یوم حساب آرہاہے!...آگیا ہے
  7  مارچ‬‮  2018     |     کالمز   |  مزید کالمز

٭ذرا دل تھام کر سنئے! اسرائیل کے وزیراعظم نیتن یاہو نے واشنگٹن میں صدرٹرمپ کے ساتھ ملاقات میں تصدیق کردی ہے کہ سعودی عرب نے بھارت اور اسرائیل کے درمیان طیاروں کی پروازوں کے لیے اپنی فضا کے استعمال کی اجازت دے دی ہے۔ تقریباً ایک ماہ قبل یہ خبر ایئر انڈیا نے جاری کی تھی تو سعودی ایوی ایشن نے تردید کردی تھی۔ اب اسرائیل کے وزیراعظم نے خود اعلان کیا ہے کہ تو اب کیا تردید آئے گی؟ پاکستان کے مقابلے میں سعودی عرب بھارت کو جو ترجیح دے رہاہے (اب اسرائیل کی باری بھی آگئی ہے)۔ اس کااظہارتو اس وقت ہوگیا تھا جب کچھ عرصہ پہلے بھارت کاوزیراعظم نریندر مودی سعودی عرب آیا تو اسے 'یا سیّد 'نریند ر مودی کہہ کر پکارا گیا۔سعودی بادشاہ نے نریندر مودی کو جپھیاں ڈالیں اور اسے سعودی عرب کا سب سے بڑا سول ایوارڈ دیا۔ نریندر مودی نے بھی سعودی عرب کو اپنے پورے ملک کی مارکیٹیں پیش کریں۔ اور ہم !! خود ہی بھاگ بھاگ کر سعودی عرب جاتے رہے، اس کے شاہی محلات کی حفاظت کے لیے فوج بھی بھیج دی، کالموں میں قصیدے پڑھے اور.. اور حاصل یہ کہ اسرائیل اور بھارت کے لیے سعودی فضا کھول دی گئی!! ٭لاٹھی حرکت میں آگئی ۔ سب کودھر لیا! نواز شریف، کلثوم نواز، مریم نواز،شہبازشریف، حمزہ شہباز، وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا پرویزخٹک، عمران خاں، اسحاق ڈار!وفاقی وزیر، صوبائی وزیر، بڑے بڑے افسر، کسی سے کوئی رعائت نہیں، سب پیش ہوجائیں! اپنے اپنے کئے کا حساب دیں! شریف خاندان کے الزامات تو عام ہوچکے،عمران خاں نے کس اختیارات کے تحت بار بار سرکاری ہیلی کاپٹر استعمال کیے ؟ پرویز خٹک نے کس اختیار کے تحت 275 ایکڑ اراضی غیر قانونی طورپر بانٹ دی؟ احد چیمہ نے ایک ٹھیکے کے عوض 32 ایکڑ اراضی رشوت میں لی اور بہن اور کزن میں بانٹ دی! سندھ والے چیختے تھے کہ صرف سندھ کے خلاف کارروائیاں ہورہی ہیں۔ اب پنجاب کے پورے پورے خاندان پکڑے جارہے ہیں، خیبر پختونخوا اوربلوچستان والے بھی پیش ہو رہے ہیں۔ پرانا مقولہ کہ قدرت کے ہاں دیر تو ہوسکتی ہے اندھیر نہیںہوتا۔ اورحالت یہ کہ پہلے اعلیٰ عدالتوں کے خلاف سرعام انٹ شنٹ بولتے چلے جاتے ہیں اورجب نوٹس آ تا ہے تو قدموں پر گر پڑتے ہیں کہ حضور! توبہ توبہ! عدالتوں کی توہین ؟ کبھی سوچ بھی نہیں سکتا! ٭30سال تک آئین اور قانون کی محافظت کے علمبردار نوازشریف کے اپنے خلاف قانون شکنی کاالزام لگا تو عدالتوں کو بے نقط سنانی شروع کردیں۔ سیدھے سیدھے گالیوں اوردھمکیوں پراتر آئے اور اب نیا انداز کہ سپریم کورٹ کو سکھا شاہی قرار دے کر عوام کو بغاوت پر اٹھ کھڑ ہونے کی کال دے دی ہے! وہی بغاوت جو1997ء میں چیف جسٹس سجاد علی شاہ کے خلاف کی تھی کہ اپنی پارٹی کا ایک جتھہ سپریم کورٹ پرحملہ کرنے کے لیے بھیج دیا تھا۔ اس جتھے نے سپریم کورٹ کی بلند دیواریں اور مین گیٹ پھلانگنے کے بعد چیف جسٹس کے چیمبر کے دروازے اور کھڑکیاں تباہ کردیئے تھے اورعدالت کے ججوں نے بھاگ کر جانیں بچائی تھیں! اب پھر وہی بغاوت! مگر اب ماحول دوسرا ہے، حالات مختلف ہیں۔ سپریم کورٹ کے ساتھ نیب، ایف آئی اے، ایف بی آر اوردوسرے ادارے اٹھ پڑے ہیں۔ اپنے اپنے شکار ڈھونڈ رہے ہیں۔غضب خدا کہ باہر سے کھربوں کے قرضے لیے اورانہی کھربوں سے باہر اپنے ڈھیروں اثاثے بنالیے۔ ابھی تو زرداری خاندان کا بھی حساب ہونا ہے۔ اس کے خدشے پر خاندان کا سربراہ بھاگتا پھر رہاہے، دبئی، لندن کے پھیرے لگ رہے ہیں۔ اس خاندان نے دبئی کو مستقل وطن بنا لیا ہے۔ وہاں کیا کاروبارہے ؟ کچھ نہیں بتایا جاتا ۔ شہنشاہی مزاج سندھ کی پوری کابینہ کو دبئی بلا لیتا ہے، جہاں اس خاندان کا وسیع فارم ہاؤس ہے۔ چار بلند وبالا پلازے ہیں جن کا سالانہ کرایہ ہی بارہ ارب سے زیادہ آتا ہے! مگر پھر بلوچستان میں کیا اندھیر مچا ہوا ہے۔ ایک وزیر کے گھرسے لوٹا ہوا اربوں کا سامان نکلتا ہے۔ ایک حاضر سروس سیکرٹری خزانہ کے گھر سے اتنی بڑی تعداد میں کروڑوں اربوں کے بڑے کرنسی نوٹ نکلتے ہیں کہ مشینوں کے ذریعے ان کی گنتی گھنٹوں میں مکمل نہیں ہو پاتی! بہت سے دوسرے بڑے بڑے مگر مچھ ہیں۔ان میں کسی کے خاندان نے قیام پاکستان کے وقت کوئی قربانی نہیں دیں۔ان میں سے کسی نے پاکستان بنتے دیکھا ہی نہیں، انہیں کیا پتہ کہ پاکستان کیا چیز ہے؟پاکستان کو بنے ہوئے70 سال سے زیادہ ہوگئے۔ ان لوگوں کی عمریں دیکھئے ، نواز شریف 67سال، عمران خاں 66 سال، آصف زرداری 66 سال، الطاف حسین 64سال! دوسرے تمام لوگوں کا بھی یہی عالم ہے۔ سب کے سب لوٹ مار کے پیشہ ور ماہر اور دعوے قلندری اور درویشی کے!..مگرپھر کب تک ! یوم حساب اور موت کا کوئی پتہ نہیں ہوتاکہ کب آجائے! اب بھگدڑ اور افراتفری مچی ہوئی ہے، راتوں کی نیند یں حرام ہورہی ہیں۔ ڈر اؤنے خواب آرہے ہیں۔ مگر ابھی تو کچھ ہوا ہی نہیں، کسی عہدے سے فارغ ہونا تو کوئی بات نہیں۔ مگر جیل کی بلنددیواروں کے پیچھے کے مناظر بہت لرزہ خیز ہوتے ہیں! ٭جیل کے نام سے خیبر پختونخوا کی ایک اچھی خبر سامنے آئی ہے کہ صوبے کی تما م جیلوں میں وی آئی پی اور اے وبی کلاس ختم کی جارہی ہے۔ اب بلاتفریق تمام قیدی ایک ہی لباس میں ایک جیسی جگہ میں رہا کریں گے۔ یہ اسلامی اصولوں اور مساوات کا ایک اہم اور خوش گوار پہلو ہے۔ ہم لوگ، امیر فقیر، بادشاہ ،ملازم ، نمازمیں بلاتفریق ایک دوسرے کے ساتھ کھڑے ہوجاتے ہیں۔ میں نے سپریم کورٹ کے دوسینئر ججوں کو بالکل آخری صف میں عام لوگوں کے ساتھ نمازادا کرتے دیکھاہے۔ مگر جیلوں کے اندر بالکل مختلف انداز ہے۔ جاگیردار، وڈیرے، جیل میں بھی جاگیردار اور وڈیرے ہی بنے رہتے ہیں۔ وی آئی پی عہدوں والے اوّل تو کسی جیل کے نصیب میں ہی نہیں ہوتے، کبھی کبھار کوئی آجائے تو جیل کے اندر بھی اعلیٰ درجے کے ریسٹ ہاؤس فراہم ہو جاتے ہیں۔ اعلیٰ بستر ،عمدہ کھانا،صوفے، ٹیلی ویژن، ایئر کنڈیشنز اور خدمت کے لیے غریب قیدی حاضر! اے اور بی کلاس بھی بہتر ہوتی ہیں۔ بہت سی آسائشیں، مگر غریب قیدیوں کی بیرکوں میں گندے بستر! ذراذرا سی بات پر سخت سزائیں! یہ نظام انگریزوں نے رائج کیا تھا۔ میں عمران خاں اور ان کی صوبائی حکومت کے اس فیصلے پر اظہار تحسین کرتاہوں۔ صرف یہ گزارش کہ بے گناہ بوڑھے بزرگ قیدیوں ،اساتذہ ، خواتین اور بچوں کے ساتھ مناسب سلوک کیاجائے۔ انہیں فوج داری کیسوں والے سزا یافتہ عام مجرموں کے ساتھ بند نہ کیا جائے۔ ویسے عام قیدیوں کے ساتھ بھی بہتر سلوک کیا جائے۔ پنجاب میں چودھری پرویزالٰہی کے دور میں ایک احسن اقدام ہوا تھاکہ جیلوں میں گلی سڑی روٹیوں اور بدمزہ دال کی بجائے وہی کھانا دیا جانے لگا جو طلباء اور اساتذہ کو ان کے ہوسٹلوں میں دیا جاتا ہے۔ پتہ نہیں دوسرے صوبوں کا کیا حال ہے؟

٭وزیراعظم خاقان پھر اپنے ہفتہ وار بیرون ملک دورے پر نیپال پہنچ گئے۔ کیا مسئلہ تھاکچھ نہیں بتایاگیا صرف یہ کہ سر خ قالین پر استقبال ہوا، گارڈ آف آنر دیا گیا اور نیپال کے دریا کی عمدہ مچھلی کھلائی گئی! حکومت کے صرف دو ماہ 24دن باقی رہ گئے ہیں، جتنے زیادہ دورے لگ سکتے ہیں لگا لیے جائیں۔ ''ہے بہار باغِ دُنیا چند روز ، دیکھ لے اس کا تماشا چند روز!'' ٭ایس ایم ایس: میرے تین بچےSOFA سیکنڈری سکول میں پڑھتے ہیں۔آج کل پیپر ہورہے ہیں۔ سکول والوں نے ہر بچے سے150 روپے مانگ لیے ہیں۔ ٹیچر کہتے ہیں پرنسپل نے مانگے ہیں۔ یہ ظلم کیوں؟ حکام تک یہ بات پہنچادیں۔ محمد یوسف خاں لکی مروت نورنگ محلہ TANCHI آباد لکی مروت (0332-9771071)۔ (مجھے پرنسپل کانام اور فون نمبربھجیں)۔


اس خبر کے بارے میں اپنی رائے دیجئے
پسند آئی
100%
ٹھیک ہے
 
کوئی رائے نہیں
 
پسند ںہیں آئی
 


 سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں





  اوصاف سپیشل

آج کا مکمل اخبار پڑھیں

     
     
تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ روزنامہ اوصاف محفوظ ہیں۔
Copyright © 2016 Daily Ausaf. All Rights Reserved