سانحہ ماڈل ٹاؤن کی روزانہ سماعت : چیف جسٹس فوری انصاف کی فراہمی کو یقینی بنائیں
  15  اپریل‬‮  2018     |     کالمز   |  مزید کالمز

سپریم کوٹ نے سانحہ ماڈل ٹاؤن سے متعلق ہائیکورٹ میں زیر التوا تمام مقدمات دو ہفتے میں نمٹانے کا حکم دے دیا۔ پراسیکیوٹر جنرل پنجاب سید احتشام قادر نے سانحہ کے دونوں مقدمات اور استغاثہ کا ریکارڈ عدالت میں پیش کیا۔ چیف جسٹس نے ایڈووکیٹ جنرل پنجاب کو حکم دیا کہ شام 4 بجے تک رپورٹ عدالت میں جمع کرائیں۔ سپریم کورٹ آف پاکستان کے چیف جسٹس نے گزشتہ روز انتہائی اہم مقدمات کی سماعت کی جن میں سانحہ ماڈل ٹاؤن ،پاکستان ریلویز میں خسارے ، وزرا ء اوررسرکاری افسروں کے زیراستعمال لگژری گاڑیوں اورپنجاب ڈرگ ٹیسٹنگ لیبارٹری میں ادویات کی بروقت ٹیسٹنگ نہ ہونے کے ازخودنوٹس کی سماعت کی ، انہوں نے وفاقی وزیر ریلوے خواجہ سعد رفیق کی طرف سے عدالت اور ججز بارے ریمارکس ،ریلوے میں حادثات اور خسارے سمیت ان کے منفی رویئے پر انکی سخت سرزنش بھی کی اور ایک تگڑی سفارش کروانے کیلئے ایک شخصیت سے ملاقات پر بھی اظہار برہمی کرتے ہوئے چیف جسٹس نے قرار دیا کہ اب جہاد کا راستہ اپنایا ہے کوئی کچھ بھی کہے یا کرے بس سب کچھ میرٹ پر ہو گا۔ ہم سمجھتے ہیں کہ اس ملک میں طبقہ اشرافیہ اور طاقت اور اختیار جوکہ آئین کی رو سے اللہ کی امانت ہے اس میں خیانت کرنے اور عوامی وسائل کا بے جا استعمال کرنے کے حوالے سے اگر اہم شخصیات پر الزامات ہیں اور ان کا احتساب بھی ہورہا ہے تو اس کے ردعمل میں اپنایا جانے والا رویہ کسی طور بھی قبول نہیں کیا جانا نہ ہی اس کی حمایت کی جاسکتی ہے سطحی اور جذباتی قسم کے بیانات سے عوامی رائے کو آج اس لئے بھی تبدیل نہیں کیا جاسکتا کہ اس ملک کے اکیس بائیس کروڑ شہری باشعور بھی ہیں اور سیاسی حالات پر گہری نظر رکھنے والے بھی ۔ جہاں تک سانحہ ماڈل ٹاؤن کا تعلق ہے تو ہماری دانست میںیہ چیف جسٹس کے کندھوں پر ایک بڑی ذمہ داری ہے کہ وہ مقتولین کے ورثاء کو کس قدر جلد انصاف دیتے ہیں ۔ چیف جسٹس نے ریمارکس دئیے کہ ماورائے قانون کوئی اقدام نہیں کریں گے جبکہ انہوں نے واضح کیا کہ ججزکی عزت نہ کرنے والا کسی رعایت کا مستحق نہیں ہے۔ انسداد دہشت گردی کی خصو صی عدالت کے جج اعجاز اعوان کی چھٹی منسوخ کرتے ہوئے انہیں روزانہ کی بنیاد پر سانحہ ماڈل ٹاؤن سے متعلق مقدمات کی سماعت کا حکم دے دیا۔ ہمیں امید ہے کہ انصاف کے تقاضے پورے کئے جائیں گے اور چیف جسٹس اس اہم کیس کی پیشرفت کو خود دیکھیں گے۔اسی طرح صاف پانی کمپنی کے چیف ایگزیکٹو سے عدالت نے استفسار کیا کہ کیا آپ نے بھی لینڈ کروزر رکھی ہوئی ہے۔چیف ایگزیکٹو نے عدالت کو بتایا کہ میرے پاس65 لاکھ کی فارچونر گاڑی ہے۔ عدالت نے حکم دیا کہ جتنے بیوروکریٹس کمپنیوں میں گئے ہیں انہیں انکے گریڈ کے مطابق تنخواہ ملے گی۔ زیادہ تنخواہ واپس کرنا ہوگی۔ عدالت نے ریمارکس دیئے کہ شہریوں کو بنیادی حقوق میسر نہیں اور آپ گاڑیوں میں گھومتے ہیں۔ کسی سکول کی چاردیواری نہیں ہے تو کسی کے واش روم نہیں ہیں۔ چیف جسٹس نے حکم دیا کہ زائد تنخواہیں لینے والے افسروں سے پیسے وصول کر کے صحت و تعلیم پر لگائے جائیں۔ عدالت نے نیب کے وکیل سے استفسار کیا کہ سنا ہے کوئی وزیر نیب کو گالیاں دے رہا ہے۔کوئی نیب کو گالیاں دے تو سپریم کورٹ سے رجوع کریں۔ دوسری طرف سپریم کورٹ نے ریلوے میں مکمل آڈٹ کرکے رپورٹ پیش کرنے کا حکم دیدیا۔ جسٹس ثاقب نثار کی سربراہی میں دو رکنی بینچ نے ریلوے میں ساٹھ ارب روپے کی مبینہ کرپشن کے ازخود نوٹس کیس کی سماعت کی۔ خواجہ سعد رفیق جب عدالت کے روبرو پیش ہوئے تو چیف جسٹس نے انہیں مخاطب ہو کر کہا کہ سعد رفیق روسٹرم پر آئیں اور لوہے کے چنے بھی لائیں۔ چیف جسٹس نے کہا کہ وہ وقت چلا گیا جب عدالتوں کی بے توقیری کی جاتی تھی۔ہماری رائے میں چیف جسٹس کے اقدامات سے صاف ظاہر ہورہا ہے کہ وہ آئین اور قانون کی حکمرانی کو یقینی بنانے کیلئے کوشاں ہیں اور چھوٹے بڑے کی تمیز روا رکھے بغیر اقدامات اٹھارہے ہیں جن سے یقینی طور پر بہتری آنے کی امید کی جاسکتی ہے ۔


اس خبر کے بارے میں اپنی رائے دیجئے
پسند آئی
 
ٹھیک ہے
 
کوئی رائے نہیں
 
پسند ںہیں آئی
 


 سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں





  اوصاف سپیشل

آج کا مکمل اخبار پڑھیں

آج کا مکمل اخبار پڑھیں

کالمز

کالم /بلاگ


     
     
تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ روزنامہ اوصاف محفوظ ہیں۔
Copyright © 2016 Daily Ausaf. All Rights Reserved