات کے اس طرح اچانک تبدیل ہو جانے پر کرشنا کماری اور اس کا خاندان بے پناہ خوشی اور حیرت کے عالم میں ہے۔ نگر پارکر کا پورا علاقہ دلت ہندوئوں سے آباد ہے۔کرشنا کماری یقینی طور پر سینٹ میں پہنچ کر اپنے علاقے اور برادری کی بہتری کے لئے کوشش کرے گی۔ اس کا اس انتخاب کا بیرون ملک خاص طور پر بھارت میں مثال بن سکتا ہے جہاں ملک کے سب سے بڑے صوبے یوپی کے گزشتہ انتخابات میں مسلمانوں کی بھاری تعداد کے باوجود کسی مسلمان کو اسمبلی تک نہیں آنے دیا گیا! اور جس کا وزیراعلیٰ ایک کٹڑ اسلام دشمن شخص کو بنا دیا گیا ہے جس نے اقتدار سنبھالتے ہی مسلمانوں کی مسجدوں اور تاج محل کو دی جانے والی امداد بند کر دی ہے۔ میں یہاں ایسی ہی ایک اور مثال کا ذکر کرنا چاہتا ہوں۔ میرا گھر لاہور کی آبادی اقبال ٹائون کے جہاں زیب بلاک میں ہے۔ اس میں تقریباً سات سو گھر ہیں جن میں ایک گھر عیسائی خاندان کا ہے باقی سب گھر مسلمانوں کے ہیں۔ ایک دور میں مَیں اس بلاک کی ویلفیئر سوسائٹی کا صدر رہا۔ اگلے انتخابات کا موقع آیا تو ہم لوگوں نے مل کر واحد عیسائی گھرانے کے سربراہ کنول فیروز کو صدارت کے لئے نامزد کر دیا۔ اس کے مقابلے میں ایک پیر صاحب کھڑے ہو گئے۔ انہوں نے اپنے انداز میں اپنی مہم شروع کی۔ ہمارے ساتھیوں نے کنول فیروز کے لئے اس بنیاد پر مہم شروع کر دی کہ وہ اعلیٰ تعلیم یافتہ صحافی اور اچھا منتظم تھا۔ انتخابات ہوئے تو کنول فیروز بھاری اکثریت کے ساتھ کامیاب ہو گیا۔ یہ سارے ووٹ مسلمانوں کے تھے۔ اس واقعہ کی میڈیا میں بہت تشہیر ہوئی۔ چند روز کے بعد ایک گرجا گھر میں ''اقلیتوں کے حقوق کے بارے میں عیسائی برادری کا ایک بڑا مذاکرہ منعقد ہوا۔ میں وہاں چلا گیا۔ مقررین نے اقلیتوں کو نظر انداز کئے جانے کی رسمی شکایات کا طومار باندھ دیا۔ میں نے بھی بات کرنے کی اجازت مانگی اور مذاکرہ کے مقررین اور سامعین سے سوال کیا کہ جس انداز میںجہاں زیب بلاک کے مسلمانوں کی بھاری اکثریت نے واحد غیر مسلم گھرانے کے ایک فرد کو علاقے کا صدر منتخب کیا ہے، کیا امریکہ، یورپ، بھارت یا کسی بھی دوسرے ملک میں اس رواداری اور انسان دوستی کی مثال دی جا سکتی ہے؟ کیا انگلستان میں کوئی عیسائیوں کی مکمل بھری کالونی کے واحد مسلم خاندان کا کوئی فرد اس انداز میں اس آبادی کی پنچائت کا سربراہ بن سکتا ہے؟ میرے اس سیدھے سوال پر ہر طرف خاموشی چھا گئی۔ یہ حقیقت ہے کہ کنول فیروز نے دو سال میں علاقے کی بہتری کے لئے بہت کام کیا اس کا اعتراف بھی کیا گیا۔ اس پس منظر کے ساتھ میں پیپلزپارٹی کی طرف سے کرشنا کماری کے انتخاب کی تحسین کرتا ہوں۔ ٭مگر پیپلزپارٹی نے سینٹ کے عام انتخابی عمل میں وسیع پیمانہ پر ہارس ٹریڈنگ کا جو زہر گھولا ہے۔ اس پر کیسے خاموش رہا جا سکتا ہے؟ اس پارٹی نے سندھ اسمبلی میں ایم کیو ایم کے 14'گھوڑے' خرید کر اس کی سینٹ کی چار نشستوں میں سے تین نشستیں حاصل کر لیں۔ ایم کیو ایم والے پارٹی کے اندر دھڑے بندی کے باعث پیپلزپارٹی کے اس وار کا کوئی توڑ نہیں کر سکے۔ موجودہ سینٹ میں ایم کیو ایم کے آٹھ ارکان ہیں۔ اس کے چار ارکان ریٹائر ہو رہے ہیں ان کی جگہ صرف ایک نشست مل سکی ہے۔ یہ لوگ اب چیخ چلا رہے ہیں کہ پیپلزپارٹی نے سات سات کروڑ روپے میں ان کے سندھ اسمبلی کے 14 ارکان خریدے ہیں مگر یہ بھی حقیقت ہے کہ ایم کیو ایم کی قیادت کی آپس میںہاتھا پائی کے باعث اس کے ارکان اسمبلی کی اچھی خاصی تعداد خود ہی اسے چھوڑ کر پیپلزپارٹی کے پاس چلی گئی تھی۔ ادھر خیبر پختونخوا اسمبلی کے 124 ارکان میں سے پیپلزپارٹی کے صرف چھ ارکان تھے، اس کے دو سنیٹر کس طرح منتخب ہو گئے؟ عمران خان نے اس سیاسی ہزیمت پر اپنے وزیراعلیٰ کی جواب طلبی کی تو اس نے کھلے الفاظ میں جواب دیا کہ پیپلزپارٹی نے تحریک انصاف کے 20 ارکان 'خرید' لئے تھے۔ تحریک انصاف کی قیادت خریدوفروخت کو کیوں نہ روک سکی؟ اس پر ایک دوسرے پر الزام تراشی جاری ہے۔ مگر خود تحریک انصاف نے پنجاب میں ن لیگ کے 'گھوڑوں' کی خریداری میں کیا کمال دکھایا کہ پنجاب اسمبلی میں اس کے 30 ارکان ہیں مگر اس کے واحد کامیاب امیدوار چودھری محمد سرور نے 44 ووٹ حاصل کر لئے جب کہ ن لیگ کے کامیاب ہونے والے دس ارکان میں سے کوئی بھی اتنے ووٹ حاصل نہ کر سکا! یہ کیسے ہوا؟ قارئین خود اس کا اندازہ لگا سکتے ہیں۔ یہ تو اسمبلیوں کی بات تھی۔ اب تو چیئرمین کے عہدہ کیلئے ''گھوڑوں'' کی تعداد بہت کم (104) رہ گئی ہے۔ ان میں بلوچستان وغیرہ سے 15 نئے آزاد ارکان سامنے ہیں۔ سینٹ کے 104 میں سے 33 ارکان ن لیگ کے پاس اور صرف 20 ارکان پیپلزپارٹی کے پاس ہیں مگر وہ دھڑلے کے ساتھ دعویٰ کر رہی ہے کہ وہ چیئرمین کا عہدہ بھی جیت کر دکھائے گی۔ اس کی گھوڑے خریدنے کی کاروباری صلاحیت کے پیش نظر وہ ایسا کربھی سکتی ہے، مگر پھر سوال پیدا ہوتا ہے کہ ہر قسم کی سیاسی، اخلاقی، سماجی اخلاقی اقدار سے عاری ''گھوڑوں کے اس اصطبل'' کا حاصل کیا ہے؟ سوائے اس کے کہ کسی قومی خدمت کی بجائے ہارس ٹریڈنگ کے اس مذموم کاروبار کو مزید وسعت دی جائے۔ یہ لوگ اربوں کے اخراجات ادا کرنے کے بعد یہاں تک پہنچے ہیں۔ ان اخراجات کوسود کے ساتھ وصول بھی تو کرنا ہے! کچھ دوسری باتیں۔ ٭مولانا فضل الرحمن نے کہا ہے کہ عمران خاں غیر ضروری سیاسی عنصر ہے! غالباً مولانا کہنا چاہتے ہیں کہ عمران خاں ان سے سیاست سیکھے کہ مرکز میں نوازشریف کا کس طرح ساتھ دیا جاتا ہے اور بلوچستان میں نوازشریف کی حکومت کس طرح الٹائی جاتی ہے۔

٭پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول زرداری نے اعلان کیا ہے کہ پیپلزپارٹی روٹی کپڑا مکان کے نعرے پر الیکشن لڑے گی۔ پیپلزپارٹی کو اس نعرے پر عمل کرنے میں خاصا تجربہ حاصل ہے۔ اس کے بانی قائد ذوالفقار علی بھٹو نے اپنے دور اقتدار میں اپوزیشن کی بھاری تعداد کو جس طرح جیلوں میں روٹی کپڑا اور رہائش فراہم کی تھی، اس پر اب بھی عمل کیا جا سکتا ہے! ٭پنجاب کے چیف سیکرٹری نے سپریم کورٹ میں بیان داخل کیا ہے کہ گرفتار شدہ احد چیمہ 19 ویں سکیل کا افسر تھا۔ اس سکیل کی تنخواہ ایک لاکھ روپے ماہوار بنتی ہے، وہ 15 لاکھ روپے ماہوار لے رہا تھا!؟ ٭ایس ایم ایس:'''میرا آٹھ سالہ بھتیجا ہارون رضوان پڑھ کر آ رہا تھا راستے میں اس کے گلے پر پتنگ کی ڈور پھر گئی۔ اس کی موٹی بنیان سے اس کی جان بچ گئی پھر بھی زخمی ہو گیا۔ حکومت کو اس طرف متوجہ کر دیں۔ فرقان الحق۔ گائوں کی NAKKI میر پور آزاد کشمیر (030689836)


اس خبر کے بارے میں اپنی رائے دیجئے
پسند آئی
 
ٹھیک ہے
 
کوئی رائے نہیں
 
پسند ںہیں آئی
 


 سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں





  اوصاف سپیشل

آج کا مکمل اخبار پڑھیں

     
     
تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ روزنامہ اوصاف محفوظ ہیں۔
Copyright © 2016 Daily Ausaf. All Rights Reserved