نام نہاد دعوے اور طرز حکمرانی کے سیاہ باب
  26  اپریل‬‮  2018     |     کالمز   |  مزید کالمز

ترقی کا ایک ویژن وہ ہے جس کا ڈھنڈورا آئے دن مسلم لیگ ن کی قیادت پیٹتی ہے۔ سڑکیں پل میٹرو بس اورنج ٹرین وغیرہ جیسے میگا پراجیکٹس ان کی ترقی کا معیار ہیں اگرچہ یہ منصوبے ادھار یعنی قرض لے کر ہی کیوں نہ بنائے جائیں۔ یہ انسانی فطرت ہے کہ اس کی نگاہیں ظاہری چیزوں سے خیرہ ہوتی ہیں۔ لیگی قیادت چونکہ اس فن میں یکتا ہے چنانچہ ظاہری منصوبوں کو بنیاد بنا کر اس نے پاکستانی عوام کو ہمیشہ گمراہ کیا ہے۔ اتوار کو میاں شہباز شریف کراچی کے دورے پر تھے اور وہ شہر قائد کے باسیوں کو نوید سنا رہے تھے کہ انہیں موقع دیا گیا تو وہ کراچی کو نیو یارک بنا دیں گے۔ نیو یارک شہر کی ترقی کیا اس طرح ہوئی تھی جس طرح کہ لاہور میں ہوئی ہے؟ بیرونی قرضوں اور امداد کے سہارے لگائے جانے والے منصوبوں نے لاہور شہر کی صورت ضرور بدل دی ہے مگر ان قرضوں کی وجہ سے ملکی معیشت کا جو دیوالیہ نکل گیا ہے اس کا حساب کون دے گا۔ قرض کی پیتے تھے مے اور کہتے تھے کہ ہاں رنگ لائے گی ہماری فاقہ مستی ایک دن مسلم لیگ ن کی حکومت نے اپنے پانچ سالوں میں پاکستان کو جتنا مقروض کیا اس کی ماضی میں کوئی مثال نہیں ملتی۔ یوں لگتا ہے کہ نواز شریف اقتدار کو گھٹی آصف زرداری نے دی تھی۔ کہاں گئے وہ میاں صاحب جو قرض اتارو ملک سنوارو کا نعرہ لگایا کرتے تھے۔ جلاوطنی کے بعد لوٹنے والے یہ میاں صاحب وقت گزارو اپنی سیاست سنوارو کی راہ پر چلتے آ رہے تھے کہ قدرت نے اس بے پرواہی کا نوٹس لے لیا ۔ یہ مملکت خداداد پاکستان ہے یہ ہو نہیں سکتا کہ مملکت تباہ ہو رہی ہو اور خدا کی بے آواز لاٹھی حرکت میں نہ آئے۔ نواز شریف اپنے انجام سے دوچار ہیں لیکن بجھتے چراغ کی آخری لو کی مانند بلند ہونے کی کوشش کر رہے ہیں۔ ایک غلط بیانیے پر استوار کی جانے والی سیاسی مہم اوندھے منہ گر چکی ہے ۔ اداروں کے ساتھ مفاہمت کے جادوگر سمجھے جانے والے شہباز شریف کے لیے بھائی نے راستے میں اتنے کانٹے بو دیے ہیں کہ ان کا چلنا بھی دشوار ہو گیا ہے ۔ شہباز شریف اپنے بھائی نواز شریف سے بس اس قدر مختلف ہیں کہ وہ اداروں سے ٹکرانے کے خلاف ہیں باقی چلن ان کا بھی نواز شریف جیسا ہے۔ دس سالوں سے پنجاب پر برسراقتدار رہنے والے خادم اعلی نے اسی دوش پر حکومت چلائی ہے جیسی نواز شریف بطور وزیر اعلیٰ چلایا کرتے تھے۔ یہ لوگ کس منہ سے تبدیلی کی بات کرتے ہیں جب کہ نگاہوں کے سامنے سب کچھ وہی ہے جو 1985ء اور 1988 ء میں تھا۔ نہ دل بدلا نہ دل کی آرزو بدلی نہ وہ بدلے میں کیسے اعتبار انقلاب آسماں کر لوں اقتدار کی یادگار چھوڑنے کے لیے پانچ سال بھی بہت ہوتے ہیں۔ یہ تاریخ کا سبق ہے اور شیر شاہ سوری اس کی روشن مثال ہیں۔ خادم اعلی کو دس سال مل گئے مگر وہ پنجاب پولیس کیلئے ایک ایسا سافٹ ویئر تیار نہ کر اسکے جس کے ذریعے گھر بیٹھے عوام اپنی شکایات یا جرائم کی رپورٹ درج کر اسکتے۔ عوام کیلئے یہ سہولت مہیا کرنا اگر مشکل ہوتی تو خیبر پختونخوا میں تحریک انصاف اقتدار کے پہلے دو سالوں میں ہی یہ کارنامہ سرانجام دینے میں کیسے کامیاب ہو جاتی۔ حقیقت یہ ہے کہ خادم اعلی قطعی طور پر نہیں چاہتے کہ پنجاب کے عوام تھانے اور چوکیوں کی ذلت سے بچیں لہذا لیگی طرز حکمرانی کا ایک باب عوام کو ذہن نشین ہو چکا ہے کہ یہ سوچ کبھی نہیں بدلے گی اگرچہ انہیں آئندہ پچاس سال بھی حکومت کرنے کیلئے مل جائیں۔

پنجاب میں لوکل گورنمنٹ سے ہٹ کر ایک تجربہ کیا گیا اور ایک نئی کمپنی قائم کر کے ترکی کی کمپنی البراک کو شہروں کی صفائی ستھرائی کرنے کا ٹھیکہ دیا گیا۔ اب یہ عیاں ہو چکا ہے کہ نئی کمپنیاں بنانے اور ان کے ذریعے کام لینے کے پیچھے کیا محرکات تھے۔عرض کرنے کا مقصد یہ ہے کہ صفائی کے مہنگے ٹھیکے دینے کے باوجود شہروں کی حالت انتہائی خراب ہے۔ پنجاب کا کوئی ایک شہر ایسا نہیں ہے جس کو صفائی کے لحاظ سے ماڈل شہر کا درجہ دیاجا سکتا ہو۔ خادم اعلی خود کسی شہر کا نام لینے کی پوزیشن میں نہیں ہیں۔ کمشنری نظام بحال کر کے لوکل گورنمنٹ کے اداروں کو بے توقیر کرنیوالے آج جمہوریت کا راگ الاپتے ہیں تو دل میں درد اٹھتا ہے۔ آج بھی انگریز کی طرح مقامی اداروں کو ڈپٹی کمشنروں کے تابع رکھ کر کام چلانا چاہتے تھے۔ عوام کو بااختیار بنانا اور ان کے وسائل پر انہیں حق دینا مسلم لیگ ن کے منشور میں نہیں ہے۔ میاں شہباز شریف نے لیکن ڈھٹائی سے کراچی کے عوام کے سامنے اپنی تعریف کی اور کہا کہ بنی گالہ والوں نے خیبر پختونخوا کا بیڑہ غرق کر دیا ہے۔ یعنی خیبر پختونخوا میں لوکل گورنمنٹ کا بے مثال نظام قائم کرنے والے کہ جس میں موضع کی سطح پر عوام کو وسائل مہیا کیے گئے ہیں ان کی نظر میں برے ہیں اور چند سڑکیں بنا کر عوام کو گمراہ کرنا ان کی نظر میں اچھا ہے۔ خدا کا خوف بھی کوئی چیز ہوتا ہے۔


اس خبر کے بارے میں اپنی رائے دیجئے
پسند آئی
 
ٹھیک ہے
 
کوئی رائے نہیں
 
پسند ںہیں آئی
 


 سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں






     
     
تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ روزنامہ اوصاف محفوظ ہیں۔
Copyright © 2016 Daily Ausaf. All Rights Reserved