چودھری شجاعت کاسچ
  15  اپریل‬‮  2018     |     کالمز   |  مزید کالمز

سچ تو یہ ہے کہ اپنی صحافت کے ستائیس سالوں پر محیط زندگی میں مجھے چودھری شجاعت حسین سے زیادہ کسی سیاستدان نے متاثر نہیں کیا،میری نظر میں وہ ایسے سیاستدان ہیں جن پر ہماری سیاست بھی فخر کرنے میں حق بجانب ہے۔ شیخ رشید نے تو اعلی ظرفی کا مظاہرہ کرتے ہوئے چودھریوں کے احسانات کا ذکر کر دیا مگر کون ہے جس کیلئے انہوں نے اپنے گھر کے دروازے نہیں کھولے؟ سچ تو یہ بھی ہے کہ پنجاب میں ترقیاتی کام کرانے کے ساتھ ساتھ وضعداری اور شرم و حیا کی جو سیاست چودھری پرویز الہی نے کی ہے اسکی بھی نظیر نہیں ملتی اور آج بھی پنجاب کی بیوروکریسی چودھری پرویز الہی کی گورننس اور رویے کی تعریف کرتی ہے۔ مگر ایک کڑوا سچ تو یہ بھی ہے کہ عوام انہیں یاد بہت کرتے ہیں ان کے دور وزارت اعلی کی مثالیں دیتے ہیں مگر انکی پارٹی کو ووٹ نہیں دیتے۔اس کڑوے سچ کا جواب مجھے دونوں چودھری صاحبان نے کئی مرتبہ جواب یہ دیا ہے کہ عوام تو ان کے ساتھ تھے مگر جنرل کیانی کسی اور کے ساتھ تھے ۔ چودھری شجاعت حسین نے آخر کار اپنی سوانح حیات "سچ تو یہ ہے" لکھ ہی دی لیکن شاید ابھی ان کی سیاسی جدوجہد اور سوانح عمری کو صفحہ قرطاس میں سمونے کے لیے ایسی کئی اور کتب کی ضرورت پڑے گی، کیونکہ چودھری شجاعت حسین پاکستان کی سیاست کے زندہ لیجنڈ ہیں اور اس وقت جب سیاست میں قحط الرجال ہے اور ایسا گند مچ چکا ہے کہ چودھری صاحب جیسے وضع دار اور خاندانی سیاستدان کم کم ہی نظر آتے ہیں۔یہ کتاب ایک ایسے وقت پر سامنے آئی ہے جب ملک کی سیاست میں بہت ساری تبدیلیاں ہونے جارہی ہیں اور مستقبل کے لیے نئے اور مضبوط اتحاد بن رہے ہیں۔ایسے موقع پر چودھری صاحب نے ملک کے بہت سے سیاسی پھنے خانوں کے پول کھول کررکھ دیئے ہیں جو ایک دفعہ پھر سے عوام اور خواص دونوں کو اپنی چکنی چپڑی باتوں میں لگا کر دھوکا دینے کے لیے تیار ہیں۔ویسے تو کہتے ہیں کہ سیاستدانوں کے وعدوں کا اعتبار نہیں کرنا چاہیے،ایسے کچھ سیاستدانوں کا پول ضرور کھلنا چاہئے اور اس لحاظ سے چودھری شجاعت حسین نے اپنی کتاب میں کچھ چہروں کو کچھ کچھ بے نقاب کیا ہے۔مجھے اپنے صحافتی کیرئیر میں چوہدری صاحب کو بہت قریب سے دیکھنے اور ان کی سیاست کو سمجھنے کا موقع ملا ہے ۔ ان کی شخصیت میں مفاہمت کا عنصر اور وضع داری آصف علی زرداری سے بھی زیادہ پائی جاتی ہے جبکہ ان کا ویژن بھی محدودنہیں وہ بہت دور کی سوچ رکھتے ہیں۔وہ ملک کے لیے درد دل رکھتے ہیں یہی وجہ ہے کہ اسی مفاہمت اور ملک پرستی کے باعث بہت سے موسمی مینڈک انہیں چھوڑ کر جا چکے ہیں مگر اس کے باوجود وہ بھی چودھری شجاعت اور چودھری پرویز الہی کا نام احترام سے لیتے ہیں۔ چودھری شجاعت نے اپنی کتاب میں چوہدری پرویز الہی کو وزیراعلی بنانے کے حوالے سے کیے گئے شریف وعدوں کا بھی ذکر کیا ہے جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ سیاست کس قدر ظالم ہے ۔مگر جو لوگ چودھری برادران کو جھوٹے لارے لگاتے رہے وہ ایک دن خود جلاوطن ہوگئے اور قدرت نے نہ صرف وزارت اعلی بلکہ وزارت عظمی بھی چودھری برادران کو عنایت کی۔ چودھری شجاعت حسین نے اس کتاب کی تقریب رونمائی کے لیے صحافتی اور علم و دانش کی دنیا کی پوری کہکشاں کو سمیٹ رکھا تھا سب سے بڑھ کر بلوچستان کے نومنتخب وزیر اعلی عبدالقدوس بزنجو نے بھی اس تقریب کو چارچاند لگائے ۔ برادر بزرگ مقصود اعوان، علی احمد ڈھلوں، مزمل سہروردی ،ذوالفقار راحت اور میاں حبیب ،یہ وہ سینئر صحافی ہیں جنہوں نے میرے ساتھ چودھری صاحبان کی سیاست اور حکمرانی کو رپورٹ کیا ۔شائد ہم سارے چودھری شجاعت کے سچ کے گواہ ہیں۔ مجھے خوشی ہوئی کہ تقریب میں ایسے صحافی بھی اگلی نشستوں پر براجمان تھے جو پچھلے دس سال سے چودھریوں کی ساست پر سخت تنقید کر رہے تھے اور چودھری مونس الہی اور ہمارے اپنے اقبال چودھری ان سمیت تمام مہمانوں کی خاطر مدارت کیلئے آنکھیں بچھائے ہوئے تھے۔ تمام دوستوں کی رائے یہ تھی کہ اپنے نام کی طرح چودھری صاحب نے یہ کتاب لکھ کربھی جرات اور شجاعت کا ثبوت دیا ہے۔انہوں نے ملکی سیاست کے ایک انتہائی اہم موڑ پر گزشتہ سیاسی دہائیوں کے ان واقعات کو صفحہ قرطاس پر اس طرح سمیٹ دیا ہے کہ ہر راوی انگشت بدانداں ہے۔واقعہ چاہے لال مسجد کا ہو ، اکبر بگٹی کی ہلاکت کا یا پھر چیف جسٹس کی معزولی اور سابقہ وزیراعظم ظفر اللہ جمالی کی سبکدوشی کا انہوں نے کئی اہم موضوعات پر حقائق سے پردہ اٹھایا ہے۔چودھری صاحب کی یہ کاوش بے شک ملک کی سیاست کی ایک اہم دستاویز ثابت ہوگی اور اب یہ سلسلہ آگے چلے گا اور اس پر مزید بہت سے تبصرے آئیں گے،جن پر مزید لوگ بولیں گے اور حقائق سے پردہ اٹھے گا۔ ملک کی موجودہ سیاسی صورتحال میں کچھ ایسے واقعات رونما ہونا شروع ہوچکے ہیں جنہیں سیاسی معجزے کہا جائے تو غلط نہیں ہوگا بلوچستان میں اچانک حکومت تبدیل ہوجاتی ہے اور ایسے لوگ جو صرف ڈپٹی سپیکر کو تبدیل کرنے نکلتے ہیں توانہیں پتہ چلتا ہے کہ وہ توسپیکر سمیت وزیراعلی کا بھی بستر گول کرنے کی پوزیشن میں ہیں، سینیٹ میں پی ٹی آئی اور پی پی پی کا اتحاد بذریعہ عبدالقدوس بزنجو بھی کسی معجزے سے کم نہیں۔ اسی طرح اب پنجاب میں جنوبی پنجاب صوبہ محاذ قائم ہوچکا ہے جس نے واضع کردیا ہے کہ اب سیاست دان اور بڑے الیکٹ ایبلز اپنی پارٹیا ں بدلنے کی بجائے پریشر گروپس بنا کر آزاد حیثیت میں سیاست کرنے کی پوزیشن میں آرہے ہیں اور جب بھی ملک میں ایسے سیاسی حالات پیدا ہوتے ہیں تو ایک سیاسی خلا پیدا ہوجاتا ہے جس کو پر کرنے کے لیے ایسے قدآور سیاسی لیڈران کی ضرورت ہوتی ہے جن پر ہر کوئی آنکھ بند کرکے یقین کرسکے۔ملک کے ان معروضی حالات میں یہ تو نہیں کہا جاسکتا کہ چودھری برادران کا کیا کردار ہے لیکن ایک بات روز روشن کی طرح عیاں ہے کہ اب آنے والے وقت میں چودھری صاحب کے گھونسلے میں پرندوں کی جلد واپسی ہوجائے گی ۔ چودھری شجاعت حسین نے گزشتہ ایک دہائی میں پنجاب اور ملکی سیاست میں ن لیگ کی مخالفت کا سامنا جس دیدہ دلیری سے کیا ہے اس نے مخالفین کو بھی حیران کردیا ہے دوسرا ان کی سب سے بڑی خوبی یہ ہے کہ ان کے ساتھ رہنے والے یا ساتھ چھوڑ کر جانے والے سب ہی ان کی وضع داری اور مٹی پاؤ پالیسی کی تعریف کرتے ہیں۔پاکستان کی سیاست کا سچ تو یہ ہے کہ اس وقت ڈوبتی ہوئی جمہوریت کو چودھری شجاعت حسین ایسے دوراندیش اور قابل سیاست دانوں کی ضرورت ہے جو اپنی بالغ نظری سے قوم کو ملکی سیاسی و اقتصادی حالات اور بین الاقوامی سازشوں سے بچا کرآگے لے کر چل سکیں۔


اس خبر کے بارے میں اپنی رائے دیجئے
پسند آئی
 
ٹھیک ہے
 
کوئی رائے نہیں
 
پسند ںہیں آئی
 


 انٹر نیٹ کی دنیا میں سب سے زیادہ پڑھے جانے والے مضا مینں
loading...

 سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں






     
     
تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ روزنامہ اوصاف محفوظ ہیں۔
Copyright © 2016 Daily Ausaf. All Rights Reserved