مفلس کے خواب کو بھی۔۔۔ تعبیر دے رہا ہے وہ
  19  مارچ‬‮  2018     |     کالمز   |  مزید کالمز

میں خوش قسمت پاکستان کا وہ بدقسمت باسی ہوں جس کے ضمیر پر صبح و شام بے بسی اور لاچارگی کے تازیانے برستے ہیں۔ بھکاریوں کے غول درغول ہجوم میرے منہ پر طمانچے مارتے ہیں۔ عوام قعرِ مذلت میں دھنستے چلے جا رہے ہیں اور حکمرانوں کے سعد بخت، نونہال اور طلال پانامہ پانامہ کھیلتے ہوئے ووٹ کے تقدس کا رونا روتے دِکھائی دیتے ہیں۔ یہاں عزت مآب بیٹیوں، مریم صفت دوشیزاؤں کے پاؤں میں جوتے نہیں، سر پر دوپٹے نہیں۔۔۔اِس وطن کے بلاول مقروض۔۔۔ اور حمزے بدعنوان ہو رہے ہیں۔ اسی فیصد لوگ پینے کے صاف سے محروم ہیں اور لمحہ موجود سے تمام لذتیں کشید کرنے والے غربت کی پیش قدمی کو روکنے سے قاصر ہیں۔ اِس وقت ساٹھ فیصد سے زائد لوگ خطِ غربت سے بھی نیچے زندگی بسر کر رہے ہیں۔ اعداد و شمار کی پٹاری کھولیں تو معلوم ہوتا ہے کہ 1951ء میں شہری علاقے 17 فیصد تھے۔ 1990ء میں اِن کی تعداد میں33 فیصد اضافہ ہوا اور اب یہ اضافہ 50 فیصد کو چھو رہا ہے۔ اگر بڑے شہروں میں آبادی کی شرح اِسی طرح جاری رہی تواعداد و شمار کے مطابق ہمیں سالانہ پانچ لاکھ سے زائد نئے مکانات کی ضرورت کا سامنا کرنا پڑتا رہے گا۔ 1981ء میں پاکستان میں پچاس ہزار آبادی والے شہروں کی تعداد 22 تھی 1992ء میں یہ تعداد 57 اور بعد ازاں 80 سے بھی تجاوز کر گئی، اِسی طرح 1981ء میں پاکستان میں ایک لاکھ آبادی والے شہروں کی تعداد 27تھی 1998ء میں 48 اور 2007ء میں 58 اور اب 70 سے زائد ہو چکی ہے۔ اب سوال یہ ہے کہ وہ کون سے عوامل ہیں جن کی وجہ سے مکانات، پلازوں، رئیل اسٹیٹ اور پراپرٹی کی قیمتوں میں اضافہ ہوا ہے۔ اگر ہم گردو پیش پر نظر ڈالیں تو وطن عزیز میں پراپرٹی کی قیمتیں بڑھنے کی بہت ساری وجوہات ہیں۔ جن میں نائن الیون کے بعد ترسیلات رقوم میں اضافہ، نیشنل سیونگز اور دوسرے بینکوں میں شرح منافع میں کمی اور باہر کے ملکوں سے تارکین وطن کا پاکستان میں آ کر آباد ہونا شامل ہے۔ اس کے علاوہ نیشنل سیونگز اور ملک کے مختلف بینکوں نے ڈیپازٹ پر شرح منافع 18 فیصد سے کم کر کے سات اعشاریہ پچاس فیصد تک کر دیا ہے جس کی وجہ سے لوگوں نے بینکوں سے پیسے نکال کر رئیل اسٹیٹ کے کاروبار میں لگا دیئے۔ یہ وہ بنیادی وجہ بنی جس کی بنا پر پاکستان بھر میں بے ہنگم ہاؤسنگ سوسائٹیوں کا جنگل پھیل گیا۔ ان سوسائٹیوں نے شہروں کووسعت تو بخشی مگر دیہات سکڑنے لگے۔ زرعی زمینوں پر عمارات تعمیر ہونے سے لہلہاتی بہاریں خزاؤں کے منہ لگ گئیں جس کی وجہ سے پراپرٹی کی قیمتوں میں بے تحاشا اضافہ ہونا شروع ہو گیا۔ اور اب عالم یہ ہے کہ گنجان آبادی والے شہروں میں اور بالخصوص موٹر وے اور بڑی بڑی شاہراہوں کے ساتھ ساتھ بڑی بڑی ہاؤسنگ سوسائٹیاں معرضِ وجود میں آ رہی ہیں۔ قوانین کے مطابق اُس وقت تک کوئی سوسائٹی اشتہار دینے کے اہل نہیں ہو سکتی جب تک اُس سوسائٹی کے پاس 160 کنال سے زیادہ زمین نہ ہو مگر بدقسمتی یہ ہے کہ ہماری وفاقی اور صوبائی حکومتیں بغیر سوچے، سمجھے پراپرٹی اور رئیل اسٹیٹ کے لئے اُسی طرح این او سی دیتی ہیں، جس طرح اُنہوں نے ملک میں سی این جی سٹیشنز لگانے کے لئے جاری کئے تھے۔ بدقسمتی سے ملک میں بڑھتی ہوئی آبادی اور شہروں میں توسیع سے جنگلات کے رقبے میں کمی واقع ہو رہی ہے جس سے ہم آج کل موسمی تغیرات کا سامنا کر رہے ہیں۔ موسمی تغیرات تو اپنی جگہ پر بجا مگر ہاؤسنگ سوسائٹیوں میں ہونے والے فراڈز نے لاکھوں بے گھروں کو زندگی بھر کی جمع پونجی سے محروم کر کے رکھ دیا ہے۔ قومی احتساب بیورو اِس وقت کافی متحرک ہے اور ایسی ہاؤسنگ سوسائٹیوں کے خلاف کارروائی بھی کر رہی ہے جو بے گھروں کے سپنوں پر اپنے محل تعمیر کر کے اُن کے خواب کو تعبیر سے جُدا کر رہے ہیں۔ روزانہ سینکڑوں افراد تو ہمارے پاس اپنی بپتا بیان کرنے آتے ہیں اور گریہ وزاری کرتے ہیں کہ بعض ہاؤسنگ سوسائٹیاں دِن کی چکا چوند روشنی میں برسرعام فراڈ کر رہی ہیں۔ اگرچہ بہت سارے لوگ اچھے کام بھی کر رہے ہیں مگر اِن ہاؤسنگ سوسائٹیز میں امیر آدمی تو اپنا آشیانہ بنا سکتا ہے مگر غریب آدمی اِس خواب کو دیکھنے سے بھی قاصر رہتا ہے۔ حکومت پنجاب نے بھی ’’آشیانہ‘‘ کے نام سے ایک ایسا ہی پراجیکٹ لانچ کیا تھا جس کے سربراہ احد چیمہ آج کل نیب کی حراست میں ہیں۔ اِسی بات سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ ’’آشیانہ‘‘ میں کتنے غریب بے گھروں کو اپنا ’’آشیانہ‘‘ ملا ہو گا۔ موجودہ حکومت کی ناقص پالیسیوں کے تحت پاکستان کی 22 کروڑ آبادی میں سے 2 کروڑ سے زائد خاندان گھر کی سہولت سے محروم ہیں اور ہر سال 7 لاکھ افراد بے گھر افراد کی فہرست میں شامل ہو رہے ہیں۔ ورلڈ بنک کی رپورٹ کے مطابق پاکستان میں ہر سال 3 لاکھ 50 ہزار رہائشی یونٹ تعمیرکئے جاتے ہیں جو مجوزہ ضروریات کے لئے ناکافی ہیں جبکہ رئیل اسٹیم سیکٹر میں کرپشن اور منی لانڈرنگ سے کمائے گئے سرمایہ کی آمدن سے پاکستان میں گھروں کی قیمتیں عام آدمی کی پہنچ سے دور ہو چکی ہیں۔ کمرشل بینکوں نے گھروں کی تعمیر کے لئے 75 ارب روپے سے زائد کے قرضے جاری کئے ہیں لیکن یہ قرضے غریبوں کے بجائے امیر طبقہ نے حاصل کر رکھے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق حکومت کی وزارت ہاؤسنگ عوام کو رہائش کی سہولتیں فراہم کرنے میں مکمل طور پر ناکام ہو چکی ہے۔ مگر حضرت قائداعظم محمد علی جناح کے پاکستان میں ایک ایسا مسیحا نفس بھی موجود ہے۔ جس کے سینے میں دُکھی اِنسانوں کے لئے ایک درد بے گھروں کو گھر دینے کے لئے جاں گزیں ہے۔ میں آج تک اُس شخص سے ملا نہیں اور نہ ہی میں اُسے جانتا ہوں۔ اُس کا نام جواد احمد ہے۔ اُس کی روح اُن مفلسوں کے لئے بے چین رہتی ہے جن کو خدائے واحد کی زمین پر چھت میسر نہیں ہے۔ وہ اِن بے گھروں کے لئے دِن رات کام کر رہا ہے۔ سب سے بڑی بات یہ ہے کہ جواد احمد اپنے اس کام کی تشہیر نہیں کرتے۔ میں نے آج تک اُن کے اِس پراجیکٹ کی کوئی تشہیر کسی اخبار یا ٹی وی چینل پر نہیں دیکھی۔ جواد اللہ تعالیٰ کا ایک صفاتی نام بھی ہے جس کا مطلب ہے عطا کرنے والا اور امر واقعہ یہ ہے کہ ہر بچہ خدائی صفت پر پیدا ہوتا ہے۔ جواد احمد بے گھروں کو گھر عطا کر کے ثواب دارین حاصل کر رہے ہیں وہ خوابوں کو تعبیر سے تعمیر کررہے ہیں ۔


اس خبر کے بارے میں اپنی رائے دیجئے
پسند آئی
100%
ٹھیک ہے
 
کوئی رائے نہیں
 
پسند ںہیں آئی
 


 انٹر نیٹ کی دنیا میں سب سے زیادہ پڑھے جانے والے مضا مینں
loading...

 سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں






     
     
تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ روزنامہ اوصاف محفوظ ہیں۔
Copyright © 2016 Daily Ausaf. All Rights Reserved