ملکی سیاست اور ہارس ٹریڈنگ
  10  مارچ‬‮  2018     |     کالمز   |  مزید کالمز

نتیجہ جو بھی ہو سینیٹ کے انتخابات نے پوری قوم کو ایک سبق سکھا دیا ہے، ملک کے انتخابی نظام خصوصاً سینیٹ کے انتخابات میں پیسے کا عمل دخل بہت زیادہ بڑھ گیا ہے۔ سندھ سے لے کر فاٹا کے قبائلی علاقوں تک جس طرح عوام کے منتخب نمائندوں کی بولی لگائی گئی ہے وہ قابل شرم ہے۔ ہر جماعت نے ان انتخابات پر ایسے ہی انگلیا ں اٹھائی ہیں جیسے پچھلے عام انتخابات پر اٹھائی گئی تھیں۔جہاں ایم کیوایم ، پی ٹی آئی اور دیگر جماعتیں سینیٹ انتخابات میں ہارس ٹریڈنگ کا رونا رو رہی ہیں اور زیادہ تر پی پی پی کو مورد الزام ٹھہرایا جارہا ہے ۔مگر پی پی پی نے ایک دفعہ پھر کرشنا کماری جیسی ورکر کو سینیٹر بنا کرثابت کردیا ہے کہ ملک میں بغیر پیسے کے بھی سینیٹر بنا جاسکتا ہے۔جبکہ ن لیگ کا مسئلہ سب سے مختلف ہے پاکستان کی حکمران جماعت اپنے سربراہ کی نااہلی کے بعد اور انتخابی نشان چھن جانے کے بعد بھی سینیٹ کی سب سے بڑی جماعت بن کرسامنے آ ئی ہے لیکن پھر بھی وہ اس معاملے پر عدلیہ کو رگیدنے سے باز نہیں آرہی۔ مجھے اس سارے عمل کو دیکھ کر ہنسی آرہی ہے کہ پاکستان کے انتخابی عمل میں وفاداریاں خریدنے ،پیسے دینے اور لینے یعنی ہارس ٹریڈنگ کی باتیں کی جا رہی ہیں۔مگر کیا پاکستان کے سینیٹ کے لیے منعقد کیے گئے انتخابات میں پہلی با ر ہارس ٹریڈنگ کی گئی ہے یا پہلی دفعہ پیسے دے کر وفاداریاں خریدی گئی ہیں ؟ حالات کی ستم ظریفی دیکھیں کہ گزشتہ چار سال سے دھاندلی کا رونا روروکر ن لیگ کے سربراہ کو نااہل کروانے والی جماعت پاکستان تحریک انصاف اور اس کے چیئرمین عمران خان اپنی جماعت کے حکمران صوبے کے پی کے میں اپنے ایم پی ایز کے چار چار کروڑ روپے کے عوض بکنے پرآگ بگولہ ہیں مگر وہ پنجاب میںمک مکاکے تحت سیٹ نکالنے والے پی ٹی آ ئی کے سینیٹر چوہدری سرور کے انتخاب پر بولنے سے کترا رہے ہیں۔کیا کے پی کے میں کسی اور کا سینیٹر جیتنا اگر دھاندلی یا ہارس ٹریڈ نگ ہے تو پنجاب میں ایسا کیوں نہیں ؟ اکثر دوست پاکستان کے سینیٹ اور امریکہ کے سینیٹ کا مقابلہ کرتے ہیں اور ہم سب کی بھی یہی خواہش ہے کہ پاکستان میں بھی سینیٹرز کی اسی طرح عزت ہوجیسے امریکہ میں امریکی سینیٹ اور وہاں کے سینیٹرز کی عزت کی جاتی ہے لیکن دیگر آئینی اختیارات کے علاوہ سب سے اہم فرق دونوں ممالک کے سینیٹ میں یہ ہے کہ امریکہ جیسے ملک میں جہاں پیسہ سب کچھ ہے اور سینیٹرز اور صدور اپنی انتخابی مہم پر دل کھول کر پیسہ لگاتے اور لگواتے ہیں، وہاں اس طرح کی ہارس ٹریڈنگ کا سرے سے ہی وجود نہیں ہے جہاں ایک سینیٹرز پیسے کے بل بوتے پر اپنے ایم پی ایز کی وفاداریاں خرید لے یہی وجہ ہے کہ امریکی سینیٹرز کی نا صرف امریکہ بلکہ پوری دنیا میں عزت ہوتی ہے۔اب یہی صورتحال پاکستان میں بھی ہے کہ اگر یہ سینیٹرز چاہتے ہیں کہ ان کو آئینی آزادی اور حقیقی عزت ملے تو انہیں چاہیے کہ وہ انتخابی عمل کوشفاف بنائیں، دوسرا کاش اس ملک میں عدلیہ یا الیکشن کمیشن اس قابل ہوتے کہ وہ وسیع طور پر ہارس ٹریڈنگ کا شبہ ہونے پر اس پورے انتخابی عمل کو کالعدم قرار دے کر ایک دفعہ پھر سے انتخابات کرواتے اور ان سینیٹرز کے بجائے نئے چہروں کو سامنے لایا جاتا تاکہ ایک تو ان کا پیسہ ضائع نہ جائے دوسرا آئندہ کوئی بھی سینیٹر پیسہ خرچ کرتے ہوئے سو دفعہ سوچے۔ہمارے اداروں کو چاہیے کہ سیاستدانوں کا احتساب کرنے کے ساتھ ساتھ ایسا سسٹم بنایا جائے جہاں اس طرح کی ہارس ٹریڈنگ کے لیے پیسے کا کھلا استعمال ہی نہ کیا جاسکے۔ سینیٹ کے انتخابات کے لیے سب سے اہم مسئلہ یہ ہے کہ 1973ء کے آئین کے تحت سینیٹ کو خصوصاً ملک کے وفاق کا بھرپور نمائندہ بنایاگیا ہے جہاں آبادی کے تناسب کے بغیر تمام صوبوں کو ایک جیسی نمائندگی دی جاتی ہے اور یہی وجہ ہے کہ اس ادارے کا قانون سازی کے معاملات میں کلیدی کردار رہا ہے حالیہ ملکی سیاسی حالات دیکھ لیں اگر پی ایم ایل کے پاس قومی اسمبلی کے ساتھ ساتھ سینیٹ میں بھی اکثریت ہوتی تو ملکی سیاسی صورتحال قدرے مختلف ہوتی۔ اس لیے سینیٹ ملک میں ایک ایسا متبادل نظام ہے جہاں قومی اسمبلی کے حوالے سے کی جانے والی کوتاہیوں کی بھی درستگی کی جاسکتی ہے۔لیکن کیا سینیٹ میں ہارس ٹریڈنگ کی روش ایسے ہی جاری رہے گی اور کیا اس عمل کا اثر آئندہ انتخابات پر نہیں ہوگا؟سینیٹ میں ہونے والے جوڑتوڑ کے بعد تو اب حالات اس امر کے متقاضی ہیں کہ سینیٹ کی نمائندگی کا انتخاب بھی ڈائریکٹ کیا جائے اور سیاستدانوں سے یہ اختیار بھی لے لیا جائے جس کے بدلے انہوں نے لوٹ مار کا بازار گرم کررکھا ہے۔

سینیٹ کے ان نتائج میں سب سے اہم کردار اس وقت پی ٹی آئی کا ہے کیونکہ اگر پی ٹی آئی نے پی پی پی کے ساتھ اتحاد نہ کیا تو وہ بالواسطہ ن لیگ کے ہاتھ مضبوط کریں گے اس لحاظ سے اس دفعہ عمران خان نے بروقت سیاسی فیصلہ کرتے ہوئے جس طرح بلوچستان کے وزیراعلیٰ کو اپنے ووٹوں کا بھی اختیار دے دیا ہے اس سے ملک میں سیاسی جوڑ توڑ میں مزید تیزی آ گئی ہے اور پیپلز پارٹی کو اپنا چیئرمین سینیٹ لانے کے لیے بھر پور موقع بھی مل گیا ہے۔جبکہ دوسری طرف سینیٹ انتخابات نے واضع کردیا ہے کہ آئیندہ عام انتخابات میں کوئی بھی پارٹی اکثریت حاصل نہیں کرپائے گی اور مخلوط حکومت بننے کے زیادہ امکانات ہیں۔


اس خبر کے بارے میں اپنی رائے دیجئے
پسند آئی
 
ٹھیک ہے
 
کوئی رائے نہیں
 
پسند ںہیں آئی
 


 سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں





  اوصاف سپیشل

آج کا مکمل اخبار پڑھیں

     
     
تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ روزنامہ اوصاف محفوظ ہیں۔
Copyright © 2016 Daily Ausaf. All Rights Reserved