چیئرمین سینیٹ کے عہدے کا کاروبار
  8  مارچ‬‮  2018     |     کالمز   |  مزید کالمز

٭سینیٹ کے چیئرمین اور ڈپٹی چیئرمین کے عہدوں کی خرید وفروخت شروع ہوگئی ہے۔ اسمبلیوں کے گھوڑوں پر خزانے لٹانے والے اب خود گھوڑوں کا روپ اختیار کررہے ہیں۔ اس کا روبار میں تھوڑے ارکان والی پارٹیاں زیادہ مہنگی ثابت ہورہی ہیں۔ ان کے ووٹ کسی بھی بڑی پارٹی کو کامیاب بناسکتے ہیں۔ اب تک ایسی چار چھوٹی پارٹیوں نے کم ازکم ڈپٹی چیئرمین کے عہدہ کا مطالبہ کردیا ہے۔ گھوڑوں کی قیمت الگ مسئلہ ہے۔ اس ملک میں ایسی باتیں انوکھی نہیں ہیں۔71ء میں اس وقت کی سرحد اسمبلی میں نیشنل عوامی پارٹی کو دوسروں کے مقابلے میں اکثریت حاصل تھی۔ جے یو آئی کے پاس تھوڑے ارکا ن تھے ۔ پیپلز پارٹی کو ناکام کرنے کے لیے نیب اور جے یو آئی میں لین دین کے معاہدہ کے تحت جے یو آئی کے مفتی محمود وزیر اعلیٰ بن گئے اوراکثریتی پارٹی ان کے ماتحت آگئی۔ ایسی ایک اور مثال 1992ء میں پنجاب اسمبلی میں پیپلز پارٹی کو196 اور مسلم لیگ کو 206 ووٹ ملے۔18 آزاد امیدوار بھی کامیاب ہوئے۔ مسلم لیگ اور پیپلز پارٹی دونوں نے آزاد امیدواروں کو ساتھ ملانے کی کوشش کی۔ آزاد امیدواروں کی قیادت منظور وٹو کررہے تھے۔ انہوں نے وزیراعلیٰ کا عہدہ مانگ لیا۔ مسلم لیگ نے انکا رکردیا۔ پیپلز پارٹی اقلیت میں تھی مگر اب اقتدار دکھائی دے رہا تھا۔ اس نے میاں منظور وٹو کو وزیراعلیٰ اور ان کے تقریباً تمام ساتھیوں کو وزیر بنانے کی پیش کش کردی اور پھر تاریخ نے منظر دیکھاکہ تقریباً 320 ارکان والی اسمبلی میں صرف 18 ارکان کا لیڈر وزیر اعلیٰ بنا ہواہے۔ پیپلز پارٹی کے فیصل صالح حیات، میا ں منظور وٹو کے ساتھ سینئر وزیر بن گئے۔ اب بھی ایسا کوئی ڈراما ہوسکتا ہے۔ کوئی چھوٹی پارٹی سودا کاری کے ذریعے کسی بڑے عہدے پر قابض ہو سکتی ہے۔ سیاسی، اخلاقی اصولوں کا تو ذکر ہی کیا، جس سینیٹ کے ارکان کروڑوں ، اربوں کے گھوڑے خرید کر آئے ہوں اوراب خود گھوڑے بن رہے ہوں، وہاں اصولوں کا تذکرہ کیا ؟ دعوے یہ لوگ بھی عوامی نمائندگی کے ہی کریں گے!! ٭سینیٹ کے فارغ ہونے والے52ارکان کا آخری اور الوداعی اجلاس مجلس عزا کی شکل اختیار کرگیا۔ نسرین جلیل رونے لگیں۔ دوسرے ارکان بھی نم آلودہ آنکھوں کے ساتھ رخصت ہوئے۔ چھ سال تک سرکاری اخراجات پر عیش وعشرت کی زندگی گزارنے کے بعد اب ذاتی حالات میں زندگی کیسے بسر ہوگی؟ ویسے خواتین کا بھی جواب نہیں۔ ذرا ذرا سی بات پر آنکھیں بھرآتی ہیں۔ عظمیٰ بخاری سینیٹ کے نتائج پر روپڑی۔ فردوس عاشق اعوان وزیر تھیں تو کابینہ کے اجلاس میں رونے لگیں کہ افسران کی بات نہیں سنتے ۔ خواتین ویسے ہی بہت نرم دل ہوتی ہیں، ذراسی ٹھیس لگنے پرآنکھیں ساون بھادوں بن جاتی ہیں۔ ویسے نسرین جلیل کے رونے کی ایک وجہ اور بھی تھی کہ ایم کیو ایم کی طرف سینیٹ کے ابتدائی امیدواروں میں ان کا نام بھی شامل تھا مگرایم کیو ایم کے اندر ہاتھا پائی شروع ہو ئی تو ان کا نام غائب ہوگیا۔ ورنہ مزید چھ سال کی اعلیٰ آسودگی دکھائی دے رہی تھی! ٭سپریم کورٹ کے روبرو بات واضح ہوگئی کہ بنی گالہ میں عمران خاں کے گھر کا نقشہ منظور نہیں کرایاگیااور یہ غیر قانونی طورپر تیار کیاگیا ہے۔ عدالت میں عمران خاں کے وکیل بابر اعوان نے کیا جواز پیش کیا کہ مکان کا نقشہ یونین کونسل میں دے آئے تھے اور بس! نقشہ منظور ہوا یا نہیں ہوا، اس کاکوئی پتہ نہیں کیا، جب کہ یونین کونسل ویسے ہی نقشے منظور نہیں کرسکتی۔ ویسے صرف عمران خاں کی ہی بات نہیں، بنی گالہ میں اوربھی ایسی عمارتیں موجود ہیں۔ بلدیاتی قوانین کے تحت کوئی عمارت غیر قانونی طورپر تعمیر ہوئی ہو مگر اس سے عوام کے لیے کوئی مسئلہ پیدا نہ ہوتا ہو تو بلدیاتی ادارے خاص شرح جرمانہ ادا کرکے منظوری دے دیتے ہیں۔ عمران خاں کا معاملہ بھی ایساہی ہے۔ فاضل چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے ہیں کہ عمران خاں کو بھی دوسرے لوگوں کی طرح مقررہ جرمانہ وغیرہ ادا کرنا پڑے گا…یہ تو ہو جائے گا مگر پھرایک قومی لیڈر جووزیراعظم بننے کے دعوے بھی کررہاہوں۔ قانون کو پس پشت ڈال دیا!!…چلئے کوئی اور بات کرتے ہیں۔ ٭امریکہ کے انٹیلی جنس محکمہ کے ڈائریکٹر ڈینیل کوٹس نے پاکستان کو وارننگ دی ہے کہ اس نے آئندہ بھارت میں کوئی ''بڑی شرانگیزی'' کی تو بھارت اس پر بھرپور حملہ کردے گا! امریکی سینیٹ کی آرمڈ سروسز کمیٹی سے خطاب کرتے ہوئے ڈینیل کوٹس نے پاکستان پر کھلا الزام لگایا کہ وہ بھارت کے علاوہ افغانستان میں دہشت گردی کی کھلی کارروائیاں کررہا ہے اور اپنے ہاں دہشت گردوں کی مالی مدد کررہاہے۔ اس کے ساتھ ہی امریکی ڈائریکٹر انٹیلی جنس نے تشویش ظاہر کی کہ بھارت اور چین کے درمیان بھوٹان کی سرحد پر فوجی کشیدگی بہت بڑھ گئی ہے۔ جس سے اس علاقے میں خطرناک محاذ آرائی کا خدشہ پیدا ہوگیا ہے۔ یہ محاذ آرائی بڑے پیمانے پر جنگ میں بھی تبدیل ہوسکتی ہے! ٭لاہور شہر پر پھر 'کرکٹ' کے نام پر ایک مصیبت آرہی ہے۔ اس وقت عرب امارات میں ہونے والے پاکستان کرکٹ لیگ کے مقابلے20اور21مارچ کو لاہور میں منتقل ہو جائیں گے۔ ان میچوں کی ابھی سے تیاریاں شروع ہوگئی ہیں۔ ان کے مطابق18 مارچ سے ہی قذافی سٹیڈیم کے اردگرد تمام مارکیٹیں بند کردی جائیں گی۔ 19مارچ سے سٹیڈیم کی طرف آنے والی تمام بڑی سڑکیں دور تک بند ہو جائیں گی۔ میچ کے دنوں میں ان سڑکوں پر کوئی ٹریفک نہیں چلے گی۔ ان میں فیروز پور روڈ، کینال روڈ اورگلبرگ کی پانچ سڑکیں شامل ہیں۔ میچ دیکھنے کے لیے آنے والوں کو کم ازکم دو کلومیٹر دور گاڑیاں پارک کرنا ہوں گی۔ میچ شروع ہونے سے دو گھنٹے پہلے آنا ہوگااور یہ کہ پولیس کے 18ہزار اہلکار حفاظتی ڈیوٹی دیں گے! کچھ عرصہ پہلے اسی سٹیڈیم میں سری لنکا کے میچ کے موقع پر تین روز تک لاہور شہر کی ساری سڑکوں پر ٹریفک جام ہوگئی اور لاکھوں شہری شدید مشکلات میں پھنس گئے تھے۔ اب پھر وہی منظر سامنے آرہاہے۔ کرکٹ کے دومیچوں کی تفریح کے لیے پھروہی مصیبت نازل ہونے والی ہے۔ خدا خیر کرے! ٭ایم کیوایم کا خود اپنے ہاتھوں جو حشر ہواہے، اس نے آپس کی لڑائی میں سینیٹ کی تین نشستیں گنوادیں۔ اس کی سندھ اسمبلی کی دورکن خواتین مہر سوہو اور نائلہ منیر نے باقاعدہ پیپلزپارٹی میں شرکت کا اعلان کرتے ہوئے عجیب سی بات کہی ہے کہ وہ پریس کانفرنس میں بتائیں گی کہ ایم کیو ایم میں خواتین کے ساتھ کیا ہوتا ہے؟؟ یہ بات نظراندازکیے جانے کی بھی ہوسکتی ہے مگر بات ناقابل بیان حد تک بھی جاسکتی ہے! خدا کرے کوئی ایسی ویسی بات سامنے نہ آئے! !

٭تشویش ناک خبرہے کہ بیگم کلثوم کی چھٹی کیمو تھریپی ہورہی ہے۔ اس کے معنی ہیں کہ پانچ بار کیمو تھریپی کامیاب نہیں ہو سکی مگرزیادہ تشویش ناک بات یہ ہے کہ ڈاکٹروں کے مطابق گلے میں کینسر کے جس ٹیومر کا آپریشن کیاگیاتھا وہ پھر پیداہوگیاہے۔ اس کا پھر سے آپریشن کرنا پڑے گا۔ یہ خبر اچھی نہیں ہے۔ بیگم صاحبہ اگست 2017ء سے لندن میں زیر علاج ہیں۔ وہ قومی اسمبلی کی رکن منتخب ہوچکی ہیں مگرابھی تک حلف نہیں اٹھا سکیں۔ اب توویسے ہی اسمبلی کی باقی میعاد تقریباً پونے تین ماہ رہ گئی ہے۔ مگر اسمبلی سے ہٹ کر بیگم صاحبہ کی موجودہ صورت حال اچھی نہیں دکھائی دے رہی۔ آئیے سب مل کر ان کی شفایابی کی دعا کریں۔ ٭پا ک فوج نے آزاد کشمیر میں کنٹرول لائن پر بھارت کا ڈورن طیارہ مار گرایا۔ ایک سال کے دوران گرایاجانے والا یہ چوتھا بھارتی طیارہ ہے۔ ٭قارئین کرام! آج بہت خراب طبیعت کے عالم میں کالم لکھاہے ۔ بے ترتیب اور بے ربط ہونے پر معذرت


اس خبر کے بارے میں اپنی رائے دیجئے
پسند آئی
 
ٹھیک ہے
 
کوئی رائے نہیں
 
پسند ںہیں آئی
 


 سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں





  اوصاف سپیشل

آج کا مکمل اخبار پڑھیں

     
     
تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ روزنامہ اوصاف محفوظ ہیں۔
Copyright © 2016 Daily Ausaf. All Rights Reserved