بادشاہ گر
  19  مارچ‬‮  2018     |     کالمز   |  مزید کالمز

دنیا میں بیشمار بادشاہ گر گزرے ہیں، سائرس اعظم کی بیٹی آتوسا، انگلستان کا رچرڈ نیویلی جو واروک دی کنگ میکر کہلاتا تھا، روم کے پرائیٹورین گاڑدز، چانکیہ جس نے عام سے نوجوان چندراگپت کو ہندوستان کا تخت دلوایا، روس کا میخائیل سسلوو جو اسٹالن کے دور میں ابھرا اور برزنیف تک اقتدار کا چابی بنا رہا، آخری مغل دور کے بادشاہ گر حسن علی خان اور حسین علی خان، اورنگزیب عالمگیر کی وفات کے بعد چھ بادشاہ تخت دلی کیلئے سید برادران کی ڈیوڑھی کے اسیر رہے۔ آج کے جدید دور میں بھی بادشاہ گر موجود ہیں مگر نوعیت تبدیل ہو چکی ہیں۔ گزرے زمانوں یہ کام افراد کا خاصہ تھا مگر اب بادشاہ گری کے فرائض طاقتور ادارے انجام دیتے ہیں، ملٹی نیشنل کارپوریشنز اور میڈیا بھی اس کارخیر کا ثواب لیتا ہے۔ سینیٹ انتخابات میں کیا ہوا، کیسے اور کیوں ہوا، سب کو پتہ ہے اور کسی کو پتہ نہیں، کوئی اسٹیبلشمنٹ کہتا ہے تو کوئی تیسری قوت، غیر ریاستی اداکار، ڈی گورنمنٹ اور جانے کیا کیا کہا جاتا ہے، یہ کوئی بھی ہو مگر اتنا سچ ہے کہ یہ قوت اتنی نادیدہ اور پراسرار ہے کہ حکمراں تک اس حوالے سے اشارے کنایے اور استعارے میں بات کرتے ہیں۔ بہرحال ذکر تھا سینیٹ کے بازار کا، آپ ہی بتائیے کہ جس بازار میں مولانا فضل الرحمان جیسا جہاندیدہ اور گھاگ سیاستدان لٹ جائے اسے کیا کہا جائے، شنید ہے کہ مولانا آخر وقت تک نواز شریف کیساتھ جمے کھڑے رہے مگر انکی جماعت کے تین ووٹ بادشاہ گر لے اڑے اور شاید ان تین میں سے ایک خود انکے بھائی بھی ہیں۔ سینیٹ انتخابات میں ہارس ٹریڈنگ کی خبریں پڑھکر جانے کیوں کیلی گولا یاد آ گیا، روم کے اس بادشاہ نے ایک بار اپنے چہیتے گھوڑے انکی ٹیٹاس کو سینیٹ کا رکن بنوایا تھا، جانے ہماری سینیٹ میں کتنے انکی ٹیٹاس موجود ہیں۔ سنا ہے کہ پرانے زمانے میں بعض سلطنتوں میں لاولد بادشاہ کے مرنے کے بعد نئے بادشاہ کا انتخاب ایسے ہوا کرتا تھا کہ ہما نامی پرندہ اڑایا جاتا تھا، ہما جس کے سر پر بیٹھ جائے اسے بادشاہ بنا لیا جاتا تھا، شاید اس زمانے میں بادشاہ گر نہیں ہوتے ہونگے۔ شاید دو ہفتے پہلے میر صادق سنجرانی کو کوئی جانتا بھی نہ تھا مگر قومی سلامتی اور بلوچستان کا احساس محرومی دور کرنے کیلئے انہیں چیئرمین سینیٹ منتخب کر کے ایک عظیم تاریخی کارنامہ انجام دیا گیا۔ بالکل اسی طرح جیسے معین قریشی کو راتوں رات وزیر اعظم بنایا گیا تھا اور چوبیس گھنٹوں میں انکا شناختی کارڈ بنوایا گیا تھا، بلخ شیر مزاری سمیت کئی رہنماؤں کے سر پر ہما بیٹھ چکا ہے۔ بخدا ہمیشہ یہ سمجھنے سے قاصر رہا کہ حب الوطنی کی ایسی وارداتوں سے قومی سلامتی مضبوط اور احساس محرومی دور کس طرح ہو سکتا ہے، کیا پتلی تماشے کے ذریعے ناراض بلوچ رہنماؤں کو نیا ہتھیار فراہم کیا گیا؟ خیر بادشاہ گروں کا رونا تو الگ مگر ذرا پاکستانی جمہوریت تو ملاحظہ فرمائیں، نواز شریف کرپشن الزامات پر فارغ کیے گئے، اب حکومت میں بھی ہیں اور اپوزیشن کا کردار بخوبی نبھا رہے ہیں۔ اپنے زرداری صاحب سینیٹ کے چیئرمین کی پیچھے بھی جھانکتے نظر آتے ہیں اور ایوان میں اپوزیشن کا کردار بھی ادا کرنا چاہتے ہیں، صرف عمران خان ہیں جو اب تک سوچ رہے ہیں کہ کرنا کیا ہے؟ زرداری صاحب کے نمائندہ خصوصی کے متواتر دوروں کے بعد بلوچستان حکومت کی بغاوت اور سینیٹ الیکشن کا بازار کسی سے ڈھکا چھپا نہیں، قومی سلامتی کے ایسے سودے اگر آپ کی سمجھ سے باہر ہیں تو جان لیں آپ محب وطن پاکستانی نہیں ہیں۔ یہ کیسا بازار تھا جس میں بکنے والے عوامی نمائندے تھے اور خریدنے والے بھی، ایسے نمائندے جو بائیس کروڑ عوام کی نمائندگی کرتے ہیں۔ آج سب ایک دوسرے پر الزامات لگا کر جمہوریت کا حسن دوبالا کر رہے ہیں۔ میاں نواز شریف جو گزشتہ 35 سالوں سے بادشاہ گروں کے چہیتے رہے اب یکلخت نظریاتی اور انقلابی لیڈر بن چکے ہیں بغیر نام لیئے درگاہ کے گدی نشین اور سجدہ ریز سیاستدانوں کو کوس رہے ہیں۔ شاید نظریاتی تبدیلی کیساتھ ماضی بھی مٹ جاتا ہے، انقلابی سوچ سے گناہ بھی دھل جاتے ہیں، مگر یہ بھی ممکن ہے کہ اگر بادشاہ گروں سے ناراضگی ختم ہو جائے تو یہی نواز شریف احتساب کے حامی ہونگے اور زرداری مخالف، ہماری جمہوریت میں صرف کردار ہی تو تبدیل ہوتے ہیں۔ اگر آج کا سیاسی منظر نامہ غور سے دیکھیں تو صرف کردار تبدیل ہوئے ہیں باقی سب کچھ ویسا ہی ہے جیسا 2012 میں تھا، زرداری صاحب الزامات کی زد میں تھے اور نواز شریف عدلیہ کیساتھ کھڑے تھے، آج ہیرو، ولن اور ولن ہیرو بن چکا ہے۔ مگر اس بار صرف کردار تبدیل نہیں ہوئے بلکہ پس منظر اور پیش منظر بھی بدلا ہے، پیپلز پارٹی جو ہمیشہ بادشاہ گروں کے خلاف سینہ سپر، آنکھ میں آنکھ ڈال کر بات کرتی تھی آج جیالا پن چھوڑ کر اسٹیبلشمنٹ کی دلاری جماعت کا روپ دھار چکی ہے، مسلم لیگ ن جو ہمیشہ اسٹیبلشمنٹ کی گود میں اٹھلاتی رہی اب اسے للکار رہی ہے۔ ووٹ کی حرمت اور عظمت کا درس دیتے ہوئے میاں صاحب یہ کیوں بھول جاتے ہیں کہ انہوں نے کبھی اپنی پارلیمنٹ کو ہی وقعت و عزت نہ دی، سال میں ایک آدھ بار جلوہ دکھایا تو دکھایا ورنہ کاروبار درباری ہی چلاتے رہے۔ کاش ہمارے سیاسی رہنما پارلیمنٹ کو عزت و وقار دیتے تو بادشاہ گروں کی کیا مجال، مگر دولت کی محبت اور اقتدار کے نشے میں جانے عوامی نمائندے عوام کو کیوں دھوکہ دیتے ہیں۔ ایک محفل میں پاکستان کے حالات پر بات ہو رہی تھی، فیض صاحب بھی موجود تھے، خون خرابے، فساد، سیاسی گرما گرمی اور انارکی، کچھ اصحاب کا خیال تھا کہ ملک ٹوٹنے کی نوبت آ سکتی ہے، ایسے میں کسی نے فیض صاحب کی رائے پوچھی تو فیض صاحب نے مخصوص دھیمے انداز میں کہا میرے خیال میں شاید اس سے برا ہوگا، سب نے حیران ہو کر پوچھا وہ کیا؟ تو فیض صاحب نے زیر لب مسکراتے ہوئے کہا مجھے خدشہ ہے یہ ملک ایسے ہی چلتا رہیگا سرکار حقیقت تو یہ ہے کہ جمہوریت ہو یا آمریت، عوام کے نام پر کھیلے جانیوالے اس کھیل میں عوام نہ صرف لٹے بلکہ لٹیروں کو داد بھی دیتے رہے، تاریخ سے ہم نے نہ سبق سیکھا ہے اور نہ ہی سیکھنے کی کوئی خواہش ہے، ملک عزیز میں سولہ وزیر اعظم اپنی مدت پوری کیے بغیر کرسی سے اترے یا اتارے گئے، ان میں لیاقت علی خان کا قتل، ذوالفقار علی بھٹو کی پھانسی، مشرف کا تختہ الٹنا، گیلانی کے خلاف عدالتی فیصلے سمیت بہت ساری کہانیاں ہیں مگر یہ بھی حقیقت ہے کہ ایوب، ضیاالحق اور مشرف نے دھڑلے سے حکومتیں کیں، نہ اسٹیبلشمنٹ آڑے آئی، نہ بادشاہ گر ناراض ہوئے، نہ خفیہ ہاتھ نے کام دکھایا۔ بادشاہ گروں، سیاستدانوں اور اقتدار کی ہوس نے یہ دن دکھایا ہے کہ ستر سال بعد بھی بائیس کروڑ پاکستانی صحت، صاف پانی، بجلی، تعلیم جیسی بنیادی سہولیات سے محروم ہیں۔ اگر آج ایٹمی صلاحیت کے حامل ملک کے ہاتھ میں کشکول ہے تو اسکا ذمہ دار کون ہے؟ چلتے چلتے حبیب جالب کی صدا کہاں قاتل بدلتے ہیں فقط چہرے بدلتے ہیں عجب اپنا سفر ہے فاصلے بھی ساتھ چلتے ہیں


اس خبر کے بارے میں اپنی رائے دیجئے
پسند آئی
25%
ٹھیک ہے
25%
کوئی رائے نہیں
25%
پسند ںہیں آئی
25%


 سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں





  اوصاف سپیشل

آج کا مکمل اخبار پڑھیں

     
     
تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ روزنامہ اوصاف محفوظ ہیں۔
Copyright © 2016 Daily Ausaf. All Rights Reserved