ڈرامے، تماشے،گھوڑے،لوٹے اور کہہ مکرنیاں!
  11  مارچ‬‮  2018     |     کالمز   |  مزید کالمز

٭بہت سی باتیں:آصف زرداری نے ترازومیں 'مینڈک' تولنے شروع کیے تو بہت سے 'مینڈک'بھاگ گئے۔ بلاو ل زرداری نے اسلام آباد میں قدم رکھاتو اجلاس میں شرکت کی بجائے سید خورشید شاہ سکھر، چودھری اعتزاز احسن لاہور چلے گئے۔ اس کے ساتھ ہی آصف زرداری کے ترجمان فرحت اللہ بابرسے ترجمانی واپس لے لی گئی۔ سینیٹ کے چیئرمین رضا ربانی اپنے خلاف آصف زرداری کے ریمارکس پر سخت ناراض تھے۔ انہوں نے چیئرمین کے دفتر سے اپنا سامان اٹھایا، اسے الوداع کہااورزرداری ہاؤس جانے کی بجائے اپنے گھر چلے گئے۔ یہ داستان آگے چل کر مزید بیان ہوگی۔وفاق، پنجاب، آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان کی چار حکومتوں کے مالک نوازشریف کی بغاوت کااعلان کس کے خلاف؟ اور عوام کو ججوں کی ٹانگیں کھینچنے کا حکم اور بیٹی کی طرف سے باقاعدہ 'می لارڈ' کہہ کر ججوں کے خلاف شدید اشتعال انگیز ریمارکس بھی اہم ہیں مگر اس سے پہلے ملکی وقومی مفاد کو پس پشت ڈال کر اقربانوازی کے ایک تازہ واقعہ کاذکر کرناچاہتاہوں۔ ٭وزیراعظم کے عہدے کے دو ماہ 10دن باقی رہ گئے ۔ بیرونی دوروں کی انتہااپنی جگہ مگر انہوں نے اپنے کاروبار ی شراکت دار محض بی اے پاس علی جہانگیر صدیقی کو امریکہ میں سفیر مقرر کرکے مزید کسر نکال دی ہے۔ ارب پتی علی جہانگیر صدیقی پاکستان کی بہت بڑی مالیاتی کمپنیوں اور بینکوں کے ایک گروپ کے مالک ہیں۔ان کمپنیوں میں 23ہزار ملازمین کام کررہے ہیں۔ وہ جے ایس بینک کے چیئرمین بھی رہے۔علی جہانگیر صدیقی کے والد جہانگیر صدیقی نے 1960ء میں کراچی میں آئس کریم کی ڈسٹری بیوشن سے کام شروع کیا تھا۔ اس وقت جے ایس گروپ کھربوں کا کاروبار کر رہاہے۔ علی جہانگیر اپنے اداروں میں اعلیٰ ترین عہدوں پررہ چکے ہیں۔ انہیں مالیاتی امور کا وسیع تجربہ حاصل ہے۔ ان کایہ تجربہ اپنی جگہ، معاملہ یہ ہے کہ امریکہ جیسے اہم ترین ملک میں پاکستان کے سفیر کے پاس بین الاقوامی سیاسیات اور سفارتی امور کاوسیع علم اورتجربہ ضروری ہے۔ علی جہانگیرکے پاس ایساکوئی تجربہ نہیں۔ جب کہ امریکہ اورپاکستان کے درمیان موجودہ شدید کشیدگی کے ماحول میںعالمی سیاست کو سمجھنے والے کسی نہایت زیرک تجربہ کار سفارت کا رکی ضرورت تھی، چاہے وہ ریٹائر ہوچکا ہوں۔ انتظامی طورپر اس نہایت اہم تقرری کے لیے وفاقی کابینہ سے منظور ی لی جاتی ہے اور اس سلسلے میں پارلیمنٹ کو بھی باخبر رکھاجاتاہے مگرایسے کسی اقدام کی ضرورت محسوس نہیں کی گئی اور براہ راست ایسے شخص کوامریکہ میں سفیر بنادیا جس کے پاس صرف امریکہ کے ہوا بازی کے ادارے کی طرف سے بی اے ( انسائیکلو پیڈیا کے مطابق ایف اے) کی سند ہے۔ اس تقرری کو ہائی کورٹ میں چیلنج کر دیا گیا ہے ۔ قومی اسمبلی میں بھی بہت شورشرابا ہوا۔ ریوڑیوں کی طرح ایسے عہدے بانٹنے کی یہ پہلی مثال نہیں۔آصف زرداری کے دور میں حسین حقانی اورشیری رحمان اور نواز شریف کے دور میں عابدہ حسین کوکسی ضروری تجربے کے بغیر امریکہ میں سفیر بنادیاگیا۔ ٭اوراب ڈراموں اورتماشوں کی باتیں۔ آصف زرداری نے مبینہ خودکو بہت سیانااور گہری سوجھ بوجھ والا کھلاڑی ظاہر کیا۔ایک متنازعہ وصیت کے ذریعے صرف انڈر گریجویٹ ہونے کے باوجود ملک کی صدارت پرقبضہ کرلیا۔ ایوان صدر کو پیپلز پارٹی کاریسٹ ہاؤس بنادیا۔ حسین حقانی جیسے فتنہ باز کوامریکہ کا سفیر بنوادیا۔ آصف زرداری آج تک نہ بتا سکے کہ دنیا بھر میں 87بھاری اثاثے کیسے بنالیے؟ یہ باتیں بہت دفعہ ہوچکیں۔ اب تازہ ڈرامایہ کہ بلوچستان میں ن لیگ کی حکومت الٹائی تواحسان کے معاوضہ کے طورپر بلوچستان سے سینیٹ کے تمام نومنتخب ارکان سے سینیٹ کے چیئرمین کے لیے پیپلز پارٹی کے امیدوار کی حمائت حاصل ہونے کادعویٰ کردیا۔ ان کے ایک ساتھی نے اعلان کردیاکہ پیپلز پارٹی کو سینیٹ میں57 ارکان کی حمائت حاصل ہوچکی ہے۔آصف زرداری نے بڑے تکبر کے ساتھ اعلان کیا کہ آئندہ عام انتخابات کے بعد ملک میں قومی اور چاروں صوبوں کی حکومتیں پیپلز پارٹی بنائے گی۔ درپردہ عمران خاں سے سینیٹ کے 13 ارکان کی حمائت مانگ لی۔ ا ن دونوں کامقصد محض یہ ہے کہ ن لیگ کاامیدوار کامیاب نہ ہو نے پائے۔ یہ دونوں ڈبل گیم کھیل رہے تھے کہ نوازشریف نے ترپ کا پتہ پھینکااور پیپلز پارٹی کے موجودہ چیئرمین سینیٹ رضاربانی کا نام اپنے امیدوار کے طورپر پیش کردیا۔ اس کے ساتھ ہی عمران خان کا ڈرامائی اعلان آگیا کہ تحریک انصاف کسی حالت میں بھی پیپلزپارٹی کا ساتھ نہیں دے گی۔ عمران خان نے بلوچستان کے وزیراعلیٰ بزنجو کواپنے سارے ارکان پیش کردیئے۔ بزنجو کابار بار اعلان آرہا تھاکہ انہوں نے سینیٹ کے چیئرمین کے انتخاب کے لیے آصف زرداری کو سارے اختیارات دے دیئے ہیں۔ گزشتہ روز عمران خان نے پیپلزپارٹی کاساتھ دینے سے انکار کردیا تو بزنجو نے بھی پینترا بدل لیا کہ میں نے آصف زرداری کوئی اختیارنہیں دیا! اورآصف زرداری ہکا بکا سر پر ہاتھ رکھ کردیکھ رہے ہیں کہ یہ کیا ہورہاہے؟ ٭اوراب دیکھیں!آصف زرداری نے کھلے الفاظ میں رضاربانی کی مذمت کی۔وہ ناراض ہوکر گھر چلے گئے۔ بلاول زرداری نے اسلام آباد میں زرداری ہاؤس میں پارٹی کے سینئرارکان کااجلاس بلا رکھاتھا۔ اس نے اسلام آباد میں قدم رکھاتو سینئر ترین ارکا ن خورشید شاہ اور چودھری اعتراز احسن اجلاس کی بجائے سکھراورلاہور روانہ ہوگئے۔ بلاول نے باپ کی مخالفت کے باوجود رضا ربانی کو سینیٹ کی ٹکٹ دلوائی تھی۔ اسے صورت حال کا علم ہوا تو رضا ربانی کے گھر کی طرف بھاگا۔ خبر تھی کہ رضا ربانی سینیٹ کی رکنیت کا حلف نہیں اٹھائیں گے۔ بلاول نے منت سماجت کرکے انہیں حلف کے لیے رضا مند کرلیا۔ ان کے ساتھ کھانا بھی کھایااور اب قیاس آرائی شروع ہورہی ہے کہ پیپلز پارٹی شائد رضا ربانی کو ہی دوبارہ چیئرمین کے عہدہ کے لیے نامزد کردے! قارئین کرام! عبدالحمید عدم اُردو کے بہت باکمال شاعر تھے۔ کالم10مارچ کو لکھا جارہاہے۔ یہ عدم صاحب کی 37 ویں برسی کا دن بھی ہے۔ آصف زرداری کی ''بے حد و حساب سمجھ داری'' کا جو حال ہورہاہے۔ اس پر عدم کی ایک خوبصورت غزل کاایک شعرسنئے کہ : جوپرندے نگاہ رکھتے ہیں، سب سے پہلے اسیر ہوتے ہیں'' اسی غزل کاایک اور شعر کہ ''اے عدم!احتیاط لوگوں سے، لوگ منکر نکیر ہوتے ہیں''۔

٭میں نے نوازشریف کی تازہ ترین نوازیات اور مریم نواز کی باتوں کو کالم میں نظرانداز کیاہے ۔ روزانہ ایک جیسی دیوانگی کو کیادہرانا؟ حالات ن لیگ کے بس میں نہیں رہے۔ نوازشریف کی واپسی کاکوئی حل دکھائی نہیں دے رہا۔ ایک شعر یاد آگیا ہے کہ'' چلو اچھاہوا کام آگئی دیوانگی اپنی ، زمانے بھر کوسمجھانے وگرنہ ہم کہاں جاتے !'' ٭اور عمران خان کی باتیں! اُردو شاعرکی ایک صنف ''کہہ مکرنی''ہے یعنی کوئی بات کہہ کر فوراً مکر جاؤ۔عمران خان نے آصف زرداری کے ساتھ کیا سلوک کیا ہے! پہلے اپنے سارے ارکان وزیراعلیٰ بزنجو کے ذریعے آصف زرداری کو پیش کرنے کا اعلان کیا اور پھر اس پیش کش سے انکار کرکے موصوف کو پٹخنی دے دی! الامان!


اس خبر کے بارے میں اپنی رائے دیجئے
پسند آئی
 
ٹھیک ہے
 
کوئی رائے نہیں
 
پسند ںہیں آئی
 


 سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں





  اوصاف سپیشل

آج کا مکمل اخبار پڑھیں

     
     
تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ روزنامہ اوصاف محفوظ ہیں۔
Copyright © 2016 Daily Ausaf. All Rights Reserved