میجرجنرل (ر) مقصود عباسی ۔۔۔ایک آفتاب جو غروب ہو گیا
  15  اپریل‬‮  2018     |     کالمز   |  مزید کالمز

وہ افواجِ پاکستان کے گلستان کا ایک خوبصورت پُھول تھا جو زیست کی راہ گزر پر موت سے جنگ لڑتے لڑتے مُرجھا گیا، وہ شجر سایہ دار تھا جو اپنے ہی سائے سے بچھڑ گیا، وہ ایک آفتاب تازہ تھا جو شہر خموشاں کی وادی میں غروب ہو گیا مگر اُس کی خوشبو آج بھی تروتازہ ہے۔ اُس کی یادیں آج بھی ویران دِلوں کو معطر کئے جا رہی ہیں۔ اُس کی محبتوں کے سایہ میں آج بھی زندگانی کی مسافتوں پر چلتے ہوئے راہ گیر چھاؤں کا لطف اُٹھاتے ہیں اُس کے کردار کی کرنیں گھٹا ٹوپ اندھیروں کو بقعہ نور میں بدل رہی ہیں۔ میجر جنرل (ر) مقصود عباسی بدھ اور جمعرات کی درمیانی شب طویل علالت کے بعد اِس جہانِ فانی سے رختِ سفر باندھ گئے۔ اُن کے انتقال کی خبر پاکستان میں جنگل کی آگ کی طرح پھیل گئی اور ملکی فضائیں سوگوار ہو گئیں۔ اُنہیں جمعرات کے روز ہزاروں سوگوار دِلوں اور اشکبار آنکھوں کی موجودگی میں آرمی قبرستان راولپنڈی میں سپردخاک کر دیا گیا۔ میں ناگزیر وجوہات کی بنا پر مرحوم کی نماز جنازہ میں شریک نہ ہو سکا مگر امر واقعہ یہ ہے کہ سوشل، پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا کے ذریعہ سے مجھ تک جو معلومات پہنچیں وہ اِس امر کا ابلاغ کر رہی تھیں کہ اندر بھی زمیں کے روشنی ہو مٹی میں چراغ رکھ دیا ہے میجر جنرل (ر) مقصود عباسی، وجیہہ، شکیل اور معتبر شخصیت کے حامل اِنسان تھے۔ افواج پاکستان کے لئے اُن کی خدمات وطنِ عزیز کی تاریخ کا ایک ایسا سنہری باب ہیں جنہیں کبھی فراموش نہ کیا جا سکے گا۔ وہ اپنے وطن سے غیر معمولی محبت کرتے تھے۔ قومی غیرت اور حمیت کا جذبہ اُن کی رگ و پے میں بسا ہوا تھا۔ وہ دشمن کے سامنے ایک سیسہ پلائی دیوار بن کر وطن کا دفاع کرنے میں اپنا کوئی ثانی نہ رکھتے تھے۔ اُن کے سینئرز اور جونیئرز اُن کے انہی جذبات پر فدا تھے اور افواج پاکستان میں اُنہیں انتہائی عزت اور قدر کی نگاہ سے دیکھا جاتا تھا۔ وہ ایک جاں باز فوجی افسر، ایک رحمدل اِنسان، ایک بہادر بیٹے، ایک شفیق باپ اور رِشتوں کے مونس و غمخوار دوست تھے۔ وطن کی محبت کا یہ عالم تھا کہ بستر علالت پر اُنہیں مشورہ دیا گیا کہ اگر اُن کا علاج امریکہ میں کروایا جائے تو اُنہیں اِس دنیا میں زندگی گزارنے کے لئے کچھ اور برس میسر آ سکتے ہیں اور وہ شفا سے ہمکنار ہو کر اپنی زیست سے لطف اندوز ہو سکتے ہیں۔ مگر قوم کے اُس عظیم سپوت نے جواں مردی اور وطن پرستی پر اپنی جان کی بازی لگا دینے میں کوئی عار محسوس نہ کی اور برملا اِس مشورے کو ٹھکراتے ہوئے کہا کہ ’’میں افواج پاکستان میں اہم ذمہ داریوں پر تعینات رہا ہوں۔ میرے سینے میں دفاعِ وطن کے اہم ترین راز ہیں۔ جب میں علاج کی غرض سے امریکہ جاؤں گا تو وہاں ادویات کے اثر سے میری دھرتی کے اہم راز مجھ سے افشا ہو سکتے ہیں۔ میں نہیں چاہتا کہ میں اپنی جان کے عوض اپنی دھرتی کے راز افشا کروں۔‘‘ یہ کہتے ہوئے اُنہوں نے امریکہ میں علاج کروانے سے انکار کر دیا اور تادم زیست اپنی دھرتی سے محبت کا راگ الاپتے الاپتے بالآخر اپنے خالق حقیقی سے جا ملے۔ وطن کے اُس بہادر اور غیور جرنیل نے خدائے بزرگ و برتر کی جانب سے دی ہوئی اپنی ایک ایک سانس اِسی دھرتی پر پوری کی۔ اُن کا یہ موقف نام نہاد سیاستدانوں کے منہ پر ایک طمانچہ ہے جو وطن سے محبت کا دعویٰ کرنے کے باوجود اپنے پیٹ میں اُٹھنے والے سیاسی درد کا علاج بھی امریکہ سے کرواتے ہیں۔ جن کے بیانئے قوم کو گمراہ کرتے ہوئے غیر ملکی قوتوں کے شفاخانوں اور دواخانوں میں علاجِ درد ڈھونڈتے پھرتے ہیں۔ میجر جنرل(ر) مقصود عباسی مرحوم کے ویژن کو سلام کہ اُنہوں نے جاتے جاتے ہم سب کو وطن سے محبت کا کتنا لازوال سبق پڑھایا ہے کہ جس پر عمل کرتے ہوئے ہم اپنے اہداف کا تعین کر سکتے ہیں۔ اے کاش کہ مرحوم کے جذبات کی صدا اور وطن سے محبت کی آواز اُن سیاستدانوں تک بھی پہنچے جو پاؤں کا کانٹا نکلوانے کے لئے بھی یورپ اور امریکہ سے کم ٹھہرتے نہیں۔ اے کاش کہ مرحوم کی آواز اقتدار کے اُن قمار خانوں میں بھی گونجے جو امریکہ سے آئے ہوئے قاتلوں کو وطن کی سرزمین خون آلود کرنے کے جرم میں بھی سفارتی قوانین کا سہارا لے کر بے گناہی کی سند جاری کرنے میں کوئی دقیقہ فروگزاشت نہیں چھوڑتے۔ اے کاش! کہ میجر جنرل (ر) مقصود عباسی کے وجدان کی گھنٹیاں اُن سیاسی راہنماؤں کے گلے میں بندھ جائیں جو بظاہر اِس وطن سے محبت کے بلند و بانگ دعوے تو کرتے ہیں مگر اُن کی املاک یورپ اور امریکہ میں پائی جاتی ہیں۔ کاش مرحوم کا بیانیہ وہ قوتیں بھی پڑھ لیں جن کو اپنے بے بنیاد اور بے سروپا بیانیے کا ابلاغ کرتے ہوئے ذرّہ برابر بھی شرم نہیں آتی۔ اے کاش کہ مرحوم کی بصیرت اُن دانشوروں کو بھی عطا ہو جو دشمن سے معانقے کرنے اور گلے ملنے میں سیاسی عافیت محسوس کرتے ہیں۔ واقعی میجر جنرل مقصود عباسی جیسے بیٹے صدیوں بعد پیدا ہوتے ہیں۔ اُن کی وفات سے جو خلا پیدا ہوا ہے اُسے کبھی پُر نہیں کیا جا سکتا۔ میجر جنرل مقصود عباسی دراصل شہادت کے رتبہ پر فائز ہوئے ہیں۔ مفسرین اور محدثین شہادت کے چالیس مراتب بیان کرتے ہیں اور اُن چالیس مراتب میں سے ایک مرتبہ اپنی دھرتی سے محبت کرتے ہوئے حالتِ علالت میں جان دینا بھی ہے اور میجر جنرل مقصود عباسی نے اپنے عمل سے یہ بات ثابت کی ہے کہ وہ اپنی سرزمین پر جان دینے کو فوقیت دیتے تھے چہ جائیکہ وہ زندگی کی سانسوں کو بڑھاوا دینے کے لئے امریکہ سے علاج کرواتے۔ آفرین، آفرین، صد آفرین، میجر مقصود عباسی شہید صد آفرین۔ مثلِ ایوانِ سحر مرقد فروزاں ہو تیرا نور سے معمور یہ خاکی شبستاں ہو تیرا آسماں، تیری لحد پر شبنم افشانی کرے سبزۂ نورستہ، اِس گھر کی نگہبانی کرے میں اپنے محترم قارئین کو بتلاتا چلوں کہ میجر جنرل مقصود عباسی روزنامہ اوصاف کے مدیر اعلیٰ جناب مہتاب خان صاحب کے سمدھی اور گروپ ایڈیٹر جناب محسن بلال خان صاحب کے خُسر تھے۔ وہ اپنی ذات میں ایک عارف باللہ شخصیت رکھتے تھے۔ وہ خاک بسر تھے مگر عرش نشیں تھے۔ اُنہوں نے ساری زندگی اپنے خالق سے اپنا رشتہ ٹوٹنے نہیں دیا۔پانچ وقت کی نماز ادا کرتے تھے۔ اُن کی کوشش ہوتی تھی کہ وہ باجماعت نماز ادا کریں، تہجد کا خاص اہتمام کرتے تھے۔ اُن کی رسم قل کے موقع پر اِس امر کا برملا اظہار چکلالہ گیریژن کی جامع مسجد، عشرہ مبشرہ کے خطیب نے بھی کیا۔ رسم قُل میں شریک ہونے والے احباب سے خطاب کرتے ہوئے جناب خطیب نے بتلایا کہ مرحوم بڑے مضبوط اعصاب، بُلند حوصلوں اور پختہ عزم رکھنے والی ایک ممتاز شخصیت کے حامل تھے۔ جامع مسجد عشرہ مبشرہ کے ساتھ مرحوم کا بڑا گہرا رشتہ تھا اور وہ باقاعدگی کے ساتھ اسی مسجد میں پانچ وقت کی نماز باجماعت ادا کیا کرتے تھے۔ اُنہوں نے کہا کہ مرحوم تہجد گزار تھے اور راتوں کو اُٹھ اُٹھ کر اپنے خالق و مالک کے حضور سجدہ ریز ہوتے تھے۔ اللہ تعالیٰ میجر جنرل مقصود عباسی کو کروٹ کروٹ جنت نصب کرے۔ اُن کے درجات بلند کرے اور لواحقین کو صبر جمیل کی توفیق عطا فرمائے (آمین)


اس خبر کے بارے میں اپنی رائے دیجئے
پسند آئی
 
ٹھیک ہے
 
کوئی رائے نہیں
 
پسند ںہیں آئی
 


 انٹر نیٹ کی دنیا میں سب سے زیادہ پڑھے جانے والے مضا مینں
loading...

 سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں






     
     
تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ روزنامہ اوصاف محفوظ ہیں۔
Copyright © 2016 Daily Ausaf. All Rights Reserved