گدھوں اور گھوڑوں سے معذرت
  8  مارچ‬‮  2018     |     کالمز   |  مزید کالمز

سینٹ کا میلہ منڈی مویشیاں ختم ہوا...مگر ہا' ہا' ہا ' کار اب بھی مچی ہوئی ہے کہ ''گھوڑوں'' نے کروڑوں میں ضمیر فروشی اور ووٹ فروشی کا حق ادا کر دیا... یقیناً ''جمہوریت'' کا اصل حسن یہی ہے... جس پر ہم مغرب کی اس ''جمہوریت'' کے مامے' چاچوں کو مبارکباد پیش کرتے ہیں ' بعض جمہوری سیاست دان بھی عجیب و غریب کردار کی بلائیں ہیں... عوام سے نعرے لگواتے ہیں کہ ''ووٹ کو عزت دو'' لیکن سینٹ انتخابات میں گھوڑے اور گدھے خرید کر اپنے عمل سے یہ نعرہ ثابت کرتے ہیں کہ ''ووٹ کے نوٹ دو'' سینٹ کو ''ایوان بالا'' کا مقام حاصل ہے... کہا جاتا ہے کہ سینٹ نہایت ہی متبرک اور مقدس ادارہ ہے۔ سابق چیئرمین سینٹ رضا ربانی کا سینٹ کے حوالے سے فلسفہ دیکھیں تو اوپر خدا اور نیچے ہر طرف سینٹ' ہی سینٹ کی عظمت نظر آئے گئی' لیکن ضمیر بیچنے اور ضمیر خریدنے والے جب ایوان بالا سینٹ کے اندر پہنچ جائیں گے تو پھر وہ اس ملک کی کون سی شے ہوگی کہ جسے بیچنے سے گریز کریں گے؟ ضمیر بیچنے والے اور ضمیر خریدنے والے جب ''سینٹر'' بن کر ایوان میں بیٹھے ہوں گے... تو ملک وقوم کے لئے ان کے فیصلے کس طرح کے ہوں گے؟ پاکستان کا اصل مسئلہ ہی یہ ہے کہ یہاں ''جمہوریت'' کے نام پر کھلواڑ کیا جاتا ہے... میں بار بار ''جمہوریت'' کا اس لئے ذکر کر رہا ہوں... کیونکہ جب بھی کسی کرپٹ' چور' یا ڈاکو پر ہاتھ ڈالا جاتا ہے تو نام نہاد سیاستدان واویلا یہی مچاتے ہیں کہ اس سے جمہوریت خطرے میں پڑ گئی ہے۔ شاید اسی لئے اس خاکسار کا یہ سوچا' سمجھا موقف ہے کہ یہاں اصل جمہوریت نہیں... بلکہ جمہوریت نما استحصالی سسٹم رائج ہے... کہ جس سسٹم میں چور' لٹیرے' ڈاکو' چور' کرپٹ' زانی' شرابی' سرمایہ دار' جاگیردار' ظالم اور وڈیرے نہ صرف اسمبلیوں کے رکن بلکہ وزیر اور مشیر بھی بن سکتتے ہیں' ہمارے ایک کالم نگار بھائی نے پارلیمنٹ کے اندر ہونے والی خرید و فروخت کے لئے ''ہارس ٹریڈنگ'' کا لفظ استعمال کرنے کو ''گھوڑوں'' کی توہین قرار دیا ہے... کیونکہ ''گھوڑا'' ایک کارآمد اور وفاشعار جانور ہے' اس لئے انہوں نے ہارس ''ٹریڈنگ'' کی جگہ ''ڈنکی'' ٹریڈنگ یعنی ''گدھوں'' کی تجارت کا لفظ استعمال کیا... ان کے مطابق کیونکہ ''گدھا'' بے وقوفی' بے وفائی اور بے ڈھنگے پن کی علامت سمجھا جاتا ہے۔ میرے نزدیک ووٹ اور ضمیر بیچنے والوں کو گھوڑے' گدھے' خچر' الو' لومڑ یا کسی بھی دوسرے جانور سے تشبیہ دنیا بھی غلط ہے... اس لئے کہ گدھا ہو' گھوڑا ہو' خچر ہو یا کوئی دوسرا جانور... ان میں سے تو آج تک کسی نے نہ اپنا ضمیر بیچا... نوٹوں کے بدلے ووٹ اور ضمیر بیچنے والے اور ان کے خریدار دونوں ہی جانوروں سے بھی بدتر ہیں۔ انہیں عوام کا نمائندہ کہنا یا سمجھنا انسانیت کی توہین کے مترادف ہے... جانوروں سے بھی بدتر جب بعض ضمیر فروش سینٹ کے رکن بنتے ہیں تو وہاں بیٹھ کر دینی مدارس' مساجد اور قانون ناموس رسالتۖ کے حوالے سے فیصلے کرتے ہیں ... پھر انہیں پاکستان سے بڑھ کر یہود و نصاریٰ کے مفادات کی فکر لاحق ہوتی ہے۔پھر قانون ناموس رسالتۖ ان کی آنکھوں میں کانٹے کی طرح چھبتا ہے؟ پھر ختم نبوتۖ کے قوانین کے خلاف سازشیں پروان چڑھتی ہیں... جب قانون بنانے والے ضمیر فروش ہوں گے... وہ تو جب چاہیں ملک کے مفادات کا سودا کرلیں۔ وزیراعظم شاہد خاقان عباسی سے لے کر مولانا فضل الرحمن اور عمران خان تک سب نے تسلیم کیا کہ ووٹوں کی مہنگی ترین خرید و فروخت ہو رہی ہے... مگر اس کے باوجود یہ گندہ دھندہ کرنے والوں کا اس جمہوری سسٹم نے کیا بگاڑ لیا؟ جمعیت علماء اسلام (ف) کے صوبائی امیر مولانا گل نصیب خان اور یہ خاکسار گزشتہ سال حج بیت اللہ کے سفر پر اکٹھے تھے... انہیں قریب سے دیکھنے پر پتہ چلتا تھا کہ جیسے یہ بھی امیر ترین شخص ہیں... لیکن سینٹ انتخابات نے ان کی غربت کا بھانڈا پھوڑ دیا۔ رہ گئے طلحہ محمود تو خاکسار نے ہمیشہ انہیں ''غریب'' ہی محسوس کیا... مگر سینٹ انتخابات کا معرکہ سر کرکے انہوں نے ثابت کر دیا کہ دولت تو ان کے گھر کی ''باندی'' ہے 'کراچی کی نمائندگی کی دعویدار ایم کیو ایم نے تو بکنے میں میں کسی معیار کو بھی خاطر میں لانا گوارا نہ کیا... اور ایک اخباری رپورٹ کے مطابق ... ''سب سے پہلے ایم کیو ایم کی خواتین ووٹرز نے اپنے ووٹوں کی ''بولی'' لگوائی 'کہا جاتا ہے کہ ایم کیو ایم کی باجیوں نے پچاس' پچاس لاکھ میں ووٹ بیچے' رہ گئی فاٹا' تحریک انصاف' مسلم لیگ ' پیپلزپارٹی و دیگرز کی بات تو اس حوالے سے سب نے ہی ایک دوسرے سے تیز دوڑنے کے نئے ریکارڈ قائم کر دکھائے' جب ووٹوں اور ضمیروں کا کاروبار کرکے ''سینٹ'' منتخب ہوگی تو عوام کا اس کو شک کی نگاہوں سے دیکھنا ایک قدرتی امر ہوگا' ضمیر فروش ٹولے کو عوام اپنی نمائندگی کا حق کبھی نہیں دیں گے۔

حیرت کی بات ہے کہ وزیراعظم سے لے کر نچلی سطح تک ہر شخص کے علم میں ہے کہ ووٹ اور ضمیر نوٹوں کے عوش خریدے جارہے ہیں... مگر پھر بھی روکنے والا کوئی نہیں' ہر کوئی تنقید تو کر رہا ہے... مگر اس کے باوجود سینٹ کی منڈی مویشیاں میں بکنے والوں کو ''سینٹرز'' کا اسٹیٹس حاصل ہوچکا ہے۔ اور اب ان پر ملکی وسائل بھی خرچ ہوں گے' کیا گھوڑوں یا گدھوں پر بھی کبھی قومی خزانہ خرچ ہوا ہے؟ شاید نہیں... اس لئے میرا دل چاہتا ہے کہ سینٹ انتخابات میں لگنے والی بولیوں کو ''ہارس'' ٹریڈنگ یا ''ڈنکی'' ٹریڈنگ قرار دینے پر گھوڑوں اور گدھوں سے معذرت کرلوں' کیونکہ یہ کام پاکستان کے جمہوری سیاستدان ہی کر سکتے ہیں' اس لئے کہ گدھوں اور گھوڑوں سے معذرت۔


اس خبر کے بارے میں اپنی رائے دیجئے
پسند آئی
 
ٹھیک ہے
 
کوئی رائے نہیں
 
پسند ںہیں آئی
 


 سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں





  اوصاف سپیشل

آج کا مکمل اخبار پڑھیں

     
     
تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ روزنامہ اوصاف محفوظ ہیں۔
Copyright © 2016 Daily Ausaf. All Rights Reserved