خطے میںجنگ کاامریکی پلان
  13  مارچ‬‮  2018     |     کالمز   |  مزید کالمز

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ٨١٠٢ء کے اپنے پہلے ٹویٹ میں پوری شدت اور تیقن سے پاکستان کے متعلق اپنے عزائم کا اظہار کچھ اس طرح کیا کہ غیر ملکیوں نے امریکا کو محض اپنے مفادات اور تفریح طبع کے طور پر لے لیاہے۔ہم نے پاکستان کو گذشتہ ٥١سالوں میں ٣٣بلین ڈالر سے زیادہ امداد فراہم کی، لیکن اس کا صلہ اس نے ہمیں جھوٹ اور بے وفائی کے سوا کچھ نہیں دیا۔ ہم جن دہشت گردوں کے خلاف افغانستان میں برسرپیکار ہیں، پاکستان انہیں محفوظ پناہ گاہیں فراہم کر رہاہے۔ لیکن ایسا اب نہیں چلے گا۔ مورخہ جنوری کوامریکا نے اعلان کیا کہ اگرپاکستان نے طالبان اور افغانستان کے دیگر دہشت گردوں کو اپنی سرحدوں سے نکال باہر کرنے کی سنجیدہ کوشش نہیں کی تو امریکا اپنی دفاعی امداد معطل کردے گا۔ امریکن اسٹیٹ ڈپارٹمنٹ کے مطابق اس طرح پاکستان کو تقریبا ً٢بلین ڈالر کی امداد سے محروم ہونا پڑے گا۔ یہ دراصل ان اقدامات کا تسلسل ہے جس کے ذریعہ امریکا پاکستان کی دفاعی پالیسیوں پر اثر انداز ہونے اور پاکستانی جرنیلوں کے رویے میں تبدیلی لانے کی کوشش کر رہا ہے۔ اس سے پہلے براک اوباما کی انتظامیہ نے بھی انہی بنیادوں پر پاکستان کی امداد کو کئی بار معطل کیا تھا۔ اوباما انتظامیہ نے ١١٠٢ء میں ٠٠٨ملین اور ٦١٠٢ء میں ٠٠٣ملین امداد کو معطل کردیا تھا۔ اسی سال کانگریس نے بھی پاکستان کو ایف سولہ طیاروں کی فروخت پر پابندی عائد کردی تھی، لیکن ان اقدامات کا پاکستان کے رویے پرکوئی اثر نہیں پڑا۔ پاکستان نے حالیہ آپریشن ضرب العضب اور ردالفسادمیں لازوال قربانیاں دیکر انتہائی مشکل پہاڑی علاقوں میں امریکااوربھارت کی مددسے بیٹھے ہوئے دہشت گردوں کی تمام پناہ گاہوں کوتباہ وبربادکرچکاہے اوراب باقی ماندہ دہشتگرد افغانستان میں پناہ لئے ہوئے ہیں جوگاہے بگاہے بھارتی راکی مددسے پاکستان میں دہشتگرد کاروائیوں میں ملوث ہیں۔ پاکستان کی ان کے خلاف بھرپورکارروائی کے نتیجے میں پیدا ہونے والی صورتحال اورردعمل سے اب علاقے میں امن و امان قائم ہے کیونکہ سے اب تک ہزاروں پاکستانی فوجی اورہزاروںعام شہری ان دہشتگردوں کے ہاتھوں جاں بحق ہوچکے ہیں۔ دراصل بھارت امریکا اوراس کے اتحادیوں کے سامنے یہ فریادکررہاہے کہ پاکستان ان جہادیوں کو ہمارے خلاف استعمال کرنا چاہتا ہے، اس کا خیال ہے کہ مغربی افواج جلد افغانستان سے نکل جائیں گی، لہذا پاکستان ان دہشت گردوں کو پراکسی وار میں استعمال کر سکتا ہے۔ درحقیقت بھارت، افغانستان میں امریکاکے ایک اہم حلیف کے طورپرسامنے آنے کی کوشش میں مگن ہے لیکن پاکستان کئی مرتبہ عالمی فورمزکوٹھوس شواہدفراہم کرچکاہے کہ بھارت پاکستان کے دشمنوں کی بھرپورمالی اعانت اور افغانستان کو محفوظ پناہ گاہ کے طور پر استعمال کررہاہے لیکن پاکستانی فوج نے اب تک اس کے تمام ارادوں کوبری طرح ناکام کیاہے۔ امریکا کے اس طرح کے اقدامات اور حالیہ پابندیوں سے حوصلہ افزا نتائج ملنے کے امکانات کم ہیںکیونکہ پاکستانی حکومت اورافواج کے پیش نظر اس وقت ان کے داخلی مسائل ہیں ، انہیں امریکا کی ناراضی اور خفگی کی قطعا ًپروا نہیں۔ پاکستان بخوبی جانتا ہے کہ اس کے پاس یہ راستہ موجود ہے کہ وہ ان پابندیوں کے جواب میں ان راستوں کو مسدود کردے جن سے امریکی فوجیوں کے لیے رسد گزرتی ہے، یہی وجہ ہے سے اب تک امریکا پاکستان پر اپنے مرضی کے فیصلے صحیح طور مسلط نہیں کر سکا ہے۔ اگرچہ امریکا نے ١١٠٢ء میں پاکستان کو ٥٠٣ بلین ڈالرکی جوادائیگی کی تھی وہ دراصل راہداری کاوہ نامکمل معاوضہ تھاجس کواب امریکا امداد کانام دے رہاہے جبکہ امریکاکوافغانستان میں حالیہ ہزیمت اوربدترین شکست کیاملبہ پاکستان پرڈال کراپنے ایجنڈے کی تکمیل چاہتاہے کہ کسی طرح پاک چین کے اقتصادی راہداری کے منصوبے کوناکام کیاجاسکے کیونکہ امریکاسمجھتاہے کہ یہ منصوبہ جہاں امریکاکواس خطے میں دیس نکالامل جائے گابلکہ عالمی سطح پربھی چین معاشی طورپراس قدرمضبوط ہوجائے گاکہ امریکا سمیت اس کے اتحادی بھی معاشی میدان میں چین کامقابلہ نہ کرپائیں گے۔ امریکااوربھارت مسلسل یہ پروپیگنڈہ کررہے ہیں کہ چین پاکستان کی بندرگاہ گوادر کے قریب نیول بیس قائم کرنے کی منصوبہ بندی کر رہا ہے جس کیلئے اس نے پچھلے سال چالیس سال کی لیز پر پاکستان سے زمین حاصل کی ہے جبکہ چین اور پاکستان دونوں نے اس خبر کی پرزور تردید کی ہے۔ یاد رہے گوادر پورٹ ٧٥بلین ڈالر پر مشتمل چین پاکستان راہداری منصوبے کا حصہ ہے، اس منصوبے کے ذریعے چین اپنے مغربی علاقے کو بحیرہ ٔعرب سے ملانا چاہتا ہے اورابھی حال ہی میں چین نے بیجنگ میں منعقدہ ٤١/٥١مئی کودوروز کانفرنس ،جس میں ٥٦ ممالک کے٠٠٥١ نمائندوں نے شرکت کی جس میں ٩٢ممالک کے سربراہوں بشمول روسی صدر پیوٹن، سابقہ پاکستانی وزیراعظم نوازشریف اورمیانمار کے آنگ سان سو کی موجودگی میں ٠٠٩بلین ڈالر لاگت پرمشتمل ایک عظیم الشان'' ون روڈون بیلٹ''منصوبے کابھی اعلان کیاہے جس سے چین کے مستقبل کے معاشی استحکام کاپتہ چلتاہے اوریہ منصوبہ بھی پاک چین اقتصادی راہداری سے جڑاہواہے۔یہ منصوبہ چین کوجہاں سنٹرل ایشیا،مشرقِ وسطیٰ سے براہ راست ملادے گاوہاں مغربی ممالک کے ساتھ بھی معاشی تجارت میں کئی گنااضافہ ہوجائے گا۔ دوسری طرف روس نے اقوام عالم کو متنبہ کیاہے کہ امریکی فوج کی موجودگی میںشمالی افغانستان بین الاقوامی دہشتگردی کامرکزبن چکاہے ۔ایران نیوکلیئر ڈیل امریکاکی دستبرداری کے نتیجے میں ختم ہوجائے گی۔واضح رہے کہ ابھی تک امریکا نے ڈیل ختم نہیں کی بلکہ اس میں موجودہ خامیوں کودورکرنے کی بات کی ہے۔ دریں اثناء روس اورچین نے نئی امریکی دفاعی حکمت عملی کی شدیدمذمت کی ہے جس میں روس اورچین کی مسابقتی قوتوں کوامریکی قومی سلامتی کیلئے خطرہ قراردیاگیا ہے۔ چین کی وزارت خارجہ کے ترجمان کاکہناہے کہ چین عالمی پارٹنرشپ کا خواہاں ہے اور اس کے عالمی بالادستی کے عزائم نہیں ۔ چینی ترجمان نے اپنے بیان میں کہاہے کہ اگرامریکاسمیت بعض ممالک سردجنگ اور زیروگیم مائنڈ سیٹ سے دنیاکے مستقبل کودیکھ رہے ہیں توپھرمحاذآرائی اورتنازعہ ہی ان کا مقدر ہوں گے ۔ امریکااوراسرائیل کی پالیسیوں سے صاف نظر آرہاہے کہ وہ اب بھارت کوآگ میں جھونکنے کی کوشش کررہے ہیں۔پہلے امریکیوں نے کوشش کی کہ بھارت چین کے ساتھ لڑے ، چینی سرحدپراسلحہ بھی پہنچادیا گیالیکن بعدازاں بھارت چینی فوج کی تیاری دیکھ کرڈرگیا۔ بھارت کے انکارکے بعدامریکااور اسرائیل نے بھارت پر یہ دباؤڈالناشروع کر دیا اگرچین نہیں تو پاکستان پرحملہ کرو،امریکا اور اسرائیل درحقیقت پاکستان کی ایٹمی قوت اوراس کے جوہری پروگرام بالخصوص میزائل ٹیکنالوجی کاخاتمہ چاہتاہے کیونکہ پاکستان اپنے حالیہ میزائل تجربوں سے اپنی قوت کااظہار کرچکا ہے۔بھارت کاخوف دور کرنے کیلئے بھی امریکااور اسرائیل نے افغانستان کوبھی پاکستان مخالف حملہ میں ملوث کیاہے اوراس مقصدکیلئے ''را''اور''این ڈی ایس''کے روابط کوبڑھا کریہ طے کیاگیاہے کہ جونہی بھارت پاکستان پرحملہ کرے تودوسری طرف سے افغانستان بھی پاکستان پرحملہ کردے۔

یہی وجہ ہے کہ اب امریکاکویہ پتہ چل گیاہے کہ اس کی تمام تر کوششوں اور اقدامات کا پاکستان پر اثر ہوتا نظر نہیں آرہا جس کے بعداس نے بھارت ،اسرائیل اوراپنے اتحادیوں کے تعاون سے پاکستان پردباؤ بڑھانے کیلئے ٠٢فروری کو''ایف اے ٹی ایف''فنانشل ایکشن ٹاسک فورس کے فورم میں پاکستان کو دہشتگردوں کی مالی امداددینے اوران کی آماجگاہ کا الزام لگاکر عالمی اقتصادی پابندیوں میں جکڑنے کا نیاپلان ترتیب دیا تھاجو فی الحال کامیاب تو نہیں ہوسکالیکن اگلے تین ماہ کیلئے سرپرتلوارلٹکادی گئی ہے۔امریکااپنے اتحادیوں کے ساتھ اپنے پلان پرکام کررہاہے جس کیلئے بھارت کوآگاہ کردیاگیاہے کہ اگراس نے پاکستان پرحملہ کرنے کی حماقت کی تواس جنگ کااختتام پاکستان کے ہاتھوں ہوگا۔


اس خبر کے بارے میں اپنی رائے دیجئے
پسند آئی
 
ٹھیک ہے
 
کوئی رائے نہیں
 
پسند ںہیں آئی
 


 سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں





  اوصاف سپیشل

آج کا مکمل اخبار پڑھیں

     
     
تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ روزنامہ اوصاف محفوظ ہیں۔
Copyright © 2016 Daily Ausaf. All Rights Reserved