توہین عدالت ، معافیاں، منت سماجت مگر…!
  9  مارچ‬‮  2018     |     کالمز   |  مزید کالمز

٭اسلام آباد ہائی کورٹ میں نوازشریف کے خلاف توہین عدالت کاکیس شروع ہوگیا۔ لاہور ہائی کورٹ میں بھی ایسا کیس زیرسماعت ہے۔ حاضریاں بڑھ گئیں! ٭معافیاں، ہاتھ جوڑ کر منت سماجت، گڑگڑا کر توبہ! یہی اوقات تھی ڈاکٹر شاہد مسعود، نہال ہاشمی،دانیال عزیز اور طلال چودھری کی! ساری اکڑ فُوں نکل گئی۔قدموں پر گرنے کو تیار! نہال ہاشمی اس حد تک رونے لگا کہ '' حضور رحم فرمائیں، میرا وکالت کا لائسنس معطل نہ کریں، وکالت ختم ہوگئی تو میں کہاں سے کھاؤںگا، بچے بھوکے مر جائیں گے، بجلی کا بل نہیں دے سکوں گا! مڈل کلاس آدمی ہوں، میرے پاس تو چار آنے بھی نہیں ہیں۔ میں نے تو جیل سے باہر آکروہ گالیاں لوگوں کو سنائی تھی جوجیل کے اندرقیدی دے رہے تھے ۔ میں تواداکاری کر رہا تھا، شدید ذہنی دباؤ کا شکار تھا ''۔ اور مجھے یہ سوچتے ہوئے شرم آرہی ہے کہ ایسے گھٹیا کردار کو (ن) لیگ نے سینیٹ کا رکن بنا یا ہواتھا! مگر یہ ایک ہی کیا؟ کرشن چندر کا افسانہ یاد آرہاہے کہ ایک گدھا کسی طرح پڑھ لکھ کر اسمبلی کا رکن بن گیا۔ اسمبلی کے اندر جاتے وقت بہت گھبرا رہا تھا کہ اندر تو بہت سے انسان بیٹھے ہوں گے، میں ان میں کیسے بیٹھ سکوں گا؟ مگر جب وہ اندر داخل ہوا تو دیکھ کر حیران رہ گیا کہ ساری نشستوں پر گدھے بیٹھے ہوئے تھے! ٭ایک اور ٹیلی ویژن کا اینکرپرسن! والدین نے لاکھوں روپے خرچ کرکے ایف آر سی ایس ( سرجن ڈاکٹر) بنایا کہ عوام کے امراض کا علاج کرسکے۔ اس نے ڈاکٹری کو الماری میں بند کردیااور ٹیلی ویژن کا اینکر پرسن بن کر پاک فوج اور عدلیہ سمیت عام لوگوں کی ایسی تیسی شروع کردی۔ ایک روز ٹیلی ویژن پراعلان کردیاکہ قصور کی بچی زینب کیس کے مجرم عمران علی کے بیرون ملک بینکوں میں37 اکاؤنٹس ہیں اوریہ کہ وہ پاکستان میں بداخلاقی پھیلانے والے بڑے عالمی مافیا کا نمائندہ ہے۔یہ کیس عدالت میں زیر سماعت تھا۔ عدالت کے نوٹس پر بڑے رعب اور رعونت کے ساتھ عدالت میں گیااور چیف جسٹس کے سامنے عمران علی کے بیرونی اکاؤنٹس کی ایک فہرست پیش کرکے کہا کہ یہ غلط ثابت ہوتو مجھے پھانسی دے دی جائے۔عدالت نے ایک تحقیقا تی کمیٹی قائم کردی۔ اس نے تفصیلی تحقیقات کے بعد رپورٹ دی کہ شاہد مسعودکے 18 الزامات اورا نکشافات بالکل غلط اور بے بنیاد ہیں۔ عمران علی تو ڈھائی مرلے کے مکان میں رہنے والا ایک نفسیاتی مریض اورمجرم ہے اوربس! فاضل عدالت نے شاہد مسعود کو طلب کرلیا۔ عدالت سے باہر کسی نے پوچھا کہ کیا معافی مانگیں گے؟ بڑی رعونت کے ساتھ جواب دیاکہ سوال ہی پیدا نہیں ہوتا! عدالت میں قدم رکھا، تحقیقاتی رپورٹ دیکھی توہاتھ جوڑ دیئے کہ حضور معافی دے دیں، میں اپناکیس واپس لیتا ہوں۔ عدالت نے قراردیا کہ عدالت کو گمراہ کیاگیا، معافی کاچانس گزر چکا، اب کارروائی ہوگی اور قانونی نتائج بھگتنا پڑیںگے! ٭نہا ل ہاشمی کی طرح دانیال عزیز اور طلال چودھری نے خود کو زمین سے اٹھا کراک دم آسمان پر لانے والے حکمران آقاؤں کے سامنے نمبر بنانے کے لیے سپریم کورٹ پر کھلم کھلا دشنام طرازی شروع کردی۔ سپریم کورٹ نے دونوں پر توہین عدالت کی فرد جرم عائد کرنے کا فیصلہ کیا ہے تو دونوں کے غباروں کی ہوا نکل گئی۔ فرد جرم کے نتیجے میں وہی انجام ہوگا جو سابق وزیراعظم یوسف رضا گیلانی کا ہوا تھا۔ صرف 15سیکنڈ کی قید سے وزیراعظم کا عہدہ غائب ہو گیا۔ یہ لوگ تو بہت چھوٹے سرکاری چوبدار ہیں۔ سینیٹ کی رکنیت، وزارتیں، سرکاری عہدے ، بھاری تنخواہیں ملی ہوئی ہیں، صرف چند سیکنڈ کی سزا سے آسمان سے زمین پرآجائیں گے۔ سارے عہدے سب کچھ ہاتھ سے نکل جائے گا… ! ٭اور سینیٹ کا معیار! عدالت عظمیٰ کے ایک سینئرجج نے حیرت کااظہار کیا ہے کہ اسحاق ڈار کو ایک عدالت مفرور قرار دے چکی ہے ، اس کے ناقابل ضمانت وارنٹ جاری ہوچکے ہیں۔ مفرور ملزم کے سارے قانونی حقوق ختم ہو جاتے ہیں۔ پھراسحا ق ڈار کو سینیٹ کی رکنیت کیسے مل گئی؟ ٭شریف خاندان کے خلاف ریفرنسوں کی سماعت کی چھ ماہ کی مدت 13مارچ کو ختم ہورہی تھی۔ اسے 13مئی تک وسیع دے دی گئی، عدالت کے جج محمدبشیر کی ملازمت 12 مارچ کو ختم ہو رہی ہے۔ اس میں بھی توسیع کی جارہی ہے۔ ریفرنسوں کی مدت بڑھ جانے پر نوازشریف اور مریم نواز نے تبصرہ کیا ہے کہ چھ ماہ میں کچھ نہیں ملا، اب دوماہ میں کیا مل جائے گا؟ ان دونوں کو اچھی طرح معلوم ہے کہ عدالت میں بہت کچھ آچکا ہے، اب ضمنی ریفرنس آگئے ہیں، ان کی سماعت کے لیے مزید وقت چاہئے تھا۔ یہ لوگ سب کچھ جانتے ہیں، ان ریفرنسوں کے نتائج بھی جانتے ہیں۔ ان کے سرکاری چوبدار تو معافیاں مانگتے پھر رہے ہیں، مگر یہ کسی خوش گمانی کے اسیر ہیں! ٭سینیٹ کے چیئرمین کا معاملہ الجھا ہواہے۔ آصف زرداری کے مسلسل دعوے آرہے ہیں کہ سینیٹ کی سرداری اور سب راج پاٹ موصوف کے قدموں پر ڈھیر ہونے والا ہے۔ موصوف نے سینیٹ کے چیئرمین کے لیے رضا ربانی کو مسترد کردیا اور اپنے دور کے نائب وزیر سرمایہ کاری59 سالہ سلیم مانڈوی والا کو نامزد کردیا ہے۔ سلیم مانڈوی والا ٹیکساس کے ہوا بازی کے ایک سکول کے گریجویٹ ہیں۔ مانڈوی والا خاندان 1922ء سے بزنس کے میدان میں ہے۔ رضا ربانی کو آصف زرداری نے سینیٹ کا ٹکٹ تو دے دیا مگر کوشش کی کہ وہ کامیاب نہ ہوسکیں۔ اتفاق سے وہ نمبروں کی فہرست کے آخری چند نمبروں میں کامیاب ہوگئے۔ پیپلز پارٹی کے ذرائع کے مطابق وہ پارلیمنٹ کی برتری کے ساتھ عدلیہ اورفوج کے بارے میں تلخ ریمارکس دیتے رہے ہیں۔ آصف زرداری نے بھی ایک بار جرنیلوں کی اینٹ سے اینٹ بجانے کا نعرہ لگایا تھامگر پھر جانے کیا ہوا؟ اب فوج کے قدموں میں بچھے جارہے ہیں! ٭اور اب دل تھام کر سنئے: سعودی عرب کے ولی عہد شہزادہ محمد بن سلیمان نے لندن جاتے ہوئے قاہرہ میں صحافیوں سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ '' ایران اور ترکی دونوں برائیوں کا محور ہیں''۔ ایران تو عرصہ قدیم سے سے سعودی حکومت کے ساتھ نبردآزماہے۔ مگر ترکی کے خلاف یہ سخت ریمارکس؟ سادہ سی بات ہے کہ بھارت کو خوش کرنے کے لیے پیرس کی مالیاتی کانفرنس میں سعودی عرب نے پاکستان کی حمائت کرنے سے انکار کردیا۔ اس کے باعث چین کو بھی خاموش ہونا پڑا مگر ترکی اکیلا پاکستان کے حق میں ڈٹ گیا! سعودی عرب کو یہ گوارانہ ہوسکا! اور ترکی کو نشانے پررکھ لیا! سعودی ولی عہد کے محل کی حفاظت کے لیے پاکستان کی فوج بھیجنے کا کیا حاصل ہوا؟

٭ایک مختلف بات: دہلی میں بڑودہ بنک کا اسٹنٹ جنرل منیجر پراوین نیّر60سال کی عمر پوری کرکے ریٹائر ہو گیا۔ اس کے اعزاز میں بڑے پیمانے پر رسمی الوداعی تقریب منعقد ہوئی۔ آخر میں پراوین نیّر نے شکریہ کے اظہار کی تقریر کی۔ اس نے آخری الفاظ کہے کہ آ پ سب کا بہت شکریہ! اس کے ساتھ ہی اس کا سر آگے کی طرف میز پر ڈھلک گیا۔ اس کاانتقال ہو چکا تھا! اس کی بیٹیاں، بیٹے اور دوسرے لوگ چیختے چلاتے اس کی طرف بھاگے مگر وہ جا چکا تھا! میڈیکل رپورٹ کے مطابق وہ خاصا صحت مندتھا، کوئی عارضہ بھی نہیں تھا،مگر وقت کب پورا ہو جاتاہے؟ کسی کو علم نہیں ہوسکتا، ہاں شائد ان لوگوں کو معلوم ہو جو ملک کے اربوں کھربوں کے وسائل لوٹ کر دوسرے ملکوں میں سٹیل ملیں، محل، پلازے، فلیٹ اور دوسرے اثاثے بنارہے ہیں! کیا نام لوں ؟سب جانتے ہیں!


اس خبر کے بارے میں اپنی رائے دیجئے
پسند آئی
100%
ٹھیک ہے
 
کوئی رائے نہیں
 
پسند ںہیں آئی
 


 سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں





  اوصاف سپیشل

آج کا مکمل اخبار پڑھیں

     
     
تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ روزنامہ اوصاف محفوظ ہیں۔
Copyright © 2016 Daily Ausaf. All Rights Reserved