پختہ کارجفا
  17  مئی‬‮  2018     |     کالمز   |  مزید کالمز

کہتے ہیں کہ لڑائی کے بعد جو ''مکا'' یاد آئے اس کو اپنے منہ پر مارلینا چاہیے۔ نواز شریف چار سال تو نہیں بولے اب انہیں سب باتیں یاد آرہی ہیں۔ ٹرتھ اینڈری کنسلیشن کمیشن بنانے کا عہد میثاق جمہوریت میں کیا گیا تھا لیکن زرداری کے پانچ سالہ عہد میں نواز شریف نے سا جانب توجہ دلائی اور نہ بعدازاں اپنے پانچ سالوں میں انہیں یہ خیال ستایا کہ سچائی اور مفاہمت پاکستان کی بقاء سلامی اور خوشحالی کے لئے کس قدر ضروری ہے۔ پارلیمنٹ کی 26رکنی کمیٹی نے آئین کی مکمل اوور ہالنگ کی اور مسلم لیگ (ن) کے زعماء کے پیش نظر نواز شریف کے لئے تیسری مرتبہ وزیراعظم بننے کی شق تو تھی لیکن ٹرتھ اینڈری کنلیشن کمیشن کا قیام نہ تھا۔ یہ لوگ مستقبل کی جمع تفریق میں الجھے ہوئے تھے لہٰذا کوئی ماضی کریدنے کے لئے تیار نہ تھا۔ اس کمیشن کا قیام عمل میں آتا تو سب سے پہلے اہل سیاست کو اپنی برائیوں کو سامنے لانا پڑتا جس کے لئے یہ چنداں تیار نہ تھے۔ نواز شریف کیوں بتاتے کہ انہوں نے اقتدار کے پہلے ادوار میں ملکی خزانے کو کیسے اور کس پر لٹایا اور یہ کہ پاکستان سے ان کی دولت کب اور کہاں منتقل ہوئی اور بیرون ملک جائیدادیں کیسے بنیں؟ جناب زرادری بھی قوم کو یہ بتانے پر آمادہ نہ تھے کہ سرے محل کیسے بنا اور سوئٹزر لینڈ کے بنکوں میں 60ملین ڈالر کس طرح پہنچے؟ منوں بھائی کی نظم یاد آتی ہے۔ احتساب دے چیف کمشنرصاحب بہادر چوراں ڈاکواں اور قاتلاں کولوں.... چوراں ڈاکوواں قاتلاں بارے کیہ پچھدے او ایہ تہانوں کہہ دسن گے' کیوں دسن گے دسن گے تو جنج وسدے نیں کنج وسن گے..... دتی اے کدی کسے نیں اپنے جرم دی آپ گواہی کیڑا پاندا اے اپنے ہتھ نال اپنے گل وچ موت دی پھاہی.... کھوجی رسہ گیرے نے سارے کیہ پچھدے او اک دوجے دے جرم سہارے کیہ پچھدے او ڈاکوواں کولوں ڈاکوواں بارے کیہ پچھدے او بحیثیت قوم یہ ہماری بدقسمتی ہے کہ وعدے کے باوجود اہل سیاست ایک ایسے کمیشن کے قیام پر رضا مند ہوئے جو ماضی دفن کرکے ہمیں آگے بڑھنے میں مدد دیتا۔ قدرت نے اہل سیاست کی یہ غلطی معاف نہ کی اور نواز شریف پانامہ اسیکنڈل کی وجہ سے ماضی میں کئے گئے غلط کاموں میں پھنس کر رہ گئے۔ اگر ٹرتھ اینڈری کنسلیشن کمیشن بن گیا ہوتا اور یہ تمام معاملات زیر بحث آگئے ہوتے تو شاید آج نواز شریف احتساب عدالتوں کے چکر نہ لگا رہے ہوتے۔ میاں نواز شریف اور زرداری کی قیادت سے میں اسی دن مایوس ہوگیا تھا۔ جب ان لوگوں نے پاکستان کا آئی ایم ایف کے پاس جانا تو قبول کرلیا لیکن بیرون ملک پڑی ہوئی اپنی دولت پاکستان واپس لانے پر رضا مند نہ ہوئے۔ یہ غالباً2009ء کے اواخر یا 2010ء کے اوائل کی بات ہے۔ پرویز مشرف کی آمریت کے بعد جمہوریت پسندوں کا راج تھا اور ان کی ساکھ بام عروج پر تھی۔ پھر یوں ہوا کہ آٹھ سال غلطیوں کی معافیاں مانگنے والے اور قوم کو یہ باور کرانے والے کہ ہم مکمل تبدیل ہوچکے ہیں پاکستانی قوم کے سامنے ایک ایک کرکے بے نقاب ہونے لگے۔ قوم کے سامنے ان کے پھروہی چہرے تھے اور وہی طور اطوار اپنی ذات کو مقدم رکھنا اور اپنے مفادات کا تحفظ کرنا ان کا ایک نکاتی ایجنڈا تھا۔ کیا نوازشریف اور کیا آصف علی زرداری سب ایک جیسے ثابت ہوا۔ زرداری نے پارلیمنٹ کے حق میں اپنے اختیارات سے سرنڈر کیا تو میں نے ان کی مدح میں روسی وزیراعظم خروشیف کی کہانی لکھی جس کا سبق یہ تھا کہ منصب انسان کے اندر بتدریج وہ خوبیاں پیدا کر دیتا ہے جو پہلے اس میں نہیں ہوتیں۔ میں نے لکھا کہ شاید صدر پاکستان کے منصب نے انہیں بدل ڈالا ہو مگر صدر زرداری کے اندر سے بھی وہی نوے والا آصف زرداری ہی نکلا۔ پاکستانی قوم نے بھی کیا قسمت پائی ہے۔ ہمیں جو بھی بے وفا ملا بڑا پختہ کار جفا ملا نہ کسی کی ضرب غلط پڑی نہ کسی کا وار خطا ہوا

آج نواز سریف چاہتے ہیں کہ ٹرتھ اینڈری کنسلیشن کمیشن بن جائے اپنی بجائے وہ پاک فوج کو کٹہرے میں لاکھڑا کریں۔ وہ فوج جس نے ہمیشہ پاکستان کی سلامتی کی جنگ لڑی اور جو گزشتہ اٹھارہ برسوں سے پاکستان کو دہشت گردی کے عفریت سے نجات دلانے اور ایک پروگریسو معاشرے کے قیام کے لئے قربانیاں دینے میں مصروف ہے۔ میاں نواز شریف نے اپنے دور میں پاک فوج کو مسلسل نیچا دکھانے اور بین الاقوامی دنیا کے سامنے اس کا منفی امیج پیش کرنے کی کوشش کی ہے۔ حیران ہوتا ہوں کہ کسی ملک کا تین مرتبہ وزیراعظم رہنے والا کوئی شخص اپنے ملک کی افواج کے بارے میں اس قدر مخماصمانہ سوچ کا حامل ہوسکتا ہے۔ نواز شریف الفت ذات میں مبتلا ہو کر بہت آگے جاچکے ہیں انہیں پاکستان کی پرواہ ہے اور نہ اپنے اداروں کی' ان کی سوچ پاکستان کو بچانے کی نہیں اسے برباد کرنے کی سوچ ہے جس کی ہر شخص کو مذمت کرنی چاہیے۔


اس خبر کے بارے میں اپنی رائے دیجئے
پسند آئی
100%
ٹھیک ہے
 
کوئی رائے نہیں
 
پسند ںہیں آئی
 


 سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں






     
     
تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ روزنامہ اوصاف محفوظ ہیں۔
Copyright © 2016 Daily Ausaf. All Rights Reserved