ایران اورامریکہ ،حریف یا حلیف ؟
  14  مارچ‬‮  2018     |     کالمز   |  مزید کالمز

ایرانی صدرحسن روحانی نے17فروری کو اپنے دورۂ بھارت کے دوران چابہاربندرگاہ کے ایک حصے کاآپریشنل کنٹرول بھارت کو٨١ماہ کی لیزکے معاہدے پردستخط کردیئے ہیں اوریوں خطے میں بھارت کوتوسیع پسندانہ عزائم کی تکمیل کیلئے ایرانی حکومت مسلم دشمن متعصب ہندومودی کی اتحادی بن گئی ہے۔دونوں ممالک نے دہشتگردی کے خلاف ساتھ دینے کااعلان بھی کیاہے ۔بھارت کے دورے کے موقع پرایران کے صدرحسن روحانی اوربھارتی وزیراعظم مودی کے مابین مذاکرات کے بعددونوں ممالک نے چاہ بہارکے شاہدبہشتی پورٹ کی لیز،تحویل ملزمان،دہرے ٹیکسوں سے بچاؤاورتجارت ومواصلات کے 9معاہدوں پردستخط کردیئے ہیں۔ بھارت چابہارکے راستے افغانستان تک راہداری ہی نہیں،وسطی ایشیاکی منڈیوں تک رسائی چاہتاہے ۔بھارت کتنی تیزی کے ساتھ ایران کے ساتھ مل کرپاکستان کے خلاف گھیراتنگ کرنے کی کوشش کررہاہے اس کااندازہ اس بات سے بھی لگایاجاسکتاہے کہ بھارت اومان سے بھی اس کی ڈکم پورٹ کا کنٹرول حاصل کرنے کاایک معاہدہ کرچکاہے جواس امرکی عکاسی کیلئے کافی ہے کہ بھارت ایران اوراومان کی بندرگاہوں کوپاکستان کے خلاف بطورفوجی چھاؤنی استعمال کرے گا۔ ایراان اوراومان کی بندرگاہیں بھارت کے پاس جانے سے گوادرپورٹ کوخطرات لاحق ہوسکتے ہیں۔ واضح رہے کہ ایران کی چابندرگاہ گوادرسے صرف ٠٩کلومیٹرکے فاصلے پرہے۔ایرانی صدرحسن روحانی کے دورۂ بھارت کی تفصیلات سے پاکستان کی بدترین سفارتکاری کاتاثرملتا ہے جس کی وجہ سے ایک مسلم ملک نے پاکستان کے مفادات کونظراندازکرکے اس کے بدترین دشمن بھارت کے ساتھ اتنے قریبی تعلقات بڑھانے میں کوئی عارمحسوس نہیں کی۔اہم ترین بات یہ ہے کہ ایران اوربھارت کی سرحدیں کہیں بھی نہیں ملتیں ،اس طرح افغانستان اوربھارت کے درمیان بھی کوئی مشترکہ سرحدنہیںلیکن امریکی سرپرستی میں بھارت کی یہ کوشش ہے کہ پاکستان کوچاروں طرف سے گھیرکرغیرمستحکم کیاجائے ۔افغانستان پرجارحیت اوروہاں اپنے قیام کے دوران امریکہ نے افغانستان میں کٹھ پتلی حکومت قائم کی اوراس کے بعدبھارتی اوراسرائیلی ایجنسیوں کوافغانستان میں امن اورتعمیروترقی کی بحالی کے نام پرقدم جمانے کاموقع دیا۔ایرانی حکومت بخوبی جانتی ہے کہ بھارت ہرصورت میں پاکستان کونقصان پہنچانے کے درپے رہتاہے۔ پاکستان کے ساتھ ایران کے مسئلے پراختلافات ہوسکتے ہیںلیکن بھارت تومذہبی،تہذیبی،ثقافتی،نسلی، لسانی اورمعاشرتی لحاظ سے متضادہے اس کے باوجودساڑھے آٹھ کروڑڈالرکے چابہارکے منصوبے پردستخط کرکے پاکستان کیلئے خطرات میں اضافہ کردیاگیاہے۔بھارت کی جانب سے اس معاہدے کامقصدبظاہرپاکستان کوبائی پاس کرکے بھارت ، ایران اورافغانستان کے درمیان ٹرانزٹ روٹ قائم کرناہے لیکن معیشت میں یہ پاکستان کی اقتصادی شہ رگ کونقصان پہنچانے کی ایک کڑی ہے۔پاکستان اورچین کے درمیان اقتصادی راہداری منصوبے سی پیک سے بھارت اورامریکہ ناخوش ہیں،اگرایران بھی خوش نہیں تویہ دو مسلم ممالک کے درمیان خواہ مخواہ وجہ تنازعہ بن جائے گا۔ (جاری ہے) اس لئے 18 ماہ تک چابہار کے آپریشنل کنٹرول پربھارتی تسلط کے نتیجے میں پاکستان کے ساتھ بحری تجارت کے نئے تنازعات بھی جنم لے سکتے ہیںاوربھارت کااصل مقصودبھی یہی ہے۔ اس موقع پرایران نے سلامتی کونسل میں بھی بھارت کی رکنیت کی حمائت کااعلان کیاہے اورمطالبہ کیاہے کہ ایک ارب سے زائدآبادی کے ملک کوویٹوکااختیاردیاجائے۔پاکستان سے بظاہردوستی اور رواداری کادم بھرتی ایرانی سیاسی ومذہبی قیادت کی جانب سے بھارت کی سلامتی کونسل کی مستقل رکنیت اوراس کے ویٹوپاورکے مطالبے نے پاکستانی کے رہے سہے اعتمادکوبھی شدیدٹھیس پہنچائی ہے۔بھارت کے ساتھ سلسلہ جنبانی بڑھانے کی ایرانی پالیسی اس حقیقت کواجاگرکرتی ہے کہ استعماری قوتیں سوچے سمجھے منصوبے کے تحت پاکستان کاگھیراتنگ کررہی ہیںاوراس کیلئے بھارت اورافغانستان کے بعدایران کوبروئے کار لایا جارہاہے۔گوادرسے صرف90کلومیٹرکے فاصلے پر واقع چابہاربندرگاہ کاٹھیکہ بھارت کودینے کامطلب اس کے سواکیاہوسکتاہے کہ بھارت اورایران مستقبل میں گوادرکی ابھرتی تجارتی اورمعاشی اہمیت پرکاری ضرب لگانے کی سازش میں شریک کارہیں۔ ایران کابھارت کی طرف تیزی سے بڑھتاہوارحجان کوئی آج کی بات نہیں۔عرب وعجم میں کشمکش کی کہانی پرانی ہے مگرایران کے مسلکی حکمرانوں کی بتکدہ ریاست پرمہربانی سے حیرانی ضرورہوتی ہے۔1979ء کے مسلکی انقلاب کے بعد''تقیہ ''کے ہتھیارسے لیس ایران نے پاکستان کی پیٹھ میں مارچ1994ء میں بھی چھراگھونپ کربھارت کی شرمناک مددکی تھی۔ جموں وکشمیرکی حقوق انسانی کی ابترصورتحال کے حوالے سے تنظیم اسلامی کانفرنس(اوآئی سی) نے اقوام متحدہ کے حقوق انسانی کمیشن میں ایک قراردادپیش کرنے کافیصلہ کیاتھاجس میں کشمیرمیں حقوق انسانی کی شرمناک خلاف ورزیوں کے حوالے سے بھارت کی زبردست سرزنش اوراس کے خلاف اقدامات کی سفارش کی گئی تھی۔منظوری کی صورت میں یہ قرار داد براہِ راست اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے سپردکردی جاتی جہاں بھارت کے خلاف اقتصادی پابندیاں عائدکرنے کے قواعدتقریباًتیارتھے مگراس دوران کوہ البرزکے دامن میں واقع تہران ائیرپورٹ پرشدیدسردی میں بھارتی فضائیہ کے ایک طیارے نے برف سے ڈھکے رن وے پرلینڈنگ کی۔ یہ طیارہ اس وقت کے وزیرخارجہ دنیش سنگھ اوردیگرتین مسافروں کولیکرآیاتھا۔دنیش سنگھ ان دنوں دہلی کے ہسپتال میں زیرعلاج تھے اورچارپائی پرپڑے زندگی کی گھڑیاں گن رہے تھے ۔چلنے پھرنے سے بھی معذورا ور اسٹریچرپرایرانی صدرعلی اکبرہاشمی رفسنجانی کے نام نرسمہاراؤکااہم مکتوب لیکرآئے تھے اورذاتی طورپر ان کے حوالے کرناچاہتے تھے۔اس وقت بین الاقوامی طورپربھارت کی پوزیشن مستحکم نہیں تھی۔اقتصادی صورتحال انتہائی خستہ تھی کہ سرکاری خزانہ بھرنے کیلئے بھارتی حکومت نے ساراسونابیرون ملک گروی رکھ دیا تھا ۔ نرسمہا راؤ نے بڑی چالاکی سے ایران کومطمئن کرکے اس بات پرآمادہ کرلیاکہ وہ اوآئی سی میں مذکورہ قراردادکی منظوری کے وقت غیرحاضررہے۔مکاراورچالاک بنیاء راؤسمجھتاتھاکہ ایران کے غیرحاضررہنے کی صورت میں یہ قراردادخودبخودناکام ہوجائے گی۔اوآئی سی کئی بین الاقوامی اداروں کی طرح ووٹنگ کی بجائے اتفاق رائے سے فیصلے کرتی ہے ۔ ایرانی حکام کوبھارتی وزیرخارجہ کے اچانک تہران میں نزول اوراپنے وزیرخارجہ علی اکبرولائتی کے پروٹوکول اصول کوبالائے طاق رکھتے ہوئے خودہوائی اڈے پرپہنچ کربھارتی وزیر خارجہ دنیش سنگھ کوصبح سویرے سردی سے ٹھٹھرتے وہیل چیئرسے اترتے ہوئے استقبال کرتے ہوئے حیرانی ہوئی تھی۔ دنیش سنگھ کی مکاری،عیاری اورفنکاری کامیاب ٹھہری اور ایران نے پاکستان کی پیٹھ میں چھراگھونپ دیا۔بھارتی وزیرخارجہ کامشن پوراہواتوکچھ عرصہ کے بعدوہ دیہانت بھی کرگیا۔ اب پھرایران بھارت کاگٹھ جوڑ،بات سمجھ میں یہ آتی ہے کہ یہ پھراسلام دشمن روّیہ قراردیاجاسکتاہے۔دشمن اسلام کادوست کیسے اسلام دوست قراردیاجاسکتاہے۔اسلامی حکمران بت شکن رہے ہیں،بت پروان نہیں۔بھارت چابہاربندرگاہ کو٠٠٢٧کلومیٹرطویل انٹرنیشنل نارتھ ساؤتھ ٹرانسپورٹ کوریڈورکے ساتھ جوڑ کر آرمینیا، آذر بائیجان' روس اوریورپ تک رسائی حاصل کرکے چین کے ون بیلٹ ون روڈ کے مقابلے میں کھڑاکرنے کے فراق میں ہے۔اس سلسلے میں اسے امریکہ اوراسرائیل کی مکمل پشت پناہی حاصل ہے اوریوں (بناہے شاہ کامصاحب پھرے ہے اتراتا)مگرایران اورامریکہ توحریف ہیں،یہاں حلیف کیسے؟ایران نے پاکستان کی آزادی پرسب سے پہلے اسے تسلیم کرنے کاجواحسان کیاتھا اسی طرح صدرمحمدضیاء الحق نے اسلامی انقلاب کے بعددنیامیںسب سے پہلے امام خمینی کی حکومت کوتسلیم کرکے یہ قرض چکادیاتھااور10مارچ کوسب سے پہلے ایران میں اپنے وزیرخارجہ آغا شاہی کوایران بھیج دیاجنہوں نے ١١مارچ کوامام خمینی سے ملاقات کرکے جنرل ضیاء الحق کی نیک خواہشات اورہرقسم کی امدادکی یقین دہانی کاخصوصی پیغام پہنچایاکہ پاکستان امام خمینی کواسلام کاعظیم سرمایہ سمجھتاہے مگرخمینی انقلاب کے پیروکارتوشہنشاہ کہلانے والے رضاشاہ پہلوی کی اسلام دوستی کی رویات بھی برقرارنہ رکھ سکے۔

ایران عراق جنگ میں امریکہ اورسعودیہ دباؤ کے باوجودعراق کی حمائت سے گریزکیابلکہ درپردہ اس جنگ میں حکومتی سطح پرایران کومسلک وارم اورسٹنگرمیزائل کی فراہمی کابندوبست بھی کیاجوایران کی سلامتی کے ضامن بنے مگرپاکستان کواس کے عوض ایران،بھارت کے ہاتھوں کھیل کرخوب پریشان کرنے میں مصروف ہے۔بھارتی''را''کاحاضرسروس کلبھوشن چابہارمیں بیٹھ کرپاکستان میں دہشتگردکاروائیاں کرتارہا۔لہومسلم بہتارہااورایران یہ تماشہ دیکھتارہا،گرفتاری پراس نے سارے رازکھول دیئے۔ بھارت اورایران کے درمیان توسیع پسندانہ عزائم اورمتشددانہ ذہنیت قدرمشترک ہیں۔ایران گزشتہ آٹھ برسوں سے پاکستان اور مشرقِ وسطیٰ میں فرقہ وارانہ بنیادپردخیل ہے اوراس کے عسکری ومالی تعاون کے بل پرہی بشارالاسدانتہائی بیدردی سے مسلمانوں کاخون بہارہاہے۔ایران جنوبی ایشیاسے مشرقِ وسطیٰ تک غیرمنقطع اورمحفوظ طرح داری قائم کرناچاہتاہے جس میں اسے تمام استعماری طاقتوں کی مددحاصل ہے۔


اس خبر کے بارے میں اپنی رائے دیجئے
پسند آئی
100%
ٹھیک ہے
 
کوئی رائے نہیں
 
پسند ںہیں آئی
 


 سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں






     
     
تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ روزنامہ اوصاف محفوظ ہیں۔
Copyright © 2016 Daily Ausaf. All Rights Reserved