ماں کے قدموں تلے جنت
  16  مئی‬‮  2018     |     کالمز   |  مزید کالمز

ماں! بھلا کون تیرے تیرے بعد وقت رخصت میرے لبوں پہ دعا لکھے گا ماں انسانی کی زندگی کا حسین ترین لفظ' کائنات میں سب سے زیادہ خوبصورت احساس… دل کی دنیا کا سب سے مہکتا خیال اور تصور کا نام ہے' ماں عظمتوں کا نشان' رحمتوں کی کہکشاں' حیات انسانی کا یادگار عنوان' رفعتوں کی پاسبان' امت کی نگہبان 'رونق گلستان' تربیت گاہ مسلماں' بے کسوں کیلئے جائے اماں' فرمودات قرآن ارشادات رحمت دو جہاںۖ ہے… ماں جس کے بارے میں اپنے احساسات و جذبات کی ترجمانی سے بڑے بڑے دانشوراور ادیب عاجز و حیران ہیں ' آج یہی ماں تاریخ کے نازک ترین دور میں کھڑی ہے… آج ماں کی ممتا کو دو بڑے امتحانات اور دو سخت آزمائشوں کا سامنا ہے۔ پہلی بات تو یہ ہے کہ ایک طرف ماں کی عظمت اور حقوق کو پامال کیا جارہا ہے… اپنے ہاتھوں اور اپنی زبانوں سے اپنی جنت کو پامال کیا جارہاہے اور اپنی محسن ترین ہستی کے ساتھ ناقدری اور احسان فراموشی کا مظاہرہ کیا جارہا ہے… تو دوسری طرف ماں نے اپنی عظمت کو دائو پر لگا دیا ہے اپنے بلند مقام کو بھلا کر اپے لئے پستیوں اور ذلتوں کا انتخاب کرلیا ہے اور حیاء و فا کے انمول موتی بیچ کر اپنے لئے عریانی و بے حیائی خرید لی ہے' یقین جانیں عمومی ماحول کے اعتبار سے آج کی نسل ایک محروم اور بدقسمت نسل ہے ایک وہ نسل تھی جس نے اپنی مائوں کو پوری زندگی حیاء اور عفت و عصمت کے دامن میں آباد یکھا' انہیں مصلے پر اپنے رب کے سامنے فریادیں کرتے سنا… ان مائوں کو دیکھا جو اپنے بچوں کو خود ہاتھوں سے تیار کرکے میدان جہاد میں بھیجا کرتی تھیں اور ان کی شہادت کی خبر ملتی تو بڑے فخر سے کہتی تھی … اسی دن کیلئے تو میں نے اپنے دل کے ٹکڑے کو دودھ پلایا تھا۔ آج بے دینی اور بے حیائی کے سیلاب نے یہ وقت دیکھا یا کہ نئی نسل نے اپنی مائوں کو نماز کی تیاری کے بجائے ہر وقت میک اپ کی فکر میں کڑھتے دیکھا… برقع اور چادر کے بجائے بیہودہ اور عریاں لباس میں دیکھا… کسی خیر کی جگہ جانے کی بجائے بازار اور بیوٹی پارلر کا رخ کرتے دیکھا … اپنے رب کے سامنے آہ و زاری کی بجائے ہر وقت فکر دنیا میں گھلتے دیکھا … تب سے اب تک کا انجام بھی ملاحظہ کرلیں کہ ایک وہ وقت تھا …کہ مسلمان مائوں کی گود میں سلطان صلاح الدین ایوبی اور سلطان ٹیپو شہید جیسے قابل فخر لوگ پرورش پاتے تھے ایک وقت یہ ہے کہ مسلمان گھرانوں میں اداکار اور فنکار جنم لیتے ہیں۔ قوموں کے عروج و زوال اور بلندی سے لیکر پستی تک کے سفر میں ماں سے زیادہ کسی کا عمل دخل نہیں ہوتا… مائیں سنبھل جائیں تو قومیں سنور جاتی ہیں اور مائیں پھسل جائیں تو پوری نسلیں ذلت اور غلامی کی گہرائیوں میں دفن ہو جاتیں ہیں۔

اسی طرح تاریخ عالم میں ایک جلیل القدر ماں جن کو دنیا حضرت ہاجرہ کے نام نامی سے جانتی ہے …جو حضرت ابراہیم علیہ السلام کی اہلیہ محترمہ اور حضرت اسماعیل علیہ السلام کی والدہ محترمہ تھی جن کو شاعر نے ان الفاظ میں خرج تحسین پیش کیا ہے۔ سکھائے کس نے اسماعیل کو آداب فرزندی اسی طرح حضور اکرمۖ کی والدہ ماجدہ بھی بڑی عظیم الشان خاتون تھیں جن کا نام حضرت آمنہ ہے اور حضورۖ کی رضاعی ماں حضرت حلیہ سعدیہ …تو بڑی ہی مقدروں والی تھیں جنہوں نے حضور اکرم ۖ کو دودھ پلایا اور تقریباً6 سال تک حضور اکرمۖ کی خدمت و پرورش کی… جناب نبی کریم ۖ اپنے صحابہ کے ساتھ دربار میں تشریف فرما تھے ایک عورت آئی 'حضور ۖ اپنی جگہ سے اٹھ کھڑے ہوگئے… صحابہ بھی کھڑے ہو جاتے ہیں حضور علیہ السلام اپنی نبوت والی چادر اس عورت کے قدموں میں رکھ دیتے ہیں وہ عورت حضورۖ کے کان میں سرگوشی کرتی ہے اور چلی جاتی ہے… صحابہ پوچھتے ہیں یہ عورت کون تھی؟ حضورۖ نے فرمایا یہ میری رضاعی ماں تھی۔ علامہ اقبال مرحوم کی والدہ کا ام امام بی بی تھا جو مفکر اسلام کی ماں ہیں … نماز پابندی سے ادا کر تی تھیں' غریب بچوں کو بلاکر ان کی کفالت کرتی اور کپڑوں کی سلائی سکھاتی تھیں … قرآن مجید پڑھاتی اور نماز سکھاتی تھیں … علامہ اقبال ان کے انتقال پر ملال پر اپنے جذبات پر قابو نہیں رکھ سکے اور بے ساختہ فرمانے لگے۔ کس کو اب ہوگا وطن میں آہ میرا انتظار کون میرا خط نہ آنے سے رہے گا بے قرار خاک مرقد پر تیری لیکر یہ فریاد آئوںگا اب دعائے نیم شب کس کو میں یاد آئوں گا یوں تو دنیا کی سب مائیں ہی اپنے بچوں کی خوب اچھے طریقے سے پرورش کرتیں ہیں اور ان کی یہ خواہش ہوتی ہے …کہ ان کی اولاد ان کی آنکھوں کے سامنے پلے بڑھے اور پھر جوان ہوکر وہ دنیا کی ہر طرح کی نعمتو ں سے مالا مال ہو ' مگر تاریخ نے ایسے بہت کم مائیں دیکھی ہیں کہ جنہوں نے اپنے بچوں کی پرورش صرف اس لئے کہ وقت آنے پر ان کی اولاد دین و ملت کی بقا کیلئے قربان ہو جائے اور جب ضرورت پڑی تو خود ان عظیم مائوں نے ہنستے مسکراتے ہوئے بچوں کے سروں پر کفن باندھ کر انہیں رزم گاہ حق و باطل میں اتارا…یہ مرتبہ اور مقام صرف مسلمان ماں کو ہی حاصل ہوسکا۔ ایک شخص حضور اکرمۖ کی خدمت میں اور پوچھا حضرتۖ مجھ پر میری ماں کا حق ہے یا باپ کا؟ حضور علیہ السلام نے فرمایا … تجھ پر تیری ماں کا حق ہے… دوسری مرتبہ سائل نے پوچھا یہی جواب ملا تیسری مرتبہ سائل نے پوچھا یہی جواب ملا' چوتھی مرتبہ پوچھنے پر جواب ملا تجھ پر تیرے باپ کا حق ہے… اللہ تعالیٰ ہمیں اپنی مائوں کی خدمت کرکے جنت حاصل کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین ( ریذیڈنٹ ایڈیٹر اوصاف کراچی ابرار بختیار کی والدہ محترمہ رحلت فرماگئیں،مرحومہ ایک نیک خاتون تھیں ان کی مغفرت جبکہ میری علیل والدہ کی صحت یابی کیلئے قارئین سے دعائوں کی درخواست ہے)


اس خبر کے بارے میں اپنی رائے دیجئے
پسند آئی
 
ٹھیک ہے
 
کوئی رائے نہیں
 
پسند ںہیں آئی
 


 سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں





  اوصاف سپیشل

آج کا مکمل اخبار پڑھیں

آج کا مکمل اخبار پڑھیں

کالمز

کالم /بلاگ


     
     
تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ روزنامہ اوصاف محفوظ ہیں۔
Copyright © 2016 Daily Ausaf. All Rights Reserved