کیا پھر کوئی گڑ بڑ ہے؟
  15  اپریل‬‮  2018     |     کالمز   |  مزید کالمز

آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے کہا ہے کہ ’’کچھ عرصہ گزرا ہے کہ فاٹا میں امن قائم ہوا‘ اور بعض لوگوں نے ایک اور تحریک شروع کر دی ہے‘ کچھ لوگ باہر اور اندرسے پاکستان کی سالمیت کے درپہ ہیں ۔۔۔ ان کو ہم بتانا چاہتے ہیں کہ آپ کچھ بھی کرلیں جب تک فوج اور اس کے پیچھے یہ قوم کھڑی ہے ۔۔۔ آپ پاکستان کا کچھ نہیں بگاڑسکتے۔‘‘ پاکستان کے شمال اور مغربی پٹی میں پختون تحفظ موومنٹ کی طرف سے جاری سرگرمیوں کے حوالے سے آرمی چیف کی تشویش بالکل درست ہے۔ میرے قارئین جانتے ہیں کہ اس خاکسار نے فاٹا کے عوام پر گزرنے والے مظالم اور وہاں ہونے والے ڈرون حملوں‘ اور وفاق کی طرف سے کی جانے والی دیگر زیادتیوں کے خلاف ہمیشہ ڈٹ کر لکھا ۔۔۔ اور میں اس حوالے سے کلیئر مائنڈ سیٹ رکھتا ہوں کہ فاٹا میں بسنے والے اتنے ہی محب وطن پاکستانی ہیں کہ جتنے اسلام آباد‘ لاہور‘ کراچی یا ملک کے دیگر حصوں میں بسنے والے عوام ہوں ۔۔۔ پختون تحفظ موومنٹ کے مطالبات جتنے بھی درست یا جائز ہوں ۔۔۔ لیکن ان کے جلسوں یا دیگر پروگراموں میں قومی سلامتی کے ضامن اداروں کے خلاف لگنے والے نعروں کی کسی قیمت پر بھی تائید نہیں کی جاسکتی۔’’یہ جو دہشت گردی ہے ۔۔۔ اس کے پیچھے وردی‘‘ ہے والا متنازعہ اور اشتعال انگیز نعرہ کم از کم ہم جیسوں کے لئے نیا اس لئے نہیں ہے ۔۔۔ کیونکہ جس وقت سلمان حیدر اور دیگر گستاخ بلاگرز نے ’’بھینسا‘ موچی اور روشنی‘‘ کے نام سے اکاؤنٹس بناکر گستاخانہ حرکتیں شروع کیں اور پھر ان کی گمشدگی کا ڈرامہ پیش آیا تھا تو بلاگرز کے حق میں اسلام آباد کے پریس کلب کے سامنے ۔۔۔ موم بتی مافیا این جی اوز کے مہروں کے مظاہروں میں یہی اشتعال انگیز نعرہ لگا کرتا تھا‘ تو کیا ڈالر خور موم بتی این جی او مافیا اور پشتون تحفظ موومنٹ کے منظور پشین ایک ہی ’’چشمے‘‘ سے سیراب ہو رہے ہیں؟ محرومیاں پاکستان میں کہاں نہیں ہیں؟ کیا اندرون سندھ کے عوام محرومیوں کا شکار نہیں ہیں؟ کہ جن کے معصوم بچے سینکڑوں کی تعداد میں تھرپارکر میں بلک بلک کر مر رہے ہیں ۔۔۔ لیکن ان کا کوئی پرسان حال نہیں ہے؟ کیا سرائیکی علاقوں بلوچستان اور گلگت ‘ بلتستان میں محرومیاں کم ہیں؟ یقیناًفاٹا کے عوام بھی بہت سی محرومیوں کا شکار ہیں لیکن ان محرومیوں کا مطلب یہ نہیں ہے کہ محض جذباتی پن یا غیروں کی سازشوں کا شکار ہوکر اس درخت پر ہی حملہ آور ہونے کی کوشش کی جائے جس درخت کے سائے کے نیچے پناہ لے رکھی ہو۔ پاک فوج اس ملک کی آخری دفاعی لائن ہے ۔۔۔ یہ جو سیاست دان اور سیکولر شدت پسند آج پاک فوج کے خلاف گز گز بھر لمبی زبانیں نکال رہے ہیں ۔۔۔ ان کی اپنی انوں کو جب خطرات لاحق ہوتے ہیں تو ان کی جانوں کی حفاظت بھی رینجرز یا پاک فوج کے جوان ہی کرتے ہیں۔ یقیناًسیاست دانوں کی طرح جرنیلوں سے بھی غلطیاں سرزد ہوئی ہوں گی؟ اور پرویز مشرف کا دور تو اس حوالے سے خاصا تاریک ہے ۔۔۔ لیکن اس سب کے باوجود انڈیا یا امریکہ کے کسی ایجنٹ کو اجازت نہیں دی جاسکتی کہ وہ ۔۔۔ پاک فوج یا دیگر قوموں کے خلاف نفرت انگیزی پھیلائے ۔۔۔ پختونوں کے حقوق کا تحفظ ہونا چاہیے‘ مسنگ پرسنز صرف فاٹا کا ہی مسئلہ نہیں ہے ۔۔۔ بلکہ نائن الیون کے بعد رسوا کن ڈکٹیٹر پرویز مشرف کے دور سے مسنگ پرسنز کا معاملہ عروج پر جاپہنچا ۔۔۔ اور یہ مسئلہ تاحال باقی ہے۔۔۔ ڈیفنس آف ہیومن رائٹس کی میڈم آمنہ جنجوعہ نے اس معاملے پر خاصا احتجاج بھی ریکارڈ کروایا ۔۔۔ اس مسئلے کو ہر قیمت پر حل بھی ہونا چاہیے لیکن اس سمیت کسی بھی معاملے کو بنیاد بناکر ملک کی بنیادیں کھوکھلی کرنے کی کوشش کرنا نہایت خطرناک ہوگا۔ میجر (ر) محمد عامر آئی ایس آئی کے سابق سٹیشن چیف اور ممتاز دفاعی تجزیرہ نگار بھی ہیں ۔۔۔ میری ان سے ایک دو سرسری ملاقاتیں بھی ہوئیں‘ لیکن ملکی سالمیت کے حوالے سے ان کے بے لاگ تجزیئے میرے پسندیدہ رہے ہیں ۔۔۔ پختون تحفظ موومنٹ کے حوالے سے ان کے تجزیاتی بیان میں خاصا وزن نظر آتاہے ۔۔۔ وہ کہتے ہیں کہ پاکستان سے نفرت کرنے والا مضطرب ٹولہ پشتون تحفظ موومنٹ کو اپنی امیدوں کا نیا مرکز اور مورچہ بنانا چاہتا ہے‘ دہشت گردی کے پیچھے وردی کا نعرہ واشنگٹن سے آیا ہے۔۔۔ انہوں نے کہا کہ پی ٹی ایم کے نوجوانوں کو میں پہلے ہی خبردار کرچکا ہوں یہ وہ لوگ ہیں جو پہلے مسلم لیگ نون کی چادر میں گھس گئے پھر کوئٹہ جاکر کہنے لگے دیکھو ہم نے پنجابیوں کو فوج سے لڑا دیا۔۔۔ یہ قبائلی اور پختون نوجوانوں کی صفوں میں گھس کر پختونوں کے بارے میں ایسا ہی اعلان کرنے کے خواہشمند ہیں یہ صرف اپنے غیر ملکی خریداروں کی نظروں میں اپنا ریٹ بڑھانے کی کوشش ہے۔۔۔ پاکستان ہمارا گھر‘ ہمارا حجرہ اور ہماری عبادت گاہ جبکہ فوج اس کی محافظ ہے ۔۔۔ ڈیڑھ لاکھ امریکی فوج40 ممالک کے ساتھ ملکر جو امن افغانستان کو نہ دے سکی وہ پاکستانی فوج نے تن تنہا لڑکر ہمیں دیدیا۔۔۔ سب جانتے ہیں فوج نے اپنے سنجیدہ اور خوبرو نوجوانوں کو قربان کرکے یہ کارنامہ انجام دیا‘انہوں نے کہاکہ جب مشرف امریکی جنگ پاکستان لائے اور ہمارے وطن بالخصوص پختون علاقے میں تباہی اور بربادی پھیلائی یہ لوگ اس وقت نہ صرف خاموش بلکہ درپردہ اس کے ساتھ تھے آج جبکہ فوجی قیادت کی کامیاب منصوبہ بندی سے ہم مکمل امن کے قریب ہوچکے ہیں۔۔۔ اچانک یہ نعرہ زن کہاں سے آگئے؟ جب فوجی قیادت آپریشن کے اثرات بد کی تلافی کررہی ہے تو پھر تازہ مہم جوئی سمجھ سے بالاتر ہے۔۔۔کیا یہ موجودہ فوجی قیادت نہیں تھی جس نے کہا اب دنیا ڈومور کرے او رہم افغانستان کی جنگ پاکستان نہیں لاسکتے؟ انہوں نے کہا پی ٹی ایم کے نوجوانوں کو یہ بات ذہن نشین رکھنی چاہیے کہ پختونوں میں قوم پرستی ‘عصبیت ‘ حقوق کی پامالی یا پاکستان سے بدگمانی کی مہم کو پہلے پذیرائی ملی نہ آئندہ کوئی امکان ہے۔ پاکستان پختونوں کا واحد سائبان ہے۔۔۔ پختونوں کے مورچے سے نکلنے والی ہر گولی پاکستان کے دشمنوں کے سینوں کا رخ کرتی ہے ۔۔۔ پی ٹی ایم نے اگر زندہ رہنا ہے تو پاکستان زندہ باد کہنا ہوگا اگر واشنگٹن اور دہلی سے آئے نعرے لگتے رہے تو پھر ایک اور المیہ ہی آئے گا۔


اس خبر کے بارے میں اپنی رائے دیجئے
پسند آئی
100%
ٹھیک ہے
 
کوئی رائے نہیں
 
پسند ںہیں آئی
 


 انٹر نیٹ کی دنیا میں سب سے زیادہ پڑھے جانے والے مضا مینں
loading...

 سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں






آج کا مکمل اخبار پڑھیں

کالمز

کالم /بلاگ


     
     
تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ روزنامہ اوصاف محفوظ ہیں۔
Copyright © 2016 Daily Ausaf. All Rights Reserved