تزکیہ نفس.......روزے کی حقیقی روح
  17  مئی‬‮  2018     |     کالمز   |  مزید کالمز

اسلام دین فطرت ہے،اس نے ایسی جامع عبادات پیش کیں کہ انسان ہر جذبے میں خدا کی پرستش کر سکے اور اپنے مقصدِحیات کے حصول کی خاطرحیاتِ مستعارکا ہر لمحہ اپنے خالق و مالک کی رضاجوئی میں صرف کر سکے۔نماز،زکوٰة،جہاد،حج اور ماہِ رمضان کے روزے ان ہی کیفیات کے مظہر ہیں۔اللہ رب العزت کا ارشاد ہے''اے ایمان والو!تم پر روزے فرض کئے گئے ہیں جیسے پچھلی امتوں پر فرض ہوئے تھے تاکہ تم پرہیز گار بنو۔'' (البقرہ) رمضان کے روزوں کا مقصد جیسا کہ مذکورہ آیات میں بیان کیا گیا ہے،پرہیزگاری کا حصول ہے۔ماہِ رمضان کے ایّام ایک مومن کی تربیت اور ریاضت کے ایّام ہیں۔وہ رمضان کے روزوں اور عبادات سے اللہ تعالیٰ کی رضا حاصل کر سکتا ہے ۔مسلمان حضورِ اکرم ۖسے محبت کا اظہار آپ کی پیروی اوراتباع سے کرتا ہے اور اپنی روح و نفس کا تزکیہ کرتا ہے ، تاکہ زندگی کے باقی ایام میں وہ تقویٰ اختیار کر سکے اور اپنے مقصدِ حیات یعنی اللہ کی بندگی اور اس کی رضا جوئی میں اپنی بقیہ زندگی کے دن بسر کر سکے۔دیکھا جائے تو تمام عبادات انسان کے کسی نہ کسی جذبے کو ظاہر کرتی ہیں۔نماز خوف کو،زکوٰة رحم کو،جہاد غصہ و برہمی اور غضب کوحج تسلیم و رضا کو اور روزہ اللہ تعالی سے محبت کو! باقی عبادات کچھ اعمال کو بجا لانے کا نام ہیں،جنہیں دوسرے بھی دیکھ لیتے ہیں اور جان لیتے ہیں۔مثلاً نمازرکوع و سجود کا نام ہے اور اسے باجماعت ادا کرنے کا حکم ہے،جہاد کفار سے جنگ کا نام ہے،زکوٰة کسی کو کچھ رقم یا مال دینے سے ادا ہوتی ہے لیکن روزہ کچھ دکھا کر کام کرنے کا نام نہیںبلکہ روزہ تو کچھ نہ کرنے کا نام ہے۔وہ کسی کے بتلائے بھی معلوم نہیں ہو تا بلکہ اس کو تو وہی جانتا ہے،جو رکھتا ہے اور جس کیلئے رکھا گیا ہے۔لہندا روزہ بندے اور خدا کے درمیان ایک راز ہے،محب صادق کااپنے محبوب کے حضور ایک نذرانہ ہے جو بالکل خاموش اور پوشیدہ طور پرپیش کیا گیا ہے۔اسی لئے تو نبی اکرمۖنے فرمایاکہ اللہ کریم نے اپنے روزے دار بندوں کیلئے ایک بے بہا انعام کا اعلان فرمایا ہے،وہ یہ کہ ''روزے دار ' روزہ میرے لئے رکھتاہے 'اور میں خود اس کی جزا ہوں۔'' اللہ رب العزت خودکو جس عمل کی جزا فرما رہا ہوتو اس کی عطا اور انعام و اکرام کا کیا اندازہ ہو سکتا ہے۔۔روزہ دراصل بندے کی طرف سے اپنے کریم مولا کے حضور ایک بے ریا ہدیہ ہے۔اس لئے اللہ تعالیٰ نے اتنے عظیم انعام و اکرام کا اعلان فرمایا ہے۔ ماہِ رمضان المبارک وہ ہے جس کی شان میں قرآن کریم نازل ہوا،دوسرے یہ کہ قرآنِ کریم کے نزول کی ابتداء ماہِ رمضان میں ہوئی۔تیسرے یہ کہ قرآنِ کریم رمضان المبارک کی شبِّ قدر میں لوحِ محفوط سے آسمان سے دنیا میں اتارا گیااور بیت العزت میں رہا۔یہ اسی آسمان پر ایک مقام ہے،یہاں سے وقتاً فوقتاً حسبِ اقتضائے حکمت جتنا منظورِ الٰہی ہوا،حضرت جبریل امین علیہ السلام لاتے رہے اور یہ نزول تقریباً تئیس(٣٢) سال کے عرصے میں پورا ہوا۔ بہر حال قرآنِ مجید اور ماہِ رمضان المبارک کا گہرا تعلق و نسبت ہر طرح سے ثابت ہے اور یہ بلا شبہ اس ماہِ مبارک کی فضیلت کو ظاہر کرتا ہے۔روزہ اور قرآن مجید دونوں شفیع ہیںاور قیامت کے دن دونوں مل کر شفاعت کریں گے۔حضرت عبداللہ بن عمر راوی ہیںکہ رسول اللہ ۖ نے ارشاد فرمایاکہ روزہ اور قرآن مجیدبندے کیلئے شفاعت کریںگے ۔روزہ کہے گا کہ اے میرے رب!میں نے کھانے اور خواہشوں سے دن میں اسے روکے رکھا،تو میری شفاعت اس کے حق میں قبول فرما،قرآن کہے گا کہ اے میرے رب!میں نے اسے رات میں سونے سے باز رکھاتو میری شفاعت اس کے حق میں قبول فرما۔دونوں کی شفاعتیں قبول ہوں گی۔ رسول اللہ ۖ نے ارشاد فرمایا کہ'' آدمی کے ہر نیک کام کا بدلہ دس سے سات سو گناتک دیا جاتا ،اللہ تعالیٰ نے فرمایامگر روزہ میرے لئے ہے اور اس کی جزا میں خود دوں گا کیونکہ بندہ اپنی خواہشات اور کھانے پینے کو میری وجہ سے ترک کرتا ہے۔'' ''روزہ دار کیلئے دو خوشیاں ہیں'ایک افطار کے وقت اور ایک اپنے رب سے ملنے کے وقت اور روزے دار کے منہ کی بواللہ عزو جل کے نزدیک مشک سے زیادہ پاکیزہ(خوشبودار) ہے اور روزہ ڈھال ہے اور جب کسی کا روزہ ہو تو نہ وہ کوئی بے ہودہ گفتگو کرے اور نہ چیخے'،پھر اگر اس سے کوئی گالی گلوچ کرے یا لڑنے پر آمادہ ہو تو یہ کہہ دے کہ میں روزہ سے ہوں۔'' اس ماہِ مبارک کی خصوصی عبادت روزہ ہے'جس کا مقصد تزکیہ نفس یعنی اپنے نفس کو گناہوں سے پاک کرنا اور تقویٰ حاصل کرنا ہے۔دوسرے لفظوں میں گناہوں سے بچنا اور نیکیوں کی طرف رغبت کرنا ہے۔رسول اللہ ۖ کا فرمان ہے کہ جس نے ماہِ رمضان المبارک کے روزے ایمان و احتساب کے ساتھ رکھے اور جس نے رمضان میں نمازِ تراویح اور ایمان و احتساب کے ساتھ شب بیداری کی،اللہ تعالیٰ اس کے تمام اگلے پچھلے گناہ معاف فرما دیتا ہے۔

اس ماہِ رمضان المبارک کا تقدس اور احترام کرنا سب مسلمانوں کا انفرادی اور اجتماعی فریضہ ہے۔ یاد رکھئے جس طرح قرآنِ کریم رمضان المبارک کی شبِّ قدر میں لوحِ محفوط سے آسمان سے دنیا میں اتارا گیا،اسی رات کو اس دنیا کے نقشے پر پاکستان کا معرضِ وجود میں آنا ایک معجزے سے کم نہیں۔اس لئے ہم سب کی یہ ذمہ داری بنتی ہے کہ رمضان المبارک کے شب و روز کی عبادات میں اللہ تعالیٰ کے اس انعام کا بھی شکر ادا کریںلیکن کیا کریںیہ بات کہے کالم بھی مکمل نہیں ہوتا کہ رمضان المبارک کی آمد پر جہاںکچھ بد بختوں نے ذخیرہ اندوزی کرکے بیچاری عوام کو مہنگائی کا جو تحفہ دیا ہے اور حکومت نے جس طرح ان کے سامنے گھٹنے ٹیک دیئے وہاں ملک کے نااہل وزیراعظم کی بے وقت راگنی نے اہل وطن کو سخت صدمے سے دوچارکردیاہے۔ پاکستانی عوام آسمان کی طرف دیکھ کر بڑی بے بسی کے ساتھ کسی ایسے مسیحا کی طرف دیکھ رہی ہے جو ان ظالموں اوربدعنوانوں سے ان کو نجات دلوائے۔میری اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ ہمیں رمضان کریم کی برکتوں اور رحمتوں سے مستفیض ہونے کا سلیقہ اور توفیق عنائت فرمائے۔ثم آمین


اس خبر کے بارے میں اپنی رائے دیجئے
پسند آئی
 
ٹھیک ہے
 
کوئی رائے نہیں
 
پسند ںہیں آئی
 


 سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں





  اوصاف سپیشل

آج کا مکمل اخبار پڑھیں

آج کا مکمل اخبار پڑھیں

کالمز

کالم /بلاگ


     
     
تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ روزنامہ اوصاف محفوظ ہیں۔
Copyright © 2016 Daily Ausaf. All Rights Reserved