انتہا پسندی کا بھیانک روپ
  13  مارچ‬‮  2018     |     کالمز   |  مزید کالمز

تحریک آزادی کشمیر نے قابض بھارتیوں کو بوکھلا دیا ہے ۔ بھارتیوں نے کشمیریوں کی نسل کشی اور توسیع پسندی کے ناپاک منصوبے تیز کردیئے ہیں ۔اس دوران بھارتیوں کا ایک بھیانک اور مکروہ کردار سامنے آیا ہے ۔انہوں نے جموں ریجن سے مسلمانوں کے انخلاء کیلئے انتہائی گھناونے حربے استعمال کرتے ہوئے مسلمان بچیوں کے ساتھ اجتماعی زیادتی کرکے انہیں اذیت ناک طریقے سے شہید کرنے کا حربہ استعمال کرنا شروع کردیا ہے ۔ اسی سلسلے کا تازہ واقعہ کٹھوعہ میں جنونی ہندئووں نے گجر خاندان کی 9سالہ معصوم بچی آصفہ کو اغوا کرکے اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنایا گیا ۔ کشمیر کی ننھی بچی کو سات روز تک انسانیت سوز تشدد کا نشانہ بنایا گیا ۔ بار بار بجلی کے کرنٹ سے جھٹکے دے کر شہید کیا ۔ گیا۔اور پھر اس کی لاش باہر پھینک دی گئی ۔ اس دوران خفیہ اداروں اور پولیس نے مجرموں کو کھلی چھوٹ دئے رکھی ۔ بھارتی خفیہ ایجنسیوں ، فورسزاو ر آر ایس ایس کا یہ منصوبہ مسلمانوں کی تذلیل اور انہیں علاقہ چھوڑنے پر مجبور کرنا اور انکی زمینوں ،گھروں اور جائیدادوں پر قبضہ کرنا ہے ۔ پوری وادی کشمیر میں انتہا پسند ہندئوں کے بھیانک کردا ر کے خلاف شدید مظاہرے جاری ہیں ۔ بی جے پی کی ایجنٹ کٹھ پتلی وزیر اعلیٰ مجرموں کو تحفظ دینے اور بھارتی حکمرانوںکو خوش کرنے کیلئے بیان دے رہی ہیںکہ معصوم آصمہ کی آبروریزی کو مذہبی رنگ دیا جارہا ہے ۔ محبو بہ مفتی کٹھ پتلی وزیر اعلیٰ مقبوضہ جموں وکشمیرکہتی ہے کہ ، '' ہمیں عاصمہ کے واقعہ پر افسوس ہے لیکن یہ بھی افسوس کی بات ہے کہ اپوزیشن اور حریت رہنما اسے مذہبی رنگ دے رہے ہیں ،جو کہ سیکولر ازم کے خلاف ہے ۔ انتہائی ڈھٹائی سے اس نے حسب سابق انکوائری ا ور مجرموں کو سزا دلوانے کا بھی کہا ''لیکن سب جانتے ہیں کہ بی جے پی ہو پی ڈی پی یہ سب اندر سے ایک ہیں ان کے بیانات صرف وقت حاصل کرنے اور مجرموں کو تحفظ دینے کیلئے ہوتے ہیں ۔ جموں اور کٹھوعہ میں آ ر ایس ایس کے غنڈے مجرموں کے حق میں جلوس نکال رہے ہیں ۔پی ڈ ی پی اور بی جے پی کی حکومت بھی ان کے ساتھ ہے ۔کٹھوعہ کے مقامی گجر لیڈر بھر پور احتجاج کرتے ہوئے کہ ریاستی حکومت کی بے حسی پر احتجاج کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ ''بھارتی فوجی اور سرکاری اہلکاروں سے ہم نے فوراًرپورٹ کی لیکن انہوں نے وقت ضائع کیا اور مجرموں کو تلاش کرنے کی بجائے 'ہم کارروائی کر رہے ہیں کہہ کر چلے جاتے مقامی ایس ایچ اور اور تفتیشی افسران کے مجرموں کو تحفظ دینے اور انہیں برطرف کرکے ان کے خلاف کاروائی کرنے کا مطالبہ بھی کیا ۔'' قابض بھارتیوں اور کٹھ پتلی محبوبہ کے کردار کے بارے میں بیان کرتے ہوئے سابق وزیر اعلیٰ عمر فاروق کہتے ہیں ؛'' ریاستی سرکار معصوم آصمہ کے غریب خاندان کو انصاف دلانے کی بجائے مجرموں کو تحفظ کررہی ہے ۔ اسے چاہیے کہ وہ مظلوم کشمیریوں کے خلاف آئے دن ہونے والے انسانیت سوز واقعات کے مجرموں کو عبرتناک سزا دلوائے ۔تاکہ آئندہ کسی کو ایسا کرنے کی جراء ت نہ ہو۔ وہ کہتے ہیں ۔اگر مظلوم خاندان کو انصاف نہ ملا توریاستی حکومت نتائج کی خود ذمہ دار ہوگی ۔'' پوری قوم معصوم عاصمہ شہید کے ساتھ ہونے والے انسانیت سوز ظلم پر سراپا ئے احتجاج ہے ۔ماسوائے بھارتی ایجنٹوں کے ۔ کشمیر کی بیٹی سے ہونے والی گھناونی زیادتی پر میر واعظ عمر فاروق اپنے دکھ کا اظہار ان الفاظ میں کرتے ہیں :'' پوری وادی کشمیر میں بھارتی فوجی درندے اور خفیہ ایجنسیوں کے اہلکار ایک ناپاک منصوبے کے تحت کشمیر یوںکی مائوں ،بہنوں گجروں کے گھروں اور مقامی جھونپڑوں کو سرکاری اہلکار آگ لگا کر ان کی خوراک اور اناج بھی جلا دیا جاتا ہے ۔ انہیں جگہ خالی کرنے کی دھمکیاں دی جاتی ہیں ۔ اس ریاستی دہشتگردی پر مقامی گجر رہنما احتجاج کرتے ہوئے کہتے ہیں ۔

مقامی گجر رہنما ' قابض بھارتی اپنی تربیت اور پرورش کے لحاظ سے اخلاقیات،مذہب اور بنیادی انسانی حقوق نامی کسی چیز کے وجود سے ناواقف ہیں ۔ یہی وجہ ہے کہ ، مقبوضہ کشمیر پر اپنا ناجائزاور غیر قانونی قبضہ برقرا ر رکھنے کیلئے وہ انسانیت اور کشمیریت کی تذلیل کیلئے کسی بھی حد تک گرسکتے ہیں ۔جس کا مظاہرہ وہ کشمیر کی مائوں ،بہنوں اور بیٹیوں کی عصمت دری کرکے کررہے ہیں ۔ آصمہ اُن کے ظلم کا ناقابل تردید ثبوت ہے ۔ اسی لئے کشمیری قوم اپنی نسلوں کو بقاء اور آزادی کیلئے جوانمردی سے قربانیاں دیتے ہوئے بھارت سے آزادی کی جدوجہد کررہی ہے ۔ منزل مشکل ضرور ہے ناممکن نہیں ، فتح ان کا مقدر ہے ،انشااللہ


اس خبر کے بارے میں اپنی رائے دیجئے
پسند آئی
 
ٹھیک ہے
 
کوئی رائے نہیں
 
پسند ںہیں آئی
 


 سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں





  اوصاف سپیشل

آج کا مکمل اخبار پڑھیں

     
     
تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ روزنامہ اوصاف محفوظ ہیں۔
Copyright © 2016 Daily Ausaf. All Rights Reserved