تحریک انصاف اور پیپلزپارٹی کا وصال
  13  مارچ‬‮  2018     |     کالمز   |  مزید کالمز

٭سینٹ کے چیئرمین کے انتخاب کا فیصلہ اب تک آ چکا ہو گا۔ نتیجہ جو بھی ہو مگر جس انداز میں تحریک انصاف اپنے دعوئوں کے برعکس پیپلزپارٹی کے ساتھ بغل گیر ہوئی ہے مجھے اس پر کوئی حیرت نہیں ہوئی۔ عمران خاں کی ساری سیاست اسی قسم کی ہی رہی ہے۔ پارلیمنٹ کو چوروں کی مجلس قرار دے کر استعفے دے دو، پھر بھاگ کر اس میں جا بیٹھو۔ اسی پارلیمنٹ پر جس میں خود موجود ہوں، لعنت ڈالو اور اسی ادارے سے تنخواہیں وصول کرو! صرف تین روز پہلے اعلان کیا کہ ن لیگ اور پیپلزپرٹی کے کسی امیدوار کو سینٹ کی چیئرمینی کے لئے ووٹ نہیں دیا جائے گا اور صرف دو روز بعد پیپلزپارٹی کے سابق وزیراعظم یوسف رضا گیلانی کے شکایات سیل کے انچارج اور آصف زرداری کے گہرے دوست صادق سنجرانی کے ساتھ پیپلزپارٹی کے ہی ڈپٹی چیئرمین کے امیدوار سلیم مانڈوی والا کی غیر مشروط حمائت کا بھی اعلان کر دیا، اور آصف زرداری کے گھٹنے سے لگ کر بیٹھ گئے! اس معاملہ کا ایک پہلو یہ بھی ہے کہ صادق سنجرانی بلوچستان سے آزاد امیدوار کے طور پر منتخب ہوئے ہیں۔ وہ کسی بھی وقت پیپلزپارٹی میں شرکت کا اعلان کر سکتے ہیں۔ اب تک نتیجہ آ چکا ہو گا اور صورتحال واضح ہو چکی ہو گی،صادق سنجرانی اور راجہ ظفرالحق میں سے کوئی کامیاب ہو چکا ہو گا! اس سے ایک دو اہم باتیں سامنے آئی ہیں، یہ کہ طوویل عرصے کے بعد سینٹ کے چیئرمین کا انتخاب بلامقابلہ نہیں ہو سکا۔ مقابلہ میں کامیاب امیدوار ہمیشہ متنازع ہی رہتا ہے۔ دوسری اہم بات یہ کہ بلاول زرداری نے رضا ربانی کو چیئرمین بنائے جانے کی بھرپور کوشش کی۔ آصف زرداری کے ساتھ طویل بحث کی مگر آصف زرداری نے پہلے سے بھی زیادہ سخت الفاظ میں رصا ربانی کی مخالفت بلکہ مذمت کر دی کہ انہوں نے سینٹ کو نوازشریف کی جھولی میں ڈال دیا تھا۔ اب رضا ربانی پیپلزپارٹی اور آصف زرداری کا کتنا ساتھ دیتے ہیں؟ جلد معلوم ہو جائے گا۔ آئندہ انتخابات بھی چند ماہ کے فیصلے پر ہیں۔ کیا اب بھی عمران خاں آصف زرداری کے بارے میں ڈاکو وغیرہ جیسے الفاظ استعمال کر سکیں گے؟ کسی واضح نظریاتی سمت اور ٹھوس مستحکم پالیسی کے فقدان والی سیاست کا انجام دکھائی دے رہا ہے! گزشتہ روز ن لیگ اور پیپلزپارٹی، دونوں اپنی کامیابی کے دعوے کر رہی تھیں، ان دعوئوں کا جواب تو اب سامنے آ چکا ہے۔ اس کا اثر آئندہ عام انتخابات پر بھی دکھائی دے سکتا ہے۔ اب دوسری باتیں: ٭لاہور میں مشہور قدیمی دینی ادارے جامعہ نعیمیہ میں نوازشریف پر بیک وقت تین جوتے پھینکے گئے۔ ایک جوتا ان کے کندھے پر لگا، دوسران تک پہنچ نہیں سکا اور تیسرا ابھی تیسرے شخص کے ہاتھ میں ہی تھا کہ اسے پکڑ لیا گیا۔ یہ تینوں افراد اس وقت پولیس کا حراست میں ہیں۔ تینوں افراد مختلف شہروں کے ہیں اور لبیک تحریک کے حمائتی ہیں۔ یہ لوگ جوتے پھینکنے کی ایک ہی وجہ بتاتے رہے ہیں کہ نواز حکومت نے قادیانیوں کے حق میں حلف برداری میں ترمیم منظور کرائی تھی!! اس واقعہ سے ایک روز پہلے اس الزام کے تحت سیالکوٹ میں ایک شخص نے وفاقی وزیر خارجہ خواجہ آصف کے چہرے پر سیاہی پھینک دی تھی۔ دوسری طرف فیصل آباد میں ایک شخص نے عمران خاں پر اسی انداز میں جوتا پھینکنے کی ناکام کوشش کی۔ ملک کے تمام سیاسی رہنمائوں نے اس طرز عمل کی مذمت کی ہے۔ یہ حرکتیں واقعی نہائت افسوسناک اور قابل مذمت ہیں۔ سیاست دان ان واقعات کی مذمت کر رہے ہیں مگر حقیقت یہ ہے کہ یہ لوگ خود ایسی بدتمیزیوں کے ذمے دار ہیں۔ کسی بھی پارٹی کے رہنمائوں کی تقریروں اور بیانات کا جائزہ لے لیں کہ یہ لوگ ایک دوسرے کے خلاف کیسی بدزبانی کر رہے ہیں اور عوام کو کس سمت میں لے جا رہے ہیں! ان بیانات کی مختصر جھلکیاں دیکھئے۔ گزشتہ روز فیصل آباد میں عمران خاں کا اعلان ''میں رانا ثناء اللہ کو مونچھوں سے پکڑ کر جیل میں بھیج دوں گا۔'' عمران خاں شریف خاندان کو بھی جیل بھیجنے کا اعلان کر چکے ہیں۔نوازشریف سپریم کورٹ کے بارے میں:''جن ججوں نے ہماری ٹانگیںکھینچی ہیں۔ اب عوام ان کی ٹانگیں کھینچیں گے۔'' آصف زرداری کی دھمکی ''میں جرنیلوں کی اینٹ سے اینٹ بجا دوں گا۔'' 29 سالہ بلاول کا 67 سالہ نوازشریف کو پیغام: ''میاں صاحب آپ کو جیل جانا ہو گا۔'' مریم نواز براہ راست سپریم کورٹ کے ججوں سے مخاطب: ''می لارڈ، اب آپ کے ساتھ انصاف کیا جائے گا۔'' قانون اور آئین کے کسٹوڈین وزیراعظم شاہد خاقان عباسی کا اعلان: ''میں سپریم کورٹ کے فیصلے کو نہیں مانتا۔'' اور تحریک انصاف کی سٹپنی، لال حویلی، کا ننکانہ صاحب میں عوام سے خطاب: ''سڑکوں پر نکلنا ہو گا مار دو یا مر جائو!'' یہ بدزبانیاں عوام کو کیا درس دے رہی ہیں؟ یہی کہ مار دو یا مر جائو! تو پھر یہی کچھ ہو گا جو ہو رہا ہے۔ ٭اے این پی کے صدر اسفند یار ولی نے کہا ہے کہ خیبر پختونخوا کی حکومت نے پشاور میں ایک ارب 70 کروڑ روپے سے فلائی اوور بنایا وہ ٹوٹ رہا ہے اور اس کے آغاز پر تختی لگا دی گئی ہے کہ اس پر سے بھاری گاڑیوں کا گزرنا منع ہے! اسفند یار ولی نے صوبے میں ایک ارب 18 کروڑ درخت لگائے جانے کے دعوے کے بھی بخئے ادھیڑے ہیں۔ انہوں نے یہ بھی کہا ہے کہ میرے خاندان (بیوی بچوں) کے پاس کوئی جائیداد نہیں ہے۔ اسفند یار صاحب! یہ بھی فرما دیتے کہ کیا آپ کی دبئی میں بھی یہی صورت حال ہے۔ آپ کی دبئی کے ساتھ کیا دلچسپی ہے؟ ٭وزیراعلیٰ پنجاب میاں شہباز شریف نے گوجرانوالہ میں جلسہ سے خطاب کیا۔ وہاں کے چند پہلوانوں نے سٹیج پر آ کر استقبال کیا اور دھمال ڈالی۔ وزیراعلیٰ نے ایک پہلوان کے ساتھ کشتی کی اور ایک دائو مار کر اسے نیچے گرا لیا۔ یہ معاملہ اپوزیشن خاص طور پر عمران خاں کے لئے تشویشناک ہو سکتا ہے۔ پتہ نہیں عمران خاں کو ایسے دائو پیچ آتے ہیں یا نہیں؟ ٭وزیراعظم خاقان عباسی نے کہا ہے کہ علی جہانگیر صدیقی کی امریکہ میں بطور سفیر تقرری بہترین انتخاب ہے۔ خبریں چھپ چکی ہیں کہ علی جہانگیر صدیقی نے ہوا بازی میں بی اے پاس کیا ہوا ہے(مزید کوئی تعلیم نہیں) وہ وزیراعظم کے ساتھ ہوا بازی کے شعبے میں شریک کار اور ان کے ماتحت وزیرمملکت بھی ہیں۔ جبکہ سفارتی معیارات کے مطابق امریکہ برطانیہ اور فرانس میں سفارت کے لئے کم از کم 30 سال کے سفارتی تجربہ کو ضروری خیال کیا جاتا ہے۔ علی جہانگیر صدیقی کے پاس ایسا کوئی تجربہ نہیں۔ ویسے حسین حقانی، عابدہ حسین، شیری رحمان اور جنرل جہانگیر کرامت کے پاس بھی کوئی سفارتی تجربہ نہیں تھا!

٭ایس ایم ایس: ملک ریاض سے اپیل: ''میرا نام آصف صدیقی ہے۔ گورنمنٹ کالج ایمن آباد میں لیکچرار ہوں۔ میرے تین بچے ہیں۔ ایک عرصے سے جگر کا مریض ہوں۔ جگر بالکل ختم ہو چکا ہے۔ ڈاکٹر کہتے ہیںکہ تقریباً 60,50 لاکھ کے اخراجات سے جگر تبدیل ہو سکتا ہے۔ پاکستان میں صرف شیخ زائد ہسپتال لاہور اور بحریہ ٹائون کے ہسپتال میں علاج ہو سکتا ہے۔ شیخ زائد ہسپتال میں یہ علاج ایک طرح سے بند ہے، صرف بحریہ ٹائون میں ہو سکتا ہے۔ میں ایک غریب لیکچرار ہوں۔ اتنے ہنگے علاج کی استطاعت نہیں۔ مہربانی فرما کر ملک ریاض کے نام میری مدد کی اپیل چھاپ دیں۔ بہت شکریہ! آصف صدیق (03338214077) سٹریٹ نمبر-2 ریس کور روڈ فریدٹائون گوجرانوالہ۔


اس خبر کے بارے میں اپنی رائے دیجئے
پسند آئی
100%
ٹھیک ہے
 
کوئی رائے نہیں
 
پسند ںہیں آئی
 


 سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں





  اوصاف سپیشل

آج کا مکمل اخبار پڑھیں

     
     
تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ روزنامہ اوصاف محفوظ ہیں۔
Copyright © 2016 Daily Ausaf. All Rights Reserved