سینٹ کی کمیٹی' ناموس رسالت اور مفتی عبدالستار
  9  مارچ‬‮  2018     |     کالمز   |  مزید کالمز

یورپ کے مفادات کا حامی طبقہ قانون ناموس رسالتۖ کو نہ جانے اپنے لئے خطرہ کیوں سمجھتا ہے؟ یورپ اور انڈین مفادات کے اس نگران طبقے کی اول' اول تو کوششیں یہ رہی ہیں کہ قانون توہین سالت کو سرے سے ختم کر دیا جائے... لیکن پاکستان کی مسلمان قوم کے ہاتھوں جوتوں کے خوف سے یہ تو کر نہیں سکتے... تو پھر اس ''جاہل ''طبقے کی کوشش یہ رہی ہے کہ کم از کم قانون توہین رسالت کو ''لبرل'' اور ''سیکولر'' ہی بنا دیا جائے۔ اب سینٹ کی انسانی حقوق کی وہ کمیٹی کہ جس کی سربراہی ایم کیو ایم کی نسرین جلیل کے پاس ہو... کیا اسے انسانی حقوق کی کمیٹی کہا بھی جاسکتا ہے یا نہیں؟ کیونکہ خود نسرین جلیل کی جماعت ایم کیو ایم کے دامن پر ہزاروں بے گناہ انسانوں کے لہو کے داغ ہیں... اس سوال کا جواب کسی اور وقت کے لئے اٹھا رکھتے ہیں... سینٹ کی اس ''انسانی حقوق کی کمیٹی'' نے توہین رسالتۖ قانون کے غلط استعمال کو روکنے کے نام پر جو سفارشات پیش کیں... ان سفارشات میں کہا گیا ''کہ توہین رسالت کا جھوٹا الزام لگانے والے کو وہی سزا دی جائے جو توہین رسالت کے مجرم کے لئے ہے... الزام لگانے والے پر لازم ہوگا کہ وہ اپنے ساتھ دو گواہ بھی لائے... صرف دو گواہ لانے کی صورت میں ہی... ایف آئی آر درج کی جائے'' سینٹ کی اس انسانی حقوق کی کمیٹی میں خوش قسمتی سے جمعیت علماء اسلام کے سینیٹر مفتی عبدالستار بھی بحیثیت رکن کمیٹی بیٹھے ہوئے تھے... جنہوں نے کمیٹی کی سفارشات کی شدید مخالفت کرتے ہوئے کہا کہ ''توہین رسالت کے قانون پر بات نہ کی جائے... کیا ملک میں صرف توہین رسالت قانون ہی کا غلط استعمال ہو رہا ہے؟ کیا ملک میں قتل سے متعلق قانون کا غلط استعمال نہیں ہو رہا؟ درحقیقت پاکستان میں توہین رسالت کے قانون کے خلاف سازش کی جارہی ہے... سینٹر مفتی عبدالستارنے سختی سے کہا کہ میں کسی ترمیم کی حمایت نہیں کرونگا۔ اوصاف کی رپورٹ کے مطابق سینٹر مفتی عبدالستار نے کہا کہ اگر یہ سفارشات پیش کی گئیں تو کسی کو نہیں چھوڑوں گا... اس رپورٹ کو ایوان میں پیش نہ کیا جائے 'رپورٹ پیش کی گئی تو میں کمیٹی ممبران کے خلاف پریس کانفرنس کرونگا... آپ لوگ اپنے بیرونی آقائوں کے اشارے پر قانون میں ترمیم چاہتے ہیں... یہ اسلام اور ناموس رسالت کے خلاف سازش ہے۔'' مفتی عبدالستار کی شدید مخالفت کے بعد کمیٹی نے سفارشات ایوان کو بھیجنے کی بجائے اسلامی نظریاتی کونسل کو بھجوا دیں... سچی بات ہے کہ یہ خبر پڑھ کر پاکستانی قوم کا سیروں خون بڑھ گیا... کہ شکر ہے کہ سینٹ کے ایوان میں جہاں فرحت اللہ بابر' نسرین جلیل' ستارہ ایاز اور محسن لغاری جیسے موجود ہیں جنہیں ناموس رسالت قانون کو ''سیکولر'' بنانے کی فکرلاحق ہے ... وہاں اسی سینٹ میں ''مفتی عبدالستار'' جیسے درویش صفت اور مضبوط ایمان والے لوگ بھی موجود ہیں کہ جن کا ''سینٹ'' کی چکا چوند اور مغرب زدہ روشن خیالی بال بھی بھی بیکا نہیں کر سکی' وہ ''سینٹر'' بننے کے باوجود خالص ''مولوی'' اور''مفتی'' کے مفتی'' ہی رہے... اور سینٹ کی انسانی حقوق کی کمیٹی کے سامنے قانون ناموس رسالت کے دفاع میں آواز حق بلند کرکے ... پوری قوم کی ترجمانی کی۔ ''سینٹ'' قومی اسمبلی اور صوبائی اسمبلیوں میں مفتی عبدالستار جیسے روشن کرداروں کی ہی ضرورت ہے... کہ جو جہاں بھی جائیں اسلام اور پاکستان ہی کے حوالوں سے پہچانے جائیں... مفتی عبدالستار نے ناموس رسالتۖ قانون کے دفاع میں سینہ سپر ہو کر یہ بات بھی ثابت کر دی کہ وہ نوٹوں کے ذریعے ووٹ خرید کر ''سینیٹر'' نہیں بنے تھے... شاید اسی لئے وہ سینٹ کی انسانی حقوق کی کمیٹی میں ان کا ضمیر بھی زندہ' روشن اور مطمئن تھا... مفتی عبدالستار نے سینٹ کی انسانی حقوق کی کمیٹی کے سامنے بجا طور پر یہ سوال اٹھایا ہے کہ ''کیا ملک میں قتل سے متعلق قانون کا غلط استعمال نہیں ہو رہا؟'' صرف قتل ہی کیا ... نسرین جلیل' ستارہ ایاز یا موم بتی مافیا کا ہے کوئی ہرکارہ 'کہ جو اس بات کا جواب دے کہ کونسا قانون ہے کہ جس کا پاکستان میں غلط استعمال نہیں ہو رہا؟ مگر قتل کے قانون کے غلط استعمال سے لے کر دیگر غلط استعمال ہوتے قوانین روکنے کے لئے تو کسی نسرین جلیل' ستارہ ایاز یا فرحت اللہ بابر نے کبھی کوئی سفارشات پیش نہیں کیں... آج تک سینٹ یا قومی اسمبلی کی کسی کمیٹی نے یہ مطالبہ نہیں کیا کہ جو کسی دوسرے شخص پر قتل کا جھوٹا الزام لگائے' قتل کا جھوٹا الزام لگانے والے کو بھی وہی سزا دی جائے جو قتل کے مجرم کے لئے ہے۔

ایک اسلامی نظریاتی مملکت کے ایوان بالا سینٹ اور قومی اسمبلی میں کبھی قانون ناموس رسالتۖ اور کبھی ختم نبوتۖ کے قوانین پر ہی شب خون مارنے کی کوششیں کیوں کی جاتی ہیں۔ سینٹ کی انسانی حقوق کی کمیٹی نے سینٹر مفتی عبدالستار کی شدید مخالفت اور سخت ردعمل کے بعد توہین رسالت قانون کے حوالے سے سفارشات اسلامی نظریاتی کونسل کو بھجوانے پر اتفاق تو کرلیا ہے... پوری قوم دعا کرے کہ اللہ تعالیٰ' موجودہ اسلامی نظریاتی کونسل کا ''قبلہ'' درست سمت میں ہی رکھے' نام نہاد روشن خیالی اور این جی اوز مارکہ فتنوں سے نظریاتی کونسل سمیت ہم سب کو بچائے رکھے۔ (آمین)


اس خبر کے بارے میں اپنی رائے دیجئے
پسند آئی
100%
ٹھیک ہے
 
کوئی رائے نہیں
 
پسند ںہیں آئی
 


 سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں





  اوصاف سپیشل

آج کا مکمل اخبار پڑھیں

     
     
تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ روزنامہ اوصاف محفوظ ہیں۔
Copyright © 2016 Daily Ausaf. All Rights Reserved