پاکستان کا مقدمہ
  14  مارچ‬‮  2018     |     کالمز   |  مزید کالمز

پاکستان کو مستقل دبائو میں رکھنے کی بھارت امریکہ مشترکہ پالیسی کے مضر اثرات باآسانی زائل کیے جاسکتے تھے بشرطیکہ ہمارے فیصلہ ساز بروقت دستیاب وسائل برئوے کار لاتے ۔ خیر سے چار برس مستقل وزیرِ خارجہ کے بغیر گزارنے کے بعد جو عالی دماغ اِس منصب کے لیے موزوں قرار پایا وہ بھی کمال ہے ! فنانشل ایکشن ٹاسک فورس والے حساس معاملے پہ موصوف نے ایک ٹوئیٹ مار کے بنے بنائے کام پہ ایسا پانی پھیرا کے لینے کے دینے پڑ گئے ۔ تاریخ میں غالباً پہلی مرتبہ مسترد کردہ قرار داد دوبارہ پیش کی گئی جس کی بدولت پاکستان کو تین ماہ کے لیے گرے لسٹ میں ڈال دیا گیا ۔ ہمارے قابلِ اعتماد اتحادیوں کی جو سبکی ہوئی وہ بھی کچھ کم نہیں ۔ تین ماہ بعد ہونے والے اجلاس کے لیے جب ہم انہی دوستوں سے تعاون طلب کریں گے تو یقیناً اُن کی یادداشت میں ہمارے محترم وزیرِ خارجہ کا بے وقت کا ٹوئیٹ چٹکیاں ضرور لے گا ۔ سادہ سی بات ہے کہ ہمارے دشمن کیا چاہتے ہیں ؟ اِس بات کا جواب تلاش کرنے کے لیے بھارتی اور مغربی میڈیا پہ مخصوص شہرت کے حامل بعض لکھاریوں کے مضامین پہ نگاہ ڈال لی جائے تو آنکھیں کُھل جاتی ہیں ۔ اِن مضامین کا لُبِ لباب یہ ہوتا ہے کہ پاکستان کو فی الفور دہشت گرد ریاست قرار دینے کے بعد عسکری قوت کا اندھا دھند استعمال کر کے اینٹ سے اینٹ بجا دی جائے ۔ افغانستان کی شورش اور بدامنی کا سارا ملبہ پاکستان پہ ڈال دیا جاتا ہے ۔ کشمیر میں بھارت کے انسانیت سوز مظالم سے صرفِ نظر کر کے پاکستان پہ سرحد پار دہشت گردی کا الزام دھر دیا جاتا ہے ۔ یہی روش یا رجحان ہمارے مقامی انگریزی جرائد میں بھی جڑ پکڑ چکا ہے ۔ دنیا بھر میں ایسے معاملات سے نبٹنے کے لیے سنجیدہ سفارت کاری پہ انحصار کیا جاتا ہے ۔ پیشہ ورانہ مہارت کے حامل افراد کی خدمات حاصل کی جاتی ہیں ۔ مقامی اور بین الاقوامی میڈیا پہ منفی پروپیگنڈے کا توڑ کرنے کے لیے اپنا مئوقف پیش کیا جاتا ہے ۔ ہمارے اربابِ اقتدار کا معاملہ ذرا مختلف ہے ۔ وطنِ عزیز پہ ہونے والی یلغار کا مقابلہ کرنے کے بجائے تما م وسائل اپنی ذات کا دفاع کرنے پہ صرف کیے جا رہے ہیں ۔ صبح سے شام تک سرکاری قصیدہ خواں اپنے صاحب بہادر کی شان میں رطب السان رہتے ہیں ۔ عدالتی فیصلوں اور پیشیوں کی دہائی سُن سُن کے قوم کے کان پک گئے ہیں ۔ کیا جمہوریت کی راگنی الاپنے والے قیادت کے دعویدار یہ بتانا پسند فرمائیں گے کہ عالمی شاطروں نے دہشت گردی کا جو جعلی مقدمہ پاکستان کے خلاف قائم کیا ہے اُس میں ملک کا دفاع کرنے کے لیے کیا بندوبست کیا گیا ہے ؟ ابھی تک اِس حساس مسئلے پہ حکومتِ وقت کی کارکردگی کیا ہے ؟ امریکہ بھارت گٹھ جوڑ کا سدِباب کرنے کے لیے کیا پالیسی تشکیل دی گئی ہے ؟ بھارت کی سرپرستی میں ملک کے طول و عرض میں چلنے والے دہشت گرد نیٹ ورکس کا معاملہ بین الاقوامی فورمز پہ پوری شدت سے کیوں نہیں اُٹھایا جا رہا ؟ قوم کے ذہن میں اُٹھنے والے اِن حساس سوالوں کا جواب دینے کی نہ تو حکومتِ وقت کو فرصت ہے اور نہ ہی حزبِ اختلاف کو اِس جھمیلے میں پڑنے سے کوئی دلچسپی ۔ وقت بے وقت ایک بیان داغنا ہی کافی ہوتا ہے تاکہ سند رہے اور بوقتِ ضرورت کا م آئے ۔ یہ ایک المیہ ہی ہے کہ ملکی سیاست میں ریاست کو لاحق خطرات کے مقابل ذاتی اور جماعتی مفادات کو ترجیح دینے کا ناپسندیدہ چلن عام ہو چکا ہے ۔ دشمنوں کے عزائم کا اندازہ بھارتی جریدے ہندوستان ٹا ئمز میں دو ماہ قبل شائع ہونے والے اُس زہریلے مضمون سے لگایا جاسکتا ہے جس میں پاکستان دشمنی کی شہرت رکھنے والے امریکی سینیٹر لیری پریسلر نے اپنے صدر ٹرمپ کو پاکستان کے خلاف سخت مئوقف اختیار کرنے پہ والہانہ ہدیہ تشکر پیش کیا ہے ۔ موصوف نے واضح الفاظ میں پاکستان کو دہشت گرد ریاست قرار دیتے ہوئے صدرِ امریکہ سے فوجی حملوں کا مطالبہ کیا ہے ۔ واضح رہے کہ یہ وہی بدنامِ زمانہ امریکی سینیٹر ہے جس نے ماضی میں بھارت کی خوشنودی کے لیے لیری پریسلر ترمیم کے ذریعے پاکستان کو بے دست و پا کرنے کی واردات کی تھی ۔ ہندوستان ٹائمز میں لیری پریسلر جیسے مسلمہ پاکستان دشمن شخص کے منفی مضمون کی اشاعت کو نظرانداز نہیں کیا جاسکتا ۔ مضمون کی اشاعت کی ٹائمنگ بھی اِس لحاظ سے معنی خیز ہے کہ لیری پریسلر نے پاکستان پہ دہشتگردی کی سرپرستی کرنے کے بھونڈے الزامات ایسے وقت عائد کیے جبکہ کچھ عرصے بعد فنانشل ایکشن ٹاسک فورس کے فورم پہ امریکہ ، بھارت اور برطانیہ ہمارے خلاف زہریلی قرارداد لانے والے تھے ۔

سوال یہ پیدا ہوتا ہے کی جب بھارت لیری پریسلر جیسے شخص کو ہمارے خلاف اکھاڑے میں اُتار رہا تھا تو اُس وقت ہمارے حکمران کیا شغل فرما رہے تھے ؟ جب ایک امریکی سینیٹر ہندوستان ٹائمز میں پاکستان کے خلاف جھوٹ کا پلندہ شائع کر کے امریکہ کے مفادات کے لیے زمین ہموار کر تا ہے تو ہمارے معزز اراکینِ پارلیمینٹ خصوصاً سینیٹر حضرات اپنی تمام تر علمی لیاقت اور حب الوطنی سمیت کس بِل میں جا گھستے ہیں ؟ پاکستان کا مقدمہ اہم ہے یا پارٹی کے رہنما کا مقدمہ ؟ پاکستان کے دفاع کا مسئلہ حساس ہے یا ذاتی اثاثوں کا دفاع ؟ حلف پاکستان سے وفاداری کا لیا ہے یا پارٹی سربراہ سے وفاداری کا ؟ پاکستان کے مقدمے سے کو ن مخلص ہے ۔ محض اِس ایک سوال کی روشنی میں ملکی سیاست کے حمام کا ننگاپن عیاں ہوجاتا ہے ۔


اس خبر کے بارے میں اپنی رائے دیجئے
پسند آئی
 
ٹھیک ہے
 
کوئی رائے نہیں
 
پسند ںہیں آئی
 


 سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں





  اوصاف سپیشل

آج کا مکمل اخبار پڑھیں

     
     
تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ روزنامہ اوصاف محفوظ ہیں۔
Copyright © 2016 Daily Ausaf. All Rights Reserved