منہ کالے اور جوتا ماری
  13  مارچ‬‮  2018     |     کالمز   |  مزید کالمز

امریکہ برانڈ سیاست دانوں کے منہ کالے کئے جارہے ہیں … انہیں ''جوتے'' مارے جارہے ہیں' جامعہ نعیمیہ کے مہتمم راغب نعیمی کہتے ہیں کہ ''نواز شریف پر جوتا پھینکنا سازش ہے وزیر مملکت اطلاعات مریم اورنگزیب کہتی ہیں کہ'' نواز شریف پر جوتا منصوبہ بندی کے تحت پھینکا گیاکئی سیاست دانوں نے ایک طرح کی بات کرتے ہوئے کہا ہے کہ نواز شریف پر جوتا پھینکنا اور خواجہ آصف کے چہرے پر سیاہی پھینکا غیر اخلاقی عمل ہے۔'' خواجہ آصف کے منہ پر سیاہی پھینکنے والے نوجوان فیاض الرسول کا بیان اخبارات کی زینت بنا ہے جس کے مطابق فیاض الرسول نے خواجہ آصف کے منہ پر سیاہی پھینکنے کے واقعے کو اپنے لئے شہادت قرار دیتے ہوئے کہا کہ''وہ مسلم لیگ ن کا ووٹر ہے … وقوعہ والے دن ظہر کی نمازپڑھ کر اس نے فیکٹری جانا تھا… لیکن کوئی چیز اسے کھینچ کر ورکرز کنونشن میں لے آئی' اس نے سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ حکمرانوں نے ختم نبوتۖ پر حملہ کیوں کیا تھا؟ فیاض الرسول نے کہا کہ مجھے آج پھانسی بھی لگا دیں تب بھی کوئی فرق نہیں پڑے گا۔'' جس نوجوان نے نواز شریف کو جوتا مارا… وہ ''جوتا'' مارنے کے بعد بھاگا نہیں ' بلکہ سینہ تان پر لیبک' لبیک کے جوشیلے نعرے بلند کرتا رہا … اب مولانا راغب نعیمی کے کہنے کے مطابق یہ اگر سازش تھی … تو کس نے کی؟ بالفرض و المحال سیاست دانوں کو پڑنے والے جوتوں کے خلاف راتوں رات پارلیمنٹ کے ذریعے قانون سازی بھی کرلی جائے' نواز شریف پر جوتا پھینکنے والے اور خواجہ آصف کا منہ کالا کرنے والوں کو لاہور اور سیالکوٹ کے چوکوں پر پھانسی گھاٹ بناکر لاکھوں عوام کے سامنے پھانسیاں بھی دے دی جائیں … تو کیا مولانا راغب نعیمی سمیت دیگر علمی ستارے اور سیاست دان اس بات کی گارنٹی دیں گے کہ اس کے بعد کوئی سر پھرا سیاست دانوں پر جوتے نہیں اچھالے گااور ان کے چہرے کالے نہیں کرے گا؟ اسلامی نظریاتی کونسل کے نومنتخب رکن حضرت راغب نعیمی اس سوال کا جواب بھی عنایت فرما دیں کہ نواز شریف پر جوتا پھینکنا اور پارلیمنٹ میں ختم نبوتۖ کے قانون پر ڈاکہ ڈالنے کی کوششیں کرنا … ان دونوں میں سے زیادہ بڑی سازش کون سی ہے؟ غازی ملک ممتاز قادری کو آناً فاناً پھانسی پر لٹکا کر میڈیا کو ان کے جنازے کی کوریج سے روک دینا اور توہین رسالتۖ کی مجرمہ ملعونہ آسیہ مسیح کی پھانسی پر عملدرآمد نہ کرنا … کیا اس میں بھی کسی سازش یا سازشی کا ہاتھ ہے؟ جو سیاست دان فرما رہے ہیں کہ جوتے مارنا ''غیر اخلاقی عمل'' ہے… ان سے گزارش ہے کہ وہ ذرا قوم کو سمجھائیں کہ ان غیر اخلاقی حرکات کو پروان چڑھانے میں کس کا ہاتھ ہے؟ وہ کون تھا کہ جو ہزاروں کے اجتماعات میں پیٹ پھاڑ کر لوٹی ہوئی دولت برآمد کرنے کے ''اخلاقی'' دعوے کیا کرتا تھا؟ وہ کون تھاکہ جو گردن سے پکڑ کر وزیراعظم ہائوس سے نکال باہر کرنے کی بڑھکیں مارا کرتا تھا؟ کیا سپریم کورٹ کے ججوں کو عوامی جلسوں میں للکارانا ''اخلاقیات'' کے مطابق ہے؟ کیا عوامی جلسوں میں ترازو لہرا کر عدالتوں پر طنز کرنا اخلاقیات کے اصولوں کے مطابق ہے؟ کیا عدلیہ کے ججوں کا جلسوں کے اندر استہزاء اڑانا ''اخلاق'' ہے؟ دوسروں کو بھاشن دینے سے پہلے ہر ایک کو اپنی اپنی چارپائی کے نیچے ڈانگ ضرور پھیر لینی چاہیے۔ اس خاکسار نے اپنے کالموں میں کئی بار لکھا ہے کہ لادین میڈیا اور سیکولر سیاستدان ختم نبوتۖ کو نعوذ باللہ سرے سے مسئلہ سمجھنے پر تیار ہی نہیں ہیں … امریکہ اور یورپ کے یہ غلام بجائے اس کے کہ عقید ہ ختم نبوتۖ کا دفاع کریں … الٹا منکرین ختم نبوتۖ سے خواہ مخواہ کی ہمدردی اور اظہار یکجہتی کرنا شروع کر دیتے ہیں ایسے ہی ان منافقانہ پالیسیوں کے سبب ملک میں نفرتوں کو ہوا ملتی ہے۔

پارلیمنٹ میں ختم نبوتۖ کے قانون پر ڈاکہ مارنے کی کوشش کوئی معمولی بات نہ تھی … نواز شریف کی طرف اگر کوئی جذباتی نوجوان جوتا اچھال دے … تو کیا مولوی اور کیا لبرل' سب مل کر اس کی چمڑی ادھیڑنے کے بعد پولیس کے حوالے کر دیتے ہیں' اور جن مکروہ کرداروں نے خاتم الانبیائۖ کی ختم نبوتۖ کے قوانین پر شب خون مارنے کی کوشش کی … ان مکروہ کرداروں کو تم چھپانے کی کوشش کرتے ہو' ان مکروہ کرداروں کو سزا سے بچانے کے لئے تم چونکہ ' چنانچہ کے پردے تلے حیل و حجت سے کام لیتے ہو … ممکن ہے کہ سرکار کے قریبی ''مولوی'' تو تمہارے اس رویئے کو ہضم کرلیں گے مگر اکیس بائیس کروڑ پاکستانی مسلمان نہ اس رویئے کو ہضم کریں گے اور نہ ہی پارلیمنٹ میں ختم نبوتۖ کے قانون پر ڈاکہ ڈالنے کی کوشش کرنے والوں کو بھی معاف کریں گے۔ چند دن قبل وزیر خارجہ خواجہ آصف نے روس کے خلاف لڑے جانے والے ''جہاد'' کو ''امریکہ برانڈ جہاد'' قرار دیکر جو16 لاکھ سے زائد شہداء افغانستان کی توہین کی تھی … اس پر کروڑوں دل افسردہ ہے تھے … سیاست دانوں اور وزیروں کو کچھ بولنے سے پہلے یہ بھی سوچ لینا چاہیے کہ ان کی باتوں سے کسی کی دل آزاری تو نہیں ہو رہی۔ بن سوچے انسانوں کے دلوں کو مجروح کرنے والوں کے چہروں کی کالک صابن سے ختم بھی ہو جائے … مگر دلوں پر لگنے والے کالے داغ کسی صابن یا شیمپو سے ختم نہیں ہوسکتے۔


اس خبر کے بارے میں اپنی رائے دیجئے
پسند آئی
100%
ٹھیک ہے
 
کوئی رائے نہیں
 
پسند ںہیں آئی
 


 سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں





  اوصاف سپیشل

آج کا مکمل اخبار پڑھیں

     
     
تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ روزنامہ اوصاف محفوظ ہیں۔
Copyright © 2016 Daily Ausaf. All Rights Reserved