خلافتِ عثمانیہ اور شیخ الہند مولانا محمود حسن
  18  مارچ‬‮  2018     |     کالمز   |  مزید کالمز

(گزشتہ سے پیوستہ) ترکی کی خلافت عثمانیہ پانچ سو سال تک مسلمانوں کی خدمات سرانجام دینے کے بعد اضمحلال کا شکار ہونے کے باوجود ایک حد تک مسلمانوں کی وحدت کی علامت اور قوت و شوکت کے نشان کی حیثیت اختیار کیے ہوئے تھی۔ یورپ کی صلیبی قوتوں کو عثمانی خلفا بالخصوص سلطان محمد فاتح کی مجاہدانہ یلغار ابھی تک یاد تھی اور قسطنطنیہ پر مسلمانوں کے ہاتھوں ان کے دلوں میں لگنے والے گھائو مندمل نہیں ہو پائے تھے۔ اس لیے ان صلیبی قوتوں کی تمام تر حکمت عملی اور پالیسیوں کا محور یہ نکتہ قرار دیا گیا تھا کہ جس طرح بھی ممکن ہو خلافت عثمانیہ کا تیا پانچہ کر کے نہ صرف عالم اسلام کو ٹکڑے ٹکڑے کر دیا جائے بلکہ کوئی ایسی صورت اختیار کی جائے کہ بیت المقدس کو مسلمانوں سے چھین کر یہودیوں کے حوالے کیا جا سکے تاکہ اس عظیم احسان کے صلہ میں صیہونی اور صلیبی قوتوں کے درمیان اشتراک و اتحاد کی راہ ہموار ہو اور یہودیوں کی دولت عالمی اثرات اور سازشی ذہن کو مغربی استعمار کے حق میں استعمال کرنے کی صورت پیدا ہو۔ چنانچہ خلافت عثمانیہ کے ایک صوبہ حجاز مقدس کے گورنر شریف مکہ حسین کو انگریزوں نے پورے عرب کی خلافت کا لالچ دے کر بغاوت کے لیے تیار کیا اور ترکوں کی خلافت کے خلاف فتوی کی آڑ میں ان کے خلاف عالم اسلام میں نفرت اور غیظ و غضب کی آگ بھڑکانے کا سامان مہیا کیا۔ شریف مکہ حسین کے ایما پر ترکوں کے خلاف فتوی جب مرتب ہوا اور اس کی ترتیب و اشاعت میں ہندوستان کے بعض علما بھی شریک کار ہوئے تو حضرت شیخ الہند ان دنوں حجاز میں تھے، آپ کے سامنے یہ فتوی پیش ہوا مگر آپ نے کمالِ بصیرت کا مظاہرہ کرتے ہوئے اس فتوی پر دستخط کرنے سے انکار کر دیا۔ ترکوں کے خلاف یہ فتوی شریف مکہ کی بغاوت کی بنیاد بنا جس کے نتائج پر ایک نظر ڈال لیجئے: خلافتِ عثمانیہ کے زیرنگیں عرب علاقے کئی مستقل عرب حکومتوں میں تبدیل ہوگئے۔اسی بندر بانٹ میں استعماری قوتوں نے فلسطین میں یہودیوں کو بسانے اور ان کے لیے الگ اسرائیلی ریاست کے قیام کی راہ نکالی۔ خود خلافت عثمانیہ یہ وار نہ سہہ سکی اور یورپ کا یہ مرد بیمار آخری ہچکی لے کر عالمی نقشے سے غائب ہوگیا۔ مگر اس کے برعکس شیخ الہند مولانا محمود حسن کی طرف سے ترکوں کے خلاف فتوی پر دستخط سے انکار کے اثرات یہ ظاہر ہوئے کہ پورے ہندوستان میں خلافتِ عثمانیہ کے حق میں مولانا محمد علی جوہر اور دیگر قومی قائدین کی راہنمائی میں تحریک خلافت کے عنوان سے ایک پرجوش تحریک چلی جو آزادی کی آئندہ جدوجہد کی بنیاد ثابت ہوئی۔ شیخ الہند مولانا محمود حسن کے سامنے دراصل پورے عالم اسلام کی آزادی کا تصور تھا اور وہ استعماری قوتوں کے زیر تسلط تمام مسلم ممالک کی حریت کے لیے مضطرب تھے۔ لیکن وہ یہ سمجھتے تھے کہ ان استعماری قوتوں میں سب سے بڑا استعمار برطانوی سامراج ہے اور اس کی قوت کا اصل سرچشمہ متحدہ ہندوستان ہے۔ اس لیے عالم اسلام کی آزادی کا دارومدار اس پر ہے کہ ہندوستان آزاد ہو تاکہ برطانوی استعمار میں باقی ممالک کو زیرتسلط رکھنے کی سکت باقی نہ رہے اور پھر دوسری استعماری قوتوں کو بھی مسلم ممالک کو آزادی دینے پر مجبور ہونا پڑے۔ چنانچہ شیخ الہند کی جدوجہد کا اصل ہدف متحدہ ہندوستان کی آزادی رہا ہے اور اس مضبوط و مستحکم بنیاد پر انہوں نے عالم اسلام کی تمام تحریکات آزادی کو نہ صرف فکر و نظر کی توانائی عطا فرمائی بلکہ جہد و عمل اور ایثار و استقامت کا حوصلہ بھی بخشا۔ ۔ آج شیخ الہند کے اس تصور کی صداقت تاریخ کی ایک روشن حقیقت کی صورت میں ہمارے سامنے ہے کہ ہندوستان کی آزادی کے ساتھ ہی عالم اسلام کے گرد استعماری قوتوں کے غلبہ کا حصار دیکھتے ہی دیکھتے ربع صدی سے بھی کم عرصہ میں ٹوٹ گیا ہے اور میں اسے افغانستان اور آزاد قبائل کے ساتھ شیخ الہند کے گہرے فکری، علمی اور سیاسی روابط ہی کا ثمرہ قرار دوں گا کہ افغانستان پر روسی استعمار کی مسلح یلغار دم توڑتی دکھائی دے رہی ہے۔ آج آپ افغانستان میں روس جیسی عالمی استعمار اور سپرپاور کے خلاف صف آرا افغان مجاہدوں اور حریت پسندوں پر نظر ڈالیں تو آپ کو ان میں ایک بڑی تعداد ان علما کی نظر آئے گی جو حضرت مولانا سید حسین احمد مدنی اور حضرت مولانا عبد الحق کے صرف دو واسطوں سے شیخ الہند مولانا محمود حسن کی شاگردی کا شرف رکھتے ہیں۔ اور اس طرح عملاً افغانستان کے جہاد کی کڑیاں بھی شیخ الہند کی اسی تحریک سے جا ملتی ہیں جس کا مقصد عالم اسلام کو ہر قسم کے استعمار اور سامراج سے نجات دلا کر مکمل آزادی اور غلبہ اسلام کی منزل سے ہمکنار کرنا تھا۔ شیخ الہند مولانا محمود حسن، شیخ الاسلام مولانا سید حسین احمد مدنی اور شیخ الحدیث مولانا عبد الحق کے فکر و عمل اور ایثار و قربانی کے وارث افغان مجاہدین پورے عالم اسلام کے تشکر کے مستحق ہیں کہ انہوں نے: بے سروسامانی کی حالت میں اپنے وطن کی دینی غیرت و تشخص کا تحفظ کیا۔ پاکستان اور مشرق وسطی کی طرف روسی استعمار کے بڑھتے ہوئے قدموں کو روک دیا۔

اپنی جرات و استقامت اور جذبہ جہاد کے ساتھ روس کی ان مسلم ریاستوں میں دینی بیداری کی لہر دوڑا دی جو روسی سامراج کے آہنی شکنجہ میں جکڑی ہوئی ہیں۔ اور آج جب روس جیسی عالمی قوت اپنے زیر تسلط مسلم علاقوں بالخصوص قازقستان اور ازبکستان میں مسلمانوں کی بڑھتی ہوئی دینی بیداری سے خوفزدہ ہو کر افغانستان سے واپسی کی راہیں تلاش کر رہی ہے تو فکر و نظر کی جبینِ نیاز عالمِ تصور میں اس عظیم شخصیت کے سامنے خم ہونے کے لیے بے چین ہے جسے دنیا شیخ الہند مولانا محمود حسن کے نام سے یاد کرتی ہے۔ اللہ تعالی ان کی قبر پر کروڑوں رحمتیں نازل فرمائیں، آمین یا رب العالمین۔


اس خبر کے بارے میں اپنی رائے دیجئے
پسند آئی
 
ٹھیک ہے
 
کوئی رائے نہیں
 
پسند ںہیں آئی
 


 انٹر نیٹ کی دنیا میں سب سے زیادہ پڑھے جانے والے مضا مینں
loading...

 سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں






آج کا مکمل اخبار پڑھیں

کالمز

کالم /بلاگ


     
     
تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ روزنامہ اوصاف محفوظ ہیں۔
Copyright © 2016 Daily Ausaf. All Rights Reserved