جب ہم برف میں پھنسے؟
  7  مارچ‬‮  2018     |     کالمز   |  مزید کالمز

(گزشتہ سے پیوستہ) رات ساڑھے 12بجے باغ اور پھر وہاں سے براستہ راولاکوٹ' ہجیرہ یا عباس پور' چڑی کوٹ ساڑھے7 گھنٹے کا پہاڑی سفر کرکے صبح تقریباً 7 بجے ضلع حویلی فاروڈ کہوٹہ پہنچے' جہاں ہمارا استقبال کہوٹہ کی مشہور علمی شخصیت اور گورنمنٹ پائلٹ ہائی سکول کے بزرگ استاد قاری حمید الرحمن نے بڑی محبت سے کیا۔ میرے ساتھی تو رات بھر کی تھکاوٹ اتارنے کے لئے صرف دو گھنٹوں کے لئے خواب خرگوش کے مزے لوٹنے لگے... مگر اس خاکسار نے قاری حمید الرحمن کے ہمراہ قریب ہی واقع شہداء کشمیر کے گھروں میں جانے کی ٹھان لی'70سالہ بزرگ چوہدری اکبر دین 1964ء میں جنہوں نے پونچھ میں ایک کارروائی کے دوران اپنے ہاتھوں سے کئی انڈین فوجی مردار کئے تھے ان کا بیٹا ظہیر اکبر کہ جس کی عمر ابھی صرف 20سال تھی 'سال 2016ء میں نوگام بارہ مولا میں بھارتی فوج کے درندوں سے لڑتے ہوئے جام شہادت نوش کر گیا تھا' میں نے شہید کے باپ اور کشمیر کے غازی بوڑھے اکبر دین سے سوال کیا کہ 1963-64ء میں آپ خود انڈین آرمی کے مدمقابل رہے' کبھی اوڑی سیکٹر کبھی پونچھ میں داد شجاعت دیتے رہے... اور پھر 2016ء میں آپ کا0 2سالہ لخت جگر مولانا ازہر کا مجاہد بن کر کشمیر میں جام شہادت نوش کر گیا 'آزادی کشمیر میں 53سالوں تک شریک رہ کر آپ نے جو کارنامے سرانجام دئیے... ان میں سے کچھ ہم سے بھی شیئر کیجئے... اس غازی کشمیر نے اپنا سر اٹھایا اور فرمایا کہ میں نے جو کچھ بھی کیا اللہ کے لئے کیا تھا... بس دعا کریں کہ اللہ قبول فرمائے۔ فارورڈ کہوٹہ کہ جو ڈیڑھ لاکھ کے لگ بھگ آبادی پر مشتمل فلک بوس پہاڑوں میں گھرا ہوا خوبصورت شہر ہے… جس کے ایک طرف درہ حاجی پیر' دوسری جانب نیزہ پیر اور چاند ٹیکری واقع ہے' جس کو دفاعی نکتہ نظر سے انتہائی اہمیت حاصل ہے … 4 جنوری کو کہوٹہ کے گورنمنٹ پائلٹ ہائی سکول میں شہداء کشمیر کانفرنس کا اہتمام کیا گیا تھا۔ ظہیر اکبر شہید کے والد محترم کی زیارت کے بعد ہم28 فروری کو سماہنی سیکٹر بھمبر میں وطن کی خاطر جام شہادت نوش کرنے والے پاک فوج کے جوان منیر احمد چوہان کے گھر پہنچے' وطن کی حفاظت کرتے ہوئے بھارتی فوج کی دہشت گردی کا نشانہ بننے والے32 سالہ شہید منیر احمد چوہان کے بزرگ والد محترم غلام محمد چوہان صبرو رضا کی تصویر بنے زبان حال سے کہہ رہے تھے کہ پاکستان کی حفاظت کی خاطر بیٹے نے جان نچھاور کرکے میرا سر فخر سے بلند کر دیا … پاک فوج کے شہید سپاہی کی دو معصوم بچیوں اور ایک معصوم بیٹے کو دیکھ کر … آنکھیں اشکوں سے تر ہوگئیں … بزرگ استاد قاری حمید الدین نے بتایا کہ … جمعتہ المبارک کے دن جب پورے فوجی اعزاز کے ساتھ شہید منیر احمد کی نماز جنازہ ادا کی جارہی تھی تو … شدید بارش جاری تھی مگر اس کے باوجود … ضلع بھر سے ہزاروں مسلمانوں نے بڑے والہانہ انداز میں شہید کے جنازے میں شرکت کی۔ میں صبرو رضا کی تصویر بنے پاک فو ج کے شہید جوان کے آنکھوں سے معذور بابا غلام محمد کے چمکتے ہوئے چہرے کی طرف دیکھ کر … سوچ رہا تھا کہ ٹی وی چینلز کے سٹوڈیوز میں بیٹھ کر پاک فوج کے خلاف گز' گز لمبی زبانیں نکال کر تنقید کرنے والے ''فسادیوں'' نے تو کبھی اس ملک کی خاطر اپنا پسینہ بھی نہیں بہایا … مگر پاک فوج کے جگر گوشے تو روز اس ملک کی آبرو پر اپنی جانیں قربان کر رہے ہیں۔ شریفوں' زرداریوں اور سیکولر انتہا پسندوں کے بچے تو امریکہ اور برطانیہ میں پلتے بڑھتے اور پڑھتے ہیں … مگر شہید فوجیوں کے بچے تو اسی ماں دھرتی پر اپنی زندگیاں گزار دیتے ہیں' شہید منیر احمد چوہان کے گھر سے اٹھنے کو جی نہیں چاہتا تھا … مگر قاری حمید الدین نے بتایا کہ ورثا جموں و کشمیر کے منتظم بھائی محمد آصف کی قیادت میں … موٹر سائیکلوں اور گاڑیوں پر مشتمل ریلی ہماری منتظر ہے … بہرحال ہم شہید منیر احمد کے والد محترم کو بیٹے کی شہادت پر مبارک پیش کرکے ریلی کی صورت میں جلسہ گاہ تک پہنچے کہ … جہاں شہداء کشمیر کانفرنس جاری تھی… کانفرنس سے کشمیر کے جہاد میں دو بیٹوں کی قربانی پیش کرنے والے بزرگ عبد الرشیدسابق ایڈمنسٹریٹر شیخ محمد عارف اور کشمیر کے معروف عالم دین مولانا اشفاق ربانی اور مفتی نصیر احمد نصیر نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ضلع حویلی کے بے گناہ عوام آئے روز بھارتی گولہ باری کا نشانہ بنتے رہتے ہیں' بھارت سویلین آبادی کو نشانہ بناکر ظلم و ستم کی تمام حدیں کراس کرچکا ہے' لیکن فارورڈ کہوٹہ کے عوام پاک فوج کے شانہ بشانہ جہاد جاری رکھیں گے۔ مولانا اشفاق ربانی کا کہنا تھا کہ سرحدات کی حفاظت کے لئے پاک فوج کے جوان اور مقبوضہ کشمیر کے مسلمانوں کے شانہ بشانہ … آزادی کی خاطر مولانا محمد مسعود ازہر کے جانباز جو قربانیاں پیش کررہے تھے … آزاد کشمیر کے عوام اسے انتہائی قدر کی نگاہ سے دیکھتے ہیں' انہوں نے کہا کہ روزنامہ اوصاف نے بھارتی مظالم کو بے نقاب اور کشمیر کے جہاد کی مضبوطی کے لئے جس استقامت کے ساتھ حمایت جاری رکھی ہوئی ہے ' اس پر چیف ایڈیٹر مہتاب خان کو خراج تحسین پیش کرتے ہیں۔

آخری مقرر کے طور پر اس خاکسار نے اپنے خطاب میں عرض کیا کہ … جو لوگ کشمیر کے جہاد کو ایجنسیوں کا جہاد کہتے ہیں انہیں شرم آنی چاہیے … اگر عالمی سطح پر پاکستان کے بیانیئے کو تسلیم نہیں کیا جارہا تو اس کی بنیادی وجہ وہ حکمران اور سیاست دان ہیں کہ جنہوں نے ''ڈان لیکس'' کا کھڑاک کیا تھا' پاکستانی وزارت دفاع کے مطابق جنوری2017 ء سے لے کر جنوری 2018 تک صرف ایک سال میں بھارتی فو ج نے تیرہ سو سے زائدبار سیز فائر کی خلاف ورزی کرکے درجنوں پاکستانی شہید اور سینکڑوں زخمی کیے … نریندر مودی کبھی بلوچستان کی بات کرتا ہے اور کبھی کراچی اور وزیرستان میں ''را'' کے ذریعے دہشت گردی کرواتا ہے … مگر عالمی صیہونی طاقتیں چونکہ اس کی پشت پناہ ہیں … اس لئے بھارت کو دہشت گردی کرنے اور دہشت گردوں کو فنڈنگ کرنے سے کوئی بھی روکنے کے لئے تیار نہیں ہے … مولانا محمد مسعود ازہر جیسے مایہ ناز عالم دین کو دہشت گرد قرار دلوانے کے لئے بھارت کئی مرتبہ سلامتی کونسل میں جاچکا ہے' لیکن اس ساری صورتحال کے باوجود پاکستان کے 22 کروڑ عوام مقبوضہ کشمیر کے ڈیڑھ کروڑ کے لگ بھگ مسلمانوں کو … بھارت کے رحم و کرم پر نہیں چھوڑ سکتے … روزنامہ اوصاف کشمیر کے مظلوم مسلمانوں کا اس وقت تک دست و بازو بنا رہے گا کہ جب تک کشمیر کو مکمل آزادی حاصل نہیں ہو جاتی' بھارت کو کشمیریوں کو ہر قیمت پر آزادی دینا پڑے گی … ورنہ جلد یا بدیر بھارت میں چلنے والی آزادی کی تحریکوں کی بدولت بھارت خود ٹکڑوں میں بٹ جائے گا۔ انشاء اللہ


اس خبر کے بارے میں اپنی رائے دیجئے
پسند آئی
 
ٹھیک ہے
 
کوئی رائے نہیں
 
پسند ںہیں آئی
 


 سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں





  اوصاف سپیشل

آج کا مکمل اخبار پڑھیں

     
     
تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ روزنامہ اوصاف محفوظ ہیں۔
Copyright © 2016 Daily Ausaf. All Rights Reserved