ہم ایک وحشت ناک انتقام کی زد میں ہیں!
  17  مئی‬‮  2018     |     کالمز   |  مزید کالمز

میاں محمد نوازشریف نے اپنی حب الوطنی پر سوالیہ نشان لگا دیا ہے ۔ آئینہء استدراک زنگ آلود ہو جائے تو عقل پر سو پردے پڑجاتے ہیں ،اپنی کوتاہیاں اور خامیاں نظروں سے اوجھل ہو جاتی ہیں ،نگاہ دوسروں کے معائب پر ٹِک جاتی ہے ،اپنے محاسن پر جینا بھی یاد نہیں رہتا۔ میاں نواز شریف ایک ا لمناک فکری تضاد میں مبتلا ہیں اور ایسے کربناک حالات سے گزر رہے ہیں جن کی انہیں خود کچھ خبر نہیں،کیا کہنا ہے کیا نہیں کہنا ! ان کے منہ میں تو جیسے اپنی زبان ہی نہیں،ناں لبوں پر اپنے الفاظ،خریدی ہوئی دانش اور مستعار لئے ہوئے جذبات و احساسات کے سہارے کب تک کھڑے رہیں گے؟ بزدل آدمی حد سے زیادہ بولنے لگے تو سمجھ لیں کوئی طاقتور آدمی اُس کے پیچھے ہے ،جس کی بندوق اُس کے کندھوں پر ہے اور اسی کے خوف سے بے خوف بول رہا ہے۔ میاں نواز شریف عوام کے اعتماد کو مجروح ، بلکہ قتل کرنے پر تلے ہوئے ہیں ،وہ جان بوجھ کر یا غیر شعوری طور پر اپنی سیاسی نا پختہ کاری ،بغض و عناد اور کینہ پروری کے پردے پے در پے چاک کرتے چلے جا رہے ہیں،وہ پاک فوج کو ایک منجدھار میں جا کھڑا کرنے کی انتہائی کوششوں میں مصروف ہیں ،سودو زیاں سے عاری ،اپنی عقل و خرد سے نا بلد ،خبطِ عظمت کا شکار ،اس غیر فطری گھمنڈ میں مبتلا ہوکراپنی سیاست کی باگیں اپنی غیر سیاسی مزاج بیٹی کے سپرد کر دی ہیں اور اس خوش فہمی میں ہیں کہ وہ ان کی سیاست کی ڈوبتی ہوئی کشتی کو بچا لے گی۔ مگر معروضی حقائق اس امر کی چغلی کھا رہے ہیں کہ مریم صفدر اُن کی سیاسی ساکھ کا بیڑہ ڈبونے کی راہ پر گامزن ہے ،صرف یہ نہیں کہ وہ باپ کے سیاسی بیانئے کو ملک دشمنی سے داغدار کر رہی ہے بلکہ اپنی راہ بھی کھوٹی کرنے پر تُلی ہوئی ہے ۔ میاں نواز شریف نے اپنے لئے غلط راہ چُن لی ہے ،وہ ماضی میں فوج اور اسٹیبلشمنٹ کے لاڈلے رہے ہیں اور مذکورہ دونوں قوتوں نے موصوف کی چاند سے کھیلنے تک کی تمنائوں کو پورا کرنے کی بھرپور کوششیں کیں ، مگر یہ ضدی بچے سے بڑھ کر کسی خواہش پر صاد کرنے والے بنے ہی نہیں ۔ آج جب ان کی خواہشات کی مزید تکمیل کا وقت نہیں رہا تو وہ رونے پیٹنے اور توڑپھوڑ کے بچگانہ عمل پر اڑے ہوئے ہیں ، اُن کی بد نصیبی ہی ہے کہ انہیں مشیر بھی ایسے ملے ہیں جو ان کے ہم مزاج ہیں ، ناعاقبت اندیش ان ہی کی شخصیت کا پر تو ہے اور اس شاخ کو کاٹنے پر تلا ہے جس پر بسیرا ہے ،وہ ابھی تک اس یقین سے نا آشا ہے کہ وہ پاکستان کا منتخب وزیراعظم ہے! پارلیمنٹ کے وقار کو مجروح کرنے اور ملکی اداروں کو بے آبرو کرنے میں کچھ عار محسوس نہیں کرتا۔ حقیقت یہ ہے کہ ہمیں نادم ہونا چاہئے کہ ایک ایسے شخص(نواز شریف) کو اپنی مملکت کی نظریاتی سرحدوں کا امین بنایا جو نہ امین ہے نہ صادق،وہ ان اوصاف کی قابلیت اور معیار پر بھی پورا نہیں اترا، اس کا کوئی سیاسی منشور نہیں ہے ،اس نے آج تک کوئی قومی نعرہ نہیں دیا،اس کی تمام تر سیاست کا مرکزو محور اس کی اپنی ذات ہے ،اس نے ریاستی اداروں کی عزت و وقار کو پامال کیاہے، اس نے قومی مفادات کو ذاتی مفادات پر ترجیح دی ،ملکی سالمیت کو ٹھوکر پر رکھا ، وہ جس جماعت کا دعویدار بنتا ہے اس کے بانی نے تو بیماری کی حالت میں دور سے منگوائے ہوئے باورچی کے اخراجات قومی خزانے پر ڈالنے سے سختی سے منع فرما دیا ، اسی لئے وہ (قائداعظم محمد علی جناح)ہماری تاریخ کے ماتھے کا جھومر ہے ،قوم کا فخر ہے۔ آپ کیا ہیں مارشل لاء کی وہ پنیری جو آمریت سے بھی کم تر نکلی، ایوب آمریت ہو کہ جنرل یحیٰ کی ملک کو دو لخت کرنے کی سازش ، آمر ضیائ کے پھیلائے ہوئے اندھیرے ہوں کہ عیار پرویز مشرف کی مکرو فریب اور امریکی غلامی و کاسہ لیسی کی روش، سب نے ملک کی جڑوں کو کھوکھلا کیا ،اس کی جغرافیائی اور نظریاتی سرحدوں کی حفاظت و پاسداری میں ناکام و نامراد رہے ۔

آج علی ہجویری کے دربار کی عمر بھر مجاوری کرنے والے گرم جوش پارسا میاں محمد شریف کا خاندان سیکولر بیانئے کا علمبردار ہے ،لبرل کہلوانے پر فخر محسوس کرتا ہے ، غیر مسلم اقلیت کے ساتھ بھائی چارے کے بھاشن دیتا ہے۔ جس کی بیٹی کی شادی کا خاص مہمان مودی تھا ، اسی مودی کی خوشنودی کا کھیل رچا ہے ،اس کا انجام کیا ہوتا ہے ،ہم ایک وحشت ناک انتقام کی زد میں ہیں ،دوست دشمن ایک دوسرے میں گڈ مڈ ہیں ،ناں جانے ہمارے ساتھ کیا ہونے جا رہا ہے۔پروین شاکر نے کہا تھا کہ دشمنوں کے ساتھ مرے دوست بھی آزاد ہیں دیکھنا ہے کھینچتا ہے مجھ پہ پہلا تیر کون ؟


اس خبر کے بارے میں اپنی رائے دیجئے
پسند آئی
 
ٹھیک ہے
 
کوئی رائے نہیں
 
پسند ںہیں آئی
 


 سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں






     
     
تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ روزنامہ اوصاف محفوظ ہیں۔
Copyright © 2016 Daily Ausaf. All Rights Reserved