شام اور آقا ومولاﷺ کے فرمان
  12  مارچ‬‮  2018     |     کالمز   |  مزید کالمز

اے مسلم ممالک کے کٹھ پتلی حکمرانو! مت مدد کرنا ’’غوطہ‘‘ کے معصوم بچوں کی۔ ’’شام‘‘ کے مظلوم مسلمانوں کی ۔۔۔ اے مسلم امہ کے سرمایہ دارو! جاگیردارو۔۔۔ صنعت کارو‘ کارخانہ دارو‘ زمیندارو۔۔۔ شام کے مرتے ہوئے مسلمانوں کے منہ میں پانی بھی مت ڈالنا ۔۔۔ شام کے بچوں‘ عورتوں اور بوڑھے زخمیوں کے علاج معالجے کے لئے بھی کچھ نہ کرنا‘ کہیں تم ’’دہشت گردوں‘‘ کے مالی مددگار ہی نہ سمجھ لیے جاؤ؟اے مسلمان ملکوں میں بسنے والے دانشورو! کالم نگاروں‘ مذہبی سکالرو‘ تجزیہ کاروں‘ ٹی وی اینکرنیوں اور اینکرو ۔۔۔ روسی کیمیائی ہتھیاروں سے تڑپتے ‘ پھڑکتے معصوم بچوں کی ’’غوطہ‘‘ کے چوکوں‘چوراہوں‘ گلیوں‘ بازاروں‘ کھیتوں اور کھلیانوں میں بکھری ہوئی لاشوں پر ۔۔۔ کوئی کالم مت لکھنا‘ کوئی ایڈیش مت چھاپنا‘ کوئی ٹاک شو مت کرنا‘ کیونکہ یہی تو تمہارے میڈیا کی آزادی کا اصلوب ہے ۔۔۔ اور جس میڈیا کی آزادی ’’سری دیوی‘‘ کی چتا کے ساتھ ہی جل گئی ہو وہ میڈیا ’’غوطہ‘‘ کے بچوں کی لاشوں کے ڈھیر پر آنسو کیسے بہائے گا؟ مارچ2011 ء سے لے کر آج تک شام میں لاکھوں ’’انسان‘‘ مار دیئے گئے وہ کون تھے ان کا مسلک و مشرب کیا تھا؟ میں اس بحث کو چھیڑے بغیر یہ لکھنا چاہتا ہوں کہ شام میں مرنے والے بھی ’’انسان‘‘ تو تھے ‘ لیکن شام میں بے گناہ لاکھوں ’’انسانوں‘‘ کو ریاستی دہشت گردی کے بمبوں اور کیمیائی ہتھیاروں سے بچانے کے لئے ’’انسانی حقوق‘‘ کے مامے‘ چاچوں‘ اقوام متحدہ‘ امریکہ اور دیگرز نے کیا کیا؟ یہ منافقتوں کے گند سے بھرے ہوئے نام نہاد عالمی راہنما اور ان کے گماشتے کیا حلب اور غوطہ میں کیمیائی ہتھیاروں سے شہادتوں کے جام نوش کرنے والے ہزاروں بچوں کو ’’انسان‘‘ نہیں سمجھتے؟ کوئی ان سے کہے ‘کہ مت نام لیا کرو ’’انسانی حقوق‘‘ کا ۔۔۔’’انسانی حقوق‘‘ کو ہتھیار بناکر مذہب اور مسلک کے نام پر لاکھوں شامی مسلمانوں کے بہتے لہو کا نظارہ کرنے والے صبر کریں۔۔۔ کیونکہ جبر کے دن بہت تھوڑے ہوتے ہیں‘ آئیے آج کے مینارہ نورمیں مخبر صادق حضرت محمد کریم ﷺ کی سرزمین شام کے حوالے سے احادیث مبارکہ کا مطالعہ کرکے اپنے دلوں کو ٹھنڈا کرتے ہیں۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جب میں سویا ہوا تھا تو میں نے دیکھا کہ عمود الکتاب (ایمان) میرے سر کے نیچے سے کھینچا جارہا ہے۔ میں نے گمان کیا کہ اس کو اٹھا لے لیا جائے گا تو میری آنکھ نے اس کا تعاقب کیا ،اس کا قصد (ملک) شام کا تھا۔ جب جب بھی شام میں فتنے پھیلیں گے وہاں ایمان میں اضافہ ہوگا۔(مسند احمد، طبرانی حدیث صحیح ۔ مجمع الزوائد) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: میں نے دیکھا کہ عمود الکتاب (ایمان) میرے تکیہ کے نیچے سے ہٹایا جارہا ہے، میری آنکھوں نے اس کا پیچھا کیا تو پایا کہ وہ بلند نو ر کی مانند ہے، یہاں تک کہ میں نے گمان کیا کہ وہ اس کو پسند کرتا ہے اور اس کو شام لے جانے کا ارادہ رکھتا ہے ، تو میں نے سمجھا کہ جب جب بھی فتنے واقع ہوں گے تو شام میں ایمان مضبوط ہوگا۔ (طبرانی) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: میں نے شب معراج میں دیکھا کہ فرشتے موتی کی طرح ایک سفید عمود اٹھائے ہوئے ہیں۔ میں نے پوچھا : تم کیا اٹھائے ہوئے ہو؟ انہوں نے کہا : یہ اسلام کا ستون ہے، ہمیں حکم دیا گیا ہے کہ ہم اس کو شام میں رکھ دیں۔۔ ایک مرتبہ میں سویا ہوا تھا تو میں نے دیکھا کہ عمود الکتاب (ایمان) میرے تکیہ کے نیچے سے نکالا جارہا ہے۔ میں نے سوچا کہ اللہ تعالی نے اس کو زمین سے لے لیا۔ جب میری آنکھ نے اس کا تعاقب کیا تو دیکھا کہ وہ ایک بلندنور کے مانند میرے سامنے ہے، یہاں تک کہ اس کو شام میں رکھ دیا گیا۔ (طبرانی) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: اگر اہل شام میں فساد برپا ہوجائے تو پھر تم میں کوئی خیر نہیں ہے۔ میری امت میں ہمیشہ ایک ایسی جماعت رہے گی جس کو اللہ تعالی کی مدد حاصل ہوگی اور اس کو نیچا دکھانے والے کل قیامت تک اس جماعت کو نقصان نہیں پہنچا سکتے ہیں۔(ترمذی، ابن ماجہ، طبرانی، صحیح ابن حبان)۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: میری امت کی ایک جماعت ہمیشہ اللہ کے احکام کی پابندی کرے گی، جس کو نیچا دکھانے والے اور مخالفت کرنے والے نقصان نہیں پہنچا سکتے۔ اللہ تعالی کا فیصلہ آنے تک وہ اللہ کے دین پر قائم رہیں گے مالک بن یخامر رضی اللہ عنہ نے کہا اے امیر الموئمنین! میں نے حضرت معاذ رضی اللہ عنہ سے سنا ہے کہ یہ جماعت ملک شام میں ہوگی۔ (بخاری، مسلم، طبرانی)۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: میری امت میں ایک جماعت حق کے لیے لڑتی رہے گی اور قیامت تک حق انہیں کے ساتھ رہے گا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ہاتھ سے ملک شام کی طرف اشارہ کیا۔ (ابو داوئد، مسند احمد، طبرانی) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: میری امت میں ایک جماعت دمشق اور بیت المقدس کے اطراف میں جہاد کرتی رہے گی۔ لیکن اس جماعت کو نیچا دکھانے والے اور اس جماعت کی مخالفت کرنے والے اس جماعت کو نقصان نہیں پہنچا پائیں گے اور قیامت تک حق انہیں کے ساتھ رہے گا۔(رواہ ابو یعلی ورجالہ ثقات) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: قتل کرنے کے دن (یعنی جنگ میں) مسلمانوں کا خیمہ الغوطہ میں ہوگا، جو دمشق کے قریب واقع ہے۔ (مسند احمد ، ابو داوئد) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: مسلمانوں کا خیمہ الغوطہ میں ہو گا۔ اِس جگہ دمشق نامی ایک شہر ہے، جو شام کے بہترین شہروں میں سے ایک ہے۔(صحیح ابن حبان) حضرت عوف بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے، جب کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک چھوٹے خیمہ میں موجود تھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس وقت مجھے قیامت کی چھ نشانیاں بتائیں:میری موت‘بیت المقدس کی فتح‘میری امت میں اچانک موتوں کی کثرت‘میری امت میں فتنہ ،جو ان میں بہت زیادہ جگہ کرجائے گا‘میری امت میں مال ودولت کی فراوانی کہ اگر تم کسی کو 100دینار بھی دوگے تو وہ اس پر(کم سمجھنے کی وجہ سے)ناراض ہوگا۔تمہارے اور بنی اصفر (صیہونی طاقتوں) میں جنگ ہوگی، ان کی فوج میں 80 ٹکڑیاں ہوں گی اور ہر ٹکڑی میں 12000 فوجی ہوں گے اس دن مسلمانوں کا خیمہ الغوطہ نامی جگہ میں ہوگا، جو دمشق شہر کے قریب میں واقع ہے۔(رواہ الطبرانی باسناد جید، بیہقی) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : شام والو! تمہارے لیے خیر اور بہتری ہو۔ شام والو! تمہارے لیے خیر اور بہتری ہو۔ شام والو! تمہارے لیے خیر اور بہتری ہو۔ صحابہ کرامؓ نے سوال کیا : کس لیے یا رسول اللہﷺ؟: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: رحمت کے فرشتوں نے خیر وبھلائی کے اپنے بازو اس ملک شام پر پھیلا رکھے ہیں (جن سے خصوصی برکتیں اس مقدس خطہ میں نازل ہوتی ہیں(ترمذی) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : الشام ارض المحشر شام کی سرزمین سے ہی حشر قائم ہوگا۔ (مسند احمد، ابن ماجہ)


اس خبر کے بارے میں اپنی رائے دیجئے
پسند آئی
100%
ٹھیک ہے
 
کوئی رائے نہیں
 
پسند ںہیں آئی
 


 سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں





  اوصاف سپیشل

آج کا مکمل اخبار پڑھیں

     
     
تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ روزنامہ اوصاف محفوظ ہیں۔
Copyright © 2016 Daily Ausaf. All Rights Reserved