نواز شریف کا خود کش حملہ
  16  مئی‬‮  2018     |     کالمز   |  مزید کالمز

نواز شریف کے ملکی سلامتی کے خلاف سنگین الزام کے بعد مسلم لیگ کے بجائے جے یو آئی اور جماعت اسلامی کے کارکن ان کی حمائت میں زیادہ فعال بلکہ مشتعل ہیں ، ایک سوال بار بار اٹھایا جا رہا ہے کہ اس سے قبل پرویز مشرف ،محمود درانی،طارق کھوسہ اور رحمان ملک بھی ممبئی حملوں کے حوالہ سے پاکستانی سرزمین استعمال ہونے کی بات کرچکے ہیں اعتراض صرف نواز شریف پر کیوں ؟سوال اہم ہے اور اس کے ساتھ ساتھ اس بات کا جائزہ لینا بھی ضروری ہے کہ اچانک ممبئی حملوں کی یاد نواز شریف کے دل میں کیوں مچل اٹھی۔ تجزیہ یہ ہے کہ اس سے قبل جتنے لوگوں نے بات کی سب نے ملک کے طے شدہ موقف کو ہی دہرایا ''کچھ لوگ پاکستان سے گئے اور انہوں نے یہ حملہ کیا، ایسا ممکن ہے ، بھارت ثبوت پیش کرے تو ان لوگوں کے خلاف کارروائی ہوسکتی ہے ''۔ اسی لئے ان لوگوں کو نان سٹیٹ ایکٹر کا نام دیا گیا ، لیکن نواز شریف نے اپنے انٹر ویو میں کہا کہ '' یہ لوگ ریاستی اداورں کی مدد سے گئے ، اور مقدمہ کے حوالہ سے بھی انہوں نے بھارتی موقف کی تائد کہ پاکستان کے ادارے پیش رفت میں رکاوٹ ہیں '' ۔ ماضی میں جن لوگوں نے اس معاملہ پر بات کی ان کے برعکس نواز شریف نے ریاست پاکستان کو ملزم قرار دے دیا اور عملًا وہ کام کر دیا جس میں بھارتی انٹیلی جنس را دس برس سے کامیاب نہیں ہوسکی ۔ بلکہ الٹا اب تک چار کتا بیں خود بھارت میں اور عالمی سطح پر ایسی شائع ہو چکی ہیں کہ جن میں یہ ثابت کیا گیا ہے کہ ممبئی حملہ را ، سی آئی اے اور موساد کا ایک فالس فلیگ آپریشن تھا ، تاکہ پاکستان کو پھانسا جا سکے ، لیکن نواز شریف نے ایک بیان جاری کرکے بھارت کے ہاتھ میں ثبوت کی تلوار تھما دی ہے ۔ حقیقت یہ ہے کہ شریف کا یہ خود کش حملہ کوئی اضطراری کیفیت میں کہ گئی ایک بات نہیں بلکہ سوچے سمجھے منصوبے کے تحت کی گئی واردات ہے ۔ اول یہ کہ 3مئی کو عدالت کے باہر دھمکی دی تھی کہ ''میرے پاس بہت سے راز ہیںافشا کر سکتا ہوں ''۔ یہ توقع کسی کو نہیں تھی کہ وہ ملک دشمنوں کے آلہ کار بن کر رہ جائیں ۔ دوسرے یہ کہ انہوں نے سوچ سمجھ کر ایک ایسے صحافی کو منتخب کیا جو پہلے بھی ان کی صاحبزادی کے ساتھ ڈان لیکس میں شریک ملزم رہ چکا تھا ، اسے جس انداز اور جس پروٹو کول کے ساتھ ملتان لے جایاگیااور اوپر سے سیرل کا جھوٹ کہ وہ تو کسی اور سٹوری کی تلاش میں ملتان گیا تھا ، اسے موقع مل گیا اور اس نے انٹرویو کرلیا ، جبکہ اسے وہان لے جانے کی سرکاری خط وکتابت موجود ہے ۔ تیسرا یہ کہ ایسا نہیں ہے کہ صحافی نے سوالوں میں الجھا کر اپنے مطلب کی بات کہلوالی ، کیونکہ سوال تو یہ کیا گیا کہ ''میاں آپ نکالے کیوں گئے ؟'' اور جواب ملتا ہے کہ پاکستان سے دہشت گردوں کو ممبئی جاکر 150بندے مارنے کی اجازت کیوں دی گئی اور اب مقدمہ کیوں نہیں چلایا جارہا ؟'' ۔ یعنی سیدھا سیدھا ملکی اداروںپر دہشت گردی کا الزام :اب کہا جارہا ہے کہ نیا کیا کہہ دیا ؟ حقیقت یہ ہے کہ فوج اور عدلیہ کیخلاف ان کی گالم گفتاری کو اسٹیبلشمنٹ نے برداشت کیا جس پر وہ دلیر ہوئے اور پاکستان مخالف عالمی اسٹیبلشمنٹ کی توجہ حاصل کرنے کی کوشش کی تاکہ پیغام دیا جاسکے کہ کہ جمہوریت اور دہشت گردی کی حامی اسٹیبلشمنٹ کے درمیان وہ آخری رکاوٹ ہیں لہٰذا ان کی مدد کی جائے ۔ اس میں وہ کس حد تک کامیاب ہوتے ہیں یہ بعد کی بات ہے مگر ان کی اس حرکت سے یہ ثابت ہوگیا کہ انہیں اپنے اقتدار اور ذاتی مفاد کے آگے ملکی سلامتی اور ملکی وقار کی کتنی پروا ہے۔ ان کی اس واردات کا دوسرا پہلو اس کی ٹائمنگ ہے ، جس سے پتہ چلتا ہے کہ دانستہ طور پر پاکستان دشمنوں امریکہ اور بھارت کی مدد کی گئی ، اس وقت صورتحال یہ ہے کہ ان کی حکومت کی نا اہلی اور ناکام پالیسیوں کے نتیجہ میں ملک کو FATF کا سامنا ہے ، مسئلہ گرے لسٹ کا نہیں ، اب تو بلیک لسٹ سے بچنا سوال ہے ، اس معاملہ میں دی گئی مدت 21مئی کو ختم ہورہی ہے ، عین ان ایام میں سابق وزیر اعظم کا ملکی اداروں پر دہشت گردی کا الزام امریکیوں اور بھارتیوں کے لئے کس قدر اہم ہے اس کا صرف اندازہ ہی لگایا جاسکتا ہے ۔ اندرونی طور پر دیکھا جائے تو ایک طرف بھارتی سپانسرڈ دپشت گرد کو امریکہ نے گود لے لیا ہے اور اسے دہشت گرد قرار دلوانے کی راہ میں رکاوٹ ہے تو دوسری جانب ٹی ٹی پی کی باقیات نام نہاد قوم پرستی کے نام پر اودھم مچا رہی ہیں، اچکزئی کی سہولت کاری کے ساتھ بھارتی اور افغان انٹیلی جنس کی ہائبرڈ جنگ کا اگلا مرھلہ شروع ہے اور نواز شریف نے بھی ملکی اداروں کو ہدف بنا کر اس میں اپنا کردار ادا کیا ہے ۔ نواز لیگ اور پی ٹی ایم کے جلسوں میں ایک جملہ مشترک بولا جارہا ہے کہ '' اب بغاوت فرض ہو چکی '' سوال یہ ہے کہ کیا بغاوت کے نعرے لگانے والے یہ لوگ ملک کو عراق یا لبیا بنانا چاہتے ہیں ؟

ایسے میں سوال یہ ہے کہ قانون کس چڑیا کا نام ہے ، عدالتیں کیوں بلیک میل ہو رہی ہیں ، کیا کسی سیاستدان کو یہ سب جائز ہے کہ وہ جب چاہے اپنے مفاد کی خاطر ملک دشمنوں کا ساتھی بن جائے ، اور اس کے خلاف کچھ نہ کیا جا سکے کہ وہ سیاستدان ہے ۔ ہمارے سامنے کی بات ہے کہ ٹرمپ کے روس سے رابطوں کی خبر پر امریکی اداروں کا رد عمل کیا تھا ، کیا ہمارے اداروں کا رد عمل بھی ایسا ہی نہی ہونا چاہئے ؟ غدار کہنا اور گالی دینا بری بات سہی مگر یہ پوچھنے کا قوم حق رکھتی ہے کہ اب تک دان لیکس رپورٹ شائع کیوں نہیں ہوئی ،ملک دشمنی پر مشتمل مواد شائع اور نشر کرنے والے ادارئے اور ویب سائٹس قانون کی پہنچ سے دور کیوں ہیں ؟ حل صرف ایک ہے کہ قانون کو اس طرح سے متحرک ہونا پڑے گا کہ کوئی اور نواز شریف الطاف حسین کا روپ دھارنیکی کوشش نہ کرے ۔


اس خبر کے بارے میں اپنی رائے دیجئے
پسند آئی
33%
ٹھیک ہے
 
کوئی رائے نہیں
33%
پسند ںہیں آئی
33%


 سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں





  اوصاف سپیشل

آج کا مکمل اخبار پڑھیں

آج کا مکمل اخبار پڑھیں

کالمز

کالم /بلاگ


     
     
تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ روزنامہ اوصاف محفوظ ہیں۔
Copyright © 2016 Daily Ausaf. All Rights Reserved