ذکر ایک وفادار سپاہی کا اور …!!
  17  مئی‬‮  2018     |     کالمز   |  مزید کالمز

٭گھر اور دفتر میں بجلی صبح سات بجے سے بند ہے۔ تین بجے آئے گی! ٭ملک میں اردگرد جو ہنگامہ 'ہاؤوہُو' ہو رہاہے۔ اس کا ذکر بعد میں ، پہلے یہ داستان کہ ملک وقوم کے ساتھ وفاداری کیا ہوتی ہے! اس داستان نے مجھے جذباتی کر دیاہے۔ معذرت کہ اسے بیان کرنے والے محترم کالم نگار کا نام یاد نہیں آرہا۔ مختصر داستان یوں ہے کہ چند سال قبل بھارت کی جیلوں میں طویل عرصے سے بند کچھ پاکستانی قیدی رہا کیے گئے۔ واہگہ کی سرحد پار کرنے والوں ان لوگوں میں ایک بوڑھا دبلا پتلا نحیف شخص بھی تھا۔ داڑھی اورسر کے بال بڑھے ہوئے، نہایت خستہ حالت، پاس کوئی سامان نہیں تھا۔ اور …اور…وہ بول نہیں سکتا تھا۔ اس کی زبان کٹی ہوئی تھی! کسٹم آفس میں اس نے ایک کاغذ کے ٹکڑے پر لکھا ، سپاہی مقبول حسین نمبر…پاک فوج یونٹ…! اسے کسی طرح پاک فوج کی متعلقہ یونٹ کے کمانڈر کے پاس پہنچا دیا گیا۔ اس نے سیدھے کھڑے ہوکر مکمل فوجی انداز میں کمانڈر کو سلیوٹ کیا اور کاغذ پر لکھا ، 'سپاہی مقبول حسین نمبر … حاضرہے اسے ڈیوٹی بتائی جائے'۔ کمانڈر حیرت کے عالم میں تھا ۔اس شخص کے بارے میں معلوم ہوا کہ 1965ء کی جنگ میں لاہور کے محاذ پر اپنے ساتھیوں کو بچاتے ہوئے بھارتی فوج کے ہاتھوں گرفتار ہوگیا تھا۔ اس پر شدید تشدد کیا گیا اس نے پاک فوج کے بارے میں کچھ نہ بتایا اور پاکستان زندہ باد کے نعرے لگاتا رہا۔ جیل میں اسے لوہے کے ایک پنجرے میں بند رکھا گیا۔ وہ پاکستان کے نعرے لگانے سے باز نہ آیا تو اس کی زبان کاٹ دی گئی۔ تقریباً40سال جیل میں بند رہا۔ اِدھر سمجھ لیا گیا کہ وہ جنگ میں شہید ہو چکا ہے، اس کے خاندان کو بھی بتادیاگیا ۔ 40 برس کے بعد اب اچانک وہ اپنی یونٹ کے کمانڈر کے سامنے اٹن شن کھڑا اپنی نئی ڈیوٹی کے بارے میں پوچھ رہا تھا۔ کمانڈر کے ذریعے یہ معاملہ اعلیٰ حکام تک پہنچا۔ فوج کا 40سال پرانا ریکارڈ نکالاگیا۔ اس نے جو نمبر بتایا وہ فائلوں میں مل گیا۔ اس کی تصویر بھی تھی۔ فوجی حکام ہکا بکا رہ گئے۔ اب بڑے جرنیل اور دوسرے اعلیٰ فوجی حکام اس کے سامنے اٹن شن کھڑے ہوکر اسے سلیوٹ کر رہے تھے…!! ٭قارئین کرام! میں نے نم آلودآنکھوں کے ساتھ یہ مختصر داستان لکھی ہے! پتہ نہیں اس وقت مقبول حسین کہاں ہے؟ میں غائبانہ طورپر اپنی اور محترم قارئین کی طرف سے اسے سلام کرتاہوں! ایک وہ سپاہی اور دوسری طرف ملک کو خونخوار درندوں کی طرح نوچنے والے مگر مچھ اورخونی چمگادڑیں! انتہائی نچلی سطح سے اٹھ کر قوم پر باری باری مسلط ہو کر ملک کے وسائل کو اندھادھند لوٹ کر بیرون ملک محل، فلیٹ، فارم ہاؤس اور پلازے بنانے والے لٹیرے! مجھے ماضی قریب کی کچھ باتیںیاد آرہی ہیں۔ ملک پر قبضہ کرنے والے ہوس اقتدار میں مبتلا جنرل پرویز مشرف کے دور میں باری باری حکمرانی کرنے والے دو افراد، نوازشریف اور بے نظیر بھٹو، ملک بدر ہوئے تو پھر سے ملک پر مسلط ہونے کے لیے ان دونوں نے لندن میں 14 مئی 2006ء کو 'میثاق جمہوریت' نام کے ایک معاہدہ کا ڈراما کیا۔ طے پایا کہ آئندہ باری باری قوم پر سوارہوا کریں گے۔ اس نام نہاد معاہدے کا حشر تو سب کے سامنے ہے ۔ مگر عجیب واقعہ کہ اس معاہدے کے ٹھیک بارہ برس بعد 14 مئی 2018ء کو اسلام آباد میں پاک فوج کے تمام شعبوں کے جرنیلوں اور بڑے فوجی اور سول افسروں نے چند روز کے مہمان وزیراعظم کی زیر صدارت سابق وزیراعظم نوازشریف کے ملک وقوم کے لیے انتہائی خطرناک ایک بیان کی پر زور مذمت کی اور اسے مسترد کردیا۔ اجلاس کے سرکاری پریس ریلیز کے مطابق یہ سارا کچھ متفقہ طورپر ہوا۔ اس سے اجلاس میں موجود خارجہ اور دفاع کے وزیر ،سیکرٹری خارجہ امور اور دوسرے وزراء حکام بھی موجود تھے۔ خود وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے بھی اجلاس کی قرار داد سے اتفاق کیا۔ اس کے بعد کی داستان بھی عام ہوچکی ہے۔ سابق وزیراعظم نے پھر اپنے بھارت نواز بیان پر قائم رہنے کااعلان کیا ہے۔ اسی روز 14 مئی کو بھارتی فوج نے پھر آزادکشمیر میں کنٹرول لائن پر فائرنگ کرکے ایک معمر کشمیری خاتون کو شدید زخمی کردیا۔ اسی روز فلسطین میں اسرائیلی فوج کی بربریت سے 66فلسطینی شہید اور سینکڑوں زخمی ہوئے اور پاکستان کاسا بق وزیراعظم بلند آواز سے کہتا رہا،'' میں اپنے بیان پر قائم ہوں''۔ اس بیان میں واضح طورپر تسلیم کیا گیاہے کہ پاکستان میں دہشت گردوں کی تنظیمیں کام کررہی ہیں اور یہ کہ پاکستان سے بھارت میں دہشت گرد نہیں بھیجے جانے چاہئیں! ٭گزشتہ کالم میں خدشہ ظاہر کیا تھا کہ عالمی سطح پر فنانس ایکشن ٹاسک فورس (FATF)کے اجلاس میں پاکستان کو دہشت گردی کے الزام میں 'گرے لسٹ 'میں ڈال دیا جائے گا جس کے خطرناک نتائج سامنے آسکتے ہیں۔ اس بارے میں ایک تصحیح کہ پاکستان کو تو پہلے ہی عارضی طورپر گرے لسٹ میں ڈالا جا چکا ہے۔ وہ اپنے دہشت گردوں کی موجودگی کو غلط ثابت نہ کر سکا، تو اسے بلیک لسٹ میں ڈال دیا جائے گا۔ اس کے نتیجے میں پاکستان کے ساتھ چین سمیت دنیا بھرکے ممالک کی تجارت بند، طیارے دوسرے ملکوں میں نہیں جا سکیں گے۔ اس کی فضا سے دوسرے ملکوں کے طیارے نہیں گزر سکیں گے۔ کوئی غیر ملکی سرمایہ پاکستان میں نہیں آسکے گا۔دوسرے ملکوں میں اس کے اکاؤنٹس منجمد ہو جائیں گے وغیرہ وغیرہ۔ اس کے ساتھ وہی سلوک ہوگا جو ایرانی اور شمالی کوریا کے ساتھ ہورہاہے! سابق وزیر خارجہ خواجہ آصف نے بیان دیا تھاکہ پاکستان میں دہشت گردوں کا کوئی اڈا نہیں اور سابق وزیراعظم اپنے بیان پرقائم رہنے کا باربار اعلان کر رہاہے کہ پاکستان میں دہشت گردوں کی جنگ جو تنظیمیں بد ستور کام کر رہی ہیں۔ اس پر کیا تبصرہ کیاجائے؟ اپنا ایک شعر یاد آرہاہے کہ ''نقب زنی کے نقش نشاں سب پہنچے ایک حوالے تک ! شہر کے کھوجی کھوج لگاتے پہنچ گئے گھروالے تک!''۔ ٭سابق وزیراعظم باربار کہہ رہا ہے کہ یہ پتہ چلانا پڑے گا کہ ملک میں دہشت گردی کی بنیاد کس نے رکھی؟ کیامعصومانہ انداز ہے؟ گویا معلوم ہی نہیں کہ اس ملک میں کلاشنکوف اور ہیروئن کا سیلاب انہی صاحب کے آقا جنرل ضیاء الحق کے دورمیں آیا تھا جس کے عہد میں انہیںاچانک وزیر خزانہ، پھر وزیراعلیٰ بنایا گیا ! جنرل ضیاء الحق کا بیرون ملک تقسیم کردہ سارا اسلحہ بالآخر پاکستان پر ہی برسا یا گیا! سامنے کے واقعات ہیں، باربار کیا بتایا جائے! ٭حکومت پاکستان نے 72فلسطینیوں کی شہادتوں پر جمعہ18 مئی کو یوم سوگ منانے کااعلان کیا ہے۔ اس سارے الم ناک ماحول میں ترکی کی واحد ملک ہے جس نے نہایت جرأت مندانہ اقدامات کیے ہیں۔18 مئی کو ترکی میں اسلامی سربراہی کانفرنس کا ہنگامی اجلاس طلب کرلیا ہے۔ اس میں وزیراعظم پاکستان بھی جارہے ہیں۔ ترکی کے صدراردوگان کا صرف ایک جملہ ہی بہت ہے کہ '' فلسطینیوں پر ہونے والے ظلم پر چپ رہنے والوں پر لعنت بھیجتا ہوں''۔

٭اسلام آباد میں ایک نوجوان کو قتل کرنے والا امریکی فوجی کرنل جوزف بالآخر پاکستان سے چلا گیا۔ امریکہ کے سرکاری ذرائع کے مطابق اس کے اس اقدام کا معاوضہ ادا کیا گیا ہے۔ یہ نہیں بتایاگیا کہ کتنا معاوضہ دیا گیا اور کس نے دیا ؟ مقتول نوجوان عتیق کے والد کا کہناہے کہ انہوں نے حکومت کے دباؤ پر قاتل کو معاف کردیا مگر کوئی معاوضہ نہیں مانگا۔ اسلام آباد کے ذرائع بھی 'خون بہا' کا ذکر کر رہے ہیں۔ تاہم یہ بات واضح دکھائی دیتی ہے کہ جس طرح ریمنڈ ڈیوس کے ہاتھوں دونوجوانوں کے قتل کا 20 کروڑ روپے کا خون بہا امریکہ نے نہیں بلکہ اس وقت کے صدر آصف زرداری کے حکم پر خود حکومت پاکستان نے ادا کیا تھا، ممکن ہے کہ کرنل جوزف کے معاملہ میں بھی ایسا ہی ہی ہو رہا ہو۔ ٭جاوید ہاشمی نے ایک بارپھر ججوں اور جرنیلوں کے اثاثوں کے محاسبہ کا مطالبہ کیا ہے! جاوید ہاشمی کوخود جنرل ضیاء الحق کے مارشل لا کے وزیر بن کر سیاست میںآئے تھے! اس پر کیا لکھاجائے؟


اس خبر کے بارے میں اپنی رائے دیجئے
پسند آئی
100%
ٹھیک ہے
 
کوئی رائے نہیں
 
پسند ںہیں آئی
 


 سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں






آج کا مکمل اخبار پڑھیں

کالمز

کالم /بلاگ


     
     
تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ روزنامہ اوصاف محفوظ ہیں۔
Copyright © 2016 Daily Ausaf. All Rights Reserved