امریکی سفارتخانہ کی تل ابیب سے بیت المقدس خونی منتقلی:عالمی امن دائو پر لگ گیا
  16  مئی‬‮  2018     |     کالمز   |  مزید کالمز

امریکی سفارتخانہ تل ابیب سے بیت المقدس منتقل کر دیا گیا، غزہ میں ہونے والے مظاہروں کے دوران ساٹھ فلسطینیوں کو شہید کر دیا،ستائیس سوزخمی' شہداء میںسولہ بچے بھی شامل ہیں ۔ گزشتہ روز عالمی مخالفت کے باوجود امریکہ نے اپنا سفارتخانہ تل ابیب سے بیت المقدس منتقل کردیا ۔ امر واقع یہ ہے کہ غزہ میں اسرائیلی سرحد کے قریب چھ ہفتوں سے مظاہرے جاری ہیں لیکن امریکہ کا سفارتخانہ تل ابیب سے مقبوضہ بیت المقدس میں منتقل کیے جانے کے بعد ان میں شدت آئی ہے۔ فلسطینی امریکی سفارتخانے کی منتقلی کو پورے بیت المقدس پر اسرائیلی قبضے کی امریکی حمایت کے طور پر دیکھتے ہیں اور فلسطینی اس شہر کے مشرقی حصے پر اپنا حق مانگتے ہیں۔ صیہونی فوجی نشانے بازوں نے مظاہرین پربراہ راست فائرنگ کرکے ان کی جانیں لے لیں۔ ہم سمجھتے ہیں کہ امریکہ صدر ٹرمپ جنہیں امریکہ میں ایک پاگل اور سر پھرے صدر کے طور پر جانا جاتا ہے ان کے برسر اقتدار آنے کے بعد سے جہاں امریکی انکی غیر منصفانہ اور باغیانہ سوچ پر مبنی پالیسیوں سے نالاں ہیں' وہاں ان کی وجہ سے دنیا کا امن بھی دائو پر لگ گیا ہے ۔ ہماری رائے میں امریکی صدر صرف مسلم کشی کی حد تک ہی پاگل اور انتہاء پسند ہیں ،باقی معاملات میں وہ غیر مسلموں کے لئے قابل قبول ہیں ۔ ایرانی سپیکر کا کہنا درست ہے کہ ٹرمپ بیمار ذہنیت کے مالک ہیں۔یہ انتہاء پسندی کی انتہاء ہے کہ دنیا میں ایک غیر قانونی اور ناجائز صیہونی ریاست میں امریکی سفارتخانے کا افتتاح ریاست اسرائیل کے قیام کی 70ویں سالگرہ کے موقعے پر رکھا گیا ہے۔اسرائیل بیت المقدس کو اپنا ازلی اور غیر منقسم دارالحکومت کہتا ہے جبکہ فلسطینی مشرقی بیت المقدس پر اپنا دعویٰ پیش کرتے ہیں جس پر اسرائیل نے 1967 ء کی مشرق وسطی کی جنگ میں قبضہ کر لیا تھا۔ فلسطینی اسے اپنی مستقبل کی ریاست کا دارالحکومت کہتے ہیں۔ فلسطینی صدر محمود عباس نے صدر ٹرمپ کے سفارتخانے کو منتقل کرنے کے فیصلے کو ''صدی کا تھپڑ'' قرار دیا جبکہ یورپی یونین نے سفارتخانے کی منتقلی پر شدید اعتراض ظاہر کیا ہے اور زیادہ تر یورپی یونین کے سفیر اس کا بائیکاٹ کررہے ہیں تاہم ہنگری، رومانیہ، اور چیک ریپبلک جیسے ممالک کے درجنوں نمائندے شریک ہوئے ۔ ہم سمجھتے ہیں کہ القدس فلسطینیوں کا ہے اورہمیشہ رہے گا۔امر واقع یہ ہے کہ امریکہ اوراسرائیل مسلمانوں کا بدترین قتل عام کررہے ہیں جبکہ دنیا کے دیگر ممالک بالخصوص یورپی ممالک پہلی اور دوسری جنگ عظیم کی ہلاکت خیزیوں سے سبق سیکھنے پر تیار نہیں ہیں اور ان منہ زور اور دہشت گردی میں ملوث ممالک کی ہمنوائی کرکے تیسری عالمگیر جنگ کی راہ ہموار کرہے ہیں۔ عرب لیگ مسلم مالک کی تنظیم او آئی سی یورپی یونین غیر جانبدار ممالک کی تنظیم سمیت دنیا بھر کے تمام ممالک کی قیادتوں کو سوچنا ہوگا کہ اس انتہاء پسندی کے نتائج و عواقب کسی کے بھی حق میں اچھے نہیں نکلیں گے اور اگر خدانخواستہ تیسری عالمی جنگ ہوئی تو آج کے جدید دور میں یہ چند ممالک تک محدود نہیں رہے گی بلکہ ساری دنیا اس کی لپیٹ میں آجائے گی، کسی کے ہاتھ کچھ نہیں بچے گا اور زمین پر صرف گھاس ہی رہ جائے گی انسانیت کو تباہی کی طرف لے جانے والے جارح ممالک کو اپنی روش بدلنی ہوگی۔ ظلم کی انتہا یہ بھی ہے کہ امریکہ نے غزہ میں فلسطینیوں کے قتل عام کی سلامتی کونسل کی تحقیقات کی درخواست بھی روک دی ہے جس پر برطانیہ نے تشویش کا اظہار کیا ہے جبکہ فرانس نے طاقت کیاستعمال سے گریز کا مطالبہ کردیا۔امریکہ اور اسرائیل انسانیت کے خلاف جرائم کے مرتکب ہیں اور سلامتی کونسل نے اسرائیل غزہ سرحد پر شہریوں کے قتل عام کی تحقیقات کامطالبہ کیا گیاتھا، تاہم غزہ میں فلسطینیوں کی نسل کشی پر اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کا اجلاس بھی تاخیر کا شکار ہوگیاہے ۔ہماری رائے میں پاکستان کو امریکی سفیر کو طلب کرکے فلسطینیوں کے قتل عام اور امریکہ کے اقدامات پر اس سے احتجاج کرنا چاہئے ۔ پاکستانی شہری کی ہلاکت کا ملزم امریکی سفارتکار خصوصی طیارے میں وطن واپس روانہ تھانہ کوہسار کے علاقے مارگلہ روڈ پر گاڑی کے حادثہ میں نوجوان عتیق کی ہلاکت میں ملوث ملزم امریکی سفارتخانے کے ملٹری اتاشی جوزف امیونئل ہال خصوصی طیارے میں امریکہ واپس چلا گیا 'وفاقی پولیس نے کیس سے متعلقہ تمام ریکارڈ وزارت داخلہ اور خارجہ کو دے دیا،دو روز قبل بھی کرنل جوزف کو خصوصی طیارے کے ذریعے امریکہ لے جانے کیلئے ٹیم آئی لیکن قانونی پیچیدگیوں کے باعث انہیں نور خان ائر بیس پر ایف آئی اے کی جانب سے روک لیا گیا تھا۔ ہماری رائے میں امریکہ سفارتکانے میں تعینات ملٹری اتاشی کی بغیر کسی قانونی کارروائی کے امریکہ روانگی ملی المیہ ہی قرار دی جاسکتی ہے ۔اگر جنیوا کنونشن کے تحت امریکہ سفارتکار کو استثنیٰ حاصل تھا تو مقتول نوجوان کے مقدمے عدالت میں اس معاملے کے زیر سماعت ہونے اور عدالتی احکامات کے باوجود حکومت کی طرف سے کوئی عملی کارروائی نہ کرنے کوکیا نام دیا جائے ۔ اس قدر ڈھنڈورا پیٹا گیا کہ جیسے امریکہ کو اس معاملے میں پاکستان نے اصولی موقف اختیار کرکے فتح کرلیا ہے جب نوجوان کی ہلاکت کا مقدمہ درج ہو تو اسی وقت مقتول کے لواحقین اور بعد ازاں عدالت کو آگاہ کردینا چاہئے تھا کہ جنیو ا کنونشن کے تحت اس اہلکار کیخلاف کوئی کارروائی نہیںکی جاسکتی ۔ ہماری رائے میں پاکستان نے تو امریکہ موقف کو درست تسلیم کرتے ہوئے ان کے سفارتکار کو جانے کی اجازت دے دی ہے اگرکل کسی دوسرے ملک کے سفارتکار کے ہاتھوں ایسا ہوتا ہے تو اس سے ایک راستہ کھل جائے گا جبکہ اگر امریکہ میں کسی پاکستانی سفارتکار کی وجہ سے کوئی امریکہ شہری ہلاک ہوتا ہے تو کیا اس ضمن میں پاکستان اپنے سفارت کار کو امریکہ سے واپس لاسکے گا ؟قبل ازیں امریکہ جاسوس ریمنڈ ڈیوس کے معاملے میں بھی ایسی ہی ہوا تھا۔ دوسری طرف حقیقت یہ ہے کہ کرنل جوزف کو سفارتی استثنیٰ ستثناء حاصل تھا پاکستان نے امریکی حکام سے درخواست کی تھی کہ کرنل جوزف کا سفارتی استثناء ختم کیا جائے تاکہ مقدمے کی کارروائی شروع کی جائے مگر امریکہ نے صاف انکار کر دیا تب پاکستان نے کہا تھا کہ کرنل جوزف کو واپس بلا لیا جائے کرنل جوزف نام بلیک لسٹ سے نکلنے کے بعد روانہ ہوا۔ سفارتی قوانین کے مطابق کرنل جوزف پر پاکستانی فوجداری، دیوانی، انتظامی قوانین لاگو نہیں ہوتے۔ہماری رائے میں اگر فسارتکار کے بدلے پاکستان امریکہ میں جرم بے گناہی میں قید کاٹنے والی ڈاکٹر عافیہ کا معاملہ اٹھاتی تو اس حوالے سے کامیابی کے امکانات تھے لیکن اس طرف کوئی توجہ ہی نہیں دی گئی ۔ اس معاملے میں لاچار اور بے بسی کے شکار جاں بحق شہری عتیق کے والد ادریس بیگ کا کہنا ہے کہ کرنل جوزف کے معاملے کو اللہ کی ذات پر چھوڑ دیا ہے۔

اپوزیشن احتجاج کے دوران پنجاب کا ضمنی بجٹ پیش پنجاب : 85 ارب 40 کروڑ روپے سے زائد کا ضمنی بجٹ پیش' نوازشریف کے بیان پر اپوزیشن کا شدید احتجاج' دونوں طرف سے نعر ے بازی۔ پنجاب حکومت کی جانب سے رواںمالی سال 2017/18ء کے بجٹ میں نظر ثانی کئے جانے کے بعد رواں مالی سال کا متواز ن بجٹ 2.6ارب روپے کے خسارے کا بجٹ بن گیا ہے کیونکہ پنجاب حکومت نے مجموعی آمدنی 1970.7ارب روپے کو نظر ثانی کر کے 1898ارب روپے کر دی جبکہ مجموعی اخراجات کو 1970.7 ارب روپے سے کم کر کے 1900.6ارب روپے کر دیا ہے۔ آمدنی کے مقابلے میں 2.6ارب روپے کے زائد اخراجات کے باعث پنجاب حکومت کا رواں مالی سال کا بجٹ خسارے کا بجٹ بن گیا ہے۔ یہ درست ہے کہ مسلم لیگ ن کو جب 2013ء میں حکومت ملی تو ملک میں دہشت گردی، لوڈشیڈنگ،بے روزگاری اور معاشی بحرانوں سمیت کئی طرح کے بحرانوں کا سامنا تھا، شہباز شریف اور نواز شریف کی ٹیم نے دن رات محنت کرکے ملک کو ان بحرانوں سے نکالا ہے۔پنجاب ترقی کے لحاظ سے سب سے بہتر صوبہ بن چکا ہے ۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ کئی ایک خرابیوں اور بدانتظامی کے باوجود بھی مجموعی طور پر پنجاب کے شہریوں کا معیار زندگی دوسروں صوبوں کے شہریوں سے بہت بہتر ہے۔ پنجاب میں فی کس آمدنی دیگر صوبوں سے زیادہ ہے جس کی تصدیق عالمی مالیاتی اداروں نے بھی کی ہے۔ تعلیم، صحت، زراعت، لینڈ ریکارڈ مینجمنٹ، سماجی تحفظ، انفراسٹرکچر، دیہات کی حالت میں بہتری اور اچھی حکمرانی کے حوالے سے بین الاقوامی جرائد، عالمی شہرت کے حامل کنسلٹنٹس اور اداروں نے پنجاب کو مثالی صوبہ قرار دیاہے۔ اجلاس کے آغاز میں قائد حزب اختلاف میاں محمود الرشید نے نقطہ اعتراض پر بات کرنے کی اجازت طلب کی۔ محمود الرشید کا کہنا تھا کہ نواز شریف کا انٹرویو قومی ایشو ہے اور پورے پاکستان کے اندر اس پر اضطراب پایا جاتا ہے۔ اسمبلی سیکرٹریٹ میں قرارداد جمع کرائی ہے، اسی دوران حکومتی بنچوں سے خواتین نے جھوٹے جھوٹے کے نعرے لگانے شروع کر دئیے جس کے جواب میں اپوزیشن نے بھی نعرے بازی شروع کر دی۔ اپوزیشن ارکان اپنی نشستوں سے سپیکر ڈائس کے سامنے جمع ہو گئے، ایجنڈے کی کاپیاں پھاڑ کر ہوا میں اچھالتے رہے۔ہماری رائے میں اپوزیشن کا حق ہے کہ وہ بجٹ کے حوالے سے کھل کر اظہار خیال کرے تاہم جب بجٹ پیش پورہا ہو تو کیس دوسرے معاملے پر بات نہیں کی جانی چاہئے ایوان میں دونوں اطراف سے ہونے والی نعرہ بازی بھی انتہائی غلط بات تھی ارکان کو دلائل سے اپنا موقف پیش کرنا چاہئے ۔


اس خبر کے بارے میں اپنی رائے دیجئے
پسند آئی
 
ٹھیک ہے
 
کوئی رائے نہیں
 
پسند ںہیں آئی
 


 سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں






آج کا مکمل اخبار پڑھیں

کالمز

کالم /بلاگ


     
     
تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ روزنامہ اوصاف محفوظ ہیں۔
Copyright © 2016 Daily Ausaf. All Rights Reserved