چیف تیرے جاں نثار، بیشمار، بیشمار
  12  مارچ‬‮  2018     |     کالمز   |  مزید کالمز

ریمورٹ کنٹرول ٹی وی کا بٹن دباتے ہی سکرین پر چیف جسٹس آف پاکستان کا چہرہ دیکھنے کو ملا۔ فوٹیج کے پس پردہ ایک آواز گونج رہی تھی۔ ’’چیف تیرے جاں نثار، بے شمار، بے شمار‘‘ مجھے یوں لگا جیسے یہ میری ہی آواز ہو جو میرے دِل کے تحت الثریٰ سے بُلند ہو رہی تھی، اپنی ہی آواز اپنے ہی کانوں سے سُن کر میں حیرت زدہ رہ گیا اور میری روح بے چین ہو گئی، یہ آواز نہ جانے کتنے برسوں سے میرے اندر پرورش پا رہی تھی جو دِل کے پاتال سے اُٹھتی رہی اور پھر کانوں تک پہنچنے سے پہلے ہی معدوم ہوتی رہی۔ یہ کبھی ظلم و جبر، سفاکی اور استبداد کی چٹانوں سے ٹکراتی اور کبھی بے بسی اور لاچارگی کے گہرے کنویں میں جاگرتی رہی۔ کبھی حسرتِ ناتمام کے گلے سے جا ملتی اور کبھی اپنے آہنگ سے بچھڑ کر صوتی اثر میں گم ہو جاتی میں نے محسوس کیا کہ یہ تو ستر برس پرانی آواز ہے۔ ایک دبی ہوئی آواز، ایک نحیف اور ناتواں آہنگ سے جڑی ہوئی آواز اِس آواز کو کس نے یہ جرأت بخشی کہ یہ لب بام گونجنے لگی؟ میں خیالوں کے جنگل میں اُس مسیحا نفس کو تلاش کرنے لگا۔ خزاں رسیدہ پتوں پر جب پاؤں پڑا تو چٹختی ٹہنیوں کی صدائیں چاپ بن کر ثاقب نثار، ثاقب نثار کہنے لگیں۔ یہ ثاقب نثار کون ہے؟ دِل نے دماغ سے ایک اور سوال کیا! جواب ملا پاکستان کے 25 ویں چیف جسٹس جو 30 دسمبر 2016ء کو اِس عہدے پر فائز ہوئے۔ ثاقب نثار نے پنجاب یونیورسٹی لاء کالج سے وکالت کی تعلیم حاصل کی اور بعد ازاں وکالت کا پیشہ اختیار کیا۔ وہ 1982ء میں ہائی کورٹ کے وکیل بنے۔ 1994ء میں اُنہیں سپریم کورٹ کی وکالت کا لائسنس مل گیا۔ وہ 1998ء میں لاہور ہائی کورٹ کے جج مقرر ہوئے۔ 2010ء میں وہ سپریم کورٹ آف پاکستان کے جج بنے۔ اُن کا شمار اعلیٰ عدلیہ کے اُن ججوں میں ہوتا ہے جنہوں نے سابق فوجی صدر پرویز مشرف کی جانب سے 2007ء میں لگائی جانے والی ایمر جنسی کے بعد عبوری آئینی حکم نامے کے تحت حلف اُٹھانے سے انکار کر دیا تھا۔ اُنہوں نے ہمیشہ پاکستان اور اہل پاکستان کے درد کو اپنے سینے سے لگائے رکھا۔ اِسی لئے آج وہ دُکھی دِلوں کی دھڑکن بنے ہوئے ہیں۔ اُن کے جرأت مندانہ فیصلوں کی وجہ سے اُنہیں گزشتہ چند ماہ کے دوران غیر معمولی عوامی مقبولیت ملی ہے۔ اُنہوں نے قوم کے دِلوں کو اِس انداز سے چُھوا ہے کہ گلی گلی میں اُن کی جرأتوں کے گیت اور عظمتوں کے ترانے گائے جا رہے ہیں۔ یہ ترانے یہ گیت ثاقب نثار کے لئے نہیں ہیں بلکہ اُس کردار کے لئے ہیں جو وہ ادا کر رہے ہیں۔ یہی تو وہ کردار تھا جس کی طلب قوم کوستر برسوں سے تھی۔ کیونکہ گزشتہ سات دہائیوں سے اِس قوم کی تقدیر کے ساتھ کھیل کھیلا جا رہا تھا۔ مستقبل کے سہانے سپنے دِکھا دِکھا کر اِس قوم کے خواب لُوٹے جا رہے تھے۔ تعبیریں پامال کی جا رہی تھیں۔ کبھی سیاست کے نام پر، کبھی شرافت کے نام پر، کبھی مذہب کے نام پر، کبھی صحافت کے نام پر، کبھی امانت کے نام پر، کبھی دیانت کے نام پر، کبھی زندگی کے نام پر اور کبھی زندگی کی رعنائیوں کے نام پر۔ میاں ثاقب نثار کی عظمت کو سلام کہ وہ خزاں کے موسم میں بہار کا جھونکا بن کر آئے۔ اُنہی کے دور میں قوم کو یہ جرأت ملی کہ وہ راہبروں کے روپ میں چھپے ہوئے راہزنوں کے چہرے سے نقاب اُلٹا سکیں۔ اُنہی کے دور میں یہ شعور اُجاگر ہوا کہ وہ پہچان سکیں کہ اہل کون ہے اور نااہل کون ؟ چیف جسٹس ثاقب نثار نے قدم کیا بڑھایا کہ ستر برسوں سے زیرو پوائنٹ پر کھڑی ہوئی قوم نے شعور کی مسافت پر پہلا قدم اُٹھانے کی جرأت کی اور اپنی تقدیر کے لوٹنے والے چہروں کو دیکھنے والی عینک لگا کر آنکھوں کو نئے منظروں اور پس منظروں سے روشناس کیا۔ قوم نے پہلی بار اپنی آنکھوں سے دیکھا اور کانوں سے سُنا کہ قوم کے خیر خواہ نام نہاد سیاستدان کس طرح عدالتوں کو گالیاں دیتے ہیں بالکل اُسی طرح جس طرح یہ سیاستدان عوام کو گالیاں دیتے ہیں۔ یہ ووٹ کے تقدس کی آڑ میں ووٹ ڈالنے والوں کی کس طرح آبرو ریزی کرتے ہیں؟ یہ سیاستدان کس طرح قوم کی رگوں سے نچوڑے گئے خون کو اپنی ذاتی تشہیر پر خرچ کرتے ہیں؟ کس طرح قوم کے پیسے پرعیش و عشرت کی زندگی بسر کرتے ہیں؟ اِن چند سیاستدانوں کو نااہل کیا قرار دیاگیا کہ انہوں نے توآسمان سر پر اُٹھا لیا۔ اور قوم کو ووٹ کا تقدس یاد کروانے لگے اور بتلانے لگے کہ آپ کے ووٹ کی توہین ہوئی ہے۔ قوم کو گمراہ کرنے لگے کہ آپ کے ووٹ کی یہ توہین عدالت نے کی ہے۔ اِن سادہ مزاجوں سے کوئی اتنا تو پوچھے کہ ہمارے ووٹ کی توہین اور اِس کے تقدس کو تو آپ سیاستدان پامال کرتے چلے آ رہے ہیں۔ سیاست کے قمار خانوں اور اقتدار کے قحبہ خانوں میں عوام کی تذلیل عدالت نے نہیں بلکہ سیاستدانوں نے کی ہے۔ اور سیاست کے نام پر عوام کے حقوق کی پامالی کا یہ دھندہ اب اپنے انجام کی طرف گامزن ہے۔ عوام کی دُعائیں رنگ لائی ہیں اور خدا تعالیٰ نے اِس قوم کو ایک ایسا چیف جسٹس عطا کیا ہے جو قوم کے دُکھ اور درد میں برابر کا شریک بن چکا ہے۔ ہسپتالوں میں مریضوں سے بھیڑ بکریوں سے بدتر سلوک ہو رہا ہے۔ غریب عوام سسک سسک کر مر رہے ہیں۔ ہسپتالوں میں دوائیں نہیں، سہولیات نہیں ہیں۔ ایسے میں چیف جسٹس آف پاکستان کے دورے حکمرانوں کے لئے خوف کا سبب بن گئے ہیں۔ کون سا شعبۂ زندگی ایسا ہے جہاں حکومتی ادارے صحیح کام کر رہے ہوں؟ تاریخ میں پہلی مرتبہ پینے کے پانی، دودھ، نمک اور اشیائے خورونوش کے حوالے سے قوم کو آگہی ملی ہے۔ ورنہ اِن سیاستدانوں نے تو کبھی قوم کے بارے میں یہ نہیں سچا کہ یہ قوم جان لیوا پانی اور دودھ پینے پر مجبور ہے۔ کھانے پینے کی چیزوں میں زہر ملایا جا رہا ہے اور سیاسی حکومتیں چپ چاپ تماشا دیکھتی رہی ہیں۔ میں چیف جسٹس آف پاکستان عزت مآب میاں ثاقب نثار سے یہ بھی استدعا کروں گا کہ خدا کے واسطے اِس ملک میں جعلی دانشوروں کے خلاف بھی ایکشن لیا جائے۔ کیونکہ یہ جعلی دانشور قوم کو گمراہ کر رہے ہیں۔ ٹی وی چینلز پر آزادی اظہار کی آڑ میں قوم کی سوچ تبدیل کرنے والوں کے لئے بھی کوئی قانون ہونا چاہئے۔ کوئی ضابطہ اخلاق ہونا چاہئے۔ اگر سیاستدان قوم کے خوابوں پر محل تعمیر کر رہے ہیں تو اِس وطن کے دانشور بھی کچھ کم نہیں کر رہے ہر کوئی اپنے اپنے مفادات کی خاطر کوئی نون لیگ کا دانشور بنا بیٹھا ہے تو کوئی تحریک انصاف کا۔ کوئی پیپلزپارٹی کا تو کوئی ق لیگ کا کوئی ایم کیو ایم کا دانشور ہے توکوئی اے این پی کا کالم نگار۔۔۔آخر یہ بھی تو طے ہونا چاہئے کہ پاکستان کا دانشور کون ہے؟ اور پاکستان کا صحافی کون؟ آزادی صحافت اور آگہی کے نام پر بے شعوری اور خبر کے نام پر بے خبری پھیلانے والوں کے لئے بھی کوئی ازخود نوٹس تو ضرور ہونا چاہئے۔ کیونکہ آزادی اظہار کے نام پربے سواؤں کو اینکری کرنے کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔


اس خبر کے بارے میں اپنی رائے دیجئے
پسند آئی
31%
ٹھیک ہے
23%
کوئی رائے نہیں
23%
پسند ںہیں آئی
23%


 سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں





  اوصاف سپیشل

آج کا مکمل اخبار پڑھیں

     
     
تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ روزنامہ اوصاف محفوظ ہیں۔
Copyright © 2016 Daily Ausaf. All Rights Reserved