قادیانی مسئلہ کا بین الاقوامی تناظر
  10  مارچ‬‮  2018     |     کالمز   |  مزید کالمز

(گزشتہ سے پیوستہ) اگر ہماری اس بات پر کوئی شک ہو تو پاکستان کے بارے میں ایمنسٹی انٹرنیشنل اور امریکی وزارت خارجہ کی گزشتہ دو سال کی رپورٹیں سامنے رکھ لی جائیں اور گھرال صاحب اور کاس جی کے مضامین کے ساتھ ان کا تقابل کر لیا جائے تو کسی قسم کا کوئی ابہام باقی نہیں رہ جائے گا۔ مگر ہمارے لیے اس مغربی موقف کو قبول کرنا مشکل ہے، اصول و نظریات کے حوالے سے بھی اور واقعات و حقائق کی بنیاد پر بھی۔ اس لیے مناسب معلوم ہوتا ہے کہ اس موقف کا ایک حد تک جائزہ لیا جائے تاکہ تنگ نظر ملا جو شور و غوغا کر رہا ہے اس کی وجہ سمجھ آسکے۔ اس سلسلہ میں پہلی گزارش یہ ہے کہ شہری آزادیوں اور انسانی حقوق کا جو تصور مغرب نے پیش کر رکھا ہے اور جسے اقوام متحدہ کے منشور اور جنیوا انسانی حقوق کمیشن کی قراردادوں کے زور پر ہم سے منوانے کی کوشش کی جا رہی ہے وہ ہمارے لیے قابل قبول نہیں ہے کیونکہ وہ ہمارے دینی معتقدات، مذہبی احکام اور تہذیبی تسلسل کے منافی ہے:*مغرب کے ہاں مذہب انفرادی اور اختیاری فعل ہے جبکہ ہمارے ہاں مذہب ریاست اور سوسائٹی کی بنیاد ہے اس لیے ہم مذہب کے بارے میں مغربی فلسفہ کی پیروی نہیں کر سکتے۔*مغرب کے ہاں آزادی رائے کا تصور یہ ہے کہ خدا، رسول اور مذہب سمیت ہر شخصیت اور ادارے پر تنقید کی جا سکتی ہے اور اس کا تمسخر اڑایا جا سکتا ہے مگر ہمارے ہاں اس کی اجازت نہیں ہے۔ * مغرب کے ہاں مرد اور عورت کے آزادانہ اختلاط اور باہمی رضامندی سے جنسی تعلقات تک پر کوئی قدغن نہیں ہے مگر ہمارے مذہبی قوانین اس کے روادار نہیں ہیں۔ * مغرب کے نزدیک مرد کا مرد کے ساتھ جنسی تعلق قائم کرنا حقوق کی فہرست میں شامل ہو چکا ہے مگر ہمارے ہاں یہ قابل نفرت اور قابل تعزیر جرم ہے اس لیے ہم مغرب کے انسانی حقوق اور شہری آزادیوں کے فلسفے کو قبول نہیں کر سکتے اور نہ ہی اسے انصاف اور آزادیوں کا کوئی معیار سمجھتے ہیں۔ دوسری گزارش یہ ہے کہ مغرب اس وقت ہمارے خلاف حالت جنگ میں ہے اور اس نے سوویت یونین کے بکھر جانے کے بعد اسلام اور ملت اسلامیہ کو اگلا ہدف قرار دے کر مسلم ممالک میں سیاسی مداخلت اور معاشی جکڑ بندیوں کے ساتھ ساتھ میڈیا اور لابنگ کے تمام تر وسائل و ذرائع اس جنگ میں ہمارے خلاف میدان میں جھونک دیے ہیں۔ یہ ایک تہذیبی جنگ اور ثقافتی یلغار ہے جس کا مقصد ہمیں سوسائٹی کی مذہبی بنیادوں سے محروم کر دینا ہے اور اس مقصد کے لیے اقلیتوں کے حقوق، عورتوں کی مظلومیت اور شہری آزادیوں کے نعروں کو بطور ہتھیار استعمال کیا جا رہا ہے۔ اس کیفیت میں اگر کوئی شخص ہمیں مغرب کے موقف کو قبول کرنے اور اس پر غور کرنے کے لیے کہتا ہے تو بالکل ایسے محسوس ہوتا ہے جیسے وہ مغرب کے آگے سپرانداز ہونے کا مشورہ دے رہا ہو۔ یہ درست ہے کہ ہم سائنس، ٹیکنالوجی اور معیشت میں مغرب سے بہت پیچھے رہ گئے ہیں جس کی ذمہ داری ان لوگوں پر ہے جو ان شعبوں میں گزشتہ دو سو برس تک سرگرم رہے ہیں مگر اپنے مذہبی اعتقادات، دینی تعلیم، تہذیبی روایات اور آسمانی تعلیمات کے ساتھ جذباتی وابستگی میں ہم بحمد اللہ تعالیٰ مغرب سے بہت آگے ہیں اور تنگ نظر ملا اس محاذ پر فتح و کامرانی کا پرچم سنبھالے آج بھی ڈٹا ہوا ہے۔ اس لیے ہم اپنے معاشرتی ڈھانچے، قانونی نظام اور مذہبی اقدار و روایات کے بارے میں مغرب کا کوئی مشورہ اور دبائو قبول کرنے کے لیے تیار نہیں ہیں۔ تیسری گزارش یہ ہے کہ قادیانیوں کے حوالہ سے مغرب کا یہ موقف اصولی طور پر غلط ہونے کے علاوہ واقعاتی لحاظ سے بھی بے بنیاد ہے اور مکروفریب کی ایک گمراہ کن داستان سے زیادہ کوئی حیثیت نہیں رکھتا کیونکہ قادیانیوں کے ساتھ ان کے اقلیتی حقوق کے حوالہ سے ہمارا کوئی تنازعہ ہی نہیں ہے۔ ہم نے کبھی ان کے اقلیتی حقوق سے انکار نہیں کیا اور نہ آج کر رہے ہیں۔ اقلیتوں کے حقوق کا اسلام سے زیادہ علمبردار کون ہے؟ پاکستان میں دوسری غیر مسلم اقلیتیں بھی آباد ہیں مگر ہمارا کسی کے ساتھ کوئی جھگڑا نہیں ہے۔ عیسائی، ہندو، پارسی، بابی، بہائی سب یہاں رہتے ہیں مگر قادیانی گروہ اور مسیحی کمیونٹی کے بعض سیکولر لیڈروں کے سوا ہمارا کسی سے تنازعہ نہیں ہے۔ بلکہ اس موقع پر اس تاریخی حقیقت کا حوالہ دینا بھی شاید نامناسب نہ ہو کہ قیام پاکستان کے وقت ریاست قلات سے ہندوئوں نے نقل وطن کر کے بھارت جانا چاہا تو ریاست کے نواب میر احمد یار خان مرحوم اور ان کے تنگ نظر ملا وزیر دینی امور علامہ شمس الحق افغانی نے ہندو کمیونٹی کے ذمہ دار افراد کو بلا کر یقین دلایا کہ ریاست میں شرعی قوانین نافذ ہیں جو ان کے حقوق کا مکمل تحفظ کرتے ہیں اس لیے انہیں نقل مکانی کی کوئی ضرورت نہیں ہے اور وہ اطمینان کے ساتھ اپنے وطن میں رہیں۔ چنانچہ اس یقین دہانی پر ہندوئوں کی بڑی تعداد قلات میں ہی رہ گئی جو آج بھی وہاں موجود ہے اور آزادی کے ساتھ تجارت اور دیگر امور میں شریک ہے۔ ان کے علاوہ سکھ بھی ملک میں موجود ہیں اور ہر سال بھارت سے بھی آتے ہیں اور اپنی تقریبات آزادی کے ساتھ کرتے ہیں، کسی ملا نے کبھی ان سے تعرض نہیں کیا۔البتہ قادیانی گروہ کا معاملہ اس سے مختلف ہے اور کچھ عرصہ سے مسیحی اقلیت کے چند راہنمائوں کا طرزعمل بھی قابل اعتراض ہے جس پر تنگ نظر ملا ضرور روک ٹوک کرتا ہے اور یہ روک ٹوک بلاوجہ نہیں ہے۔ (جاری ہے) اس لیے ہم اردشیر کائوس جی اور اصغر علی گھرال سے گزارش کریں گے کہ وہ اس روک ٹوک پر چیں بہ جبیں ہونے کی بجائے اس کے اسباب کا جائزہ لیں اور غریب ملا سے بھی پوچھ لیں کہ اسے قادیانی گروہ اور مسیحی اقلیت کے چند راہنمائوں سے کیا شکایات ہیں؟ اگر یہ شکایات درست نہیں ہیں تو بلاشبہ آپ کو حق حاصل ہے کہ ملا کو کوسیں اور اس پر طعن و تشنیع کے تیر جی بھر کے برسائیں۔ لیکن اگر یہ شکایات جائز ہیں تو پھر امریکی وزارت خارجہ اور ایمنسٹی انٹرنیشنل کے کہنے پر آنکھیں بند کر کے ایمان لانے کی بجائے حقائق کا ساتھ دیں اور کسی ملامت کی پروا کیے بغیر انصاف کی حمایت کریں۔ ان گزارشات کے بعد ان شکایات کا ذکر بھی مناسب معلوم ہوتا ہے جو اس ملک کے تنگ نظر ملا کو قادیانیوں اور چند مسیحی راہنمائوں سے ہیں تاکہ قارئین تصویر کے اس رخ سے بھی آگاہ ہوں اور انہیں اس معاملہ میں رائے قائم کرنے میں کوئی دشواری پیش نہ آئے۔ قادیانیوں کے بارے میں صورتحال یہ ہے کہ انہیں غیر مسلم اقلیت قرار دینے کی تجویز ملا کی نہیں بلکہ مفکر پاکستان علامہ محمد اقبال کی تھی جسے ملا نے اپنے روایتی موقف سے بہت پیچھے ہٹ کر قبول کر لیا اور پاکستان میں قادیانی گروہ کو غیر مسلم اقلیت قرار دلوانے کے لیے تحریک شروع کی۔ اور یہ قادیانی مسلم تنازعہ کا منطقی تقاضا تھا کہ جب قادیانی نئے نبی اور نئی وحی کی بنیاد پر اپنا مذہب مسلمانوں سے الگ کر چکے ہیں اور دنیا بھر کے مسلمانوں کو اپنا ہم مذہب تسلیم نہیں کرتے، جس کا اظہار پنجاب کی تقسیم کے موقع پر گورداسپور کی تقسیم کے حوالہ سے ریڈ کلف کمیشن کے سامنے قادیانیوں کا موقف الگ پیش کرنے کی صورت میں اور اس کے بعد قائد اعظم کے جنازے کے موقع پر موجود ہوتے ہوئے بھی وزیرخارجہ سر ظفر اللہ خان کے قائد اعظم مرحوم کے جنازہ میں شریک نہ ہونے کی صورت میں عملًا ہو چکا ہے، اور میں پارلیمنٹ کے فلور پر قادیانی سربراہ مرزا ناصر احمد نے واضح اعلان کیا کہ مرزا غلام احمد قادیانی کو نبی نہ ماننے والے دنیا بھر کے مسلمانوں کو اپنا ہم مذہب تسلیم نہیں کرتے، تو قادیانیوں کی جداگانہ مذہبی حیثیت کے دستوری تعین کے سوا اور کون سا راستہ باقی رہ گیا تھا؟ قادیانیوں کو اسی بنیاد پر غیر مسلم اقلیت قرار دیا گیا اور جب وہ خود اپنے اختیار کردہ عقائد اور موقف کی بنیاد پر غیر مسلم اقلیت قرار پا گئے ہیں تو اسلام کا نام اور مسلمانوں کے مخصوص شعائر و علامات پر ان کا کوئی استحقاق باقی نہیں ہے۔ انہیں اپنے لیے الگ نام اختیار کرنا ہوگا اور اپنے مذہبی شعائر و علامات مسلمانوں سے الگ بنانے ہوں گے۔ ورنہ اشتباہ قائم رہے گا جس سے مسلمانوں کا مذہبی تشخص اور امتیاز مجروح ہوتا ہے اور اپنے تشخص اور امتیاز کا تحفظ دنیا کے ہر فرد اور گروہ کا مسلمہ حق ہے جس سے کوئی ذی شعور شخص انکار نہیں کر سکتا۔ اس لیے اگر قادیانیوں کو اسلام کا نام اور مسلمانوں کی مخصوص مذہبی علامات مثلاً کلمہ طیبہ، مسجد، اذان وغیرہ استعمال کرنے سے قانوناً روک دیا گیا ہے تو اس سے آخر انصاف کا کون سا تقاضا پامال ہوا ہے؟ اور ہم اس معاملہ میں قادیانیوں کی حمایت کرنے والے دوستوں سے پوچھنا چاہیں گے کہ کیا اپنے مذہبی تشخص اور امتیاز کے تحفظ اور اسے اشتباہ سے بچانے کا مسلمانوں کو بھی کوئی حق حاصل ہے یا نہیں؟ اور اگر وہ اسے حق تسلیم کرتے ہیں تو متنازعہ امتناعِ قادیانیت آرڈیننس سے ہٹ کر وہ کوئی فارمولا طے کر دیں جس سے مسلمانوں اور قادیانیوں کا مذہبی نام الگ الگ ہو جائے اور مذہبی اصطلاحات و علامات کے حوالہ سے ان کے درمیان اشتباہ عملا ختم ہو جائے۔ ہم انہیں یقین دلاتے ہیں کہ تنگ نظر ملا ان کے تجویز کردہ فارمولے کو بھی اسی طرح تسلیم کر لے گا جس طرح اس نے اپنے روایتی موقف سے پیچھے ہٹ کر علامہ اقبال کی اس تجویز پر قناعت کر لی تھی کہ قادیانیوں کو صرف غیر مسلم اقلیت قرار دے دیا جائے۔ ہمیں قادیانیوں سے شکایت یہ ہے کہ وہ نہ تو ملتِ اسلامیہ کے اجتماعی عقائد قبول کر کے مسلمانوں کے دائرہ میں واپس آرہے ہیں اور نہ ہی مسلمانوں سے الگ حیثیت قبول کر رہے ہیں۔ یہ بے جا ضد اور ہٹ دھرمی ہے جس کا حوصلہ انہیں صرف اس لیے ہو رہا ہے کہ امریکہ ان کی حمایت کر رہا ہے اور مغربی لابیاں اور پریس ان کی پشت پر ہیں۔ اور یہ بات بھی یقینا کائوس جی اور اصغر علی گھرال کے علم میں ہو گی کہ قادیانیوں نے اسی بنیاد پر مردم شماری اور ووٹ شماری کا بائیکاٹ کر رکھا ہے اور جداگانہ انتخابات سے لاتعلقی اختیار کی ہوئی ہے کہ اس طرح وہ مسلمانوں سے الگ اقلیتوں کے خانوں میں درج ہوں گے اور اسی حوالہ سے حال ہی میں قادیانی امت کے سربراہ مرزا طاہر احمد نے اسلامی جمہوریہ پاکستان کے دستور کو کھلم کھلا ردی کاغذ کا ٹکڑا قرار دے کر اس کے خلاف نفرت کا اظہار کیا ہے۔ (جاری ہے) مغرب کی بات چھوڑیے کہ اسے تو پاکستان کی اسلامی حیثیت پر اعتراض ہے، اس لیے اس کے نزدیک پاکستان کے دستور اور قانون کی ہر وہ شق غلط ہے جس کا اسلام کے کسی بھی پہلو سے کوئی تعلق ہے۔ اور وہ ملک کے ہر اس فرد اور گروہ کی حمایت کرے گا جو پاکستان کو سیکولر بنانے کے لیے کسی بھی درجے میں کار آمد ہو۔ اگر آپ مغرب کے اعتراضات کی بات کرتے ہیں اور اقوام متحدہ کے منشور، جنیوا انسانی حقوق کمیشن کی قراردادوں، ایمنسٹی انٹرنیشنل کی رپورٹوں اور امریکی وزارت خارجہ کے مطالبات کے حوالہ سے پاکستان کو بدنامی سے بچانا چاہتے ہیں تو ان بدنامیوں کی فہرست بہت لمبی ہے: * انہیں پاکستان کے نام کے ساتھ اسلامی کے لفظ اور دستور میں اسلام کو ریاست کی بنیاد قرار دینے والی شقوں پر اعتراض ہے۔ * وہ توہین مذہب اور توہین رسالت کو سرے سے کوئی جرم نہیں سمجھتے اور اس پر سزا دینا ان کے نزدیک انسانی حقوق کے منافی ہے۔ * زنا ان کے ہاں کوئی معیوب کام نہیں ہے اور اس جرم پر اسلامی سزا ان کے نزدیک وحشیانہ اور غیر منصفانہ کہلاتی ہے۔ * معاشرتی جرائم کے بارے میں قرآن کریم کی مقرر کردہ سزائیں ان مغربی اداروں کے نزدیک جسمانی تشدد اور وحشت و بربریت کے زمرے میں شمار ہوتی ہیں۔ * نکاح، طلاق، وراثت اور خاندانی تعلقات کے حوالہ سے قرآن کریم کے بیان کردہ قوانین اور ضابطے ان کے نزدیک غیر منصفانہ ہیں اور خود ان کے مقرر کردہ بین الاقوامی معیار کے مطابق نہیں ہیں۔ * انہیں سرے سے قادیانیوں کو غیر مسلم قرار دینے پر ہی اعتراض ہے اور وہ اسے بھی انسانی حقوق کے منافی کہتے ہیں۔ پاکستان کے بارے میں اقوام متحدہ، انسانی حقوق کمیشن، ایمنسٹی انٹرنیشنل اور امریکی وزارتِ خارجہ کی گزشتہ پانچ سال کی رپورٹوں کو سامنے رکھ لیں یہ سب مطالبات ریکارڈ پر ہیں اور ان سب امور کے حوالہ سے پاکستان بین الاقوامی سطح پر بدنام ہو رہا ہے۔ اس لیے پاکستان کو بدنامی سے بچانے کے خواہش مند دوستوں بالخصوص اصغر علی گھرال سے یہ گزارش ہے کہ وہ حوصلہ کر کے پوری بات کریں، آدھی بات کیوں کرتے ہیں کہ ملک کو ایک حوالہ سے تو بدنامی سے بچانے کی کوشش کی جائے اور باقی بدنامیوں پر چپ سادھ لی جائے۔ باقی رہی بات تنگ نظر ملا کی تو کسی طعن و ملامت کی پروا کیے بغیر ہم یہ واضح کر دینا چاہتے ہیں کہ ہمارے نزدیک مغرب کے تمام مطالبات غلط ہیں اور اسلام اور مغرب کے درمیان دن بدن تیز ہونے والی تہذیبی جنگ کے ہتھیار ہیں جنہیں مغرب کی حکومتیں، ادارے اور لابیاں ہمارے خلاف صرف اس مقصد کے لیے استعمال کر رہی ہیں کہ مسلمان اپنی اعتقادی اور تہذیبی بنیادوں سے محروم ہو جائیں تاکہ مغرب اس ثقافتی یلغار میں انہیں آسانی کے ساتھ بلڈوز کر سکے۔ لیکن مغرب اس حقیقت کا ادراک نہیں کر پا رہا کہ اسلام اور عیسائیت میں فرق ہے۔ اسلام زندہ، متحرک اور عملی مذہب ہے اور اسلام کی نمائندگی کرنے والا تنگ نظر ملا اپنی تمام تر کمزوریوں، کوتاہیوں اور خامیوں کے باوجود اسلام اور اسلام کے اجتماعی کردار کے ساتھ لازوال وفاداری کا تعلق رکھتا ہے، اس لیے اسے یورپ کے عیسائی پادری کی طرح مذہب کے معاشرتی کردار سے محروم کر کے کارنر کرنے کی خواہش مغرب کی خام خیالی ہے جو ان شا اللہ العزیز کبھی پوری نہیں ہو سکے گی۔ ہمیں پاکستان کی مسیحی برادری کے چند مذہبی راہنمائوں سے یہی شکایت ہے کہ وہ مذہب کی نہیں بلکہ لامذہبیت کی نمائندگی کر رہے ہیں، وہ مذہبی اقدار کو فروغ دینے اور بائبل کے احکام کو سوسائٹی میں رواج دینے کی بجائے سیکولر لابیوں کے ہاتھوں میں کھیل رہے ہیں۔ اور ان کی بیشتر تنظیمیں این جی اوز میں شامل ہیں جو مغرب کی سیکولر لابیوں کی شہ پر اور بین الاقوامی اداروں کی رقوم کے ساتھ پاکستان میں فکری انتشار پیدا کرنے اور مذہبی قدروں کو کمزور کرنے کے لیے مسلسل سرگرم عمل ہیں۔ ورنہ وہ اگر انسانی حقوق کمیشن کی قراردادوں کی بجائے اپنی سوسائٹی کے لیے بائبل کے احکام و قوانین کی بات کریں تو ہم انہیں یقین دلاتے ہیں کہ تنگ نظر ملا کی حمایت ان کے ساتھ ہوگی اور ہم مسیحی کمیونٹی کے لیے بائبل کے قوانین کو اسی طرح سپورٹ کریں گے جس طرح مسلم معاشرہ کے لیے قرآن و سنت کے قوانین کی بات کرتے ہیں۔ لیکن شرط یہ ہے کہ بات مذہب کی ہو لامذہبیت کی نہ ہو، اور اس کی بنیاد بائبل پر ہو جنیوا کے سیکولر انسانی حقوق کمیشن کی قراردادوں پر نہ ہو۔

آخر میں یہ گزارش ہے کہ قادیانی گروہ اقلیتی حیثیت کو تسلیم کرتے ہوئے اپنا مذہبی نام اور مذہبی اصطلاحات و علامات مسلمانوں سے الگ کر لے اور پاکستان اور اس کے دستور کے خلاف بے بنیاد مہم بند کر دے تو ہمیں بحیثیت اقلیت ان کے وجود اور سرگرمیوں پر کوئی اعتراض نہیں ہے۔ لیکن مسلمانوں سے الگ ہوتے ہوئے اسلام کا نام اور علامات استعمال کرنے کی انہیں کبھی اجازت نہیں دی جا سکتی اور نہ ہی امریکہ اور ایمنسٹی انٹرنیشنل یہ سراسر ناجائز مطالبہ ہم سے کسی قیمت پر منوا سکتے ہیں۔


اس خبر کے بارے میں اپنی رائے دیجئے
پسند آئی
36%
ٹھیک ہے
21%
کوئی رائے نہیں
21%
پسند ںہیں آئی
21%


 سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں





  اوصاف سپیشل

آج کا مکمل اخبار پڑھیں

     
     
تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ روزنامہ اوصاف محفوظ ہیں۔
Copyright © 2016 Daily Ausaf. All Rights Reserved