بابری مسجد:گھرکابھیدی
  26  اپریل‬‮  2018     |     کالمز   |  مزید کالمز

روی شنکر نے بابری مسجد اور رام مندر تنازعے پر اپنے انٹرویوز کے دوران یہ دہمکی دی کہ اگر ایودھیا تنازع حل نہیں ہوا تو پھر انڈیا میں شام جیسے حالات ہو جائیں گے۔ اگر عدالت یہ فیصلہ دیتی ہے کہ متنازع جگہ بابری مسجد ہے تو کشت و خون بھی ہو سکتا ہے۔اگر عدالت نے مندر کے حق میں فیصلہ دیا تو پھر مسلمان شکست خوردہ محسوس کریں گے۔ ان کا عدلیہ سے یقین اٹھ سکتا ہے۔ ایسے میں وہ انتہا پسندی کی جانب جا سکتے ہیں ۔ ادھرمعروف بھارتی اخبارانڈین ایکسپریس میں ''سوامی اکنی ویش''ایک مختصرآرٹیکل میں دہائی دیتے ہوئے نظرآرہے ہیں:میرے لئے زندگی سے موت بہترہے اگرمیں ایک ایسی سچائی کا اظہار نہ کروں جسے اچھی طرح سے جانتا ہوں۔ میں نے پرماتمایاخداکوسچائی کی روشنی میں دیکھاہے ۔سچائی چھپاناظلم ہے اوربزدلوں کی حوصلہ افزائی کے مترادف ہے۔رام جنم بھومی کی تحریک ایک خالص سیاسی چال ہے جوخودغرضانہ اورمفاد پرستی پرمبنی ہے۔محض انتخابات میں کامیابی حاصل کرنے کیلئے عوام کوبیوقوف اور بدھوبنانے کیلئے اسے ہندودھرم کاجامہ پہنایاگیاہے۔مجھے اس بات پرسخت حیرت ہوتی ہے کہ یہ کوئی کہے کہ اس سال ہزاروں سال قبل بھگوان رام کاجنم ہواتھا۔رام للاکوقانونی یاغیرقانونی طورپر استھاپت کرنے کی بات اس وقت پیش آسکتی ہے جبکہ ان کی جنم بھومی کی نشاندہی پورے طورپرسامنے آئے یاکسی کومعلوم ہو۔اجودھیا میں 16 ایسے حریف یا دعویدار ہیں جواپنے طور پر رام جنم بھومی کاتعین کرتے ہیں۔ میں راجیوگاندھی کے دورِ اقتدارمیں ایسی بہت سے کوششوں میں شامل تھاجس میں یہ تنازع ختم کرنے کی بات کی جارہی تھی۔راجیوگاندھی پریہ الزام ہے کہ انہوں نے ایک سرد خانے میں دبے ہوئے مسئلے کوزندہ کیا۔دراصل کانگرس کی چاپلوسی اورخوشامدانہ سیاست کایہ ایک حصہ تھا۔پارٹی نے ڈبل گیم کھیلی،کون نہیں جانتاکہ نرسمہاراؤ نے تخت نشینی کیلئے مسجدکومسمارکرنے میں حصہ لیا۔مسٹروی پی سنگھ نے مسئلہ سلجھانے کی جوکوششیں کیں ،میں نے ان میں بھی حصہ لیا۔ ایل کے ایڈوانی کو277 ایکڑاراضی کے بدلے مسجدکے قریب ساٹھ ایکڑزمین دینے کی بات کی گئی لیکن ایڈوانی کی سازشیں چالیں بس یہ تھیں کہ مندروہیں بنائیں گے جہاں بابری مسجدہے۔جسٹس کرشناائیر،بی جی درگریزاورمیں (سوامی اگنیویشن)نے چندرت کھیرکے ذریعے سے مسئلہ حل کرنے کی کوشش کی۔جب مسئلہ حل کرنے کے قریب پہنچاتو راجیوگاندھی اوران کے رفقاء کواحساس ہواکہ ساراکریڈٹ وزیراعظم چندر شیکھرکومل جائے گاجس کی وجہ سے راجیوگاندھی نے چندرشیکھرکی حکومت کوگرانے کافیصلہ کیااوران کی حکومت سے اپنی حمائت واپس لے لی۔جہاں تک مسلمانوں کامعاملہ ہے تووہ یہ مسئلہ حل کرناچاہتے تھے تاکہ لڑائی جھگڑے کی نوبت نہ آئے اورکسی کوہندومسلمان میں تنازع کھڑاکرنے یانفرت پھیلانے کاموقع نہ ملے۔سیدشہاب الدین جوبابری مسجدایکشن کمیٹی کے کنوینرتھے ۔میں مسلسل ان کے ساتھ رابطے میں تھااورسبھی امن چاہتے تھے۔وہ کسی نہ کسی طورپرمسئلے کے حل کے خواہاں تھے تاکہ پھر کسی دوسری مسجدیاعبادت گاہ پرظالموں کی نظرنہ ہو۔وہ سب اس کاباعزت اورآبرومندانہ حل چاہتے تھے۔وہ لوگ خوش دلی سے کہتے تھے کہ عدالت کوفیصلہ کرنادیجئے۔ یہ افسوسناک بات ہے کہ عدالت نے حق وانصاف کافریضہ جیسے اداکرناچاہئے تھا،نہیں کیا۔میری فکرمندی اس بات پرتھی کہ عوام کی خوش عقیدگی اورسادگی کااستحصال نہ ہونے پائے ۔ ایسے لوگوں کے ذریعے سے جوویدک عقیدے کی روحانیت اورعظمت کی ذرابھی پرواہ نہیں کرتے،میں ایک مخلص عقیدت مندہونے کی وجہ سے دھوکہ دہی اورتشددکی بات محسوس کرتاہوں۔ میں نے اس معاملے میں عرق ریزی کے ساتھ تحقیق کی ہے اورشواہدجمع کیے ۔ان کی روشنی میں اچھی طرح سے کہہ سکتاہوں کہ آرایس ایس اوروی ایچ پی کادعویٰ کسی بھی طرح جائزقرارنہیںپاتا،میں نے کھلے ذہن کے ساتھ اس کی چھان بین کی ہے۔تلسی داس اس وقت کے سب سے بڑے رام بھگت تھے جس کے زمانے 1528)ئ(میں میر باقی کے بارے میں کہاجاتاہے کہ رام مندرکوگراکربابری مسجدتعمیرکی لیکن حیرت کی بات ہے کہ تلسی داس نے اپنی کتاب میں اتنے بڑے واقعے کاتذکرہ تک نہیں کیااور گرو گوبندسنگھ ،سوامی وویکانندشیواجی نے بھی کہیں اس کاذکرنہیں کیا ہے کہ سرجوندی کے کنارے رام پیداہوئے تھے جہاں ان کے نام پرمندربناہواتھا۔کسی بھی کتاب یااسکرپٹ میں ایسی کوئی بات نہیں ہے جس کی وجہ سے جارحیت کی اس تحریک کاکوئی ثبوت ہو۔یہ کہناکہ یہ ایک عقیدے کی بات ہے ،کسی بھی طرح حق بات نہیں ہے اورنہ ہی کوئی انصاف کی بات ہے ۔ جوچیزمیرے لئے انتہائی تکلیف کاباعث ہے وہ اس کافرقہ وارانہ ایجنڈاہے جونہائت غلط اورنقصان دہ ہے۔جب ہم کہتے ہیں کہ رام بھگوان تھے اوربھگوان نرادھاریعنی جس کی کوئی شکل وصورت نہیں ہوتی توآخرجو''نرادھار''ہوتواس کی جائے پیدائش یاجنم بھومی کی نشاندہی کیسے ہوسکتی ہے؟یہ انسانی عقل ودانش کی سراسرتوہین ہے کہ خداکی شکل وصورت کا کوئی اپنے اندازسے تعین کرے۔میرے لئے یہ انتہائی دکھ اورتکلیف کی بات ہے کہ بہتوں کااستحصال کیاجارہاہے،نفرت اورفرقہ پرستی کازہرگھولاجارہاہے ۔رام کے نام پریہ سراسرغلط کام کاپرچارہورہاہے ۔گاندھی جی ایک راسخ العقیدہ ہندوتھے،جب وہ قتل کیے گئے توان کی زبان پررام کانام نہیں بلکہ جے رام تھا۔ان کی عقیدت مندی شک وشبہ سے بالاترہے۔انہوں نے کبھی رام مندرکامسئلہ نہیں اٹھایا،وہ یہ بھی کہتے تھے کہ خداصرف مندرمیں نہیں ،وہ ہرجگہ رہتاہے۔ خداکسی مسجد، مندر یا چرچ میں مقیدنہیں ہوتا۔گاندھی جی نے شائدہی کسی مندرمیں وقت گزاراہو بلکہ وہ اکثر کہا کرتے تھے کہ مندروں میں صفائی ستھرائی نہیں ہوتی ہے۔

اسلام اورعیسائیت سے بالکل الگ ہندومت ایک خاندانی روحانیت پرمبنی ہوتا ہے۔ میں جانتاہوں کہ خداپروتیوں اورپنڈتوں کا جانبدا رنہیں ہوتا،اس لئے کہ ہماراگھربھی مندر ہے ۔ یہ سب اس وقت ہوا جب بڑی ذات کے لوگوں نے دھرم کواچک لیااوراپنے مفادکیلئے اس کاستعمال جائز کرلیا۔اس وقت سے سنائن دھرم پنڈتوں اور پروتیوں کے قبضے میں ہو گیا، حقیقت خرافات میں کھوگئی اورتوہم پرستی ،استحصال، فریب اوردھوکہ دہی کاسلسلہ شروع ہوگیا۔آج ہماری یہی سب سے بڑی کمزوری ہے کہ ہم اس پرمنہ نہیں کھولتے،بندرکھتے ہیں۔یہی وجہ ہے کہ ہم سرحدپارکے لوگوں سے مغلوب ہوئے،مغل بادشاہوں اورانگریزوں نے ہمیں اپنے بس میں کرلیا۔سنائن دھرم کے لوگ کبھی ترقی نہیں کرسکتے جب تک وہ توہم پرستی اوربے عقلی کے خول سے باہرنہ آئے۔ہم جنم بھومی کے معاملے پر رجعت پسندی ،بے عقلی اورفرقہ پرستی کی طرف بڑھ رہے ہیں۔یہ ایک جنگ ہے جوسستی شہرت اور اقتدارکی کرسی حاصل کرنے کیلئے کی جارہی ہے۔ وہ لوگ جوعقیدے ویدے سے واقف ہیںوہی اسے ہندومت کی ترقی کہہ سکتے ہیں اوراس کیلئے لڑائی لڑسکتے ہیں۔میں اس عقیدے کوبڑی اچھی طریقے سے جانتاہوں،اس سے میری محبت ہے اوریہی وہ وجہ ہے کہ اس گمراہی اورضلالت کوکسی طرح بھی قبول نہیں کیاجاسکتا۔


اس خبر کے بارے میں اپنی رائے دیجئے
پسند آئی
 
ٹھیک ہے
 
کوئی رائے نہیں
 
پسند ںہیں آئی
 


 سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں






     
     
تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ روزنامہ اوصاف محفوظ ہیں۔
Copyright © 2016 Daily Ausaf. All Rights Reserved