نفرت اور اشتعال انگیزی کا فروغ
  14  مارچ‬‮  2018     |     کالمز   |  مزید کالمز

سیاسی فقرے بازی اور نئی سیاسی ڈکشنری بن رہی ہے۔ یہ سوچ پاکستان میں ہی نہیں بلکہ ہر طرف پھیل رہی ہے۔ ایسا لگتا ہے کہ افہام و تفھیم یا عفو و درگزر سے گریز ہونے لگا ہے۔ اسباب پر غور کیا جائے تو یہ متعدد ہیں۔ اس میں تعلیم و تربیت اور درس و تدریس کا بھی کچھ عمل دخل ہو سکتا ہے مگر اس سے بھی بڑھ کر نفرت اور اشتعال انگیزی کا فروغ ہے۔ جس میں ہر روز اضافہ ہو رہا ہے۔ کوئی ایک اس کا ذمہ دار نہیں۔ سارا معاشرہ قصوروار ہے۔ یہ کسی فرد یا علاقہ یا مسلک یا فرقہ تک محدود نہیں بلکہ مجموعی طور پر ماحول آلودہ ہو رہا ہے۔ کیا اس کی ذمہ داری صرف سیاست یا طرز سیاست پر ڈال لیں یا کچھ بوجھ مذہبی رحجانات پر رکھیں۔ یا انٹرنیٹ، کیبل، میڈیا سے گلہ شکوہ کیا کریں۔ سابق وزیراعظم میاں نواز شریف پر جامعہ نعیمیہ میں جوتوں سے حملہ کیا گیا۔ اس سے ایک دن پہلے سیالکوٹ میں وزیر خارجہ خواجہ آصف پر سیاہی پھیکی گئی۔ یہ نہیں کہا جا سکتا کہ حنفی، بریلوی ، شیعہ یا اہلحدیث یا کوئی دیگر مسلک کسی ناخوشگوار واقعہ کے پیچھے ہے۔ جامعہ نعیمیہ ایک معروف مدرسہ ہے۔ اسی طرح دیگر مکاتب فکر بھی ہیں۔ اسلام کسی نفرت یا اشتعال انگیزی کا ہر گز ذمہ دار نہیں کیوں کہ دین اسلام کی ہدایات واضح ہیں۔ اسلام نے سچ اور جھوٹ اور اچھائی اور برائی کے درمیان واضح لکیر کھینچی ہے۔ اسلام کا درس عدم تشدد اور رواداری ہے۔ ہر کسی کو اپنی زبان اور ہاتھ کا انسانوں کی بہتری کے لئے استعمال کرنے کی ہدایت ہے۔ جس کی زبان اور ہاتھ سے کسی کو نقصان پہنچے ، اسے اس دائرہ سے ہی خارج کیا گیا ہے۔ اس لئے مغرب میں پاکستان یا کسی دیگر ملک میں کسی بھی غیر اسلامی کام کے لئے اسلام کو نشانہ نہیں لگایا جا سکتا۔ لیکن مغرب میں ایسا ہی ہو رہا ہے۔ وہاں یہ پروپگنڈہ ہو رہا ہے کہ اسلام ہی ذمہ دار ہے۔ سچ یہ ہے کہ دین کی اپنی اپنی تشریح، خود کو مومن اور دوسرے کو کافر قراردیدنے کی روایت کا عام ہونا معاشرے کے لئے نقصان دہ بن رہا ہے۔ صبر و شکر کی ہدایت پر ہم عمل کرنے سے عاری بن رہے ہیں۔قوت برداشت ختم ہو رہی ہے۔ خود کو ہی حق اور سچ کا علمبردار ثابت کرنے کی کوشش ہوتی ہے۔ ہر کوئی فتوے جاری کر رہا ہے۔ ہر کوئی ماہر علوم و فنون بن رہا ہے۔ یا ایسی ایکٹنگ کرتا ہے۔ اسلام کا سرچشمہ قرآن اور سنت ہے مگر روایات اور اپنی اپنی تشریح کو زیادہ اہمیت مل رہی ہے۔ اصل کے بجائے نقل کو اہمیت دیں گے تو کوتاہیاں بھی ضرور ہوں گی۔ ہم نے اصل چھوڑ دی ہے۔ بنیاد پر توجہ دینے کے بجائے شاخ کو پھیلانے کی کوشش کرتے ہیں۔ ایسے میں جڑ سوکھ جاتی ہے۔ جڑ کو سیراب نہ کرنے کا یہی نقصان ہے۔ مسلم لیگ ن کے نئے سربراہ میاںشہباز شریف نے بھی کبھی آصف علی زرداری کو سڑکوں پر گھسیٹنے کی بات کی تھی۔ عمران خان رانا ثناء اللہ کو مونچھوں سے گھسیٹنے کی دھمکی دے چکے ہیں۔ ہم آزاد کشمیر کے سابق وزیراعظم چوھردی عبد المجید کوپہاڑیبکرا پکار چکے ہیں۔ یہ مقولہ درست ثابت ہو رہا ہے کہ اس حمام میں سب ننگے ہیں۔ کوئی پارسا یا پاکپاز نہیں۔ االاما شاء اللہ۔ یہ اس نسل کی سیاسی تربیت ہو رہی ہے جسے کسی بھی طور مہذب قرار نہیں دیا جا سکتا۔ یہی عدم برداشت اور اشتعال انگیزی کو جنم دیتی ہے۔ لوگ مشتعل کئے جا رہے ہیں۔ جوتوں اور گالیوں کی یہ سیاست ہے۔ یہ آگ سلگانے والے کا ہاتھ بھی جل رہا ہے۔ اس کے اثرات ساراے معاشرے پر پرتے ہیں۔ بچے بھی نئے القاب و آداب کی تشریح کرنا چاہتے ہی۔ وہ نئے سوالات کر رہے ہیں۔ نئے الفاظ کے نئے معنٰی و مطالب پوچھ رہے ہیں۔ مدرسہ طالب علم یا سیاسی کارکن کو ہی نہیں بلکہ ہر کوئی تہذیب و تمدن کو نئے زاویئے سے سمجھ رہا ہے۔ اس کے اندر نفرت اور اشتعال بھر دیا گیا ہے جس کا نتیجہ سیاستدانوں کا اپنی مخالفین کو سڑکوں پر گھسیٹنا، جوتے، سیاسی پھینکنے کی حوصلہ افزائی کرنا ہے۔ کوئی اگر دوسرے کی تذلیل سے عزت پانے یا برتری یا خود پسندی کے خواب دیکھے تو اسے کیا نام دیا جا سکتا ہے، جو جس مکتب فکر سے تعلق رکھتا ہے یا جس کے لئے نرم گوشہ رکھے، وہ اس کے مخالفین کے اچھے کاموں کو بھی غلط قرار دے گا یا اس طرح پیش کرے گا۔ اپنی یا اپنے مکتب کی ان گنت خامیاں بھی نظر نہیں آتیں۔ یہ کھینچا تانی تقریباً ہر جگہ دیکھی جا سکتی ہے۔ ہر اداری یا دفتر اس سے متاثر ہے۔ ہر کوئی دوسرے کا کریڈٹ لینے یا دوسرے کو بدنام کرنے کی چال چلتا ہے مگر مہذب اور اعلیٰ تعلیم یافتہ لوگ اس رحجان کی حوصلہ افزائی نہیں کرتے۔

یہی عظیم لوگ ہیں جو ہر جگہ موجود ہیں۔ یہ اس سماج کے لئے غنیمت ہیں اور روشنی کی کرن ہیں۔ اس معاشرے کی آلودگی کے کئی اسباب ہوں گے مگر ہر کوئی ماں کی گود سے ہی کچھ سیکھ کر آگے بڑھتا ہے بلکہ بہت کچھ سیکھتا سمجھتا ہے پھر تعلیمی ادارے ، مدرسے میں قدم رکھتا ہے۔ یہاں سے قبر تک انسان سیکھتا ہے۔ اس لئے والدین، اساتذہ بھی آج کے انسان کے شعور کو بلند یا پست کرنے میں بنیادی کردار ادا کرتے ہیں۔ اس کے بعد رزق کی تلاش، روزگار، کے دوران تعلق اور وابستگیاں مورد الزام ٹھہر سکتی ہیں۔ والدین، اساتذہ کرام، فوری نگران، سیاسی یا مسلکی رہبران سمیت سب کو غور و فکر کرنا ہے۔ اصلاح احوال کے لئے نصاب کو بھی اقدار اور افکار سے ہم آہنگ بنایا جا سکتا ہے۔ تعلیم و تربیت کے بعد ہی عملی زندگی کی شروعات ہوتی ہے۔ یہ نفرتیں، اشتعال، دوسروں کو قلبی یا جسمانی اذیت دینا کس کام کا ہے۔ اسلام کسی کی تذلیل کی اجازت نہیں دیتا۔ سیاستدان بھی اس رحجان کی حوصلہ شکنی کریں۔ اسلام ہمیں دوسروں کی بھلائی اور خوشی کے لئے کام کرنے کا سبق و درس دیتاہے۔ خود کو پہچاننے اور اصلاح کرنے کی ہدایت ملتی ہے۔ دوسرے پر انگلی اٹھانے سے پہلے اپنی معرفت اور فکر کا حکم ہے۔ قرآن اور سنت سے دوری اس افراتفری کی بڑی وجہ بن رہی ہے۔ جس سیاستدان، مذہبی رہنما، والدین، اساتذہ کرام، اداروں کے سربراہاں سمیت ہم سب غور و فکر کریں تو اصلاح اور بہتری کی بہت گنجائش پیدا ہو سکتی ہے۔


اس خبر کے بارے میں اپنی رائے دیجئے
پسند آئی
 
ٹھیک ہے
 
کوئی رائے نہیں
 
پسند ںہیں آئی
 


 سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں






     
     
تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ روزنامہ اوصاف محفوظ ہیں۔
Copyright © 2016 Daily Ausaf. All Rights Reserved