''مولانا'' کاانکشاف اور قاتل جوزف کا فرار
  17  مئی‬‮  2018     |     کالمز   |  مزید کالمز

جمعیت علماء اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمن نے انکشاف کیا ہے کہ ''عنقریب ایک قانون پاس ہونے والا ہے … جس کے تحت اقوام متحدہ کسی بھی تنظیم' ادارے یا اس ادارے سے وابستہ کسی بھی فرد کو اگر دہشت گرد قرار دے دے تو چاہے ہمارے ملک میں اس کے خلاف کوئی ثبوت نہ ہو لیکن اقوام متحدہ کے دبائو کی وجہ سے ہمارا ملک اسے دہشت گرد ہی قرار دے گا۔ مولانا کہتے ہیں کہ ملک ہمارا ہے' قانون ساز ادارے' قانون نافذ کرنے والے ادارے موجود ہیں … لیکن اگر بین الاقوامی اداروں کی طرف سے کوئی ایسا قانون آجائے جو ہمارے داخلی قانون سے متصادم ہو تو پھر ہمارا داخلی قانون نہیں بلکہ بین الاقوامی موثر ہوگا … یہ غلامی ہے اور اسے برقرار رکھا گیا ہے'' مولانا فضل الرحمن کے اس انکشاف کی ابھی تک کسی حکومتی ترجمان نے تردید بھی نہیں کی … اگر ہمارا حکمران طبقہ امریکی غلامی میں اس حد تک جاسکتا ہے تو پھر اسے چاہیے کہ پاکستان کی آزادی' خودی اور خودمختاری کے دعوے کرنا چھوڑ دے۔ پاکستانی قوم اپنے حکمرانوں اور قومی سلامتی کے اداروں سے سوال کررہی ہے کہ ابھی تک مولانا فضل الرحمن کے اس تازہ ترین انکشاف کی تردید جاری کیوں نہیں کی گئی؟ جاننے والے جانتے ہیں کہ مولانا فضل الرحمن انتہائی زیرک اور جہاندیدہ سیاست دان ہیں اور متحدہ مجلس عمل کے صدر بننے کے بعد تو … انہیں چاروں مسالک میں اعلیٰ ترین مقام اور انتہائی احترام کا درجہ حاصل ہوچکا ہے … اس لئے ان کا کوئی بھی دعویٰ یا بات ہوا میں ہی نہیں ہوتی … اگر انہوں نے آنے والے دنوں میں کسی نئے غلامانہ قانون کے بننے کی نشاندہی کی ہے تو اس میں ضرور سچائی ہوگی۔ کچھ سمجھ میں نہیں آرہا کہ ملک کے فیصلے کون کرتا ہے؟ ابھی اتوار کے دن قومی اخبارات میں خبریں چھپیں کہ ایک امریکی طیارہ افغانستان سے نور خان ائیر بیس پہنچا اور کئی گھنٹے کھڑا رہا' امریکیوں کی کوشش تھی کہ وہ اس طیارے کے ذریعے قاتل کرنل جوزف کو نکال لے جائیں … لیکن ایف آئی اے نے بروقت کارروائی کرکے امریکیوں کی اس کوشش کو ناکام بنا دیا …7 اپریل کو اسلام آباد کی سڑک پر نشے میں دھت امریکی کرنل جوزف نے دو پاکستانیوں کو کچل ڈالا تھا … جس میں ایک پاکستانی نوجوان عتیق بیگ جاں بحق ہوگیا تھا … ابتداء میں جب کرنل جوزف کے حوالے سے سفارتی استثنیٰ کی خبریں عام ہوئیں تو ہماری وزارت داخلہ نے بیان جاری کیا کہ ''سفارت کار ہونے کا مطلب کسی ملک کے شہریوں کو ہلاک کرنے کا لائسنس مل جانا نہیں ہوتا۔'' پھر نوجوان عتیق بیگ کے والد درخواست لے کر اسلام آباد ہائیکورٹ چلے گئے … اپریل کے آخری ہفتے میں وفاقی حکومت کی جانب سے عدالت کو بتایا گیا کہ ''امریکی ملٹری اتاشی کرنل جوزف کا نام بلیک لسٹ میں شامل کرلیا گیا ہے … وہ پاکستان نہیں چھوڑ سکتے … گزشتہ ہفتے کیس کی سماعت کرنے والے جج جسٹس عامر فاروق نے ریمارکس دیئے تھے کہ ''ڈپلومیٹ کے حقوق ہیں تو … پاکستانیوں کے حقوق بھی ہیں… عدالت نے اپنے حکم میں لکھا کہ جنیوا کنونشن کی روشنی میں ملزم سفارت کار کو مکمل استثنیٰ حاصل نہیں ہوتا … لہٰذا وزارت داخلہ امریکی سفارت کار کرنل جوزف کا نام ای سی ایل میں ڈالنے کے حوالے سے دو ہفتوں میں فیصلہ کرے''

وزارت داخلہ نے قاتل کرنل جوزف کا نام ای سی ایل میں ڈالنے کا فیصلہ تو کیا کرنا تھا… پتہ نہیں راتوں رات ایسا کیا ہوا کہ امریکی دہشت گرد اور قاتل کرنل جوزف پاکستان سے روانہ کر دیا گیا … پاکستان کے عوام سوال اٹھا رہے ہیں کہ ای سی ایل میں نام ڈالنے کے فیصلے کا مطلب … قاتل کو ملک سے فرار کروانا ہوتا ہے؟ پاکستان کے عوام یہ بھی پوچھتے ہیں کہ ریمنڈ ڈیوس کے بعد کرنل جوزف کے لئے ''ریمنڈ ڈیوس'' کی تاریخ کس کے حکم پر دوہرائی گئی؟ پاکستانی وزیراعظم شاہد خاقان عباسی کی تو امریکی ائیرپورٹ پر کپڑے اتروا کر تلاشی لی جائے اور ایک پاکستانی کے قاتل امریکی کو انصاف کے کٹہرے میں کھڑا کرنے کی بجائے ملک سے ہی بھگا دیا جائے … اگر یہ بھی ''غلامی'' نہیں تو پھر غلامی کس بلا کا نام ہے؟ پاکستان کے حکمرانوں اور بالادست قوتوں کا یہ غلامانہ کردار پوری قوم کو دکھی کرنے کے لئے کافی ہے … آخر پاکستان کب تک امریکہ کی غلامی کرتا رہے گا؟ امریکی' بدمعاشی کرتے ہوئے پاکستان کی سرزمین پر پاکستانیوں کو مارتے رہیں گے…اور ہمارا حکمران ٹولا استثنیٰ کی آڑ میں امریکی قاتلوں کا سہولت کار بن کر انہیں پاکستان سے بھگاتا رہے گا؟ کہاں نور خان ائیر بیس سے کئی گھنٹے کے انتظار کے بعد امریکی طیارے کو خالی واپس لوٹانے کا عروج اور کہاں… راتوں رات امریکی قاتل کو ملک سے فرار کروانے کی پستی رسوائی … اور پھر جگ ہنسائی؟ امریکہ اور بھارت متحد ہوکر پاکستان کے خلاف سازشیں کررہے ہیں' فلسطین کے بے گناہ مسلمانوں کا قتل عام کیا جارہا ہے اور پاکستان کے موجودہ حکمرانوں اور سیاست دانوں کی جوتیوں میں دال بٹ رہی ہے۔ جمعیت علماء اسلام کے امیر مولانا فضل الرحمن کو چاہیے تھا کہ وہ اپنے تازہ ترین انکشاف میں یہ بھی بتا دیتے کہ اقوام متحدہ اور عالمی اداروں کو خوش کرنے کے لئے یہ قانون پاس کون کرے گا؟ ملک کے خلاف ہونے والی سازشوں کے خلاف پوری قوم کو متحد ہونا پڑے گا … نواز شریف جس طرح سے ڈان لیکس پر ڈان لیکس کرکے … لنکا ڈھانے کی کوشش کررہے ہیں … پاکستانی قوم کو اس پر بھی سخت تشویش ہے اس قوم نے یہ دور بھی دیکھنا تھا کہ … جب سیاست دان … اپنا ذاتی انتقام ملک و ملت سے لینے پر تلے بیٹھے ہیں' مگر اللہ خیر کرے گا۔ انشاء اللہ


اس خبر کے بارے میں اپنی رائے دیجئے
پسند آئی
 
ٹھیک ہے
 
کوئی رائے نہیں
 
پسند ںہیں آئی
 


 سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں






     
     
تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ روزنامہ اوصاف محفوظ ہیں۔
Copyright © 2016 Daily Ausaf. All Rights Reserved