درندوں سے بد تر
  26  اپریل‬‮  2018     |     کالمز   |  مزید کالمز

شدت پسندی اور مذہبی تعصب کے بدترین مناظر دنیا کو دکھانے والا بھارت مودی کے زیرِ قیادت ایک ایسے راستے پہ چل نکلا ہے جس کا انجام بربادی کے سوا کچھ اور نہیں نکل سکتا ! بی جے پی جنوبی ایشیا کی سکہ بند شدت پسند تنظیم ہے ! اِس کی بغل بچہ تنظیمیں آر ایس ایس ( راشٹریہ سوائیم سیوک سنگھ) ، بجرنگ دل ، سنگھ پریوار اور ہندو مہا سبہا بھی ہندوستان میں خون ریزی ، نسلی تعصب اور غیر انسانی تشدد کے لیے مشہور ہیں ۔ تشدد بھی ایسا کہ انسان کی روح کانپ اُٹھے ۔ تعصب وہ کہ جس کا تصور بھی محال ہے ۔ اِن تنظیموں کی قیادت کے نزدیک مسلمانوں اور دیگر اقلیتوں کے خون سے ہولی کھیلنا پاپ ( گناہ) نہیں بلکہ پُن(نیکی) ہے ۔ بلاشبہ مسلمان ہندو شدت پسندوں کے جنون کا نشانہ بننے والے طبقات میں سرِ فہرست ہیں ۔ مسلمانوں پہ شدت پسندوں کے ظلم و جبر کے تذکرے سے پہلے یہ بی جے پی کی عمومی سوچ یا طرزِ فکر کو سمجھنا ضروری ہے ۔ اِس معاملے میں گاندھی جی کے قتل کی واردات پہ نگاہ ڈالیے ۔ بھارت کے بانی مہاتما اور باپو جی کے نام سے جانے پہچانے والے گاندھی جی کا قاتل نتھو رام گوڈسے بھی شدت پسند آر ایس ایس اور ہندو مہا سبہا تنظیموں کا نظریاتی کارکن تھا ۔ آپ شاید سوچ رہے ہوں کہ گاندھی جی کسی زاتی تنازعے یا غلط فہمی میں قتل کر دیے گئے تو جان لیجیے کہ نتھو رام گوڈسے نے یہ قتل سوچ سمجھ کے کیا تھا ۔ گاندھی جی کا جرم یہ تھا کہ انہوں نے تقسیم کے بعد پاکستان کے حصے میں آنے والے وسائل کی فوری منتقلی کا مطالبہ کیا تھا ۔ بھارتی متعصب قیادت اِن اثاثوں کی منتقلی میں روڑے اٹکا کے ابتدائی مراحل پہ ہی پاکستان کو دیوالیہ کرنے کے سپنے دیکھ رہی تھی ۔ گاندھی جی بھی اگرچہ مسلمانوں کے خیر خواہ نہ تھے لیکن یہ تاریخی حقیقت ہے کہ انہوں نے پاکستان کے حصے آنے والے اثاثوں کی فوری منتقلی کے لیے آواز اُٹھا ئی اور تقسیم ِ ہند کے عمل میں رکاوٹ نہ ڈال سکے بلکہ بعض مواقع پہ ہندو شدت پسندوں کی خواہشات کے بر خلاف اقلیتوں خصوصاً مسلمانوں کے خلاف ہونے والے تشدد پہ بطورِ احتجاج مرن برت بھی رکھتے رہے ۔ یہی وہ جرائم تھے جن کی پاداش میں نتھو رام گوڈسے نے گاندھی جی کو اپنے ہاتھوں سے قتل کیا ۔ مقدمے کی روداد کے مطابق نتھو رام گوڈسے مسلمانوں کے خلاف شدید نفرت کا شکار تھا ۔ غور فرمایئے کہ جس انتہا پسندانہ سوچ کی حامل جماعت کے کارندوں نے گاندھی جی جیسے مایہ ناز ہندو راہنما کو نہیں بخشا وہ مسلمانوں اور دیگر مذاہب کے خلاف کس حد تک جا سکتی ہے ۔یہ بھی قابلِ غور حقیقت ہے کہ بھارت کے کئی شہروں میں آر ایس ایس اور بی جے پی کے شدت پسندوں نے گاندھی جی کے قاتل نتھو رام گوڈسے کے مجسمے بھی نصب کر رکھے ہیں ۔ غضب یہ ہے کہ آج بھارت پہ بی جے پی کی صورت میں اُسی انتہا پسند سوچ کی حکومت ہے۔ بھارتی وزیرِ اعظم نریندر مودی بھی اسی جماعت کا نظریاتی کارکن ہے ۔ یہ دنیا کی سب سے بڑی شدت پسند ریاست ہے جس کے دامن پہ ان گنت مسلمانوں ، سکھوں ، دلتوں اور عیسائیوں کے خون سے رنگے ہیں ۔ شدت پسندی کا حال یہ ہے کہ وفاقی وزیر کھلم کھلا پاکستان کے چار ٹکڑے کرنے کی دھمکیاں دیتے ہیں ۔ ایک ریاست کا وزیرِ اعلیٰ یوگی ادیتیا ناتھ عوامی جلسوں میں مردہ مسلم عورتوں کے جسم قبروں سے نکال کے اُن کی بے حُرمتی کرنے کے اعلان کرتا ہے ۔ گائے کے ذبیحے کا جھوٹا الزام لگا کے مسلمانوں کو سرِ عام قتل کر دیا جاتا ہے ۔ بھارت میں مذہبی شدت پسندی نئی بات نہیں ۔ 1999ء میں ایک عیسائی مشنری گراہم اسٹینس کو دو کم عمر بیٹوں کے ساتھ بجرنگ دل کے شدت پسندوں نے زندہ جلا کے مار دیا تھا ۔ واقعے پہ اپنی رائے کا اظہار کرتے ہوئے بھارتی ادیب خشونت سنگھ نے اپنی کتاب End of India میں اِس درندگی کو سیکولر بھارت کے خاتمے سے تعبیر کیا تھا ۔ حقیقت میں بھارت نہ کبھی سیکیولر تھا اور نہ ہی کبھی ہندو شدت پسندوں نے دیگر اقلیتوں کو انسان سمجھا ۔ اِسی بے پناہ نفرت نے مسلمانوں کو ِ پاکستان کے قیام کی جانب راغب کیا ۔ آج کا بھارت ماضی کے مقابلے میں کہیں زیادہ انتہا پسند ، مسلم دشمن اور خونخوار ہو چکا ہے ۔ کشمیر کی معصوم آصفہ کی اجتماعی آبرو ریزی اور وحشیانہ قتل نے بھارت کا مکروہ چہرہ مذید بھیانک کر دیا ہے ۔ یہ بدترین واقعہ چند مٹھی بھر شدت پسندوں کا ذاتی فعل ہرگز نہیں بلکہ اِس کی ذمہ دار بھارت میں زہر کی طرح پھیلتی وہ مسلم دشمنی ہے جس کی بنیاد پہ بی جے پی جیسی جماعتوں کی نظریاتی بنیادیں استوار کی گئی ہیں ۔

آج بھارت سمیت دنیا بھر میں آصفہ پہ ہونے والے ظلم کے خلاف احتجاج ہو رہا ہے ۔ انصاف پسند ہندو بھی اِس درندگی پہ چیخ اُٹھے ہیں ۔ بعض گناہوں کا داغ کبھی دھل نہیں پاتا ۔ آصفہ کی بے حرمتی اور قتل کے الم ناک سانحے سے بڑا سانحہ یہ ہے کہ مجرموں کے تحفظ کے لیے شدت پسند ہندو مرد و زن سڑکوں پہ نکل آئے ۔ مظلوم بچی کی مسخ شدہ لاش کو آبائی قبرستان میں دفن بھی نہیں کرنے دیا گیا ۔ بھارت کی پیشانی سے یہ داغ کبھی نہ دھل سکے گا ۔ منافقت یہ ہے کہ اِن مظالم کا نشانہ بننے والے کشمیری دہشت گرد ہیں جبکہ جنونی قاتلوں کا سرغنہ مودی دنیا بھر میں امن اور سلامتی کے بھاشن دیتا پھرتا ہے ۔ کچھ برس قبل بھارت کے ایک پسماندہ علاقے میں کوڑے کے ڈھیر پہ پڑے لاوارث بچے کو ایک کتیا نے اپنا دودھ پلا کے مرنے سے بچا لیا تھا ۔ بی جے پی کے انتہا پسند معصوم بچی کی بیحرمتی کرنے والے قاتلوں کے محافظ بن کے کھڑے ہیں ۔ اِس کا صاف مطلب یہ ہوا کہ بھارت پہ راج کرنے والے شدت پسندوں سے تووہ کتیا بہتر تھی جس نے جانور ہوتے ہوئے انسان کے بچے کی جان بچائی ۔


اس خبر کے بارے میں اپنی رائے دیجئے
پسند آئی
 
ٹھیک ہے
 
کوئی رائے نہیں
 
پسند ںہیں آئی
 


 سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں





  اوصاف سپیشل

آج کا مکمل اخبار پڑھیں

     
     
تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ روزنامہ اوصاف محفوظ ہیں۔
Copyright © 2016 Daily Ausaf. All Rights Reserved