کیا ہوا اور کیا ہونے جا رہا ہے!
  14  مارچ‬‮  2018     |     کالمز   |  مزید کالمز

٭سینٹ کے انتخابات! بہت سی باتیں، بہت سے محاورے گڈمڈ ہو رہے ہیں۔ کالم بے ترتیب ہو رہا ہے! سینٹ کے ارکان کے الیکشن میں جو کھوتا ٹریڈنگ ہوئی، پھر سینٹ کے چیئرمین کے الیکشن پرآگ اور پانی ایک دوسرے کے ساتھ کس طرح بغل گیر ہو گئے! س پر چیخ و پکار ہا ہا کار! کہیں جشن، کہیں مجلس عزا! اس سارے کھلواڑ میں سب سے زیادہ ن لیگ کا تماشا لگا! بلوچستان میں حکومت گنوائی، سینٹ کے لئے ن لیگ کی ٹکٹوں والے امیدواروں سے نام اور حوالہ گم ہو گیا اور پھر سینٹ میں اکثریتی پارٹی ہونے کے باوجود جو انجام ہوا! کیسی کیسی بڑھکیں! کیسے کیسے دعوے! کیسے کیسے اعلانات اور پوری حکومتی معاونت! مگر امیر خسرو کی زبان میں نتیجہ یہ کہ'' کھیر پکائی جتن سے چرخا دیا جلا، آیا کُتّا کھا گیاتو بیٹھی ڈھول بجا!'' سب جلسے بے کار، سب دعوے کھوکھلے نکلے! اور اب کھسیانی بلیاں کھمبا نوچ کر کہہ رہی ہیں کہ ''مجھ کو مارا، میرے ماموں کو مار کے دیکھ! ذرا عام انتخابات تو آنے دیں!'' اور ن لیگ کے بچے جمورے! ایک صحافی نے ایک بچہ جمورا سے پوچھا کہ آپ لوگوں کے ساتھ یہ کیا اور کیسے ہوا؟ اس نے جواب دیا، میں بہت پریشان ہوں، مجھے اکیلا چھوڑ دو اور سگریٹ پینے دو!'' دوسرے بچے جموروں کے بارے میں پتہ چلا کہ الیکشن ہارنے سے زیادہ اس لئے! پریشان تھے، توہین عدالت کے سلسلے میں فرد جرم کا سامنا کرنے سپریم کورٹ میں جا رہے تھے! ایک بچے پر تو فرد جرم عائد بھی ہو گئی۔''مرے کو مارے شاہ مدار!'' ابھی ن لیگ کا کچھ ذکر باقی ہے، مگر پیپلزپارٹی اور تحریک انصاف کو بھی کچھ ہاتھ نہ آیا، خالی ہاتھ گھر سے نکلے، خالی واپس آئے۔ ان کا ذکر بعد میں، انتخابات میں ہار جیت ہوتی رہتی ہے، آج تُو کل مَیں! مگر ن لیگ کے لئے اصل اذیت ناک مرحلہ تو ابھی سامنے آنے والا ہے۔ اگلے چند ہفتوں میں مختلف عدالتوں نے، خاص طور پر احتساب عدالت نے شریف خاندان، دانیال عزیز، طلال چودھری، نہال ہاشمی کے خلاف مختلف ریفرنسوں اور توہین عدالت وغیرہ کے مقدموں کے فیصلے سنانے ہیں۔ شریف خاندان تو پہلے ہی اقتدار بدر ہو چکا۔ اس کے حاشیہ برداروں کی معذرتیں مسترد ہو کر فرد جرم کا روپ دھار چکی ہیں۔ دو دو سطری فیصلوں سے یہ سب کے سب کس صورت حال سے دوچار ہونے والے ہیں، اس کے تصور سے یہ سب لرز رہے ہیں! وزارتیں، مشاورتیں، سب عہدے ختم مگر جیلوں کی بلند دیواریں! اندر دھوپ نہ ہوا! دیواروں میں لکھی ہوئی تحریریں نمایاں ہوتی جا رہی ہیں! اور اب آگ اور پانی کا ذکر! ایک دوسرے کی جانی دشمن، ایک دوسرے کو کریہہ ترین القابات اور خطابات دینے والی تحریک انصاف اور پیپلزپارٹی کس طرح ایک دوسرے سے بغل گیر ہو کر ایک دوسرے سے ایسے گھل مل گئیں جس طرح پانی میں پتاسہ گھل جاتا ہے! کہاں کے اصول؟ کون سی اقدار؟ صرف تین روز پہلے عمران خان نے اعلان کیا کہ تحریک انصاف سینٹ کے چیئرمین کے الیکشن میں پیپلزپارٹی یا ن لیگ، کے کسی امیدوار کو ووٹ نہیں دے گی۔ ادھر دبئی کے مستقل شہری آصف زرداری نے اعلان کیا کہ سینٹ کا چیئرمین پیپلزپارٹی کا ہو گا اور یہ کہ آئندہ مشرق مغرب، شمال جنوب ہر طرف پیپلزپرٹی کی حکومتیں بنیں گی! اور جب نتیجہ آیا تو معلوم ہوا کہ بلیاں لڑتی رہ گئیں، کیک… کھا گیا! چیئرمین نہ تحریک انصاف کا نہ پیپلزپارٹی کا! یہ اور بات کہ نئے چیئرمین ہمیشہ سے آصف زرداری کے ساتھ رہے ہیں اور اب بھی چیئرمینی کا حلف اٹھانے کے فوراً بعد اسلام آباد کے زرداری ہائوس میں نیازمندی کا سلام کرنے پہنچ گئے! اور دوسری طرف! عمران خان نے ایک اور قلابازی کھائی، پرجوش اعلان کیا کہ پیپلزپارٹی کے کسی امیدوار کو ووٹ نہیں دیا جائے اور ڈپٹی چیئرمین سینٹ کے لئے پیپلزپارٹی کے امیدوار سلیم مانڈووی والا کو اپنے سارے ووٹ دے کر فخر کا اعلان بھی کیا جا رہا ہے کہ ہاں ہم نے پیپلزپارٹی کو کامیاب کرایا ہے!! اس پر کیا تبصرہ کیا جائے؟ کہاں ڈاکو اور چور کے تعاقب کے نعرے اور کہاں ''مَن تُو شُدی، تُو مَن شدی'' کا علانیہ اعتراف! اس سارے عمل میں 'بھیڑوں بکریوں'' کی جو خرید و فروخت ہوئی! اس کا ذکر کرتے ہوئے شرم آتی ہے۔ اس سلسلے میں چند روز قبل اسی کالم میں اسی موضوع پر ایک غزل لکھی تھی اس کے صرف دو شعر کہ: قَصرِ شہی میں جُبّہ و دستار بک گئے نیلام گھر میں قافلہ سالار بک گئے! شب بھر رہی فضا میں وفاداریوں کی گونج سورج چڑھا تو سارے وفادار بک گئے! آج قائداعظم یاد آ رہے ہیں۔ زندہ ہوتے تو ڈنڈا پکڑ کر ان سے سب کو اس ملک سے نکال دیتے جسے اعلیٰ اسلامی اصولوں اور اخلاقی اقدار کی بنیاد پر وجود میں لایا گیا تھا! ٭ایف آئی اے نے امریکہ میں سابق صدر آصف زرداری کے لاڈلے سفیر حسین حقانی پر سیکرٹ فنڈ کی آڑ میں پاکستانی خزانے کے تقریباً آٹھ ارب چھ کروڑ روپے کی خوردبرد کئے جانے کے الزام میں مقدمہ درج کر لیا ہے۔ اس سلسلے میں 'انٹرنیشنل پولیس' کو حسین حقانی کو پاکستان لانے کے لئے ریڈ وارنٹ جاری کرنے کی کارروائی شروع کر دی گئی ہے۔ اس سے پہلے ایک کیس میں انٹرپول نے وارنٹ جاری کرنے سے انکار کر دیا تھا کہ وہ سیاسی کیس تھا۔ حسین حقانی نے نئے کیس کو بھی سیاسی قرار دے کر یقین ظاہر کیا ہے کہ اب بھی کچھ نہیں ہو گا۔ ٭سپریم کورٹ نے اہم تاریخی حکم جاری کیا ہے کہ آئندہ کسی سرکاری اشتہار پر کسی سیاستدان کی تصویر نہیں چھپے گی۔ ایسے ہی ایک حکم پر پنجاب کے وزیراعلیٰ کی تصویر شائع ہونے پر سپریم کورٹ نے وزیراعلیٰ کو اپنے اشتہار کی قیمت 55 لاکھ روپے جمع کرانے کا حکم دیا تھا۔ اس کی تعمیل ہو گئی ہے اور وزیراعلیٰ کے دستخطوں سے اس کی پارٹی کی طرف سے 55 لاکھ روپے کا چیک عدالت میں پیش کر دیا گیا! دوسرے صوبوں کو ایسا ہی حکم جاری کیا گیا کہ آئندہ کسی موجودہ یا سابق سیاسی رہنما کی تصویر سرکاری اشتہار میں نہیں چھپے گی۔ ٭ ایران کے وزیرخارجہ جواد ظریف نے اسلام آباد میں پھرپاکستان کے ساتھ گہری محبت کا اظہار کیا ہے، ایرانی وزیرخارجہ نے یہ بتانے کی ضرورت محسوس نہیں کی کہ ایران، گیس کے معاہدہ پر عملدرآمد نہ ہونے کی بنا پر کس گہری محبت کے زیر اثر پاکستان کے خلاف کھربوں روپے ہرجانہ کا کیس عالمی عدالت میں لے جا رہا ہے! ٭اسلام آباد میں مسلم لیگ کی جنرل کونسل کے اجلاس میں میاں شہبازشریف کو پارٹی کا مستقل صدر منتخب کر لیا گیا۔ اس موقع پر ن لیگ کے ارکان کے ہجوم نے کنونشن سنٹر کے دروازوں کے شیشے توڑ دیئے۔

٭ایس ایم ایس: میری بہن حسینہ بی بی، عمر 35 سال ،کو دو سال سے کینسر ہے۔ اس کا راولپنڈی اور دوسرے مقامات پر علاج کرایا مگر آرام نہیں آرہا۔ ہم بہت غریب لوگ ہیں۔ میں محنت مزدوری کرتا ہوں۔ علاج بہت مہنگا ہے جوہماری استطاعت سے باہر ہے۔ بہن کے علاج کے لئے اخبار میں اپیل چھاپ دیں۔ سارے میڈیکل سرٹیفکیٹ موجود ہیں۔ خادم حسین گائوں فتح پور تحصیل حویلی فارورڈ کہوٹہ (03557103075) (کسی قسم کی امداد سے پہلے ذاتی تحقیق ضروری ہے۔) ٭ہمارا25 سالہ پرانا مطالبہ ہے۔ آج تک عمل نہیں ہوا۔ ہمارے گائوں کا وہ راستہ جس پر ناظم کا دفتر بھی ہے، بری طرح برباد ہو چکا ہے۔ بارش میں گزرنا بالکل ناممکن ہو جاتا ہے۔ پانچ سال پہلے تحریک انصاف کے ووٹ مانگنے والوں نے بہت بلند وعدے کئے، پھر ادھر چکر لگانا ہی گوارا نہ کیا۔ پختونخوا کی حکومت کون سی تبدیلی کے اعلانات کر رہی ہے؟ یوسف خان، TANCHE آباد، نورنگ ضلع لکی مروت (03329771071)


اس خبر کے بارے میں اپنی رائے دیجئے
پسند آئی
25%
ٹھیک ہے
25%
کوئی رائے نہیں
25%
پسند ںہیں آئی
25%


 سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں





  اوصاف سپیشل

آج کا مکمل اخبار پڑھیں

     
     
تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ روزنامہ اوصاف محفوظ ہیں۔
Copyright © 2016 Daily Ausaf. All Rights Reserved