کچھ پرویز مشرف کے بارے میں
  14  مارچ‬‮  2018     |     کالمز   |  مزید کالمز

70 کی دہائی کی بات ہے میجر پرویز مشرف کو ان کے ساتھیوں نے بتایا کہ وہ لیفٹیننٹ کرنل کے عہدے پر ترقی پاگئے ہیں تو ان کو اپنے کانوں پر یقین نہیں آیا کیوں کہ موصوف ڈسپلن کی خلاف ورزیوں کے متعدد بار مرتکب ہوچکے تھے اور خیال یہی تھا کہ شاید ترقی نہ پائیں، مگر آرمی میں ترقی پانے یا نہ پانے کیلئے صرف ڈسپلن ہی واحد معیار نہیں ایک آفیسر کیلئے کئی میدانوں میں اپنے آپ کو منوانا ہوتا ہے تب ترقی ملتی ہے، تھوڑا سا عنصر اچھی قسمت کا بھی ہوتا ہے اور پرویز مشرف شروع سے ہی قسمت کے دھنی تھے، نیپولین بونا پارٹ کا مشہور مقولہ ہے کہ مجھے اچھے جنرل نہیں خوش قسمت جنرل چاہئیں۔ اگر پرویز مشرف نیپولین کی فوج میں ہوتے تو بھی اسی لئے جنرل ہوتے۔ میجر جنرل پرویز مشرف محترمہ بے نظیر بھٹو کی دوسری حکومت میں ڈی جی ایم او یعنیDirector General Military Operations تھے، سنا ہے کہ انھوں نے بی بی کو کارگل آپریشن کے بارے میں بریفنگ دی اور بی بی نے اسے یہ کہتے ہوئے نامنظور کردیا کہ یہ جنگ کارگل تک محدود نہیں رہے گی اور پاک ہند جنگ شروع ہوجانے کے امکانات رَد نہیں کئے جاسکتے مگر جنرل مشرف کے دماغ سے یہ کیڑا نہیں نکلا اور جب وہ میاں نواز شریف کی دوسری حکومت میں چیف آف آرمی اسٹاف بنے تو انھوں نے کارگل آپریشن پر عملدرآمد کردیا، رازداری اتنی برتی گئی کہ راولپنڈی کور کے علاوہ دوسرے کمانڈرز، فضائی اور نیوی کے چیفس کو بھی اعتماد میں نہیں لیا گیا یہاں تک کہ ایک موقع پر وزیر اعظم نواز شریف نے بھی شکوہ کیا کہ وہ بھی بے خبر تھے مگر مشرف کو یقین تھا کہ انھوں نے میاں صاحب کو بریف کیا تھا، یہ واقعہ اس لئے درج کیا گیا تاکہ آپ کو بتایا جاسکے کہ اگر نواز شریف کو مشرف کو بر طرف ہی کرنا تھا تو یہ ایک موقع تھا جب ان کا یہ قدم صحیح اور جائز ہوتا، بھارت میں ایک سے زیادہ جنرلز کو گھر بھیجا گیا۔ نواز شریف تذبذب کا شکار ہی رہے۔ دیکھا جائے تو نواز شریف اپنی تینوں حکومتوں میںریاستی اداروں سے مسلسل پنجہ آزمائی کرتے رہے ہیں، ان کی پہلی حکومت میں چیف جسٹس سجاد علی شاہ مرحوم سے مسلسل مخاصمت رہی یہاں تک کہ مسلم لیگ نواز کے کارکنوں نے جن کی قیادت ٹی وی اینکر طارق عزیز کررہے تھے سپریم کورٹ پر حملہ کردیا۔ معزز جج صاحبان کو اپنی عدالتوں سے اٹھ کر جانا پڑا آخر کار چیف جسٹس کی کرسی خالی کرالی گئی۔ آرمی چیف جنرل جہانگیر کرامت سے اسلئے استعفیٰ لے لیا گیا کہ انھوں نے ڈیفنس کونسل بنانے کی تجویز دی تھی۔ میاں صاحب نے اپنی دوسری حکومت میں بھی آرمی چیف کو نہایت بھونڈے اور بزدلانہ انداز میں ہٹانے کی کوشش کی اور نتیجتاً مقّدر کے سکندر پرویز مشرف نے حکومت سنبھالی۔ پرویز مشرف کی حکومت کے پہلے ڈھائی سال میں کافی اچھا کام ہوا، گڑ بڑ اس وقت شروع ہوئی جب ان کی سوچ پر اقتدار کی لالچ غالب آگئی انھوں نے2002 کے اوائل میں اپنے آپ کو صدر بنوانے کیلئے ریفرنڈم کا فیصلہ کیا جس کی عمران خان نے حمایت اور مجھ جیسے نا چیز نے مخالفت کی۔ اگر مشرف اس وقت وردی اتار کر الیکشن کرادیتے تو یقیناً کامیاب ہوجاتے مگر لالچ بری بلا ہے اور اقتدار کی لالچ تو انسان سے اس کی عقل وشعور ہی چھین لیتی ہے۔ انھوں نے ریفرنڈم میں'' فتح'' حاصل کرکے اپنی مرضی کی حکومت قائم کرنے کیلئے اکتوبر2002 میں عام انتخابات کرانے کا اعلان کیا۔ بے نظیر بھٹو اور نواز شریف دونوں سیاسی جلا وطنی میں تھے اس کے باوجود مشرف پی پی اور مسلم لیگ(ن) سے خائف تھے انھوں نے ایم ایم اے بنائی، پی پی کو اپنے نام سے انتخاب لڑنے کی اجازت نہیں دی اور اس طرح پی پی پی وجو دمیں آئی، مشرف نے پری پول، پول اور پوسٹ پول رگنگ میں کوئی کسر نہیں چھوڑی اور اپنے ساتھ ساتھ فوج کی بدنامی کا باعث بنے، اس سے پہلے ریفرنڈم کی مہم میں انھوں نے کور کمانڈرز کو باوردی جلسہ عام کے اسٹیج پر بٹھایا اور فوج کی جگ ہنسائی کا باعث بنے۔ کہتے ہیں ہر فرعون را موسیٰ۔2008 کے انتخابات کے بعد آصف ذرداری نے مشرف کی چھٹّی کرادی اور وہ بیرون ملک فرار ہوگئے، مشرف2007 میں ایمرجنسی نافذ کرنے اور چیف جسٹس افتخار چوہدری کی بر طرفی کے بعد کتنے کمزور ہوگئے تھے اس کا اندازہ ان کو نہ ہوسکا کیوں کہ وہ اپنے آپ کو کمانڈر ہی سمجھتے رہے اور کہتے رہے۔ نومبر2007 کے بعد اس حقیقت میں کوئی شک نہ رہا کہ مشرف سیاست اورCommon Sense سے یکسر عاری ہیں رہی سہی کسر اُن کی خود پسندی اور انتہا کو پہنچے غرور نے پوری کردی اور یہی وجوہات ان کے ذاتی کردار کو داغدار بنانے کاباعث بنیں۔ اس خود پسندی اور رعونت نے ان کو مجبور کیا کہ وہ پاکستان واپس آکر دوبارہ اقتدار حاصل کرلیں، ان کا خیال تھا ان کے استقبال کیلئے خلقت اس طرح امڈ کر آئے گی جیسے1988 میں بے نظیر بھٹو کیلئے آئی تھی، دوسرا دھچکا اس وقت لگا جب انہیں عدالت میں حاضری دینی پڑی جہاں ان کے چہرے سے خوف عیاں تھا باوجود یکہ انھوں نے بلٹ پروف جیکٹ پہنی ہوئی تھی، اسی طرح کی ایک پیشی پر تشریف لاتے ہوئے کمانڈو کی گاڑیوں کا جلوس یکایک اے ایف آئی سیArmed Forces Institute of Cardiology کی طرف مڑگیا جہاں وہ عدالت سے بچنے کیلئے کئی دن مریض دل بن کر داخل رہے پھر انہیں کمر کا درد لاحق ہوگیا جنرل راحیل شریف نے اپنے شہید بھائی کے دوست کیلئے جس طرح اپنے ادارے کی جگ ہنسائی کروائی ایسی جگ ہنسائی دسمبر1971 کے بعد سے فوج نے نہیں دیکھی تھی۔ ذاتی احسانات کا بدلہ اپنے پورے ادارے کو بدنام کرکے دیا گیا۔ آخر کار کمانڈر کو ملک سے بھاگنے کی اجازت مل گئی، چند ہی دنوں کے بعد ان کے ناچنے کی وڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہوگئی، نہ دل کی بیماری رہی نہ کمر کا درد، اب بھی وقتاً فوقتاً موصوف کی موج مستی کی وڈیو دیکھنے کو ملتی رہتی ہیں۔

اب جبکہ انتخابات قریب آرہے ہیں جنرل( ریٹائرڈ) پرویز مشرف ایک بار پھر ٹی وی پر آکر سیاست کے بارے میں بیانات اور اپنی ممکنہ پاکستان آنے کی آمد کے بارے میں گل افشانی کرتے نظر آتے ہیں، دس ماہ کی طویل مدّت کے بعد اچانک عدالت کو بھی خیال آگیا کہ مشرف کو گرفتار کیا جائے اور ان کی جائیداد ضبط کی جائے، یہ احکامات اس سے پہلے بھی دئیے جاچکے ہیں، بیگم مشرف جن کا کوئی ذریعہ آمدنی نہیں کہتی ہیں یہ جائیدادیں ان کی ہیں حالانکہ وہ کمانڈو شوہر کی زیر کفالت ہیں۔ محِو حیرت ہوں کہ دنیا کیا سے کیا ہوجائے گی


اس خبر کے بارے میں اپنی رائے دیجئے
پسند آئی
 
ٹھیک ہے
 
کوئی رائے نہیں
 
پسند ںہیں آئی
100%


 سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں






     
     
تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ روزنامہ اوصاف محفوظ ہیں۔
Copyright © 2016 Daily Ausaf. All Rights Reserved