تماشے ، بد حواسیاں ،مقدمے، ملک کیلئے سخت خطرات
  16  مئی‬‮  2018     |     کالمز   |  مزید کالمز

٭تماشے، بدحواسیاں، عُذرِ گناہ ، تردیدیں، مقدمے، اسمبلیوں میں مذمتی قرار دادیں! نوازشریف کے بیان نے ملک کو ایک بہت بڑے خطرے سے دو چار کردیاہے۔ آگے چل کربات ہوگی۔ میں نے کبھی کسی حاضر سروس وزیراعظم کی ایسی بے بسی نہ دیکھی۔ قومی سلامتی کمیٹی کے اجلاس میں اتفاق رائے، باہر آکر عدم اتفاق! ایک پریس کانفرنس کی، اسے سرکاری ٹیلی ویژن پر روک دیا۔سابق وزیراعظم نے ایک ہنگامہ خیز بیان دیا۔ ملک میں ہنگامہ ہوگیا۔ بھارت میں طوفان مچ گیا۔ غیر ملکی میڈیا نے اسے (خاص طورپر الجزیرہ ٹی وی) نے بہت اچھالا۔ چھوٹے بھائی نے کہا کہ شائع شدہ بیان مسخ شدہ ہے۔ بڑے بھائی نے جواب دیاکہ بیان بالکل صحیح چھپا ہے، میں اس پر قائم ہوں۔ فوج برہم ہو گئی۔عارضی وزیراعظم کو 'ہدایت' کہ قومی سلامتی کمیٹی کااجلاس بلایا جائے۔ بے بس وزیراعظم نے اجلاس بلا لیا۔ پریس ریلیز جاری ہوا کہ وزیراعظم کی قیادت میں چیئرمین جائنٹ چیفس، تینوں افواج کے سربراہوں سمیت پوری کمیٹی نے ڈان میں شائع ہونے والے بیان کو متفقہ طورپر مسترد کردیا ہے (نوازشریف کا نام نہیں لیا )۔ اتنے بڑے'طاقت و رترین ' اجلاس کے اعلان کے بعد وزیراعظم کو 'اصلی' وزیراعظم نے طلب کرلیا۔ ثانوی وزیراعظم حاضر ہوگئے۔ سخت ڈانٹ ڈپٹ ہوئی کہ اجلاس کے پریس ریلیز میں متفقہ فیصلہ کیوں ظاہر کیا گیا؟ صرف 15 روز باقی (31مئی ،12بجے رات تک ) رہنے والی وزارت عظمیٰ بھی خطرے میں پڑ گئی ۔ وزیراعظم مایوسی اور بددلی کے ساتھ باہر آئے۔ پریس کانفرنس بلالی ۔اسے سرکاری ٹیلی ویژن پر روک دیا۔ سلامتی کمیٹی کے اعلان کے برعکس 'اصلی' وزیراعظم نے اپنے بیان کی پھر حمایت کردی۔ اس کے ساتھ ہی نوازشریف نے سلامتی کمیٹی کی قرار داد کو مسترد کردیا اور اپنے بیان پر قائم رہنے کا اعلان کردیا۔ فوج کا موڈ مزید بگڑ گیا! مجھے ایک وزیراعظم کی بے بسی سے ہمدردی سی پیدا ہورہی ہے! ٭سیاسی، غیر سیاسی، صحافتی اور سماجی سطحوں پر بہت سے سوالات پیدا ہو گئے ہیں۔ میاں نوازشریف چار سال وزیراعظم رہے، کوئی وزیر خارجہ کیوں مقرر نہ کیا؟ کل بھوشن اور بھارت کے خلاف کبھی ایک لفظ نہ کہا؟ اتنے جلسے کیے، کبھی مقبوضہ کشمیر میں بھارتی بربریت کی بات نہ کی؟ بھارتی وزیراعظم کا ہر کارہ جندال مری کیا کرنے آیا تھا؟ نر یندر مودی جیسے پاکستان دشمن وزیراعظم کی حلف برداری میں کیوں گئے؟ اسے جاتی عمرا میں اس کے ساتھ کیاخاص باتیں ہوئیں؟ 90کروڑ روپے کے 72 غیر ملکی دوروں سے کیا حاصل ہوا؟ ملک میں پانچ سال سے، اب بھی ،وفاق اور پنجاب کی حکومتیں آپ کے ہاتھ میں ہیں، پاکستان کے تنہا ہو جانے کاالزام کس پر ڈال رہے ہیں؟ ٭میں نے ابتدا میں نوازشریف کے بیان سے ملک کو بہت جلد پیش آنے والے ایک سخت خطرے کے امکان کا ذکر کیاہے۔ وہ یہ کہ امریکہ کے دباؤ پر بین الاقوامی فنانس ایکشن کمیٹی نے پاکستان کواگلے ماہ تک یہ ثابت کرنے کا موقع دے رکھاہے کہ وہ اپنے ہاں مختلف دہشت گردوں کے گروپوں (حقانیہ ، الدعوة وغیرہ ) کے اڈے ختم کرنے کا ثبوت پیش کرے! ایسا نہ کرسکنے پر اسے 'گرے لِسٹ' میں شامل کر دیاجائے گا۔ یہ فیصلہ چند ماہ قبل فنانس ایکشن کمیٹی کے جس اجلاس میں ہوا اس میں سعودی عرب اور چین نے پاکستان کا ساتھ دینے سے انکار کر دیا اور صرف ترکی نے ساتھ دیا! گرے لسٹ میں شامل ہونے کا مطلب یہ ہے کہ پاکستان میں غیر ملکی سرمایہ کاری رک سکتی ہے، اس کے طیاروں کی بیرون ملک پروازوں پر پابندی لگ سکتی ہے۔ یہاں موجود غیر ملکی سرمایہ کار اپناکاروبار بند کرسکتے ہیں اور آئی ایم ایف وعالمی بینک پاکستان پر سخت مالیاتی پابندی عائد کرسکتے ہیں۔ ان اداروں کے مطالبہ پر ڈالر کی قیمت پہلے ہی 120 روپے تک پہنچ چکی ہے۔ فنانس ایکشن کمیٹی کے اس اعلان پر سابق وزیر خارجہ خواجہ آصف نے بہت بلند اعلان کیاکہ پاکستان میں کوئی دہشت گرد تنظیم کام نہیں کر رہی… ا ور …اور سابق وزیراعظم نوازشریف نے خاص طورپر سرل المیڈا نام کے ایک چہیتے اخبار نویس کو کراچی سے ملتان بلا کر بیان چھپوایا کہ پاکستان میں عسکری ( جنگ جو ) تنظیمیں بدستور کام کررہی ہیں ! اپنے ملک کے ساتھ اس انتہائی ''وفادارانہ' ' بیان نے اسے صاف صاف فنانس ایکشن کمیٹی کی دھمکی والی ' گرے لسٹ' کی طرف دھکیل دیاہے۔ انا للہ واناالیہ راجعون! کیسی بدنصیبی ہے کہ اس ملک اور قوم کی ! اور کیا اعلان کیاجارہاہے کہ اس ملک کا کیا حال ہوگیا ہے، ہر طرف ویرانی دکھائی دے رہی ہے اور دنیا بھر میں تنہا ہوگیا ہے۔ نوازشریف صاحب! آپ کا خاندان30 برس اس ملک پر حکمران رہا۔ پچھلے پانچ برسوں میں ( اب بھی ) ملک کی وفاقی اور پنجاب کی حکومتیں آپ کے ہاتھ میں رہیں، تو ملزم کون ٹھہرتا ہے؟اور کیسی حکومت کہ اس کا چار سال کوئی وزیر خارجہ نہیں تھا۔ پہلے دوسال کوئی وزیر قانون، وزیر خارجہ، وزیر ثقافت ہی نہیں تھا۔ چار اہم وزرا، اسحاق ڈار ، زاہد حامد، پرویز رشید اورخواجہ آصف فارغ ہوئے، ایک نااہل ، ایک مفرور اشتہاری قرار پایاا ور یہ تو بتائیے نوازشریف صاحب! آپ نے وزیراعظم کے طورپر حالیہ چار سالو ںمیں کتنی بار سمجھوتہ ایکسپریس میں68 پاکستانیوں کے زندہ جلائے جانے کامسئلہ اٹھایا؟ آپ کو اجمل قصاب کا چند سال پرانا زیر سماعت مقدمہ جاری رہنے پر تو بہت اعتراض ہے مگر17 سال پرانے جاری رہنے والے سمجھوتہ ایکسپریس کے واقعہ پر کبھی کسی افسوس یا رنج کااظہار نہ کیا! اور اب! وزیراعظم کا عہدہ ہاتھ سے نکل جانے پر آپ کو ملک میں ویرانی دکھائی دے رہی ہے؟ حکومت تو اب بھی آپ ہی لوگوں کی ہے۔ پھر اس ویرانی کا ملزم کون؟ دکھ اور حیرت کہ اسرائیل کی فوج نے اک دم 60فلسطینی افراد شہید2500 زخمی کر دیئے۔ آپ نے کوئی بات نہیں کہی! ٭فلسطین میں اسرائیلی فوج کی بربریت پر مجموعی طورپر عالم اسلام خاموش ہے۔ ترکی نے اسرائیل اورامریکہ سے اپنے سفیر واپس بلا لیے۔ عرب لیگ اور سلامتی کونسل کے اجلاس منعقد ہو رہے ہیں۔ اس قسم کے بہت سے رسمی اجلاس پہلے بھی ہوچکے ہیں۔ چند تقریریں ، ایک آدھ بے کار، بے اثر قرار داد اور بس! اسرائیل نے اپنادارالحکومت بیت المقدس میں تبدیل کرلیا۔ سعودی عرب نے اتنی بڑی تعداد میں فلسطینیوں کی شہادت پر رسمی طورپر تشویش کااظہار کیا مگراسرائیلی دارالحکومت بیت المقدس منتقل کیے جانے پر کوئی بات نہیں کی۔ پاکستان نے بھی ان واقعات پر رسمی افسوس کیا اور بس!ملک کی کسی سیاسی، مذہبی پارٹی کاکوئی رسمی احتجاجی بیان دیکھنے میں نہیں آیا۔ مذہبی جماعتیں تو یقینی طور پراحتجاج کریں گی مگر سیاسی جماعتیں بالکل لاتعلق!

٭اسلام آباد میں ٹریفک کا سرخ اشارہ توڑ کر ایک نوجوان موٹرسائیکل سوار عتیق کو شہید کرنے والے امریکی سفارت کار کرنل جوزف کوپاکستان سے چلے جانے کی اجازت دے دی گئی۔جنیوا کنونشن کے تحت اس کے خلاف کوئی کارروائی نہیں ہوسکتی تھی نہ اسے جانے سے روکا جا سکتا تھا۔ امریکی حکومت نے یقین دلایا ہے کہ اس کے خلاف امریکہ میں کارروائی کی جائے گی۔ ریمنڈ ڈیوس کے خلاف کیا کارروائی کی جو اب کی جائے گی؟ اُس نے تو دو نوجوان قتل کیے تھے! ٭بڑی سیاسی پارٹیوں نے آئندہ انتخابات کے امیدواروں سے درخواستیں طلب کرلیں۔ مسلم لیگ ن، پیپلز پارٹی اور تحریک انصاف کا ایک ہی ریٹ! قومی اسمبلی کا امیدوار 50ہزار روپے، صوبائی اسمبلی کا25ہزار روپے کا ناقابل واپسی ڈرافٹ ساتھ لگائے گا! ہر پارٹی کو بیٹھے بٹھائے کروڑوں کی آمدنی، ساری آمدنی پارٹی کے سربراہ کے نام پر! عیش ہی عیش! کوئی آڈٹ ، پوچھ گچھ کوئی نہیں! ٹکٹیں تو چند خاص خاص کو ملیں گی، باقی ڈنڈے بجاتے رہ جائیں گے!


اس خبر کے بارے میں اپنی رائے دیجئے
پسند آئی
 
ٹھیک ہے
 
کوئی رائے نہیں
 
پسند ںہیں آئی
 


 سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں





  اوصاف سپیشل

آج کا مکمل اخبار پڑھیں

آج کا مکمل اخبار پڑھیں

کالمز

کالم /بلاگ


     
     
تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ روزنامہ اوصاف محفوظ ہیں۔
Copyright © 2016 Daily Ausaf. All Rights Reserved