حکائتیں بھی شکائتیں بھی
  13  مارچ‬‮  2018     |     کالمز   |  مزید کالمز

کہتے ہیں ایک گائوں میں ایک غریب سا آدمی رہا کرتا تھا۔ غریب آدمی ، کچا مکان، روکھا سوکھا کھانا، سارا دن محنت۔۔۔ لیکن ایک بات بڑی عجیب تھی کہ وہ روز رات کو کھانا بانٹا کرتا تھا۔ صلائے عام تھی جو آتا ، کبھی خالی نہ جاتا۔گھر گھر اس کی سخاوت کے چرچے تھے۔ لوگ حیران ہوتے تھے کہ ہے تو یہ غریب سا آدمی، اتنا مال اس کے پاس کہاں سے آیا ہے کہ روزانہ اتنے سوالیوں میںطرح طرح کے کھانے بانٹتا ہے۔اس کے پڑوس میں ایک میراثی بھی رہتا تھا۔ اگرچہ یہ میراثی بھی روز رات کو کھانا ، غریب آدمی کے گھر سے ہی لے کر آ تا تھا لیکن اس کے دل میں حسد کی ایک آگ سی جل رہی تھی کہ یہ معمولی سا، اُس جیسا غریب آدمی ، اپنی دریا دلی کی وجہ سے ، کیسے ،پورے گائوں کی توجہ کا مرکز بنتا جا رہا ہے۔ میراثی نے اپنے دل میں ٹھان لی کہ اس دریا دلی کے پیچھے راز جان کر رہے گا۔ اس ارادے کے ساتھ ، اس نے غریب آدمی سے دوستی گانٹھ لی۔ جب معاملہ راز و نیاز کی باتوں تک پہنچ گیا تو ایک دن ، بڑی رازداری کے ساتھ اس نے پوچھ ہی لیا کہ تم میری طرح ہی غریب اور محنت کش ہو پھر اتنا کھانا تمہارے پاس کیسے آ جاتا ہے کہ تم بانٹتے پھرتے ہو۔ غریب آدمی نے رازداری کی قسم دے کر، میراثی کو بتایا کہ دراصل ایک عمر، وہ علی الصبح، تہجد اور پھر فجر کی نماز پڑھ کر ، سورج طلوع ہونے تک اﷲکے ذکر میں مشغول رہتا تھا۔ پھر کیا ہوا کہ ایک رات ،ایک بزرگ اس کے خواب میں آئے اور پوچھنے لگے کہ تمہاری کوئی خاص آرزو یاخواہش ہو تو بتائو۔ میں نے کہا کہ میری دلی آرزو ہے کہ میرے پاس ایک دیگ ہو ، جو ہر وقت کھانوں سے بھری رہے اور میں وہ کھانے اپنے جیسے غریبوں اور مسکینوں میں بانٹتا رہوں۔ صبح جب آنکھ کھلی تو کھانوں سے بھری دیگ میرے صحن میں پڑی تھی ۔ یہ بات سن کر میراثی نے بھی دن رات عبادت شروع کر دی۔ کرنا خدا کا کیا ہوا کہ ایک دن وہی بزرگ میراثی کے خواب میں بھی آگئے اور اس سے اس کی دلی آرزو کے بارے میںدریافت کیا۔ میراثی تو اسی انتظار میں تھا ، کہنے لگا بزرگو!میرے دل میں بس ایک تمنا ہی ڈیرے ڈالے ہوئے ہے کہ مجھے کوئی دیگ ملے یا نہ ملے، میرے پڑوسی کے پاس یہ دیگ نہ رہے جس نے میرے دن کا سکون اور رات کا چین چھین لیا ہے۔ماشائﷲ! اپنے نیازی صاحب کا عالم بھی کچھ ایسا ہی ہے کہ ان کے دن کا سکون اور رات کا چین، نواز شریف کے اقتدار نے برباد کرکے رکھ دیا ہے۔ جس انداز سے وہ بلوچستان میں جا کر اپنے سارے سینیٹرز، وہاں کے وزیرِ اعلیٰ کے سپرد کر آئے ہیں اور وہ انہیں زرداری صاحب کو forward کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں، خواہش ان کی بھی یہی لگتی ہے کہ انہیں اقتدار کی دیگ ملے یا نہ ملے، کم از کم نواز شریف کے ہاتھ سے ضرور نکل جائے۔ اب ذرا کہانی ایک دیہاتی کی کہ جس نے مولوی صاحب کی زبانی یہ سنا کہ شبِ قدر کی رات وہ مبارک رات ہے کہ اس کے اندر ایک لمحہ ایسا بھی آتا ہے کہ انسان جو خواہش کرے وہ پوری ہو جاتی ہے۔ دیہاتی یہ سن کر بڑا خوش ہوا۔ رمضان کا مہینہ آ گیا ۔ستائیسویں شب کو ، کہ اسے بتایا گیا تھا کہ زیادہ امکان اسی رات کا ہے، اپنا سہاگہ لے کر کھڑا ہو گیا اور دعا کرنے لگا' یا اﷲ!اسے سونے کا بنا دے'،' یااﷲ! اسے سونے کا بنا دے'۔ ساری رات دعائوں اور آہ و زاری میں گزر گئی۔ کبھی سہاگے کو دیکھتا، کبھی آسمان کی طرف۔ پھر بار بار غور سے سہاگے کو دیکھتا کہ لکڑی کا ہی ہے یا سونے کا بن چکا ہے۔ رات ڈھلنے لگی، سہاگہ سونے کا نہیں ہوا۔ جوں جوں صبح صادق قریب آرہی تھی، اس کا اضطراب بڑھتا جا رہا تھا۔ صبح جب بالکل قریب آ گئی اور اس نے سمجھا کہ سہاگہ اب سونے کا ہونے والا نہیں ہے تو جھنجھلا کر بولا' یا اﷲ! اگر سونے کا نہیں ہوتا تو لوہے کا ہی بنا دے'۔ اس کے منہ سے یہ الفاظ نکلنے تھے کہ سہاگہ لوہے کا بن گیا۔ کتنی ہی دفعہ ہم ، ایک عمر صبر کرنے کے بعد عین اس وقت صبر کا دامن ہاتھ سے چھوڑ دیتے ہیں،جب دعائوں کی قبولیت کا وقت آیا ہی چاہتا ہے۔ کچھ ایسی ہی صورت اپنے نیازی صاحب کی ہے کہ اقتدار کے سونے کی آرزو میں، شادیوں سے لے کر، مزاروں اور پیروں سے ہوتے ہوئے، ایمپائروں کی انگلیوں تک، انہوں نے جانے کیسے کیسے پاپڑ بیلے ہیںلیکن اب یوں معلوم ہوتا ہے کہ desparateہو کر زرداری صاحب کی چوکھٹ پر جانے اور ان کی ماتحتی قبول کرنے پر آمادہ نظر آتے ہیں۔

اور اب سنیے اس شخص کی جس کے دل میں یہ آئی کہ اگر دو چار جنّوں کو اپنے قابو میں کر لے تو کیا ہی مزہ بن جائے گا کہ اِدھر ایک حکم دیا اور اُدھر وہ حکم پورا ہو گیا۔ ایک جوگی کی دن رات خدمت کرکے، جنوں کو قابو کرنے کا نسخہ لیا اور بیٹھ گیا چِلّے پر ، دو چار جنّوں کو اپنے بس میں کرنے کے لئے۔ چلّہ کافی سخت تھا۔ روز رات کو دائرہ لگا کر، آلتی پالتی مار کر بیٹھ جاتا، آنکھیں بند کر لیتااور جھوم جھوم کر ، جوگی کے بتائے ہوئے کلام کا وِرد شروع کر دیتا۔ پو پھٹنے تک یوں ہی لگا رہتا۔ ایک دن، دو دن، تین دن۔۔۔دن گزرتے گئے۔ چلّہ چالیس دن کا تھا لیکن اسے یو ںمحسوس ہو رہا تھا کہ جیسے وہ ساری عمر یہی کام کرتا رہا ہے۔ چلّہ تھا کہ ختم ہونے کا نام ہی نہیں لے رہا تھا۔ ایک فکر اسے اپنی بیوی کی بھی تھی کہ یہ سارا کام اس سے چوری چوری ہو رہا تھا۔ خدشہ اسے یہ بھی تھا کہ بیوی کو پتہ چل گیا تو سارا چلّہ دھرے کا دھرا رہ جائے گا۔ خیر!دن بیتتے گئے۔ چلّے کی چالیسویں رات تھی۔ آنکھیں بند تھیں،دل جنّوں کی تابع فرمانی کا سوچ سوچ کر جھوم رہا تھا۔ذہن میں خواہشوں کا ایک طوفان سا مچل رہا تھاکہ کون سے جن سے کیا کیا کام لینے ہیں۔ پہلے کیا حکم دینا ہے اور بعد میں کون سا۔ کبھی خیال آتا کہ پہلے ایک محل بنوائوں، پھر سوچتا نہیں،پہلے ملک کا وزیرِ اعظم بننا ٹھیک رہے گا، پھر خیال آتا پہلے اپنی کھوئی ہوئی جوانی کو آواز دینا زیادہ مناسب ہو گا۔


اس خبر کے بارے میں اپنی رائے دیجئے
پسند آئی
 
ٹھیک ہے
 
کوئی رائے نہیں
 
پسند ںہیں آئی
 


 سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں





  اوصاف سپیشل

آج کا مکمل اخبار پڑھیں

     
     
تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ روزنامہ اوصاف محفوظ ہیں۔
Copyright © 2016 Daily Ausaf. All Rights Reserved