مدینہ منورہ سے ایک خوش گوار کال
  10  مارچ‬‮  2018     |     کالمز   |  مزید کالمز

٭قارئین کرام!آج کالم کا آغاز مدینہ منورہ سے آنے والی ایک نہایت خو شگوار کال سے کررہاہوں ۔ مجھے باغ شہر آزاد کشمیر میں روزنامہ اوصاف کے نمائندہ ملک شوکت عارف قادری کا فون آیا کہ شاہ صاحب! روزنامہ اوصا ف کی20ویں سالگرہ کے موقع پر اخباری نمائندوں کے لیے عمرہ کی قرعہ اندازی ہوئی۔ میری انتہائی خو ش قسمتی کہ میرے نام قرعہ نکل آیا۔ میں نے فون پر آپ کو اس عظیم سعادت کی خوش خبری سنائی۔ آپ کچھ عرصہ عمرہ کی سعادت حاصل کرکے آئے تھے۔ میں نے آپ سے رہنمائی کی درخواست کی۔آپ نے فرمایا کہ عمرہ کی ادائیگی کے بارے میں بہت سی کتابیں اور پمفلٹ موجود ہیں، مگر آپ نے ایک منفرد تجربہ کیا ہے جس سے آپ کی عمرہ کی عبادت اور سعادت کی مسرت میں خوش گوار اضافہ ہوگیا ہے۔ وہ یہ کہ آپ روزانہ مسجد نبوی اور پھرحرم کعبہ کی طرف جاتے ہوئے راستے میں دکانوں سے بہت سی ٹافیاں خرید کر کوٹ کی جیبوں میں بھر لیتے اور پھر مسجد نبوی اور حرم شریف میں داخل ہونے سے پہلے اور بعد میں وہاں مختلف ممالک سے اپنے والدین کے ساتھ آنے والے چھوٹے چھوٹے بچوں میں بانٹ دیتے تھے ۔اس پر وہ بچے کتناخوش ہوتے ! اوران کی مائیں کتنا اظہار تشکر کرتی تھیں! اسے میں الفاظ میں بیان نہیں کیاجاسکتا۔ آپ نے مجھ سے کہا کہ میں بھی یہ تجربہ کرکے دیکھوں، بہت آسودگی حاصل ہوگی۔ میں گزشتہ روز کالم لکھنے لگا تو ملک شوکت عارف کا فون آگیا کہ شاہ صاحب ! میں مسجد نبوی میں رسالت مآبۖ ،سرور کائنات حضور نبی رحمت کے روضہ اقدس کے سامنے کھڑا ہوں، اس جگہ کھڑے ہوکر روزانہ ، تمام قارئین اور ملک وقوم کی سلامتی اور خوش حالی کی دعا مانگتاہوں۔ ایک بات خاص طورپر بتاناچاہتا ہوں کہ آپ کے مشورے کے مطابق مسجد نبوی اور کعبہ شریف کے اندر اور باہر بہت سے ننھے منّے بچوں میں ٹافیاں بانٹی ہیں۔ یہ سلسلہ جاری ہے۔ شاہ صاحب! میں اس انتہائی خو ش گوار مسرت کی کیفیت کو الفاظ میں بیان نہیں کرسکتا کہ بچے ٹافی لے کر کس طرح خوش ہوتے ہیں اوران کی مائیں کس انداز میں شکر اً ! شکراً! کہتی ہیں اس سے میری روح عجیب سی مسرت اور آسودگی سے سرشار ہو جاتی ہے۔شاہ صاحب! آپ کا شکریہ کہ آپ نے کیسا خوبصورت مشورہ دیا ہے۔ معمولی سی قیمت میں اتنی مسرت! اتنی روحانی آسودگی!! ٭قارئین کرام! اس احساس نے مجھے جذباتی کردیا ہے کہ میں حضور نبی کریم،نبی رحمت کے روضہ مبارک کے سامنے سے آنے والی آواز سن رہاہوں۔ میری آنکھوں کے سامنے سرورکائنات کے روضہ اقدس کی زیارت کا سارا منظر گھوم گیا ہے، جب اس پر پہلی نظر پڑتے ہی میں بالکل ساکت و جامد ہوگیا تھااور سب کچھ بھول گیا تھا۔ بات مختصر کررہاہوں کہ حج مبارک کا موسم پھرآرہاہے۔ اس میں زائرین اور بچوں کی تعدادبھی زیادہ ہوگی۔ بہت سے خوش نصیب محتر م حضرات سفر حج کی سعادت حاصل کرنے کی تیاریاں کررہے ہیں۔ یہ بھی بچوں میں ٹافیاں تقسیم کرکے دیکھیں کیسی مسرت حاصل ہوتی ہے!٭سینٹ کے چیئرمین کے انتخاب کے لیے میلہ مویشیاں میں گھوڑوں کی خریدو فروخت تیز ہوگئی ہے۔ ہر پارٹی یہ عہدہ چھیننے کے دعوے کر رہی ہے۔ اس وقت بلوچستان بڑا اصطبل بنا ہواہے۔ عمران خان نے بلوچستان سے چیئرمین کا نعرہ لگا کر وہاں کے وزیراعلیٰ کو ،محاورہ کے مطابق، 13سینیٹر تھالی میں رکھ کر پیش کردیئے ہیں کہ ''سُپردم بتو مایہ خویش را،تو دانی حساب کم وبیش را''۔اندازہ لگائیں کہ ملک کے عوامی نمائندگی کے اعلیٰ ترین ادارے کے عزت مآب ارکان کی حیثیت کیا ہے کہ ان کی مرضی اوررائے معلوم کیے بغیر انہیں بھیڑ ، بکریوں کی طرح( بلامعاوضہ؟) کسی دوسرے مالک کے حوالے کردیاجاتا ہے! مجھے قدیم زمانہ میں افریقہ کے سیاہ فام غلاموں کی خرید وفروخت کی منڈیاں یاد آرہی ہیں۔ جمہوریت کا نام لے کر اسے کس طرح رسوا کیا جارہاہے کہ سینیٹ کے انتخابات میں صرف 20ووٹ حاصل کرنے والے آصف زرداری دعویٰ کر رہے ہیں کہ ان کا امیدوار 104 ارکان کے سینیٹ میں چیئرمین بننے والا ہے!اس ایوان کے لیے اندر کھاتے اربوں کی جو ٹریڈنگ ہورہی ہے، اس کے نتیجے میں پیپلز پارٹی کا چیئرمین بن بھی گیا تو اس ایوان کی عوام کی نگاہ میں گھوڑوں کے اصطبل کے سوا اور کیا حیثیت ہوگی؟ منڈی مویشیاں کی خریدو فروخت کے ذریعے سینیٹ (اسمبلی بھی) ارب کھرب پتی وڈیروں، سرداروں سے بھرگیا ہے۔ یہ لوگ غریب عوام کے دکھ درد میں شریک ہوں گے!؟ استغفار!

٭ارشاد فرمارہے ہیں میاں نوازشریف کہ مجھے ہارس ٹریڈنگ سے نفرت ہے۔ یہ کیسی میٹھی رسیلی نفرت ہے جو پنجاب اسمبلی کے ن لیگ کے 14ارکان کوتحریک انصاف کے امیدوارچودھری محمد سرور کی گود میں (بلامعاوضہ؟؟) ڈال کراپنے ہی امیدوار کر ہر ادیتی ہے؟ میاں صاحب! کیا آپ کی پارٹی کے14ارکان نے کسی معاوضہ کے بغیر چودھری محمد سرور کو سب سے زیادہ ووٹ حاصل کرنے والاکامیاب امیدوار بنادیا تھا؟ ایک اطلاع یہ کہ خیبر پختونخوا اسمبلی میں بھی ن لیگ کے بعض ارکان نے آصف زرداری کے امیدوار کامیاب کرانے میں سرگرم حصہ لیا!٭سپریم کورٹ کے چیف جسٹس نے حکم دیا ہے کہ پنجاب کے وزیراعلیٰ میاں شہبازشریف کی تصویر کے ساتھ چھاپے جانے والے سرکاری اشتہار کے55لاکھ روپے کے اخراجات وزیراعلیٰ سے وصول کیے جائیں۔ یہ رقم وصول کرلی جاتی ہے تو ملک تاریخ میں نادر واقعہ ہوگا۔ یہاں تو یہ حالت ہوگئی ہے کہ ملک کے حکمرانوں کی چاپلوسی کے لیے ملک کی عمارتوں اور سڑکوں کے نام ان کے ناموں پررکھ دیئے جاتے ہیں جبکہ ان کی ذاتی جیب سے ان پر ایک پیسہ بھی خرچ نہیں ہوتا۔ یہ رواج انگریزوں کی حکمرانی کے دورمیں شروع ہوا تھا۔ انہوں نے سرکاری اخراجات پر عمارتیں اور سڑکیں بنائیں جوان کے ناموں کے ساتھ مشہور ہوگئیں۔ لاہور میں ایچی سن کالج، ایچی سن ہسپتال، لیڈی ولنگڈن ہسپتال، میو ہسپتال، میکلوڈ روڈ،مری میں لارنس کالج، پشاور میں لیڈی ریڈنگ ہسپتال، جنوبی پنجاب میں فورٹ منرو اور کراچی اور کوئٹہ میں میں بہت سے ایسے ادارے اب بھی انگریزوں کے ناموں پر چل رہے ہیں۔ پاکستان کے نمائش پرست حکمرانوں نے جیب سے ایک پیسہ خرچ کیے بغیر ایسی بے شمار عمارتوں، سڑکوں اور پارکوںپر اپنے ناموں کی تختیاں لگوادیں۔ ایوب خان کے دور میں راولپنڈی میںایو ب نیشنل پارک اور نتھیا گلی کے اطراف میں ایوبیہ بستی بن گئی۔ غلام اسحاق خان صدر بنے تو ان کی صدارت کے دوران راولپنڈی پشاور روڈ پرغلام اسحاق خاں انسٹی ٹیوٹ آف ٹیکنالوجی قائم کردیاگیا۔ میاں نوازشریف ازل تاابد ملک کا بادشاہ بن کر آئے تو ماڈل ٹاؤن لاہور میں ان کے گھر کے سامنے ڈیڑھ کلو میٹر طویل پارک کا نام نوازشریف پارک رکھ دیا گیا ۔ اس کے علاوہ ملتان روڈ ، یکّی گیٹ اور دوسرے مقامات نوازشریف ہسپتال، نوازشریف کالج بن گئے ! ان اداروں پر میاں نواز شریف کی جیب سے ایک پیسہ بھی خرچ نہ ہوا! عوام کے ٹیکسوں سے جمع ہونے والے خزانے کو کس طرح اپنی ذات کی نمائش پر خر چ کیاجاتا رہا ہے! کیا وقت نہیںآگیا کہ اس ذاتی نمود ونمائش کااحتساب کیاجائے؟ بڑے نامور لوگوں کی وفات کے بعد تو اداروں کے نام ان سے منسوب کرنا روائتی بات ہے مگر زندگی میں ہی ایسی سستی بازاری نمائش!! اوراب یہ طریقہ کہ سرکاری خزانے سے کوئی کام کیا جائے اوراس کے اشتہار پر اپنی تصویر لگوا دی جائے! یہ سلسلہ تو پچھلے کئی ادوار سے چلا آرہاہے۔ اسے کہیں توروکنا ہوگا۔٭آصف زرداری نے سر عام سینیٹ کے سابق چیئرمین رضا ربانی کے خلاف ناپسندیدگی کے اظہار کے ساتھ فرد جرم عائد کردی ہے کہ وہ ماضی میں پیپلزپارٹی کے ساتھ مخلص رہنے کی بجائے نوازشریف کے زیادہ قریب رہے! اب انہیں چیئرمین نہیں بنایاجاسکتا! بتایا گیا ہے کہ انہیں سینیٹ کی حالیہ ٹکٹ بلاول کے اصرارپر دی گئی تھی،آصف زرداری نے انہیں ناکام کرنے کی بہت کوشش کی مگروہ بالکل آخری نمبروں کی بدولت کامیاب ہوگئے۔ ایسے میں غیرت کی آزمائش شروع ہو جاتی ہے۔پتہ نہیں شروع ہوئی ہے یانہیں؟


اس خبر کے بارے میں اپنی رائے دیجئے
پسند آئی
 
ٹھیک ہے
 
کوئی رائے نہیں
 
پسند ںہیں آئی
 


 سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں





  اوصاف سپیشل

آج کا مکمل اخبار پڑھیں

     
     
تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ روزنامہ اوصاف محفوظ ہیں۔
Copyright © 2016 Daily Ausaf. All Rights Reserved