رنجشوںاوردشمنی کانیامرکز
  16  مئی‬‮  2018     |     کالمز   |  مزید کالمز

پچھلی تین دہائیوں سے زائدصومالیہ خشک سالی اورخانہ جنگی کی وجہ سے تباہ وبربادہوچکاہے اورصومالیہ کی نصف سے زائدآبادی دنیاکے دیگرممالک میں پناہ لے چکی ہے۔سیاسی تجزیہ نگاروں کے مطابق صومالیہ زیرزمین قدرتی وسائل سے مالامال ملک ہے اورانہی وسائل پرقبضہ کرنے کیلئے امریکااوردیگرمغربی ممالک صومالیہ کے بااثر مگرکرپٹ افرادکے تعاون سے ان پرقبضہ کرنے کیلئے کوشاں تھے ۔ان کوششوں کوروکنے کیلئے کئی عسکری گروپ میدان میں اترآئے جس میں القاعدہ اپنے مضبوط اورطاقتورگروپ کے طورپرسامنے آئی اورانہوں نے صومالیہ کوغیرملکی طاقتوں کے چنگل سے آزادی کے نام پر امریکی اورمغربی مفادات کواس لئے نشانہ بناناشروع کردیا جس کے بعدامریکانے ان گروپوں کوختم کرنے کیلئے ڈرون حملوں کاآغاز کر دیاجوتاحال ابھی تک جاری ہیں۔ ان عسکری گروہوں نے امریکی مفادات کے خلاف اب خودکش حملوں کابھی آغازکردیاہے اور موغادیشو میں 15اکتوبر2017ء میں ہونے والے دوبم دہماکوں میں 30 افراد موقع پرہی ہلاک اورسوسے زائدافرادزخمی ہوگئیتھے جن میں درجن سے زائدبعدازاں زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے اپنی جانوں سے ہاتھ دھوبیٹھے۔پہلادھماکہ شہرکے پرہجوم علاقے میں کیاگیاجبکہ دوسرادھماکہ دارالحکومت کے مدینہ ضلع میں ہواجس میں کئی افرادہلاک ہوگئے۔ پولیس کپتان محمدحسین نے مشہورخبررساں ادارے رائٹرزکوبتایا کہ پہلادھماکہ موغادیشو کے ایک بڑے ہوٹل جہاں امریکی قیام کرتے ہیں،اس کے صدر دروازے کے قریب دھماکہ خیزموادسے بھرے ٹرک سے کیاگیاجس سے تیس افراد ہلاک ہوگئے اورآج تک یہ واضح نہیں ہوسکاکہ اس خوفناک دھماکہ کاذمہ دارکون ہے تاہم موغادیشومیں ایسی کاروائیوں میں پہلے بھی القاعدہ ملوث رہی ہے۔صومالیہ میں بی بی سی کے نمائندے نے یہ کہاکہ میں نے آج تک ایساخوفناک دھماکہ نہیں دیکھاجس نے آن کی آن میں پورے علاقے کوتباہ وبربادکرکے رکھ دیا۔اس دہماکے میں ملک کاسب سے بڑاپرتعیش سفاری ہوٹل مکمل طورپرتباہ ہوگیاجہاں غیرملکیوں کی اکثریت موجودتھی ۔ لیکن اب صورتحال قطعی بدل گئی ہے اور ستمبر2014ء سے یمن کے دارلحکومت صنعاپرقابض ایران نوازحوثی باغیوں نے خلیجی ممالک کے باہمی اختلافات اورایک دوسرے کے خلاف محلاتی اور علاقائی سازشوں سے فائدہ اٹھا کر حوثی باغیوں نے صومالیہ میں متحرک ہونے کاسلسلہ شروع کردیا ہے۔ مشرقی افریقہ کے اہم ترین مسلم ملک صومالیہ کوپورے براعظم میں سب سے بڑے ساحل رکھنے کا اعزاز حاصل ہے،طویل تربھارتی ساحلی علاقہ اوراہم بندرگاہوں کے باعث ہی اسے صومالیہ کہاجاتاہے جس کامطلب ''دودھ سے بھراپیالہ''ہے ۔ایران نے صومالیہ میں فوجی اہمیت وبرتری حاصل کرنے کیلئے یہاں کے طویل تجارتی بندرگاہوں سے حوثیوں کوعرب ممالک کے خلاف متحرک کرنے کامنصوبہ بنارکھاہے۔حوثی سپریم کونسل کے سربراہ محمدعلی حوثی نے باقاعدہ اعتراف کرتے ہوئے بتایاکہ حوثی باغی متحدہ عرب امارات کے ساتھ صومالیہ کے سیاسی تنازع میں صومالیہ کے ساتھ تعاون کررہے ہیں۔باوثوق ذرائع کے مطابق حوثی باغیوں سے منسلک عسکری گروپوں کی صومالیہ میں عسکری سرگرمیاں سترکی دہائی سے جاری ہیں تاہم ماضی میں حوثیوں کے پاس زیادہ اسلحہ نہ ہونے کی وجہ سے انہیں زیادہ بہترتعاون فراہم کرنے سے قاصرتھے جس کے باعث یہ معاملہ زیادہ نہ ابھرسکاتھاچونکہ صومالیہ کی سرحد شمال میں یمن کے ساتھ ملتی ہے،اس لئے حوثی باغی بڑی آسانی سے صومالیہ میں متحرک رہتے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق حوثی باغیوں کے صومالیہ کی مرکزی حکومت میں بعض اعلیٰ حکام کے ساتھ خفیہ روابط ہیں جن کے ذریعے حوثی باغیوں نے متحدہ عرب امارات کی جانب سے وہاں پرجاری منصوبوں کوناکام بنانے میں اہم کرداراداکیاہے۔یمن کے حوثی باغی صومالیہ کے ساحلوں سے مستفیذہورہے ہیں اوراسلحہ اورمنشیاکی اسمگلنگ کیلئے صومالیہ کی بندرگاہوں کوآزادانہ استعمال کرتے رہے ہیں۔اس سال دبئی کی ایک کمپنی نے بربرہ بندرگاہ کی تعمیرکامعاہدہ کیا۔کمپنی کی تعمیری سرگرمیوں کے آغازسے قبل وہاں سیکورٹی انتظامات کیلئے فورسز تعینات کی گئیں جس سے حوثیوں کی اسمگلنگ کادھندہ رک گیا۔نقصان کے اندیشے کے پیش نظرباغیوں نے غریب سومالیہ کے کرپٹ رہنماؤں کوبھاری رشوت دیکرانہیں ان کے محسن ملک عرب امارات کے خلاف استعمال کیا۔صومالیہ میں حوثیوں کاکرداراس وقت منظرعام آیاجب 8اپریل کوعرب امارات کے جہازکوصومالیہ کے دارلحکومت موغادیشومیں روکاگیا، جہاز میں عرب امارات کے فوجیوں کے ساتھ توہین آمیزسلوک اوران کوہراساں کیاگیااوران سے وہ ساری رقم بھی ضبط کرلی گئی جووہ فوجیوں کوتنخواہ دینے کی غرض سے لائے تھے۔اماراتی حکام کی جانب سے ایک بیان میں کہاگیاہے کہ اس طیارے پر147ماراتی سیکورٹی اہلکارسوارتھے ،نہ صرف جہازکوروکاگیابلکہ ان سے انتہائی نارواسلوک کرنے کے بعدان سے وہ ساری رقم بھی چھین لی گئی جووہ تنخواہ دینے کیلئے اپنے ساتھ لیکرگئے تھے۔ بیان میں کہاگیاہے کہ گن پوائنٹ پرجہازروکنا،اماراتی سیکورٹی فورسزکے ساتھ توہین آمیز نارواسلوک اوررقوم کوضبط کرنے کی کاروائی دوطرفہ معاہدوں اورعالمی قوانین کی صریحاً خلاف ورزی ہے۔اماراتی سرکاری نیوزایجنسی صرام کے مطابق اماراتی حکومت کاکہناہے کہ طیارے میں رکھی گئی رقم ایک معاہدے کے تحت صومالیہ کی فوج کی مددکیلئے بھیجی گئی تھی ۔ واضح رہے کہ متحدہ اامارات اورصومالیہ کے درمیان 2014ء میں یہ دوطرفہ فوجی معاہدہ طے پایاتھا لیکن موغادیشومیں طیارہ روکے جانے کے بعدمتحدہ عرب امارات نے صومالیہ کی فوج کی تشکیل دینے اوراس کی تربیت دینے کے مالی مشن کے علاوہ ہرقسم کے تعاون کوختم کرنے کااعلان کردیاہے اوراس کے ساتھ ہی اماراتی حکومت نے موغادیشومیں متحدہ امارات کاامدادی ہسپتال بھی بندکردینے کااعلان کردیاہے۔امارات کی جانب سے ان پابندیوں کے اقدامات کے بعدحوثی باغیوں نے کھل کرپرپرزے نکالنے شروع کردیئے ہیںاورانہوں نے سومالی عوام کوجھوٹی طفل تسلیاں دینی شروع کردی ہیں کہ امارات کی جانب سے امدادی سرگرمیوں پرپابندیوں کے بعدوہ صومالیہ کی مددکیلئے میدان میں موجود رہیں گے۔خیال رہے کہ عرب امارات اورصومالیہ کے درمیان متبادل احترام پرمبنی تاریخی تعلقات ہیں۔

امارات نے امارات نے صومالیہ کی سیکورٹی فورسزاورفوج کے ہزاروں اہلکاروں کوعسکری تربیت کے علاوہ دوسرے کئی فلاحی کاموں میں بھی بے پناہ امدادفراہم کی ہے۔پچھلے کئی برسوں سے متحدہ امارات کی جانب سے صومالیہ کے2407صومالی فوجیوں کی تنخواہ اوردیگراخراجات بھی اداکئے جاتے تھے ۔اس کے علاوہ صومالی عوام کے علاج معالجے کیلئے ہسپتال اوردیگراماراتی طبی ٹیموں کے اخراجات بھی عرب امارات حکومت برداشت کررہی تھی۔نیزدہشتگردی اورقذاقی کے انسدادکیلئے بھی عرب امارات پرنٹ لینڈصوبے میں سمندری پولیس کی نگرانی کررہاتھا۔ صومالیہ کے سیکورٹی اورعسکری اداروں کے معیارکوبلندکرنے میں عرب امارات نے بھرپورمالی کرداراداکیاہے۔اس سے سب سے زیادہ نقصان حوثی باغیوں کے عسکری باغی گروپوںکوہورہاتھا جس کے خلاف سازش کے ذریعے حوثیوں نے اپنے مہربان ممالک کے ذریعے صومالیہ کی حکومت میں اپنے وفادارتلاش کرلئے ہیں اوریوں عربوں کے درمیان رنجشیں اوردشمنی ڈالنے کیلئے انہیں بہترین جگہ مل گئی ہے۔


اس خبر کے بارے میں اپنی رائے دیجئے
پسند آئی
 
ٹھیک ہے
 
کوئی رائے نہیں
 
پسند ںہیں آئی
 


 سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں





  اوصاف سپیشل

آج کا مکمل اخبار پڑھیں

آج کا مکمل اخبار پڑھیں

کالمز

کالم /بلاگ


     
     
تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ روزنامہ اوصاف محفوظ ہیں۔
Copyright © 2016 Daily Ausaf. All Rights Reserved