کون سی خواتین ' کہاں کا عالمی دن اور کرپشن بالکل ختم؟
  14  مارچ‬‮  2018     |     کالمز   |  مزید کالمز

سنا ہے کہ 8 مارچ کو خواتین کا عالمی دن گزر گیا … سال میں ایک دن کو خواتین کا عالمی دن قرار دے کر جلسے' جلوس' مظاہرے ' سیمینارز اور واک کرنے سے دنیا کی کتنی خواتین ہیں کہ جن کو ان کے حقوق مل جاتے ہیں ؟ یہ میں تو نہیں جانتا ہاں البتہ اس دن کو منانے والی کسی ڈالر خور این جی او کا خرکار بتاسکے تو ضرور بتائے' ہم تو الحمد للہ مسلمان ہیں اگر امریکہ' روس اور یورپ کے ہاں ''مائوں'' کا شمار بھی خواتین میں ہوتا ہے … ''بہنوں'' کا شمار بھی خواتین میں ہی ہوتا ہے' ''بیٹیوں'' کا شمار بھی خواتین میں ہی ہوتا ہے … تو الحمد للہ مسلمان بیٹوںکا سال کا ہر دن اپنی مائوں کی خدمت کے لئے ہے … مسلمان بھائیوں کا صرف سال کا ایک دن ہی نہیں بلکہ زندگی کا ہر دن اپنی بہنوں کے لئے وقف ہے ۔ جنہوں نے 8 مارچ کو خواتین کا عالمی دن قرار دیکر منایا … ٹی وی چینلز پر پروگرامز اور ٹاک شوز کئے … انہوں نے بھی ''منافقت'' کے تمام ریکار ڈ توڑ ڈالے وہ کیسے؟ کوئی خواتین کے ان عالمی مامے' چاچوں سے پوچھے کہ کیا امریکہ کی ظالمانہ قید میں امریکی دہشت گردوں کے ظلم و ستم بھگتنے والی ڈاکٹر عافیہ صدیقی کا شمار بھی خواتین میں ہوتاہے یا نہیں؟ کیا مقبوضہ کشمیر میں انڈین بدمعاشی کا نشانہ بننے والی آسیہ اندرابی کا شمار بھی خواتین میں ہوتاہے یا نہیں؟ ''شام'' کی وہ ہزاروں عفت مآب مائیں' بہنیں ' بیٹیاںکہ جو عالمی اداروں کے قائم کردہ کیمپوں سے خوراک لینے سے اس لئے انکاری ہیں کہ یہ عالمی غنڈے امداد کے بہانے ان کی آبروریزی کرتے ہیں' کیا شام کی ان ہزاروں مائوں' بہنوں' بیٹیوں کا شمار بھی ''خواتین'' میں ہوتا ہے یا نہیں؟ برما میں بدھ مت دہشت گردوں کے ہاتھوں عصمتیں اور جانیں لٹوانے والی سینکڑوں عورتوں کا شمار بھی ''خواتین'' میں ہوتاہے یا نہیں؟ اگر ان سب کا شمار خواتنی میں ہی ہوتا ہے تو پھر8 مارچ کے دن کو خواتین کا عالمی دن منانے والوں نے دنیا کی ان مظلوم ''خواتین'' کو یاد کیوں نہ کیا؟ عالمی دن کے موقع پر اخباری ایڈیشنز' ٹی وی ٹاک شوز' سیمینارز اور جلسے ان مظلوم خواتین کے حقوق کے تذکروں سے خالی کیوں رہے؟ مجھے معاف کرنا … منافقتوں کے ''گند'' سے بھرے ہوئے وجود جب دانشوروں' کالم نگاروں کا روپ دھار لیں گے تو پھر خواتین کو کیا خاک حقوق ملیں گے؟''خواتین'' کے حقوق کے نام پر جھوٹ تراشنے والے ' خواتین کے حقوق کے نام پر غیر ملکی آقائوں سے فنڈز وصول کرنے والے' خواتین کے حقوق کے نام پر پردے' برقعے' چاددر اور چاردیواری کے تقدس کا مذاق اڑانے والے' یہی دراصل خواتین کے حقوق کے اصل دشمن ہیں … یہ کہتے ہیں کہ خواتین کو مردوںکے برابر حقوق ملنے چاہئیں … ان ''جاہلوں'' کو کوئی بتائے کہ بعض اوقات خواتین کے حقوق مردوں سے بھی کئی گنا بڑھ جایا کرتے ہیں ''خواتین'' کے حقوق کے حوالے سے یورپ کی چراگاہوں پر منہ مارنے والے جاہلوں کو کوئی بتائے کہ ہمارے لئے مذہب اسلام کافی ہے۔ عورتوں کو جو حقوق اسلام نے دیئے ہیں بس وہی اصل ''حقوق'' ہیں … باقی سب تو شیطانی چکر اور ''پیسہ پھینک تماشہ دیکھ'' کے کرتب ہیں' اب آتے ہیں ایک دوسرے موضوع کی طرف … ٹرانسپرنسی انٹرنیشنل کی ایک تازہ رپورٹ کے مطابق پاکستان میں سب سے زیادہ کرپٹ سیاسی جماعتیں اور سیاست دان ہیں … کیا واقعی ایسا ہے؟ آپ اپنے گردو نواح میں یو سی ناظمین سے لے کر ایم پی اے ' ایم این ایز تک ' وفاقی وزرائ' صوبائی وزراء سے لے کر وزیراعظموں تک … ایک تنقیدی جائزہ لیں تو کیا حکومتی سیاست دان اور کیا اپوزیشن کے سیاست دان سب کی ''امانت و دیانت'' کے چرچے آسمانوں تک ہیں یا نہیں؟ پاکستانی قوم کو ایسے امانت دار اور دیانت دار سیاست دان اور سیاسی جماعتیں مبارک ہوں … شائد پاکستان میں رائج مغربی جمہوریت کا اصل حسن ہی کرپشن ' چور بازاری' لوٹ مار' آپا دھاپی اور سیاسی تفریق و انتشار ہے… جب ''جمہوریت'' نامی ''حسینہ'' اس قدر خصائل کی مالکہ ہو تو پھر ملک میں دودھ اور شہد کی جتنی بھی نہریں نکال لی جائیں وہ کم ہیں … حکمرانوں اور سیاست دانوں کو تو چھوڑیئے … ٹرانسپرنسی نے اپنی رپورٹ میں سیاست دانوں اور سیاسی جماعتوں کے بعد کرپشن میں دوسرا نمبر صحت کے شعبے' تیسرا نمبرتعلیمی اداروںکی لوٹ مار اور اس کے بعد این جی اوز کی لوٹ کھسوٹ کی نشاندہی کرکے جو ''جھوٹ'' بولا ہے ہم اس پر بھلا یقین کیسے کرسکتے ہیں … ہمارے سیاست دان' حکمران' سیاسی جماعتیں ''امانت و دیانت'' کی خوگر… ہمارے شعبہ صحت میں ایکٹو… ڈاکٹرز' نرسیں' سرکاری ہسپتال ہوں یا غیر سرکاری ہسپتال مریضوں کے لئے نہایت مہربان بلکہ آغوش مادر کی طرح … اگر دوا ساز کمپنیوں نے لوٹ کھسوٹ کا بازار گرم کررکھا ہے تو پھر وہ بے چاری کمپنیاں کیا کریں؟ کیا کمائی کرنا ان کا حق نہیں ہے؟ اگر سرکاری ہسپتالوں میں مریضوں کی دوائیاںمارکیٹ کے میڈیکل سٹوروں پر بک جاتی ہیں ' اگر ڈاکٹرز … مسیحاء کی بجائے''قصائی'' بن کر مریضوں کو ٹریٹ کرتے ہیں تو پھر کیا ہوا؟ کیا بے چارے ڈاکٹروں کا کوئی حق نہیں ہے؟

اگر جعلی دوائوں پولیو کے جعلی قطروں اور خسرے کے جعلی ٹیکوں کی وجہ سے بچوں کی شرح اموات بڑھتی چلی جارہی ہے تو کیا ہوا؟ یہ ایسے نہ مرتے تو کسی اور وجہ سے مر جاتے … چلیں جعلی ادویات بنانے والے بے چاروں کا تو بھلا ہوا … اور کچھ نہیں تو ان کی ''تجوریوں'' کے پیٹ تو نوٹوں سے بھر گئے… اگر تعلیمی ادارے ''تعلیم'' کی بجائے ''روشن خیالی'' پھیلا رہے ہیں … سائنس دان بنانے کی بجائے … نوجوانوں کو گلوکار' اداکار اور ڈانسر بنارہے ہیں اور عملی زندگی میں رشوت خور' ضمیر فروش اور ملک فروش پیدا کررہے ہیں … تو اس کا انہیں اس لئے بھی حق ہے کہ نئے دور کا شاید چلن ہی یہ ہے۔ میں نے ٹرانسپرنسی انٹرنیشنل کی رپورٹ کو اس لئے ''جھوٹ'' لکھا … کیونکہ ہمارے ملک میں ''کرپشن'' تو سرے سے ہی نہیں' جس ملک کا سیاست دان احتساب عدالت میں پیش ہونے کے لئے چالیس ' چالیس گاڑیوں کے بیڑے کے پرٹوکول میں جائے ' جس ملک میں احتساب کرنے والے ججوں کو سیاست دان' ان کی اولادیں اور درباری … چوکوں' چوراہوں پر ہونے والے عوامی جلسوں میں للکاریں … اس ملک میں بھلا کرپشن اور لوٹ کھسوٹ کا کیا کام؟


اس خبر کے بارے میں اپنی رائے دیجئے
پسند آئی
100%
ٹھیک ہے
 
کوئی رائے نہیں
 
پسند ںہیں آئی
 


 سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں






     
     
تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ روزنامہ اوصاف محفوظ ہیں۔
Copyright © 2016 Daily Ausaf. All Rights Reserved