سینیٹ کھپے
  12  مارچ‬‮  2018     |     کالمز   |  مزید کالمز

جس وقت یہ سطور آپ کے سامنے ہونگی چیئرمین سینیٹ کا انتخابی عمل شروع ہو چکا ہو گا یا ہونیوالا ہو گا۔ چیئرمین کون بنے گا اسکا حتمی فیصلہ شام تک ہو جائیگا مگر یہ ضرور ہے کہ نواز شریف 33 نششتوں کی اکثریت کے باوجود چیئرمین نہیں بنا سکیں گے جبکہ اسے مولانا فضل الرحمان، محمود اچکزئی، حاصل بزنجو کی جماعتوں کی حمایت بھی حاصل ہے۔ یہ الگ بات ہے کہ پیپلز پارٹی 26 نشستوں کیساتھ گزشتہ چار سال ایوان بالا کی سربراہی کر چکی ہے۔ سوال یہ ہے کہ اکثریتی جماعت کو اقلیت میں کون تبدیل کر رہا ہے، اسکا سیدھا سادا جواب ہے اسٹیبلشمنٹ، جس کے ساتھ دینے کیلئے حسب ماضی حزب اختلاف کی تمام جماعتیں بڑھ چڑھ کر حصہ لے رہی ہیں۔ سینیٹ کا چیئرمین کس کے نصیب میں آئیگا شاید یہ فیصلہ اسی وقت ہو گیا تھا جب بلوچستان میں اچانک ن لیگی ارکان نے اپنی ہی حکومت کے خلاف بغاوت کی تھی۔ اب معاملہ یہ ہے کہ پتلی تماشے کا مرکز اسلام آباد کا بلوچستان ہاؤس اور ڈوریاں بظاہر زرداری صاحب کے ہاتھ ہیں۔ کٹھ پتلیوں کے اس کھیل میں نواز شریف ہار کر بھی مظلوم فاتح کے روپ میں سامنے آئینگے جبکہ عمران خان پورے طمطراق خالی ہاتھ گھر کو لوٹیں گے۔ بلوچستان کے عوامی نمائندوں کی موجیں ہیں، شنید ہے حکومت گرانے کے بھی سودے ہوئے اور وزیر اعلی بنوانے کے بھی، عام انتخابات میں 500 سے کم ووٹ لینے والے عبدالقدوس بزنجو کا وزیر اعلی بننا کسی معجزے سے کم تو نہ تھا، جو اب اسلام آباد میں ڈیرہ ڈالے بیٹھے ہیں۔ سینیٹ ارکان کے انتخاب میں ویسے تو پورے ملک سے گھوڑوں کی خریداری ہوتی رہی، ایک ووٹ کی قیمت چار سے پانچ کروڑ بتائی جاتی ہے، اطلاعات کے مطابق صرف بلوچستان میں ایک ارب بیس کروڑ سے زائد کے سودے ہوئے۔ گھوڑوں کی خریداری میں پیپلز پارٹی نے بھرپور حصہ لیا مگر اسکے علاوہ بھی کئی معجزات سامنے آئے، تحریک انصاف کے چوہدری محمد سرور کی کرشماتی جیت کا احوال ن لیگ کی عظمی بخاری سے پوچھیئے جنہیں پنجاب میں انکی حکومتی جماعت نہ جتوا سکی۔ مزیدار بات یہ ہے کہ پیپلز پارٹی، مسلم لیگ ن، تحریک انصاف سمیت تمام جماعتیں بحیثیت حجم خرید و فروخت میں شامل رہیں اور ہر جماعت ہارس ٹریڈنگ پر لعنت بھی بھیج رہی ہے، کیا یہ قوم کیساتھ مذاق نہیں ہے۔ اگر یہ ارکان دولت کے گھوڑوں پر بیٹھ کر ایوان پہنچے ہیں تو کتنے پاناما، سرے محل، سوئس بینک اسکینڈل سامنے آئینگے۔ اب بات کرتے ہیں تحریک انصاف کی، عمران خان نے پی ٹی آئی کے 13 ووٹ وزیر اعلی بلوچستان کے حوالے کر دیئے، جس کے بارے میں سب کو پتہ تھا کہ یہ ووٹ بالاخر زرداری صاحب کی جھولی میں گرینگے۔ احساس ہوا یا دلایا گیا تو دوسرے ہی روز ہنگامی پریس کانفرنس میں اعلان کیا گیا کہ تحریک انصاف کے نومنتخب سینیٹ ارکان نہ تو ن لیگ کے امیدوار کو ووٹ دینگے نہ ہی پیپلز پارٹی کے، اب آپ ہی فیصلہ کر لیں کہ یہ کپتان کا جذباتی فیصلہ تھا، سیاسی ناپختگی یا پھر اسٹیبلشمنٹ کی تابعداری معجزہ دکھا رہی تھی۔ خیر سیاسی سنجیدگی کا اندازہ تو اس بات سے بھی لگایا جا سکتا ہے کہ سینیٹ الیکشن کے روز کپتان نے بنی گالہ سے صرف 15 کلو میٹر دور پارلیمنٹ جا کر ووٹ دینے کی زخمت بھی نہ کی۔ انتخابی بساط پر نواز شریف نے سابقہ چیئرمین رضا ربانی کی حمایت کر کے شاطرانہ چال چلی مگر آصف زرداری کے واضح انکار نے مات دیدی۔ آصف زرداری نے مولانا فضل الرحمان پر جال ڈالا تو مولانا صاف بچ نکلے۔ سیاسی بساط پر چالوں پر چالیں جاری ہیں شاید اسی باعث پیپلز پارٹی اور ن لیگ اپنے امیدوار نامزد کرنے میں تاخیر کرتی رہی۔ گزشتہ سال ایک بیان پر رضاکارانہ جلاوطنی کاٹنے والے آصف زرداری اس وقت اسٹیبلشمنٹ کے اتنے ہی پسندیدہ فرد ہیں کہ جنتے گزشتہ سال نواز شریف ہوا کرتے تھے۔ اس دوڑ میں فتح پیپلز پارٹی کی ہی ہو گی اگرچہ سینیٹ میں اسکے صرف 20 ارکان ہیں مگر اسٹیبلشمنٹ کا وزن بہرحال ساتھ ہے، چنانچہ فاٹا سمیت تمام دیگر چھوٹی جماعتیں پی پی کی حمایت میں کمربستہ ہو جائینگی، اس صورتحال میں سینیٹ کھپے ہی کھپے۔ زرداری صاحب بخوبی جانتے ہیں کہ عام انتخابات میں پیپلز پارٹی کسی طور بھی حکومت بنانے کی اہلیت نہیں رکھتی، اس صورتحال میں اگر سینیٹ جھولی میں آ رہی ہے تو تائید غیبی ہے۔ اس کھیل میں تحریک انصاف بری طرح ہارے گی چونکہ سخت گیر موقف کے بعد نہ تو پی ٹی آئی لیگ کا ساتھ دے سکتی ہے نہ ہی پیپلز پارٹی کا، اگر وہ ایسا کرتی ہے تو اپنے بنیادی موقف سے انحراف کی سزا توقع سے زیادہ بھاری ہو گی۔ سینیٹ انتخابات کی گہما گہمی میں رضا ربانی بھی موضوع بحث بن گئے، حقیقت تو یہ ہے کہ آصف زرداری کبھی بھی رضا ربانی سے خوش نہ تھے مگر نواز شریف کی حمایت اونٹ پر آخری تنکہ ثابت ہوئی۔ زرداری صاحب نے مزاج کے برخلاف رضا ربانی کو نواز شریف کا آدمی قرار دیتے ہوئے کڑی تنقید کا نشانہ بنایا، اس سے صرف ایک روز پہلے فرحت اللہ بابر کی اسٹیبلشمنٹ کے خلاف الوداعی تقریر کی پورے پاکستان میں پذیرائی کی گئی مگر زرداری صاحب کو نہ بھائی، سو انہیں ترجمان کے عہدے سے فارغ کر دیا گیا، اگرچہ دوسرے ہی روز اعتزاز احسن نے ایوان بالا سے خطاب کرتے ہوئے دوٹوک انداز میں واضح کیا کہ وہ فرحت اللہ بابر کی تقریر سے سو فیصد متفق ہیں مگر بوجوہ انکے خلاف کوئی رد عمل سامنے نہیں آیا۔ یہاں ایک اور بات بھی قابل ذکر ہے کہ ہماری سیاسی جماعتوں کے سربراہان درحقیقت دیوتا کو روپ دھار چکے ہیں، انہیں سیاسی رہنما نہیں بلکہ کارندے، کٹھ پتلیاں، خادم چاہیئے ہیں، رضا ربانی، اعتزاز احسن، چوہدری نثار، جاوید ہاشمی، جسٹس وجہیہ جیسے افراد کو برداشت کرنا ذرا نہیں بہت مشکل کام ہوتا ہے۔ حبس کی اس فضا میں سیاسی قدآور شخصیات کا سانس لینا مشکل ہوتا ہے، اعتزاز احسن، چوہدری نثار اور رضا ربانی جیسے افراد سے اختلاف کیا جا سکتا ہے مگر انہیں پارلیمان کی ضرورت نہیں بلکہ پارلیمان کو انکی ضرورت ہے۔ ہماری سیاست کا پہلا اصول یہ ہے کہ جماعتی دیوتا سے مخالفت کی واحد سزا کالا پانی ہے، جمہوریت کا درس دینے والے یہ رہنما ہر پل خوف میں رہتے ہیں کہ کوئی اور انکی جگہ نہ لے سکے اور سیاسی گدی بہرطور انکی اولاد کو منتقل ہو، جس کا نتیجہ مریم اور بلاول کی صورت میں سامنے آتا ہے اور بزرگان سیاست اطفال کے سامنے سرنگوں ہونے پر مجبور ہوتے ہیں۔خیر یہ علیحدہ موضوع ہے ورنہ بحث کہیں اور نکل جائیگی، عرض یہ ہے کہ سیاستدان، سیاسی کارکنان، رہنما سب اسٹیبلشمنٹ کی دہائی دیتے ہیں مگر وقت پڑنے پر سب اس دیوی کی پوجتے بھی خوب ہیں۔ 2012 میں جب عدالتوں میں زرداری کے خلاف مقدمات عروج پر تھے تو یہی نواز شریف تھے جو عدالتوں کو سچا کہہ رہے تھے حتی کہ کالا کوٹ پہن کر سپریم کورٹ بھی پہنچے تھے آج یہی کردار آصف زرداری نبھا رہے ہیں۔ جب تک سیاسی جماعتیں اور سیاستدان اختیارات کا ناجائز استعمال، کرپشن اور جمہوری آمریت میں لتھڑے رہینگے اسٹیبلشمنٹ کا کردار ختم نہیں ہو گا۔ جب تک عوام صاف ستھرے افراد کو ووٹ دینے کا شعور حاصل نہیں کرینگے اسٹیبلشمنٹ کا راج جاری رہیگا۔ کرپشن اسکینڈل، معشیت کی بدحالی، ووٹوں کی خریدوفروخت، اداروں کی ناگفتہ حالت، عوام کی دہائیاں، یہ وہ سب کچھ ہے جسکا فائدہ اسٹیبلشمنٹ اٹھاتی رہی ہے اور سیاسی حالات نہ بدلے تو آئندہ بھی اٹھاتی رہیگی۔ بہرحال فی الحال یہ سمجھیئے کہ آئندہ انتخابات میں اگر ن لیگ اکثریت حاصل کرتی ہے تو بھی سینیٹ میں پیپلز پارٹی کی تلوار اسکی گردن پر لٹکتی رہیگی، سو لگایئے نعرہ سینیٹ کھپے، اسٹیبلشمنٹ کھپے، عوام کھپے نہ کھپے، کوئی مسئلہ نہیں!


اس خبر کے بارے میں اپنی رائے دیجئے
پسند آئی
100%
ٹھیک ہے
 
کوئی رائے نہیں
 
پسند ںہیں آئی
 


 سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں





  اوصاف سپیشل

آج کا مکمل اخبار پڑھیں

     
     
تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ روزنامہ اوصاف محفوظ ہیں۔
Copyright © 2016 Daily Ausaf. All Rights Reserved