وزیراعظم کا دورہ امریکہ اور ترقیاتی فنڈ زکا ہنگامہ
  18  مارچ‬‮  2018     |     کالمز   |  مزید کالمز

٭ایس ایم ایس: سب سے پہلے ایک ماں کی زندگی بچانے کی اپیل: راولپنڈی سے وقاص کا پیغام: ''میری والدہ کوچھ ماہ سے بلڈ کینسرہے۔ مقامی ہسپتال میں داخل ہیں۔ اب تک خون کی 350 بوتلیں لگ چکی ہیں۔ مزید کی فوری ضرورت ہے۔ ہم بہت پریشان ہیں۔ ہماری اپیل شائع کردیں۔ خون کاگروپA+ہے۔ قارئین کے نام والدہ کی صحت کی اپیل بھی چھاپ دیں۔ خدا تعالیٰ اجر دے گا۔ وقاص (0342-5938471) راولپنڈی۔ ٭وزیراعظم شاہد خاقان عباسی اپنے ہفتہ وار دوروں کے سلسلے میں اچانک چھ روزہ دورہ پرامریکہ پہنچ گئے۔ امریکہ کے نائب صدر ''پینس'' کے ساتھ صرف نصف گھنٹہ کی ملاقات اور باقی چھ دن سرکاری سرگرمیوں کے نام پر سیر سپاٹا! ابھی تین دن پہلے نیپال کا دورہ کیا تھا۔ کیوں کیا تھا ، کیا حاصل ہوا ،کچھ پتہ نہیں۔وزیراعظم کی مدت 30مئی کو ختم ہو رہی ہے۔ اب تک کی مختصرمدت میں مختلف ممالک کے بے شمار دورے کر چکے ہیں۔ عام طورپر کسی ملک کاوزیراعظم اتنی مدت ( چھ دن) کے لیے ملک سے باہر نہیں جاتا۔ یہ ''اعزاز'' صرف پاکستان کو ہی حاصل ہے کہ اس کا ایک وزیراعظم دل کے آپریشن کے نام پر دو ماہ تک لندن میں پڑا رہا۔ دل کے نازک آپریشن کے بعد پاکستان میں مسلسل بڑے بڑے جلسوں میں بھرپور جوش وخروش کی تقریر یں کرنے لگا۔ اب تک کیے جارہاہے!اس وزیراعظم نے چار سال میں70 سے زیادہ بیرونی دورے کیے، تاریخ میں اس تعداد کی کوئی مثال نہیں ملتی۔ موجودہ وزیراعظم کو عبوری اور عارضی وزیراعظم بنایاگیا۔ان صاحب کے بھی مختصر مدت میں بے تحاشا دورے لگ چکے ہیں۔ ملک کی اس وقت جو سیاسی اورمالی انتشار اور بدحالی کی صور تحال ہے، اس کے پیش نظر کوئی حقیقی مخلص حکمران ایک روز کے لیے بھی ملک سے باہر جانے کی پوزیشن میں نہیں ہوتا۔ یہ کہ مسلسل چھ دن وہاں کیا کریں گے؟ مگر اس سے بھی زیادہ اہم کہ صرف امریکہ کے نائب صدر سے ملاقات وہ بھی محض نصف گھنٹے کی!امریکہ میں ٹرمپ جیسے بددماغ ، بدمزاج صدر کے سامنے ان کے نائب صدر کی کیا اہمیت ہے؟ نائب صدر کے پاس ویسے بھی کوئی اہم اختیارات نہیں ہوتے البتہ وہ امریکی سینیٹ کا چیئرمین ہوتاہے وہ سینیٹ جوپہلے ہی پاکستان کی امدادبند کر چکا ہے، اس کے بحال ہونے کاکوئی امکان تو کجا، سینیٹ پاکستان پر مزید پابندیوں کامطالبہ کررہاہے۔ ٭اور اسی وزیراعظم نے اپنے ایک ایسے کاروباری شراکت دار کو امریکہ میں سفیرمقررکردیا ہے جس کی تقرری پر مختلف سطحوں میں اعتراضات شروع ہوگئے ہیں، اسے عدالت میں چیلنج کردیاگیاہے۔ اسمبلیوں میں شور مچ رہاہے کہ ایک ایسے محض بی اے پاس شخص کو دنیا کے سب سے طاقت ور ملک میں سفیر بنایا جارہاہے جس کو سفارتی اور بین الاقوامی امور کاایک دن کا بھی کوئی تجربہ نہیں۔ اس ملک میں کیاکیا کچھ ہورہاہے؟ حسین حقانی جیسے ملک دشمن شخص کو امریکہ میں سفیر بنادیا گیا۔ اس نے ایک ہی رات میں چار ہزارامریکی کمانڈوز کو پاکستان کے ویزے جاری کردیئے۔ میں اپنے ملک کے لیے خیر کی دعا مانگ رہاہوں۔ ٭خبریں پہنچ رہی ہیں کہ قومی اسمبلی میں اربوں کے ترقیاتی فنڈز کے نام پر قومی خزانے کی بندر بانٹ پر ہنگامہ ہو گیا۔ ہنگامہ اپوزیشن نے شروع کیا، اس بات پر نہیں کہ خزانہ کیوں لٹا یا جارہاہے ، بلکہ اس بات پر کہ لوٹ مار کے مال غنیمت میں اپوزیشن کو کیوں حصہ نہیں دیا جارہا!! یہ لوگ خود کو عوامی نمائندے کہلاتے ہیں۔ اوّل تو یہ کہ قومی خزانے عوام کے خون پسینے سے جمع ہونے والی قوم کی امانت ہے، یہ کسی رکن اسمبلی کا گھر یلو ورثہ نہیں ہے کہ اسے شادی بیاہ پر لٹائی جانے والی دولت کی طرح ارکان اسمبلی میں تحفے کے طورپر بانٹ دیاجائے۔ یہ مکروہ رسم جنرل ضیاء الحق نے ارکان اسمبلی کو خریدنے کے لیے شروع کی تھی۔ اسے انتخابی حلقوں کے ترقیاتی فنڈ کا نام دے دیاگیا اور رکن اسمبلی کو اپنی مرضی کے ٹھیکیدار کے ذریعے اپنی مرضی کا کام کرانے کی اجازت دے دی گئی ! کسی حلقے میں کام تو جوہوا وہ سب کو پتہ ہے مگر یہ کہ رکن اسمبلی اور ٹھیکیدار کی جیبیں بھرگئیں۔ زیادہ اہم سوال یہ ہے کہ 30مئی کو موجودہ اسمبلی اور حکومت کے ختم ہونے میں صرف دو ماہ اور 12دن باقی رہ گئے ہیں۔ اس مختصر عرصہ میں کیا ترقیاتی کام کیے جاسکتے ہیں، ویسے بھی اسمبلی کے انتخابات کا اعلان ہوتے ہی ہر قسم کے ترقیاتی کام روک دیئے جاتے ہیں۔ عبوری حکومت کے لیے صلاح مشورے شروع ہوچکے ہیں اور انتخابات کا جلد اعلان ہونے والاہے! ایسے حالات میں ترقیاتی فنڈ کیسے اور کہاں جاسکتے ہیں۔ سوائے ارکان اسمبلی کی تجوریوں کے؟ میرے خدا، پاک پروردگار! اس ملک کے ساتھ بہت ہوچکی ہے اسے مزید لوٹ کھسوٹ سے بچا دے! ٭ایک اچھی خبر جو عام لوگوں تک نہیںپہنچتی، وہ یہ کہ علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی کے زیر اہتمام ملک کی جیلوں میں بند تقریباً ایک ہزار قیدوں کو ابتداء سے گریجویشن تک بالکل مفت تعلیم دی جارہی ہے، انہیں بالکل مفت کتابیں اورتعلیمی لٹریچر فراہم کیاجاتا ہے تاکہ وہ پڑھ لکھ کر باہر آئیں تو ملک اور معاشرے میں مفید اور ذمہ دارانہ کردارادا کرسکیں۔ اس سے قبل علامہ اقبا ل یونیورسٹی کے زیر اہتمام جیلوں میں بند تقریباً چارہزار قیدیوں نے امتحانات دیئے ۔ ان میں سے اچھی خاصی تعداد کامیاب ہوچکی ہے۔ یونیورسٹی کے زیراہتما م جیلوں میں باقاعدہ لیکچر بھی دیئے جاتے ہیں اور امتحانات بھی جیلوں کے اندر ہی ہوتے ہیں۔ یہ کام مختلف تعلیمی بورڈ بھی کررہے ہیں۔ یہ بہت اچھااورقابل تحسین اقدام اور انتظام ہے، حیرت ہے اس کی کوئی تشہیر نہیں ہوئی! ٭نیب نے پنجاب کے ایک بڑے لاڈلے افسر احد چیمہ کو بھاری کرپشن کے الزام میں2فروری کو گرفتار کیا۔ حکومت پنجاب نے ڈیڑھ ماہ کے بعد اسے معطل کیے جانے کاحکم جاری کیا ہے! اس اقدام میں ڈیڑھ ماہ کی مدت کیوں لگ گئی! مگر کون سی حکومت یہ کام کرتی؟ حکومت تواس عرصے میں خود اس افسر کو بچانے کے لیے ہنگامے کرانے میں مصروف تھی! بالآخر دباؤ میں آناپڑا اور پھر معطلی بھی صرف تین ماہ کے لیے ، یعنی ڈیڑھ ماہ کے بعد وہ افسر پھربحال ہو جائے گا! یہ اور بات کہ نیب کے تیور بہت سخت دکھائی دے رہے ہیں۔ اس نے اس کیس میں سنگین کرپشن کے بہت سے مزید ثبوت پیش کردیئے ہیں۔

٭ایک دلچسپ بات! آزاد کشمیر میں کوہالہ کے نزدیک منہامہ گاؤں سے محمدرشید عباسی صاحب کا ایک فون! انہی کے الفاظ میں پڑھئے:'' شاہ صاحب! ایک دلچسپ بات بتاؤں۔ تقریباً ڈیڑھ ماہ قبل ہمارے گھرکی دیوار پر علی الصبح ایک کو ّا آبیٹھا۔ اس نے کائیں کائیں کرکے ظاہر کیاکہ وہ بھوکا ہے۔ میں نے اس کے لیے کچھ کھانے اور پانی کاانتظام کردیا۔ وہ اس طرح کائیں کائیں کرتا چلا گیا جیسے شکریہ ادا کررہاہو۔ اگلے روز علی الصبح پھرآگیا۔ میں نے پھر اسے کھانے اور پینے کو کچھ دیا۔ وہ ڈیڑھ ماہ سے روزانہ، صبح ایک خاص وقت پر آتا ہے۔ ہم اسے کھانے کوکچھ دیتے ہیں۔ وہ ہم سے بہت مانوس ہوگیا ہے، بالکل نہیں ڈرتا۔ کھاناکھاتا ہے اورپانی پی کر چلاجاتا ہے۔ دلچسپ بات کہ یہ بڑا پہاڑی کوّا نہیں بلکہ چھوٹا پنجابی کوّا ہے جو پنجاب کی طرف سے ہی آتاہے۔ دوسری اہم بات کہ میں گھر پر نہ ہوں تو میری تین سالہ پوتی خدیجہ، اسے کھلانے پلانے کا کام سنبھال لیتی ہے۔ کو ّااس سے بہت مانوس ہوچکاہے۔ اب ہم اس کا کوئی نام رکھنے کی سوچ رہے ہیں۔ قارئین اس کوّے کی بابت کچھ جاننے کے لیے رشید عباسی صاحب سے 0321-5242559 یا 0349-5387993 پر رابطہ کر سکتے ہیں۔


اس خبر کے بارے میں اپنی رائے دیجئے
پسند آئی
100%
ٹھیک ہے
 
کوئی رائے نہیں
 
پسند ںہیں آئی
 


 انٹر نیٹ کی دنیا میں سب سے زیادہ پڑھے جانے والے مضا مینں
loading...

 سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں






     
     
تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ روزنامہ اوصاف محفوظ ہیں۔
Copyright © 2016 Daily Ausaf. All Rights Reserved