بحرالکاہل، ہند اور ایشیا
  20  مئی‬‮  2018     |     کالمز   |  مزید کالمز

(گزشتہ سے پیوستہ) 1904میں معروف برطانوی جغرافیہ داں ایچ جے میکنڈر نے ''تاریخ کا جغرافیائی محور'' کا تصور پیش کیا تھا جس کے مطابق یوریشین خطہ میں طاقت کے مراکز قائم ہونا تھے۔ میکنڈر کی بات درست ثابت ہونے میں سو برس لگے۔ امریکا کو ایشیا (کوریا، ویت نام، افغانستان) میں لڑی جانے والی زمینی جنگوں میں بھاری نقصان اٹھانا پڑا۔ اسی طرح ایشیا کی مرکزی سرزمین پر جاپان کے ساتھ بھی ایک ماضی ہے۔ اپنی طاقت ور بحریہ کے ساتھ وہ بھارت کو زمینی مقابلے میں چین کے قابل کرنا چاہتا ہے۔ یہ انداز فکر ہمیں 1971سے قبل اور بعد کی پاکستانی حکمت عملی کی یاد دلاتا ہے، ایشیا میں قدم جماتی ہوئی دیگر قوتوں کو دیکھا جائے تو یہ حکمت عملی حقیقت کے منافی محسوس ہوتی ہے۔ نکسن نے 1970کی دہائی میں سوویت یونین کے ساتھ چین کے اختلافات کا فائدہ اٹھاتے ہوئے چینیوں کو مغرب میں رسائی دی۔ وقت بہت بدل چکا۔ عین ممکن ہے کہ بحرالکاہل میں صف آرا ہونے والوں کو میدان جنگ میں چین اور روس کے مشترکہ جواب کا سامنا کرنا پڑے؟ امریکا کا طیارہ بردار بحری بیڑہ اتنا طاقت ور ہے کہ کسی بھی زمینی جنگ پر براہ راست اثر انداز ہوسکتا ہے، لیکن کیا ایشیا کی بڑی سرزمین پر سمندر میں ہونے والی یہ صف بندی کوئی اثر دکھا پائے گی؟صرف فضائی قوت سے جنگیں نہیں جیتی جاتیں، اس کے لیے میدان پر فوج اتارنا ہی پڑتی ہے۔ نہیں تو یہ بحری بیڑے صرف لگژری کروز ہی ثابت ہوں۔ طاقت کے مراکز یوریشین سرزمین کی طرف بڑھ رہے ہیں۔ گو کہ چین اور روس اس خطے کی سب سے بڑی قوتیں ہیں لیکن اس کے باوجود انھیں اس وسیع عریض علاقے ، مختلف افراد، ثقافتوں، روایات اور مسائل رکھنے والے میں بالادستی حاصل نہیں ہوئی ہے، یہ صرف اسی وقت ممکن ہے جب یہاں سڑکوں اور ریل پٹڑیوں کے جال بچھانے کے لیے مشترکہ کاوشیں کی جائیں۔ اسی وجہ سے ''وون بیلٹ وون روڈ'' کا تصور، سی پیک جس کا حصہ ہے، انتہائی اہمیت کا حامل ہے۔ ایک نیا ورلڈ آرڈر بنانے کے لیے یوریشیا مرکز ثابت ہوگا جس میں ممالک اور مختلف قوتوں کے غیر معمولی اتحاد تشکیل پائیں گے، پاکستان بھی اس میں شامل ہوگا۔ مغرب سے مشرق کی جانب جاتے ہوئے، بحیرۂ عرب سے وسطی ایشیا تک اس خطے کی اہمیت یہ ہے کہ روس اور چین ، پاکستان کے بغیر افغانستان میں امن قائم نہیں ہوسکتا۔

ہمارے حکمت کاروں کو بھارت، کشمیر اور افغانستان پر نظری گاڑے رکھنے کے بجائے اب کچھ بڑے منظر ناموں کی جانب بھی دیکھنا ہوگا۔ اس کے علاوہ ہمیں مختلف ممالک، قوتوں اور معیشتوں کے مابین بننے والے رابطوں میں مثبت کردار ادا کرنا ہوگا۔ یہی وجہ ہے کہ ہمیں کسی بھی یک طرفہ اتحاد سے دور رہنا ہوگا جیسے سعوی عرب اور امارات کا اتحاد یا چاہے اس میں ایران اور ترکی کا حوالہ ہی کیوں نہ شامل ہو۔ اس کا یہ ہرگز مطلب نہیں کہ ہم ان ممالک میں سے کسی کے ساتھ عسکری روابط نہیں رکھ سکتے، ایسا ممکن ہے لیکن اس کی قیمت پر اور ملک سے دوری اختیار نہیں کی جاسکتی۔ جس طرح ہم نے امریکا کے زیر قیادت فوجی اتحاد کا حصہ رہنے کے باوجود چین کے ساتھ ساٹھ برس اپنی دوستی نبھائی ہے، اسی طرح ہمیں امریکا کے لیے بھی دروازے کھلے رکھنے ہوں گے۔ یمن جنگ میں فوجیں نہ بھیج کر ہم نے اپنی ذمے داریوں کا ادراک کیا ہے۔ شنگھائی تعاون تنظیم ایک ایسا فورم ہے جہاں اقتصادی اور سیاسی مسائل کے ساتھ سلامتی کو درپیش سوالات ایک ساتھ اٹھائے جاسکتے ہیں اور ان کا حل بھی تلاش کیا جاسکتا ہے۔ (فاضل کالم نگار سیکیورٹی امور کے تجزیہ کار ہیں، یہ کالم پاک امریکا تعلقات پران کے سلسلۂ مضامین کا چوتھا حصہ ہے)


اس خبر کے بارے میں اپنی رائے دیجئے
پسند آئی
 
ٹھیک ہے
 
کوئی رائے نہیں
 
پسند ںہیں آئی
 


 سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں





  اوصاف سپیشل

آج کا مکمل اخبار پڑھیں

     
     
تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ روزنامہ اوصاف محفوظ ہیں۔
Copyright © 2016 Daily Ausaf. All Rights Reserved