ملک اور سیاست!
  13  مارچ‬‮  2018     |     کالمز   |  مزید کالمز

جنرل الیکشن میں دو اڑھائی ماہ رہ گئے ہیں اور ملک میں یہ افواہیں عام گردش کر رہی ہیں کہ الیکشن وقت پر نہیں ہونگے۔جب یہ سوال کیا جائے کہ انتخابات زیادہ سے زیادہ کتنے لیٹ ہو سکتے ہیں تو مختلف پارٹیاں اپنے دلوں کو تسلی دینے کے لئے سالوں کا حساب بتا دیتے ہیں لیکن جہاں تک میرا ذاتی خیال ہے کہ یہ حکومت اپنا وقت پورا کرے گی اس کے بعد تین چار ماہ کے لئے عبوری حکومت آئے گی اور اکتوبر یا نومبر میں قومی الیکشن ہر صورت ہو جائیں گے۔دو ہفتے پہلے سینیٹ کے الیکشن ہوئے ہیں ان الیکشنوںمیں جتنی بے عزتی اور سبکی پاکستان کو برداشت کرنی پڑی ہے اس سے پہلے اس کی مثال کہیں نہیں ملتی۔ قومی اسمبلی میں ہارس ٹریڈنگ کا نام خاص عبدالولی خان نے ایجاد کیا تھا ۔ وہ کہا کرتے تھے کہ اسمبلی میں بکاؤ گھوڑے بھی موجود ہیں اور خریدار بھی موجود ہیں اور یہ ضروری نہیں ہے کہ وہ خریدار پاکستانی ہی ہو۔پاکستانی صرف مہرہ ہو سکتے ہیں ۔ممبران ِ اسمبلی خریدنے کے لئے پیسے وہ ممالک بھی اربوں کھربوں روپے دے سکتے ہیں جن کے مفادات پاکستان سے وابستہ ہوں اور وہ ملک بھی پیسہ دے سکتے ہیں یا پاکستان میں ترقیاتی کاموں میں رکاوٹ ڈالنا چاہتے ہیں ۔یہ حقیقت ہے کہ اس وقت پاکستان میں پاک چین اشتراک سے سی پیک کی تعمیر دنیا بھر کو چبھتی ہے۔اس کام میں رکاوٹ ڈالنے کے لئے دنیا کی بڑی بڑی طاقتوں نے مسلسل کوششیں کیں لیکن نہ تو وہ پاک چین دوستی میں کوئی دراڑیں ڈال سکے اور نہ ہی پاک چین کے مشترکہ منصوبوں میں کوئی کمی کرا سکے۔اس لئے وہ ملک بھی پیسہ دے سکتے ہیں جو پاک چین میگا منصوبوں کو روک لینے کی کوششیں کر رہے ہیں اور وہ ممالک کسی سے ڈھکے چھپے نہیں ہیں ۔ صف اول پر ہندوستان ہے جو بلوچستان میں علیحدگی پسند تنظیموں کو بے دریغ پیسہ دے رہا ہے یا روزِ اول سے دیتا رہا ہے اور پھر ہندوستان کے علاوہ وہ ممالک بھی ممبرانِ اسمبلی میں پیسہ تقسیم کر سکتے ہیں جو یہ چاہتے ہوں کہ چین کی بجائے پاکستان میں تمام میگا منصوبوں کے کنٹریکٹ انہیں دئیے اور منہ مانگے داموں کنٹریکٹ حاصل کر کے پاکستان سے سار ا پیسہ اپنے ملک لے جائیں ۔ ان ممالک کے ممبرانِ اسمبلی کو خریدنے اور اپنی مرضی کا وزیراعظم بنوانے یا چیئر مین سینیٹ بنوانے کے پانچ دس ارب روپے لگا دینا کوئی بڑی بات نہیں ۔ اس لئے سینیٹ کے الیکشن میں ممبرانِ اسمبلی کی خرید و فروخت میں تمام پہلوؤں پر نظر رکھی جائے۔ یہ سب جھوٹ اور فراڈ ہے کہ عمران اور زرداری بلوچستان سے احساسِ ذمہ داری دور کرنے کے لئے بلوچستان بھاگ رہے ہیں جبکہ حقیقت یہ ہے کہ بلوچستان میں سب سے زیادہ محرومی ہی پیپلز پارٹی کے دور میں پھیلی تھی۔راقم تو پورا بلوچستان گھومتا رہا ۔ کہیں بھی پیپلز پارٹی سے محبت کرنے والے لوگ نہیں ملے اور نہ ہی کہیں پیپلز پارٹی کا جھنڈا نظر آیا۔ہاں جب یہ لکھاری ایران کے بارڈر پر براستہ نوشکی دالبندین سفر کر رہا تھا تو ایرانی بارڈر سے کچھ پہلے عین سڑک پر سابق وزیر سردار محمد عمر گوریج کے گھر کے پاس چند پیپلز پارٹی کے جھنڈے نظر آئے۔پاکستان تحریکِ انصاف کا تو نام و نشان ہی نہیں تھا ۔ اب یہ دونوں رہنماء بلوچستان کی احساسِ محرومی دور کرنے کے لئے بلوچستان کی طرف بھاگ رہے ہیں ۔یہ کیوں ایسا کر رہے ہیں ؟ کس کے اشاے پر ان کے دلوں میں بلوچستان کی محبت جاگ اٹھی ہے۔یہ قابلِ سوچ بات ہے ۔ بلوچستان والوں کو سب سے زیادہ مایوسی ''ن'' لیگ کی حکومت میں نواب ثناء اللہ زہری سے ہوئی۔ وہ ایک مخصوص انداز کے نواب یا سردار ہیں ۔ نہ کسی سے ملے نہ کسی علاقے میں ترقیاتی منصوبوں پر کوئی توجہ دی۔میں ذاتی طور پر بلوچستان کے مختلف علاقوں کے چکر لگا کر بلوچستانیوں کی محرومیوں سے انہیں آگاہ کرتا ۔ قومی اخبارات میں کالم لکھ کر بھی پوری بلوچستان کابینہ کی توجہ حاصل کرنے کی کوشش کرتا رہالیکن شاید نواب صاحب اس خوش فہمی میں رہے کہ اگلی حکومت بھی میری ہو گی لیکن پتہ اس وقت چلا جب اقتدار کی کرسی ان کے نیچے سے کھسکنے لگی۔بحرحال یہ جو کچھ بھی ہوا اچھا نہیں ہوااور پھر سینیٹ کے الیکشن میں خریدو فروخت ہوئی ۔یہ نہ ملک کے لئے بہتر تھی ، نہ مذہب اس دوغلے پن کی اجازت دیتا ہے اور نہ ہی باعزت سیاست کے لئے کوئی اچھا شگون ہے۔اس بین الاقوامی سطح پر پاکستان کی بہت بے عزتی ہوئی۔عمران خان جو آج تک آصف زرداری کو پاکستان کا سب سے بڑا ڈکیت کہتے رہے ہیں اب نواز شریف کی مخالفت میں اپنے سینیٹ کے ووٹ ان کی گود میں ڈال آئے ۔کہاں گئے لوگوں کے نظریات اور کہاں گئی نظریاتی سیاست؟ ایک بات ذہن نشین کر لینی چاہیئے کہ مفاد پرستوں کو جہاں بھی چمک نظر آئی وہیں ان کے نظریات دفن ہو گئے۔

''ن'' لیگ نے رابطوں کے لئے مشاہد حسین کا چناؤ کیا ہے کہ وہ دوسری پارٹیوں کے نمائندوں اور ووٹروں سے مذاکرات کریں گے لیکن بدقسمتی سے ان کا سابقہ ریکارڈ بھی یہ بتاتا ہے کہ وہ جن بھی مذاکرات میں شامل ہوئے ہیں وہ آج تک نہ صرف ناکام ہوئے بلکہ ان کا اختتام قتل و غارت پر ہوا۔عبدالرشید غازی کے ساتھ بھی مشاہد حسین اور چوہدری شجاعت حسین مذاکرات کرتے رہے ، اس کا انجام کیا ہوا پھر اکبر بگٹی کے ساتھ بھی مذاکرات مشاہد حسین سید اور چوہدری شجاعت حسین نے کئے تھے ان کا انجام کیا ہوا۔بلوچستان میں اس وقت لگی ہوئی آگ کے شعلے اب تک نظر آ رہے ہیں ۔مسلم لیگ ''ن'' کی قیادت کو مشورہ ہے بہتر چناؤ کریں ۔


اس خبر کے بارے میں اپنی رائے دیجئے
پسند آئی
 
ٹھیک ہے
 
کوئی رائے نہیں
 
پسند ںہیں آئی
 


 سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں





  اوصاف سپیشل

آج کا مکمل اخبار پڑھیں

     
     
تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ روزنامہ اوصاف محفوظ ہیں۔
Copyright © 2016 Daily Ausaf. All Rights Reserved