نوازشریف کا بیان اور قومی سلامتی کمیٹی کا سخت ردعمل
  15  مئی‬‮  2018     |     کالمز   |  مزید کالمز

٭قومی سلامتی کمیٹی نے میاں نوازشریف کے حالیہ بیان کو گمراہ کن اور بے بنیاد قرار دے کر سختی سے مسترد کر دیا۔ اجلاس کی صدارت وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے کی اس میں تینوں افواج کے سربراہوں، اور چیئرمین جائنٹ چیفس آف سٹاف کے علاوہ اہم وزراء نے بھی شرکت کی۔ قومی سلامتی کمیٹی ملک کا سلامتی اور دفاع کے امور کا اعلیٰ ترین ادارہ ہے۔ اس کے فیصلوں کو پارلیمنٹ یا کوئی دوسرا ادارہ نظر انداز نہیں کر سکتا۔ یہ بات سمجھ سے بالا تر ہے کہ سابق وزیراعظم کو اچانک اس قسم کے بیان کی کیا ضرورت پیش آ گئی تھی جس سے ملک بھر میں ہیجان اور ہر سطح پر ہنگامہ خیز صورتحال پیدا ہو گئی، بھارتی وزارت دفاع اور میڈیا نے آسمان سر پر اٹھا لیا، پاکستان کی فوج نے برہم ہو کر قومی سلامتی کمیٹی کے اجلاس کا مطالبہ کر دیا اور بھارتی حکومت نے فیض احمد فیض کی بیٹی منیزہ ہاشمی کو فوری طور پر بھارت سے نکال دیا تو میاں نوازشریف نے بڑی معصومیت کے ساتھ پوچھا ہے کہ میں نے کیا کہہ دیا ہے جو لوگ میرے پیچھے پڑ گئے ہیں! کیا بے خبری ہے! کیا بھولپن ہے! پرانا محاورہ یاد آ رہا ہے کہ 'بھس میں چنگاری ڈال، بی جمالو دور کھڑی!' نوازشریف صاحب! کیا فوج کی قیادت ایسے ہی برہم ہو گئی؟ آپ نے کچھ نہیں کہا تو بھارتی میڈیا کیوں اچھل کود کر رہا ہے؟ بھارتی وزارت دفاع کیوں ایک دم حرکت میں آ گئی ہے! پہلا مسئلہ تو یہ ہے کہ آپ کو ایک دبی ہوئی بات کو اچانک اچھالنے کی کیا ضرورت پیش آ گئی تھی؟ یہ سرل المیڈا صحافی کون ہے، آپ کا اتنا محبوب کیوں ہے؟ اس شخص کی ڈان نیوز لیکس کی متنازعہ خبر پر فوج نے سخت ردعمل کا اظہار کیا اس پر آپ کے وزیرطلاعات پرویز رشید کو استعفیٰ دینا پڑا۔ کچھ اور ایکشن بھی ہوا۔ الزام لگا کہ یہ سب کچھ مریم نواز کا کیا دھرا تھا۔ مریم نواز نے انکار کیا۔ راجہ ظفر الحق نے تحقیق کی، رپورٹ آج تک سامنے نہ آئی۔ سرل المیڈا اور اس کے اخبار نے کوئی جواب دینے سے انکار کر دیا۔ معاملہ دبا دیا گیا۔ اب پھر وہی سرل المیڈا! ایسی کیا ہنگامی صورت حال پیش آئی تھی کہ سرل المیڈا کو فوری طور پر ملتان بلایا گیا۔ وہ ایک خصوصی طیارے میں ملتان پہنچا۔ وزیراعظم کے ہوابازی کے مشیر نے فوری احکام جاری کئے کہ سرل المیڈا کی کوئی چیکنگ نہ کی جائے، اسے وی آئی پی پروٹوکول کے ساتھ ہوائی اڈے کے ایپرن پر میاں نوازشریف کے پاس پہنچا دیا جائے۔ ایسا ہی ہوا وہ ایک سپیشل طیارے میں آیا۔ اسے سپیشل پروٹوکول دیا گیا۔ سابق وزیراعظم نے اسے سپیشل انٹرویو دیا کہ ملک میں ممبئی کے سانحہ کے ملزموں کیخلاف کارروائی کیوں مکمل نہیں ہو رہی ہے یہ کہ ملک میں عسکری تنظیمیں بدستور کام کر رہی ہیں اور یہ کہ کیا نان سٹیٹ ایکٹرز کو ممبئی میں 150 افراد کو قتل کرنے کے لئے بھیجا جا سکتا ہے؟ ٭یہ بیان اسی اخبار میں چھپا جس نے نیوز لیکس کی کہانی چھاپی تھی۔ اس پر ملک میں تو جو ردعمل ہوا، بھارتی میڈیا نے طوفان کھڑا کر دیا اور بھارتی وزیردفاع نرملا متھارامن کا فوری بیان آ گیا کہ پاکستان کے سابق وزیراعظم نے ممبئی کے سانحہ کے بارے میں پاکستان کی سازش ثابت کر دی ہے!! اہم بات یہ کہ مسلم لیگ ن کے نئے صدر اور نوازشریف کے بھائی شہباز شریف کہہ رہے ہیں کہ یہ بیان سیاق و سباق کے بغیر توڑ مروڑ کر پیش کیا گیا ہے، یہ پارٹی کی پالیسی سے مطابقت نہیں رکھتا۔ اس 'وضاحت' کے بعد نوازشریف نے پھر دو ٹوک بیان دیا ہے کہ میں اپنے بیان پر قائم ہوں۔ موصوف نے اسلام آباد کے صحافیوں کو دوبار یہ بیان پڑھ کر سنایا اور اسے درست قرار دیا۔ ملک میں ہر سطح پر شدیدردعمل پر موصوف نے عذر پیش کیا کہ یہ باتیں مجھ سے پہلے، جنرل محمود درانی اور رحمان ملک بھی کہہ چکے ہیں۔ میں یہ بات کرتا رہوں گا۔ میں نے 1999ء میں ایٹمی دھماکہ کر کے ملک کی سلامتی کا تحفظ کیا تھا! نوازشریف کی باتوں کا فوری جواب تو ان کے ہی سابق وزیر داخلہ چودھری نثار علی، رحمان ملک بھی دے چکے ہیں کہ ممبئی کیس اس لئے مکمل نہیں ہو سکا کہ بار بار مطالبے اور یاد دہانی کے باوجود بھارت نے اس کیس کے شواہد پیش نہیں کئے حتیٰ کہ بھارت جانے والی پاکستانی ٹیم کو مبینہ ملزم قصاب سے بات کرنے کی اجازت بھی نہیں دی گئی اور اسے فوری طور پر پھانسی دے دی گئی اس کی شہادت کے بغیر یہ کیس کیسے مکمل ہو سکتا ہے؟ ٭ایک بات یہ کہ میاں نوازشریف نے پچھلے پانچ برسوں میں ایک بار بھی بھارتی جاسوس کلبھوشن کا نام نہیں لیا۔ اس کے بارے کوئی بات نہیں کی۔ گزشتہ روز ایک صحافی کے سوال پر کہا کہ ہاں کلبھوشن بھارت کا جاسوس تھا! اور بس! سوال تو یہ بھی کیا جا سکتا ہے کہ آپ ایک عرصے سے روزانہ جلسے کر رہے ہیں، کبھی مقبوضہ کشمیر میں ظلم و ستم کی انتہا پر بھارت کے خلاف کوئی کلمہ کہا؟ میاں صاحب! قصاب نوجوان پاکستان سے گیا بھی تھا تو یہ اس کا ذاتی فعل تھا، اس سے پاکستان کی حکومت یا فوج کا کوئی تعلق نہیں تھا۔ آپ نے تو واضح طور پر اشارا دیا کہ پاکستان میں عسکری تنظیمیں کام کر رہی ہیں! عسکری تنظیم سے ہر ملک میں اس کی فوج مراد لی جاتی ہے اس کا انگریزی میں ترجمہ ملٹری آرگنائزیشن بنتا ہے! آپ نے کسی پرائیویٹ تنظیم کا اشارا یا نام نہیں دیا۔ وہ فرض کریں کہ آپ نے پرائیویٹ عسکری تنظیموں (دہشت گردوں!) کا حوالہ دیا ہے تو یہ تو آپ نے اور بھی خطرناک بات کہہ دی۔ یہی بات تو امریکہ اور بھارت کہہ رہے ہیں کہ پاکستان میں دہشت گردوں کے محفوظ اڈے موجود ہیں؟ اسی بنا پر تو امریکہ نے پاکستان کی امداد روکی ہے۔ آپ نے تو کھلم کھلا امریکہ کے موقف کو ثابت کر رہے ہیں۔ ویسے آپ جو کچھ کہہ رہے ہیں، اس کا سارا الزام تو خود آپ پر آتا ہے۔ آپ چار سال وزیراعظم رہے، کیوں خاموش رہے؟ ملک کی تاریخ میں یہ پہلا موقع ہے کہ حکومت کو فوج کے مطالبہ پر قومی سلامتی کمیٹی کا اجلاس طلب کرنا پڑا ہے۔ اجلاس میں وزیراعظم، وزرائ، چیئرمین جائنٹ چیفس اور تینوں افواج کے سربراہ شریک ہیں۔ ٭سپریم کورٹ نے ملک کے مختلف افراد کے ذمے 84 ارب روپے کے قرضے معاف کرانے کا نوٹس لیا ہے اور ان 222 افراد کو 8 جون کو طلب کر لیا ہے۔ یہ قرضے اس بدنام زمانہ معاہدہ 'این آر او' کے تحت ختم کئے گئے تھے۔ یہ معاہدہ بے نظیر بھٹو اور خود ساختہ صدر جنرل (ر) پرویز مشرف کے درمیان دبئی میں ہوا تھا۔ اس کے نتیجے میں ملک بھر میں آٹھ ہزار سے زیادہ فوجداری اور سول مقدمے ختم کر دیئے گئے، بے نظیر بھٹو کی واپسی ممکن ہوئی مگر اس کا فائدہ نہ پرویز مشرف کو پہنچا نہ بے نظیر کو اور آصف زرداری کے ہاتھ صدارت آ گئی۔ ٭چیف جسٹس ثاقب نثار نے اس بات کا سخت نوٹس لیا ہے کہ عمران خاس کو عدلیہ کا لاڈلا کہا جا رہا ہے۔ یہ بات نوازشریف اور مریم نواز تو ایک عرصے سے کہہ رہے ہیں، اب وزیراطلاعات مریم اورنگ زیب نے بھی حق وزارت ادا کرتے ہوئے لاڈلے کا لفظ شروع کر دیا ہے۔ چیف جسٹس نے وزیراطلاعات کو طلب کر لیا ہے کہ وہ آ کر بتائیں کہ یہ لفظ کیوں استعمال کیا جا رہا ہے۔ نوازشریف اور مریم نواز تو ویسے ہی کیس بھگت رہے ہیں، مریم اورنگ زیب کا تو اس معاملے سے کوئی تعلق ہی نہیں بنتا۔ ٭وادی نیلم کا سانحہ اتنا روح فرسا، اتنا اذیت ناک ہے کہ خبر سننے اور پڑھنے کی ہمت نہیں پڑ رہی۔ خطرناک نالے کے جس پل پر ایک وقت میں صرف چار افراد کے جانے کی اجازت تھی اس پر 40 چڑھ گئے، کسی نگران نے نہیں روکا! شائد کوئی روکنے والا وہاں ہو گا ہی نہیں۔ ذہن سن ہو رہا ہے۔ تفصیل خبر میں موجود ہے، اِنا للہ و انا الیہ راجعون! ٭ایس ایم ایس: عباس پور کنٹرول لائن پر آزاد کشمیر کی تحصیل ہے۔ اس دور میں بھی ہسپتال کی سہولت موجود نہیں۔ بھارتی فائرنگ سے روزانہ لوگ زخمی ہو رہے ہیں۔ ان کے علاج کا کوئی انتظام نہیں۔ نوجوان نے ہسپتال بنائو کی تحریک شروع کر دی ہے مگر کوئی شنوائی نہیں ہو رہی۔ مقصود فاروقی عباس پور ٭تحصیل بازار سرائے نورنگ میں پہلے صبح سویرے پانی کا چھڑکائو ہوتا تھا اب 9 بجے کیا جاتا ہے۔ 9 بجے تک شدید گردوغبار پھیلا رہتا ہے۔ یوسف خان

٭میرا تعلق آزاد کشمیر کی تحصیل سمانی کی گائوں پونا سے ہے۔ یہاں سے برطانیہ جانے والے افراد نے تقریباً 3 کروڑ روپے سے ہسپتال بنایا، پانچ سال پہلے حکومت نے اسے ڈسپنسری کا درجہ دیا مگر آج تک ضروری عملہ نہیں دیا۔ یہ علاقہ کنٹرول لائن پر واقع ہے آئے دن بھارتی فوج کی فائرنگ ہوتی رہتی ہے حکومت تک اپیل پہنچا دیں کہ ضروری عملہ فراہم کیا جائے نائب صوبیدار (ر) محمد رفیق کنڈپُونا آزاد کشمیر


اس خبر کے بارے میں اپنی رائے دیجئے
پسند آئی
 
ٹھیک ہے
 
کوئی رائے نہیں
 
پسند ںہیں آئی
 


 سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں






آج کا مکمل اخبار پڑھیں

کالمز

کالم /بلاگ


     
     
تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ روزنامہ اوصاف محفوظ ہیں۔
Copyright © 2016 Daily Ausaf. All Rights Reserved