قربانی کابکرا؟
  20  مئی‬‮  2018     |     کالمز   |  مزید کالمز

(گزشتہ سے پیوستہ) نیتن یاہوگزشتہ کئی ماہ سے شام میں ایرانی فوجی موجودگی اورلبنان کی حزب اللہ کے بارے میں اپنے طورپرخطرے کی گھنٹی بجانے کی کوشش کررہاہے۔ لبنان کے انتخابات کے غیرسرکاری اورغیرحتمی نتائج کے مطابق ایرانی حمائت یافتہ حزب اللہ اوران کی سیاسی اتحادی جماعتوں نے 128رکنی پارلیمان میں نصف سے زائدنشستیں حاصل کرلی ہیں ۔حتمی نتائج اگرایسے ہی رہتے ہیں تولبنان میں حزب اللہ کی طاقت میں بے تحاشہ اضافہ ہوجائے گا۔سعودی عرب اورمغربی ممالک کے حمائت یافتہ سعدحریری بھی سب سے بڑابلاک بنانے میں کامیاب ہوسکتے ہیں ۔لبنان میں آخری انتخابات کا انعقاد2009 ء میں ہواتھا۔لبنان میں نوسال کے بعدہونے والے پارلیمانی انتخابات میں پولنگ کاآغازصبح سات بجے شروع ہوکرشام سات بجے تک جاری رہا۔اس موقع پرسیکورٹی کے انتہائی سخت انتظامات کیے گئے تھے۔لبنان میں ووٹ ڈالنے کے اہلافرادکی تعدادتقریباً3.7ملین ہے۔تمام پندرہ اضلاع میں ٹرن آؤٹ بڑامثبت اندازمیں جاری رہاجوسول سوسائٹی کی نئی تحریک کیلئے اچھی خاصی نشستیں جیتنے کاسبب بنا۔ تجزیہ نگاروں کے مطابق تمام ریاستی فرقہ وارانہ جماعتیں حکمرانی میں اپناحصہ برقراررکھ سکیں گی تاہم حزب اللہ کی قوت اب پہلے کے مقابلے میں مزیدمستحکم ہوجائے گی لیکن قصرسفید کے فرعون نے ایران کے خلاف ایک نیامحاذکھول دیاہے۔امریکی صدرٹرمپ نے اسرائیلی ایماء پرایران سے کئے جانے والے معاہدے کوختم کرنے کیلئے ڈیڈلائن دینے کی بجائے اسے ختم کرنے کااعلان کردیالیکن اس کے اتحادی مغربی ممالک اس معاہدے کوبچانے کیلئے سرتوڑکوششیں کرہے ہیں جبکہ اقوام متحدہ کے سیکرٹری انتونیوگٹرس نے تین ہفتے قبل امریکااورمغربی ممالک کوایٹمی معاہدے کی پاسداری اوراس کوتوڑنے کے خطرات کے مضمرات سے متنبہ کیاتھا۔روس اورچین نے بھی امریکاکے اس عمل پرانتہائی ناپسندیدگی کا اظہارکیاہے جبکہ ایران بہت پہلے معاہدہ ختم ہونے کی صورت میں پورے عزم کے ساتھ یورینیم کی افزودگی شروع کرنے کااعلان کرچکاہے۔یورپی ممالک کی رائے میں یہی معاہدہ ایران کوایک ایٹمی طاقت بننے سے روکے ہواہے جبکہ امریکااوراسرائیل کامؤقف یہ ہے کہ اس معاہدے کے باوجودایران اپناجوہری پروگرام جاری رکھے ہوئے ہے۔اس سارے پس منظرنے امریکی پالیسی سازوں کیلئے مشکل پیداکردی ہے کہ کوئی ایسافیصلہ نہ کیاجائے جوجلتی پرتیل ڈالنے کے مترادف ہولیکن اسرائیل اورایران کوئی سنگین غلطی کرسکتے ہیں جس کامحرک حزب اللہ ہوسکتی ہے لیکن ناقابل یقین طبیعت اورتکبراورطاقت کے نشے میں بدمست ٹرمپ بتدریج ایسے اقدامات کررہاہے جس سے عالمی امن کوشدید خطرات لاحق ہوگئے ہیں۔ امریکہ کی جانب سے ایران کے جوہری معاہدے کے دستبرداری کے بعد اس کے مستقبل کے بارے میں سوالات پیدا ہو گئے ہیں۔2015ء میں طے پانے والے اس معاہدے کے تحت ایران نے اپنی جوہری سرگرمیاں محدود کرنے پر رضامندی ظاہر کی تھی جس کے بدلے میں اس پر عائد امریکی، یورپی اور اقوامِ متحدہ کی پابندیاں اٹھا لی گئی تھیں۔اب امریکی صدر ٹرمپ نے اعلان کیا ہے کہ وہ ایران کے خلاف دوبارہ پابندیاں لگا رہے ہیں۔ان پابندیوں کے دوبارہ نفاذ کا ایران پر اور اس سے کاروبار کرنے والی عالمی کمپنیوں پر کیا اثر پڑے گا؟ امریکی محکمہ خزانہ کے مطابق یہ پابندیاں دو مراحل میں لگائی جائیں گی۔ تیل کی خرید و فروخت پر پابندیاں چھ ماہ بعد نافذ کی جائیں گی جبکہ دیگر پابندیوں کا نافذ ٠٩دن کے بعد ہو گا۔پہلی ڈیڈ لائن چھ اگست ہے اور اس دن سے عائد ہونے والی پابندیوں سے ڈالر کی خریداری، سونے اور دیگر دھاتوں کی تجارت کے علاوہ فضائی اور کاروں کی صنعت متاثر ہو گی۔پابندیوں کی اگلی لہر4نومبر کو آئے گی جس کا ہدف ایران کا فنانشل سیکٹر اور تیل سے متعلق ادارے ہوں گے۔چھ ماہ کے اختتام پر ان افراد کے خلاف بھی پابندیاں بحال ہو جائیں گی جو ماضی میں امریکی محکم خزانہ کی پابندیوں کی فہرست کا حصہ تھے۔ایران دنیا کے تیل پیدا کرنے والے سب سے بڑے ممالک میں سے ایک ہے۔ وہ سالانہ اربوں ڈالر مالیت کا تیل اور گیس برآمد کرتا ہے۔تاہم بین الاقوامی پابندیوں کے نفاذ کے بعد ملک میں تیل کی پیداوار اور اس کی مجموعی قومی پیداوار میںخاصی کمی آجائے گی۔ اگرچہ امریکا ایران کا بڑا گاہک نہیں ہے، غیرملکی کمپنیاں اور دیگر ممالک جو پابندیوں کے نفاذ کے بعد بھی ایران سے کاروبار کرتے رہیں گے، امریکی پابندیوں کا سامنا کریں گے۔ اس کا اثر یورپی تیل کمپنیوں پر پڑ سکتا ہے۔فرانسیسی کمپنی ٹوٹل نے پابندیاں اٹھنے کے بعد ایران کے ساتھ پانچ ارب ڈالر کا معاہدہ کیا تھا جبکہ برٹش پیٹرولیم نے ایران کی سرکاری تیل کمپنی کے ساتھ ایک گیس فیلڈ چلانے کا معاہدہ کیا ہوا ہے۔وہ کمپنیاں جو ایران کو کمرشل طیارے فروخت کر رہی ہیں وہ ان پابندیوں سے شدید متاثر ہو سکتی ہیں۔ایئر بس اور بوئنگ نے ایران کو ٥١٠٢ء کے جوہری معاہدے کے بعد مجموعی طور پر180طیارے فروخت کرنے کا معاہدہ کیا تھا اور پابندیوں کی وجہ سے انھیں اربوں ڈالر کا نقصان ہو سکتا ہے کیونکہ وہ طیاروں کی تیاری میں امریکی ساختہ پرزے استعمال کرتی ہیں۔کاریں بنانے والی فرانسیسی کمپنیوں رینو اور پرجو نے بھی ایران میں کاروبار کے معاہدے کیے ہیں جو ان پابندیوں سے متاثر ہو سکتے ہیں۔ایران میں پابندیوں کے خاتمے کا مثبت اثر سیاحت کے شعبے پر بھی پڑا تھا اور 2012ء میں سیاحوں کی جو تعداد 38لاکھ تھی وہ 2015ء میں بڑھ کر50لاکھ سے زیادہ ہو گئی تھی،پابندیوں کے نفاذ کے بعد اس میں بھی کمی آ سکتی ہے۔ ایران کے تجارتی شراکت داروں کے پاس اب بھی کچھ امید باقی ہے کیونکہ امریکا کے علاوہ اس جوہری معاہدے میں شامل دیگر ممالک نے اسے برقرار رکھنے کا عزم ظاہر کیا ہے۔

یہی نہیں بلکہ انہوں نے امریکا سے یہ بھی کہا ہے کہ وہ اس کی راہ میں روڑے نہ اٹکائے۔امریکی حکومت نے کہا ہے کہ ایران سے کاروبار کرنے والوں کو چھوٹ دینا ممکن ہے تاہم اس نے تاحال اس بارے میں کوئی تفصیلات فراہم نہیں کی ہیں کہ کون سی کمپنیوں کو چھوٹ دی جا سکتی ہے۔اگر یہ نہ ہوا تو یورپی یونین ایران سے کاروبار کرنے والی کمپنیوں کو امریکی پابندیوں سے تحفظ دینے کے لیے خود حرکت میں آ سکتی ہے جیسا کہ اس نے کیوبا کے معاملے میں کیا تھا،گویااس مرتبہ مغربی ممالک نے فیصلہ کیاہے کہ وہ امریکاکیلئے مزیدقربانی کابکرابن کراپنی آئندہ آنے والی نسلوں کوامریکاکامعاشی غلام نہیں بننے دیں گے۔


اس خبر کے بارے میں اپنی رائے دیجئے
پسند آئی
 
ٹھیک ہے
 
کوئی رائے نہیں
 
پسند ںہیں آئی
 


 سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں






     
     
تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ روزنامہ اوصاف محفوظ ہیں۔
Copyright © 2016 Daily Ausaf. All Rights Reserved